Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

سرکار کے نام سے ایچ پی گیس ایجنسی کے ملازمین کی لوٹ مار

Published

on

hp-gas

ویرج گیس ایجنسی کے کچھ ملازمین سے ۱۷۷؍ روپئے کا مطالبہ کررہے ہیں کہ مرکزی سرکار نے ہر ایک صارف کو ۵؍سال کا بیما دینے کا فیصلہ کیا
شہر دھولیہ میں مسلم علاقوں میں غیر تعلیم یافتہ عوام کو متعدد طریقوں سے بیوقوف بنانے کا کام کیاجاتا ہے۔ کسی بھی اسکیم کے نام پر ٹھگ لیا جاتا ہے۔ شہر کے حاجی نگر اور آزاد نگر میں غریب بیواؤں سے ۸۰۰۰؍ روپئے جمع کئے جارہے تھے انہیں بتایا جارہاتھا کہ حکومت آپ کو ایک لاکھ روپئے تک کا لون دیں گی جو کہ غریبوں کے لیے مختص ہیں اس کے عوض میں آپ کو کوئی رقم حکومت کو واپس نہیں کرنا پڑے گی۔شروع میں ۸۰۰۰؍روپئے ادا کرنے ہوں گے، غیر تعلیم یافتہ بیواؤں نے ۸۰۰۰؍روپئے کا بندوبست کرکے رقم انہیں دے دی ۔ روپئے دینے سے قبل تحقیقات نہیں کی گئی تھی کہ کس سرکاری کاغذات کی بنیاد پر بات کی جارہی ہے۔ ایک خاتون نے صرف ایک سوال کرلیا تھاکہ ہمارے ساتھ دھوکا تو نہیں ہوگا؟ بدعنوان شخص نے کہا کہ مجھ پر بھروسہ نہیں ؟ میں دوسرے شہر سےآیا ہوں؟ تمہارے روپئے لے کر فرار ہوجاؤں گا؟ایک سوال کے بدلے کئی سوالات کرڈالے جسے دیکھ کر دوسری خواتین کا مزید سوال پوچھنے کا ارادہ ترک ہوگیا تھا۔ روپئے جمع کرنے کے بعد سال پر سال گزررہے ہیں لیکن انہیں نہ ہی لون دیا جارہا ہے اور نہ ہی ان کے روپئے لوٹائے جارہے ہیں۔ روپئے لینے والے نے کئی خواتین کو کہہ دیا کہ تم نے مجھے کچھ نہیں دیا ۔روپئے دینے والی بھی مسلم سماج کی غریب خواتین اور روپئے لینے والا بھی مسلم سماج کا بدعنوان سیٹھ ہیں۔چونکہ اس معاملہ میں تحریری شکل میں کاغذات موجود نہیں ہے،اور غریب خواتین پولس میں شکایت درج کرانے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہی ہے ،اسی بناء پر معاملہ التو میں پڑا ہوا ہے۔ روزنامہ ممبئی رابطہ کے اسٹاف رپورٹر سے رابطہ کرکے جلیل احمد نے بتایا کہ آج میرے گھر ایچ پی گیس کے کچھ ملازمین یونیفارم پہن کر گلے میں شناختی کارڈ لٹکا کر گھر آئے اور کہا کہ ہم ایچ پی گیس کمپنی کی طرف سے آئے ہیں جوشخص بات کررہا تھا وہ اپنی شناخت وسیم شیخ کے نام سے بتاکر بات کررہا تھا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے بیما پالیسی شروع ہیں پانچ سال میں ایک مرتبہ ۱۷۷؍ روپئے آپ کو ایچ پی گیس کو دینا ہوگا۔ اس کے بدلے میں گیس سلنڈر سے ہونے والے نقصانات کا تحفظ ایچ پی کمپنی کے ذمہ ہوگا۔ صارف جلیل احمد نے کہا کہ میں نے ان سے سوالات کئے تو گڑبڑا گئے ۔ میں نےان سے پوچھا کہ ہم جو قیمت کمپنی کو دیتےہیں ان میں ہی تمام چیز یں شامل ہوتی ہیں پھر ۱۷۷؍ روپئے زائد کیوں ادا کروں؟ انہوں نے کہا کہ ۱۷۷؍ روپئے کو ۵؍ سے تقسیم کریں گے تو آپ کو سالانہ کچھ رقم نہ کے برابر ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ صارف نےایچ پی کمپنی کے ملازمین سے کہا کہ میں فضول کیوں ۱۷۷؍ روپئے ادا کروں ؟ آپ حکومت کا حوالہ پیش کررہے ہیں تو آپ کے پاس حکومت کو کونسا نوٹیفیکشن ہے مجھے بتاؤ۔ کوئی جی آر آیا ہے؟ ان سوالوں کے بعد انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف روپئے اکٹھا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ،آپ گیس ایجنسی میں جاکر معلومات حاصل کرلو۔ جلیل احمد نے ان کا جواب سن کر کہا کہ میرے موبائل میں ویرج گیس ایجنسی کا نمبر موجود ہیں میں ان سے بات چیت کرتا ہوں ۔ جب ویرج گیس ایجنسی پر فون پر رابطہ ہوا اور بات چیت کے دوران گیس ایجنسی والوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ہم نے کسی کو ۱۷۷؍ روپئے وصول کرنے کا حکم دیا ہی نہیں فون پر بات چیت ہونے کے بعد وہ ملازمین وہاں سے رفوچکر ہوگئے۔ گیس سلنڈر کے نام پر بدعنوانی بہت پہلے سی ہی کی جارہی ہے۔ جلیل احمد نے مزید کہا کہ میں پڑھا لکھا شخص ہوں اس لیے تصدیق کرلی ، شہر میں ایسے کتنے غیر تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو ان کی باتوں میں پھنس کر اپنی محنت کی کمائی کا حصہ انہیں دے کر بدعنوانی کے فروغ میں تعاون کا شکار ہورہے ہیںاور انہیں خبر تک نہیں ہورہی ہے کہ انہیں ٹھگا جارہا ہے۔ اس ضمن میں اخبارات کا اور میڈیا کا سہارا لے کر بدعنوانی کا پردہ فاش کرنا بےحد ضروری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان