(جنرل (عام
مذہبی رواداری ہندوستان کی بنیادی شناخت ہے: مولانا سید ارشد مدنی
ہمارا ملک ہندوستان صدیوں سے امن واتحاد اور محبت کا گہوارہ رہا ہے، یہ ایک کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی ملک ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، مذہبی رواداری ہندوستان کی بنیادی شناخت ہے، ہمارے ملک کا آئین ہرشہری کو برابرکے حقوق دیتاہے اور مذہب زبان، علاقہ کی بنیادپر کسی شہری کے ساتھ بھیدبھاؤ کرنا ہندوستان کے آئین کے روح کے سراسرخلاف ہے،مگر افسوس ادھر چندبرسوں سے جس طرح ملک کی موجودہ حکومت صرف سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے مذہبی بنیادپر نفرت کا بازارگرم کئے ہوئے ہے اور جس طرح اقلیت واکثریت کے درمیان اختلافات کی دیوارکھڑی کرکے ووٹ بینک کی سیاست کررہی ہے،اس سے ملک کے حالات انتہائی دھماکہ خیز ہوچکے ہیں، ان خیالات کا اظہار جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے ممبئی میں شروع ہورہے جمعیۃعلماء ہندکے چارروزہ مجلس عاملہ اور مجلس منتظمہ کے اجلاس سے قبل ممبئی کے مراٹھی پتر کار سنگھ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ حکومت سی اے اے، این پی آراور این آرسی کی آڑمیں فرقہ ورانہ ایجنڈے کے تحت ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے اپنے ناپاک عزائم کی طرف عملی طورپر قدم بڑھارہی ہے جس میں مذہبی اقلیتیں اپنے مذہبی تشخص سے محروم ہوکر اکثریت میں ضم ہوکر رہ جائیں گی، جو یقینا ملک کی سالمیت ویکجہتی کے لئے خطرناک بات ہوگی،صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ سی اے اے کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ جن لوگوں کو شہریت دینا چاہتے ہیں دیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جس طرح مذہب کی بنیادپر ایک مخصوص طبقہ کو اس قانون کے دائرہ سے الگ کردیا گیا ہے ہمیں اس پر اعتراض ہے کیونکہ یہ ملک کے سیکولردستورکے سراسرخلاف ہے، آپ مذہب کی بنیادپر کسی شہری کے ساتھ امتیاز نہیں برت سکتے اس کی کھلی وضاحت آئین میں موجود ہے ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم این پی آرکی موجودہ شکل کے خلاف ہیں اس کے خلاف جمعیۃعلماء ہند نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ این پی آرکی موجودہ شکل اس لئے انتہائی خطرناک ہے کہ اس میں جو نئی نکات جوڑی گئی ہیں وہ غیر ضروری ہیں مولانا مدنی نے کہا کہ جب این پی آر شروع ہوگا تو سرکل افسرکو یہ اختیاربھی حاصل ہوگا کہ وہ جس شخص کو بھی چاہے ڈی ووٹر قراردیدے ہم نے آسام میں اس کا خطرناک تجربہ دیکھاہے اس صورت میں مشکوک قراردیئے گئے شخص کو ووٹ دینے کا اختیارنہیں ہوگا انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی زدمیں مسلمان ہی نہیں ہندوبھی بڑی تعدادمیں آجائیں گے ان سے جب پوچھاگیا کہ حکومت نے ابھی این پی آرکا کوئی فارمیٹ جاری نہیں کیا ہے تو آپ اس طرح کے خدشات کا اظہارکیوں کررہے ہیں اس پر مولانا مدنی نے کہا کہ یہ بات سامنے آگئی ہے کہ 1951سے لیکر 2010خطوط پر این پی آریا مردم شماری ہوتی رہی ہے اس باران خطوط پرنہیں ہوگی بلکہ اس میں بعض ایسی معلومات بھی طلب کی جائیں گی جن کی تفصیل فراہم کرنا ہر شہری کیلئے ایک مشکل امر ہوگا انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اندیشے کا شکار اس لئے بھی ہیں کہ پچھلے چھ برس سے موجودہ حکومت فرقہ ورانہ ایجنڈے پر عمل پیراہے، سی اے اے جیسے قانون کو لانا اس کا بین ثبوت ہے اور اب این پی آرکو لیکر جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ حکومت کے ایجنڈے کو ظاہر کردیتاہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ این پی آرہی این آرسی کی اولین شکل ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون، قومی رجسٹربرائے شہریت (این آرسی)اور این پی آر کے علاوہ ملک کی موجودہ صورت حال مسلمانوں کو درپیش مسائل سمیت کئی دیگر اہم مسائل پر ملک کی قدیم ترین ملی جماعت جمعیۃعلماء ہند کا ممبئی میں جو چارروزہ اجلاس ہورہا ہے، اس کا اختتام 23/فروری کو آزادمیدان میں کل ہند تحفظ جمہوریت کانفرنس پر ہوگا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اترپردیش حکومت کی جانب سے دیوبند میں اجلاس عام منعقد کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد اب جمعیۃعلماء ہند اسی اجلاس کو ممبئی میں منعقدکررہی ہے، واضح رہے کہ گزشتہ سال 19-18-17/اکتوبر کو اجلاس مجلس منتظمہ دیوبند میں منعقد ہونا تھا مگر اجازت ملنے کے بعدبھی انتظامیہ کے ذریعہ اچانک اجلاس کو روک دیا گیا اور یہ کہاگیا تھا کہ ضمنی انتخاب ہورہا ہے اس لئے اجلاس نہیں ہوسکتا، یہ پہلاموقع تھا کہ جب جمعیۃعلماء ہند کے اجلاس کو روکا گیا اس کے بعد دہلی میں انہی تاریخوں میں اجلاس کرنے کی کوشش کی گئی مگر یہاں بھی کامیابی نہیں مل سکی، لیکن ہمیں پروگرام کرنا تھا کیونکہ ہم ملک کے موجودہ حالات سے غفلت نہیں برت سکتے تھے،ہمیں اپنے لوگوں کو ایک لائحہ عمل اور پیغام دینا تھا اسی لئے یہ اہم اجلاس یہاں ہورہا ہے۔مولانا مدنی نے ایک بارپھرکہا کہ ہم نہ تو کسی خاص پارٹی کے حامی ہیں اور نہ ہی مخالف، ہم ملک کے اتحاد اور سالمیت کے حامی ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں مگر یہ سچ نہیں ہے ہم تو صرف اس ذہنیت یا نظریہ کی مخالف ہیں جو ملک کے اتحاداور یکجہتی کی بنیادکو اکھاڑدینے کی سازشوں میں مصروف ہیں ملک میں ایک اور تقسیم کے حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ یہ حکومت اچھے دن لانے کا وعدہ کرکے اقتدارمیں آئی تھی لیکن اب اس نے اپنی تمام ترتوجہ فرقہ وارانہ ایجنڈے پر مرکوزکردی ہے، جو ایک سیکولرملک کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں۔، سی اے اے جیسے سیاہ قانون کے خلاف پرامن احتجاج کو جگہ جگہ ڈنڈے کے زورسے کچلنے کی کوشش ہورہی ہے، مولانا مدنی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ 15/دسمبر کو اترپردیش میں آئین کے ذریعہ دیئے گئے احتجاج کے حق کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین جب پرامن طورپر سڑکوں پر اترے تو پولس نے نہ صرف اپنی وحشیانہ کارروائی کا نشانہ بنایا بلکہ مظاہرین کے سینوں پر سیدھے سیدھے گولیاں ماری گئیں، بعد میں دلیل دی گئی کہ خودمظاہرین نے پولس پر حملہ کیا جس کے جواب میں لاٹھی چارج ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ کتنی حیر ت انگیز بات ہے کہ مظاہروں کے دوران ہوئے مالی نقصان کی بھرپائی مظاہرین پر بھاری جرمانہ عائد کرکے کی جارہی ہے مگر پولس کے ہاتھوں جو جانی نقصان ہوا اس کی بھرپائی کے بارے میں نہ تو یوپی حکومت نے سوچااور نہ ہی مرکزی حکومت نے۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ ڈراور خوف کی سیاست ہورہی ہے اور غیر جمہوری وغیر آئینی فیصلوں کو عوام پر جبراتھوپنے کی سازش ہورہی ہے، چنانچہ جو لوگ جمہوری طریقہ سے ان فیصلوں کی مخالفت کررہے ہیں انہیں غداراور ملک دشمن قراردیا جارہا ہے، مولانا مدنی نے آخرمیں کہا کہ ہم سی اے اے اور این پی آرکے نفاذ کے خلاف سپریم کورٹ میں گئے ہیں اور عدالت نے اس پر حکومت ہند کو نوٹس بھی جاری کردیا ہے کیونکہ جمعیۃعلماء ہند ایسے تمام معاملوں میں جن کا سیاسی طورپر کوئی حل نہ نکل سکے قانونی جدوجہد کا راستہ اختیارکرتی ہے، متعدد اہم معاملوں میں عدلیہ سے ہمیں انصاف ملا ہے اس لئے ہم پرامید ہیں کہ سی اے اے اور این پی آر کے معاملوں میں بھی کوئی بہتر اور قابل قبول فیصلہ سامنے آئے گا انہوں نے کہا کہ منتظمہ کے اجلاس میں ان تمام امورپر بحث اور غوروخوض ہوگا اس کے بعد جو بھی لائحہ عمل تیارہوگا اس کا اعلان 23/فروری کو آزادمیدان کے اجلاس میں ہوگا انہوں نے کہا کہ یہ جو حالات پیداہوئے ہیں یا جو ایشوز ہمارے سامنے ہیں ان کا ہندوومسلمان سے کوئی تعلق نہیں ہے اسے مذہب کی عینک سے دیکھنا صحیح نہیں ہوگا بلکہ بڑاسوال آئین کی بالادستی اور ملک کے سیکولرکردارکو باقی رکھنے کا ہے اور اس کے لئے ملک کے ہر سچے شہری کو سوچناہوگا
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹس کا استعمال کر کے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گوا سے گرفتار، ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

ممبئی : ممبئی سائبر دھوکہ بازوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کے بعد اب مزید ۷ سائبر دھوکہ بازوں کو گوا سے گرفتار کرنے کا دعویٰ ممبئی کرائم برانچ نے کیا ہے۔ اس سے قبل تین ملزمین کو اسی معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش میں پیش رفت پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔ ۱۱ ستمبر کو ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ 5 کو موصول ہونے والی خفیہ معلومات سے سائبر دھوکہ دہی کرنے والے 03 افراد کے خلاف کارررائی کرتے ہوئے دفعہ 318(4), 61, 45, 3(5) بی این ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 66(ڈ) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی, اس میں پیش رفت کے بعد یونٹ پانچ نے مزید کارروائی کی۔ مذکورہ ملزمین خود نیز اپنے دیگر ساتھیوں سمیت خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف بینکوں میں بینک اکاؤنٹ کھول کر مذکورہ بینک اکاؤنٹس سے لنک کرنے کے لیے خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف سم کارڈ خریدی کرتے تھے۔ مذکورہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ان کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، سم کارڈ نیز متعلقہ بینک اکاؤنٹس سے منسلک دیگر ذرائع کا براہ راست قبضہ اور کنٹرول خود کے پاس رکھ کر مذکورہ اکاؤنٹس کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کرتے تھے۔ ان کے پاس سے مختلف بینکوں کی 88 پاس بک، 143 چیک بک، 100 اے ٹی ایم کارڈ، 24 موبائل، 167 سم کارڈ، 2 لیپ ٹاپ ضبط کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمے کی مزید تفتیش میں تکنیکی تجزیہ اور اے آئی کی بنیاد پرریاست گوا سے ۱۳ ستمبر کو ریزورٹ میں ایک ویلا سے سائبر دھوکہ دہی آپریٹ کرنے والے 07 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے 1) مختلف کمپنیوں کے 59 موبائل فون، 2) مختلف کمپنیوں کے کل 19 سم کارڈ، 3) 09 لیپ ٹاپ، 4) 51 اے ٹی ایم، 5) 12 پاس بک اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔ ملزمان نے مالی دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے خود کی ایپلی کیشن بنا کر اس کا استعمال کیا ہے اس کا انکشاف ہوا ہے۔
مذکورہ ملزمان کی عدالت نے ۲۴ ستمبر تک پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر (جرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل کمشنر (جرائم) کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی، راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔
(جنرل (عام
جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی کا یو سی سی پر حکومت سے سوال، شریعت کے خلاف کوئی قانون قابل قبول نہیں۔

نئی دہلی : مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس مبینہ بیان پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ 2029 سے پہلے این ڈی اے کی حکومت والی تمام 21 ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کیا جائے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک آئین کے تحت چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت؟ انہوں نے یو سی سی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق میں مداخلت قرار دیا۔ ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ملک کے سیکولر آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تنظیم نے یونیفارم سیول کوڈ کے خلاف اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کیس میں اب تک چھ سماعتیں ہو چکی ہیں اور جمعیت کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل اور دیگر وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تنظیم کو انصاف ملے گا۔
جمعیت کے صدر نے کہا کہ مسلمان شریعت کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی قانون کو قبول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک مسلمان ہر چیز پر سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن وہ اپنے مذہب اور ایمان پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول یہ سوال مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ مسلم عائلی قوانین قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آئینی دفعات کے تحت درج فہرست قبائل کو یو سی سی سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مسلمانوں کو دی گئی مذہبی آزادی کا احترام کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ان لوگوں کے لیے متبادل سول قوانین پہلے سے موجود ہیں جو کسی مذہبی پرسنل لاء کے تحت اپنے معاملات کو نہیں چلانا چاہتے۔ اس کے نتیجے میں، انہوں نے ایک لازمی یکساں سول کوڈ کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔
جمعیت کے صدر نے حکومت کے ’ایک ملک، ایک قانون‘ اور ’ایک گھر میں دو قانون نہیں ہو سکتے‘ جیسے نعروں پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا قانونی فریم ورک بہت سے معاملات میں مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین اور خصوصی دفعات کی اجازت دیتا ہے۔ ملک بھر میں گائے کے ذبیحہ سے متعلق قوانین میں بھی یکسانیت نہیں ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جائے اور پورے ملک میں اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یو سی سی کے نفاذ کا مقصد شہریوں کی مذہبی آزادی کو روکنا اور ان کے آئینی حقوق کو محدود کرنا ہے۔
(جنرل (عام
گروگرام ہٹ اینڈ رن معاملہ : کار ڈرائیور، کزن دو دن کی پولیس حراست میں

گروگرام کی ایک عدالت نے بدھ کو گولف کورس روڈ پر ایک خاتون بائیکر کو ٹکر مارنے کے ملزم ڈرائیور کلیان بینسلا اور اس کے کزن کو ہٹ اینڈ رن کیس کے سلسلے میں دو دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ بینسلا اور اس کے کزن لاونیش کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم آئی سی) کے روبرو پیش کیا گیا جو کہ ملزمین کو بیوالنی پولیس کی تحویل میں دے گا۔ 18 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ گروگرام پولیس نے واقعہ کے سلسلے میں راجستھان کے دوسہ سے بنسلا اور ہریانہ کے پلوال سے لاونیش کو گرفتار کرنے کے ایک دن بعد یہ پیشرفت ہوئی۔ واقعہ کے وقت لاونیش مبینہ طور پر بنسلا کے ساتھ کار میں موجود تھا۔ گروگرام پولیس نے قبل ازیں قتل کی کوشش سے متعلق بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 109 کو ایف آئی آر میں شامل کیا تھا جس کے بعد متاثرہ، سیا اور اس کے اہل خانہ نے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی درخواست کی تھی۔ گولف کورس روڈ پر بائیکر۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی تحقیقات اور تجزیہ کے بعد، پولیس نے قتل کی کوشش کا الزام شامل کیا، جس میں 10 سال تک کی سزا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب سیا کے اہل خانہ نے گروگرام کے سیکٹر-56 پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر، انسپکٹر منوج کمار کو اپنا تحریری بیان پیش کیا۔ پولیس تفتیش کے حصے کے طور پر اس کا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کر رہی ہے۔
گروگرام پولیس نے برقرار رکھا ہے کہ لاقانونیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کہا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی دوران سیا نے بدھ کے روز کار میں سوار چاروں افراد کو سخت سزا دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی حفاظت کے حوالے سے معاشرے کو صحیح پیغام بھیجنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، سیا نے کہا کہ انہیں عدالت سے “بڑی توقعات” ہیں اور وہ اس کیس میں انصاف چاہتی ہیں۔ “میں نے کل عدالت میں کہا تھا کہ کار میں سوار چاروں افراد کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور ان سب کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ میری رائے میں، انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا چاہیے؛ ایسے نوجوانوں کو پیغام دینے کا یہی واحد طریقہ ہے- تاکہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کے بارے میں سوچے،” انہوں نے کہا۔
ملزم کے مبینہ دعوے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ بیت الخلا استعمال کرنے میں جلدی میں تھا، سیا نے کہا کہ یہ وضاحت “قابل نفرت” ہے، یہ کہتے ہوئے کہ پورا واقعہ ویڈیو پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس کی موٹر سائیکل پر موجود ڈیش کیم نے اس واقعے کو ریکارڈ نہ کیا ہوتا تو وہ “شاید یہ بھی ثابت نہیں کر پاتی کہ کیا ہوا”۔ انہوں نے کہا، “بہت سی خواتین، جو شاید کام پر جا رہی ہوں، اس قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے پاس کیمرے نہیں ہوتے ہیں، اور اکثر اس طرح کے معاملات درج بھی نہیں ہوتے ہیں۔” انہوں نے کہا۔ سیا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کار میں سوار چاروں افراد کو کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے، یہ کہتے ہوئے: “چاروں کو سزا ملنی چاہیے؛ تب ہی ہم اپنے معاشرے کے لیے ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔”
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
