Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

حالیہ دنوں میں مرکز سے واپس آنے والے حضرات احتیاطاً اپنا چیک اپ کروالیں :مولانا حلیم اللہ قاسمی

Published

on

(وفا ناہید)
ممبئی : حضرت نظام الدین دہلی میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کے تعلق سے میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے غلط پروپیگنڈے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم الله قاسمی نے کہا کہ ایسے وقت میں کہ جبکہ پوری دنیا متحدہوکر کورونا وائر س جیسے مہلک مرض سے نمٹنے کیلئے اپنے اپنے اسباب و وسائل کے ساتھ میدان میں ہے، ایسے نازک وقت میں اس کوشش کو فرقہ وارانہ رخ دیکر کمزور کر دینا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ مولانا حلیم الله قاسمی نے کہا کہ جنتا کرفیو کے بعد اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ملک کے طول وعرض میں بڑی تعداد میں مزدور اور عام لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہیں اگر تبلیغی مرکز حضرت نظام الدین بنگلہ والی مسجد میں کچھ لوگ پھنسے رہ گئے تو اس پر اتنا واویلا مچانے کی کیا بات ہے۔ مولانا حلیم الله قاسمی نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی تجویز کردہ احتیاطی تدابیر اور لاک ڈاؤن پر عمل کرنے کے باوجود ساڑھے انیس سو سے زائد افراد اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں اور اب تک پچاس سے زائد اموات اس مہلک مرض کی وجہ سے واقع ہوچکی ہیں۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے یہ بھی کہا کہ معتبر ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تبلیغی مرکز کے ذمہ داران برابر متعلقہ حکام سے رابطہ میں تھے، اندرون اور بیرون ملک کے لوگوں کو ان کے مقام تک پہونچا نے کے لئے پرمیشن کی باقاعدہ تحریری درخواست بھی دی تھی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا- دوسرے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے خود وزیراعظم ہند نے یہ کہا تھا کہ جو لوگ جہاں ہیں وہیں پر رہیں باہر نہ نکلیں ایسے میں مرکز کے ذمہ داران کو اس کے لئے قطعاً ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ مولانا نے کہا کہ ان سارے حقائق کے باوجود میڈیا اس کا ایک ہی رخ پیش کررہا ہے جو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے انتہائی مضر اور خطرناک ہے۔ اس لئے مرکزی اور ریاستی حکومت اس کا نوٹس لیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈہ کے خلاف کوئی اقدام کرے تاکہ ملک کی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہونچے اور لوگ اتحاد و اتفاق کے ساتھ اس خطرناک وائرس کے خلاف جنگ لڑ سکیں۔
مولانا حلیم الله قاسمی نے یہ اپیل کی ہے کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد جو اس پیریڈ میں مرکز نظام الدین دہلی گئے ہوئے تھے بلا جھجھک انتظامیہ کے پاس جاکر اپنے آپ کو ظاہر کریں،اور احتیاطاً اپنی اپنی طبی جانچ کروالیں ۔اگر کسی طرح کی پریشانی محسوس کرتے ہوں تو جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی کے دفتر سے رابطہ قائم کریں۔
رابطہ کے لئے 022-23735373 /9323919894.
جمعیۃعلماء مہاراشٹر. یکم /اپریل2020

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کی بروقت کارروائی، سائبر دغابازی سے قبل ۱۱ کروڑ منجمد

Published

on

cyber-crime

ممبئی : ممبئی میں سائبر فرا ڈ اور دغابازوں پرقدغن لگانے کے ساتھ ممبئی کرائم کا سائبر سیل انتہائی الرٹ ہے, اس نے 24 گھنٹے کے اندر ہی گیارہ کروڑ روپے محفوظ کر لئے اور دغاباز کےاکاؤنٹ میں منتقلی سے پہلے ہی اسے منجمد کر دیا۔ ممبئی 3 مارچ، تقریباً ڈیڑھ بجے ممبئی کے پوائی سے ایک شکایت کنندہ نے ممبئی پولیس کی 1930 سائبر ہیلپ لائن سے رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ ایک نامعلوم شخص نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹ سے منسلک ای میل آئی ڈی کو ہیک کر لیا ہے۔ دھوکہ باز نے پھر کمپنی کے نام پر کوٹک مہندرا بینک کو ایک ای میل بھیجا، جس نے کاروباری کارروائیوں کے جھوٹے بہانے کے تحت بینک کو 11,34,85,258/ کے دو مختلف کھاتوں میں لین دین کی کارروائی میں گمراہ کیا، اس طرح سائبر فراڈ کا ارتکاب کیا۔

دھوکہ دہی کا پتہ لگانے کے بعد، شکایت کنندہ نے فوری طور پر 1930 سائبر ہیلپ لائن کو معاملے کی اطلاع دی۔ تیزی سے جواب دیتے ہوئے، پی آئی نورتی باوسکر، اے پی آئی ناگرال، پی ایس آئی راول، اور پی ایس آئی کاکڑ نے فوری طور پر این سی سی آر پی پورٹل پر شکایت درج کی اور بینک حکام کے ساتھ تال میل کیا۔ ان کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں 11,19,50,501/- (11.19 کروڑ) کو دھوکہ دہی والے کھاتوں اکاؤنٹ میں کامیابی سے منجمد کیا گیا، جس سے مزید مالی نقصان کو روکا گیا۔

یہ اطلاع آج یہاں دتا نلاواڑے ڈی سی پی (ڈیٹیکشن) کرائم برانچ، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com