Connect with us
Saturday,03-October-2026

(جنرل (عام

ہوپس انڈیا ممبئی کے توسط سے رضا اکیڈمی مالیگاؤں کو ملی بڑی کامیابی

Published

on

(خیال اثر)
شہر میں جیسے ہی کرونا وائرس کی خبر عام ہوئی، رضا اکیڈمی اراکین نے فوری طور پر ایک میٹنگ کا انعقاد کیا، جس میں ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے کہا کہ شہر کے حالات انتہائی نازک موڑ کی جانب جارہے ہیں، اگر کرونا وائرس سے متاثر کسی مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے تو قانون کے مطابق اس کی آخری رسومات فوری طور پر انجام دینا ضروری ہے، مالیگاؤں میں تو کرونا وائرس والی میت کی تجہیز و تدفین اور قبرستان میں استعمال کی جانے والی پروٹیکٹیو کٹیں موجود ہی نہیں ہیں، اور بغیر احتیاطی تدابیر کے ایسے اموات کی تجہیز و تدفین انتہا درجے کے خطرات سے پُر ہے. ممکن ہے تجہیز و تدفین میں شامل افراد کو بھی چودہ دنوں کے لئے کوارنٹائین کردیا جائے. لہذا اگر اس دوران کسی کرونا مریض کی موت واقع ہوتی ہے تو ایسی خطرناک صورت حال کا سامنا کرنے سے بہتر ہے کہ تجہیز و تدفین کرنے والے افراد کے لئے پروٹیکٹیو کٹس کا استعمال لازمی قرار دے دیا جائے. آپ نے مزید کہا کہ ہمارے شہر میں حفاظتی ماسک اور کٹس نہ ہونے کی وجہ سے دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس لیے اس تعلق سے اقدام ضروری ہے……،
رضا اکیڈمی کے رضوی سلیم شہزاد نے کہا کہ اب جب کہ ہمارے شہر کو کرونا وائرس نے گھیر لیا ہے تو ڈاکٹرز بھی اپنے تحفظ کو لے کر کافی فکر مند ہوچکے ہیں، پی پی ای کٹس کے نہیں ہونے کے سبب ان کا پریکٹس کرنا خطرات سے خالی بھی نہیں ہے، اگر شہر کے ڈاکٹرز نے پریکٹس بند کردی تو پھر کیا کچھ ہو سکتا ہے وہ ناقابل بیان ہے…..؟
ان تمام خدشات کے پیش نظر میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جتنی جلد ممکن ہو، ڈاکٹرز کے تحفظ کے لیے استعمال کی جانے والی پی پی ای کٹس اور کرونا وائرس سے ہونے والی میت کی تجہیز و تدفین کے لیے حفاظتی لباس، پروٹیکٹیو کٹس رضا اکیڈمی کی جانب سے مالیگاؤں منگوائی جائے، تاکہ کرونا وائرس کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے، اس تعلق سے فوری طور پر رضا اکیڈمی کے صدیقی شہزاد اور شکیل احمد سبحانی نے ہوپس انڈیا ممبئی کے سربراہ حاجی ریحان انور سے رابطہ قائم کیا، واضح رہے کہ ممبئی کے قبرستانوں کو پروٹیکٹیو کٹس اور گوونڈی، دھاراوی، کرلا اور ممبئی کے دیگر کرونا زدہ علاقوں میں ڈاکٹرز کو پی پی ای کٹس فراہم کرنے میں ہوپس انڈیا ممبئی نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے، جب ہوپس انڈیا کے فاؤنڈ ر حاجی ریحان انور کو شہر کی صورت حال سے واقف کروایا گیا تو موصوف نے کہا کہ بلا تاخیر جو یہ قدم آپ لوگوں نے اٹھایا وہ کرونا وائرس سے متاثر ہوجانے کے بعد مالیگاؤں شہر کی سب سے اہم ضرورت ہے، موصوف نے یہ بات بھی بتائی کہ یہ دونوں چیزیں آسانی سے ممبئی میں بھی دستیاب نہیں ہیں، بلکہ ضرورت کے مطابق ہم اسے تیار کرواکر لوگوں کو فراہم کر رہے ہیں، موصوف نے اس کے لیے کچھ وقت طلب کیا، اور بتایا کہ کم ازکم 24 گھنٹے کا وقت ہمیں دیجیے تاکہ کٹس بنوانے کے آرڈر دیے جا سکیں اور اس کے لیے درکار ضروری اشیاء فراہم کروائی جاسکیں،
اس تعلق سے تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے غلام فرید نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس کام میں کامیابی نصیب ہوئی، انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورت حال میں ممبئی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا بھی بہت مشکل ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود آج صبح آٹھ بجے ہوپس انڈیا ممبئی کی ایمبولینس سے یہ تمام ضروری سامان سائن پہنچائے گئے، جہاں سے فیس ماسک، ڈاکٹرز پروٹیکٹیو کٹس، اور قبرستان میں استعمال کی جانے والی پروٹیکٹیو کٹس پر مشتمل ایک بڑا پارسل مالیگاؤں کے لیے روانہ ہوچکا ہے، شام تک ان شاء اللہ یہ تمام چیزیں دفتر رضا اکیڈمی پر پہنچ جائیں گی، محمد ابراہیم راجو رضوی اور محمد افضل غازیانی نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ مالیگاؤں کے علاوہ اطراف و جوانب کے شہروں اور علاقوں تک بھی ضرورت کے مطابق یہ تمام چیزیں پہنچائی جائیں، ان دونوں حضرات نے شہر کے ڈاکٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ پی پی ای کٹ کے لیے رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی صاحب سے رابطہ قائم کریں تاکہ ضرورت کے مطابق ان کو درکار کٹس کے آرڈر دئے جاسکیں…اس کے علاوہ میت کی تجہیز و تدفین کے لئے شہر کے تمام قبرستانوں تک یہ کٹس رضا اکیڈمی مالیگاؤں اور ہوپس انڈیا ممبئی کی جانب سے فراہم کی جائیں گی.

قومی خبریں

مہاراشٹر سے مونسون کی مزید واپسی؛ کونکن علاقے کے لیے گرم اور مرطوب موسم کی الرٹ جاری

Published

on

ممبئی پریس — محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے ہفتہ، 3 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا ہے کہ جنوب مغربی مونسون مہاراشٹر کے بعض حصوں کے ساتھ ساتھ شمالی ہند کے بقایا علاقوں، پورے گجرات اور مدھیہ پردیش سے مکمل طور پر رخصت ہو چکا ہے۔مونسون کی واپسی کی موجودہ لائن مہاراشٹر میں ہرنائی، بارامتی، پربھنی اور برہماپوری سے گزر رہی ہے، جو آگے بڑھتے ہوئے رائے پور، رانچی اور سپول تک پھیلی ہوئی ہے۔ موسمیاتی حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 2 سے 3 دنوں کے دوران مراٹھواڑہ، ودربھ اور مدھیہ مہاراشٹر کے مزید علاقوں سے مونسون کی رخصتی کے لیے حالات سازگار ہیں۔ ساحلی مہاراشٹر کے لیے گرم اور مرطوب موسم کا الرٹ
ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو اس ویک اینڈ پر بڑھتی ہوئی گرمی اور حبس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ڈی نے 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک کونکن اور گوا کے خطے کے لیے گرم اور مرطوب (ہاٹ اینڈ ہیومیڈ) موسم کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس خشک اور حبس زدہ دور کے بعد علاقے میں معمولی بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ 6 سے 9 اکتوبر کے درمیان کونکن و گوا اور مدھیہ مہاراشٹر میں کچھ مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کی صورتحال ایک طرف جہاں ملک کے مرکزی اور شمالی حصوں سے مونسون رخصت ہو رہا ہے، وہیں جنوبی ریاستوں میں شدید بارش کی تنبیہ کی گئی ہے۔ کیرالہ، ماہے، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل میں 4 سے 6 اکتوبر کے دوران، جبکہ جنوبی اندرونی کرناٹک میں 5 اور 6 اکتوبر کو بعض مقامات پر بھاری بارش کا امکان ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں میں، آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش میں 3 اکتوبر کو متفرق مقامات پر تیز بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ ماہی گیروں اور کسانوں کے لیے ہدایت بحر عرب میں چکراتی ہوائی نظام (سائیکلونک سرکولیشن) کے پیش نظر، آئی ایم ڈی نے ماہی گیروں کو 3 اکتوبر کو ساحل کیرالہ، لکشدیپ، مالدیپ اور کومورین کے علاقوں سے ملحقہ سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ نیز، بھاری بارش والے علاقوں کے کسانوں کو فصلوں کے نقصان کو روکنے کے لیے کھیتوں سے پانی کے نکاس کا مناسب انتظام کرنے اور کٹی ہوئی فصلوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کرائم برانچ نے طالب علم کی خودکشی کے معاملے میں آئی آئی ٹی کے پروفیسر کا بیان ریکارڈ کر لیا، دولا نے تمام الزامات سے انکار کر دیا۔

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ، جو آئی آئی ٹی بمبئی کے طالب علم ساحل وکوڈے کے خودکشی کے لیے مبینہ طور پر اکسانے کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، نے پروفیسر سوری نارائن ڈولا کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ پروفیسر سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی جس کے دوران ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اس نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔ وکوڑے کے والدین نے اپنی پولیس شکایت میں کہا تھا کہ پروفیسر ڈولا نے ان کے بیٹے کو ہراساں کیا تھا۔ الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے، کرائم برانچ نے پروفیسر سے وکوڈ کی موت تک پیش آنے والے واقعات اور طالب علم کے ساتھ ان کی بات چیت کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران پروفیسر دولا نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا، ذرائع کے مطابق۔ ممبئی کرائم برانچ جلد ہی آئی آئی ٹی بمبئی کے ڈائریکٹر شیشے کو بھی طلب کرے گی۔ تفتیش۔ دریں اثنا، پولس وکوڈے کی موت سے پہلے کے واقعات اور سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات اکٹھا کرنے کے لیے امتحانی ہال کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ کرائم برانچ نے اب تک تقریباً 50 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں وکوڈے کے والدین اور ہم جماعت کے ساتھی شامل ہیں۔

18 ستمبر کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر پروفیسر ڈولا کو ایک امتحان کے دوران موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر پکڑنے کے بعد وکوڈے کو ایک طرف کھینچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وکوڈ کی موت کے بعد، آئی آئی ٹی بمبئی نے کہا تھا کہ طالب علم نے جوابات حاصل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر سوالنامہ اپ لوڈ کیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعے کے سلسلے میں اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ وکوڑے کے والد رویندر وکوڑے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بیٹے نے انھیں پروفیسر دولہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا۔ “میرے بیٹے نے مجھے اس امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا، لیکن میں نے اسے بتایا کہ اس کا داخلہ حاصل کرنا مشکل ہے،” اس نے پولیس کو بتایا کہ آئی آئی ٹی ایم میں اس کا داخلہ لینا مشکل ہے۔ بعد ازاں وکوڈے کے والد کی شکایت کی بنیاد پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم آئی آئی ٹی بمبئی کی فیکلٹی پروفیسر دولہ کی حمایت میں سامنے آئی، اور یہ کہتے ہوئے کہ انھیں محض اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صرف اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے، پھر یہ ملک کی پوری تدریسی برادری کے لیے ایک مسئلہ ہے،‘‘ پروفیسر راجکمار پنت، آئی آئی ٹی-بمبئی فیکلٹی فورم کے سربراہ نے کہا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں بی ایم سی کو ’فضائی آلودگی پر قابو اور نفاذ کا عملی منصوبہ 2026‘ پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت : میئر ریتو تاوڑے

Published

on

Ritu-Tawde

ممبئی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے، برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ’فضائی آلودگی پر قابو اور نفاذ کا عملی منصوبہ-2026‘ (Air Pollution Control and Implementation Action Plan-2026) تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد آلودگی کے مختلف ذرائع کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانا ہے۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں، تمام انتظامی وارڈز کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’فضائی آلودگی پر قابو اور نفاذ کا عملی منصوبہ-2026‘ نافذ کریں۔ اس عملی منصوبے کے تحت، ہر انتظامی وارڈ میں فضائی آلودگی کے کم از کم 10 ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی جائے گی اور نقشے کے ساتھ ایک تازہ ترین فہرست تیار کی جائے گی۔ ان ہاٹ اسپاٹس میں تعمیراتی اور تعمیرِ نو کے بڑے منصوبے، بنیادی ڈھانچے کے کام، کھلے عام کچرا جلانے کے مقامات، ملبہ ڈالنے کی جگہیں اور ٹریفک جام والے علاقے شامل ہوں گے۔ باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ہاٹ اسپاٹ کے لیے ایک ذمہ دار افسر مقرر کیا جائے گا۔

تعمیراتی مقامات پر آلودگی پر قابو پانا :
تعمیراتی اور انہدامی (ڈیمولیشن) مقامات کے لیے موجودہ 28 نکاتی رہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ جو تعمیراتی مقامات ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے پائے جائیں گے، انہیں ’وجہ بتاؤ‘ (شو-کاز) نوٹس اور کام روکنے کے نوٹس جاری کیے جائیں گے، اور ضرورت پڑنے پر انہیں سیل (مہر) کرنے کی کارروائی بھی کی جائے گی۔ ہر معائنہ کرنے والی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کم از کم دو تعمیراتی مقامات کا معائنہ کرے۔ انہدام کے کام کے دوران مناسب رکاوٹیں (برریکڈنگ) لگانا، جگہ کو ترپال یا سبز جالی سے ڈھانپنا اور مسلسل پانی کا باریک چھڑکاؤ کرنا لازمی ہوگا۔

سڑکوں پر دھول کم کرنے کے لیے خصوصی صفائی مہم :
مون سون کے بعد سڑکوں پر جمع ہونے والی مٹی، کیچڑ اور دھول کو ہٹانے کے لیے اکتوبر کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں ‘مون سون کے بعد گہری صفائی کی مہم’ (پوسٹ-مانسون دیپ کلیننگ دروے) چلائی جائے گی۔ اہم سڑکوں، ڈیوائیڈرز (میڈین)، چوراہوں اور سڑک کے کناروں پر صفائی کے خصوصی آپریشن کیے جائیں گے۔ جہاں ضروری ہوا، وہاں ری سائیکل شدہ پانی سے سڑکیں دھوئی جائیں گی یا پانی کا باریک اسپرے کیا جائے گا۔ ڈیولپرز یا ٹھیکیداروں کے لیے اب یہ لازمی ہے کہ وہ تعمیراتی مقام کے حجم کے مطابق ملحقہ سڑکوں کو صاف رکھیں۔ 4,000 مربع میٹر تک کے منصوبوں کے لیے 100 میٹر تک، 4,000 سے 10,000 مربع میٹر کے منصوبوں کے لیے 200 میٹر تک، اور 10,000 مربع میٹر سے بڑے منصوبوں کے لیے دونوں اطراف 500 میٹر تک سڑکوں کو صاف رکھنا ضروری ہے۔

ملبہ لے جانے والی گاڑیوں کے لیے ضوابط :
تعمیراتی اور مسماری کے کاموں سے نکلنے والا ملبہ لے جانے والی گاڑیوں کا مکمل ڈھکا ہونا ضروری ہے، اور عوامی سڑکوں پر داخل ہونے سے پہلے ان کے پہیوں کو صاف کرنا لازمی ہے۔ ملبے کی نقل و حمل اور تلفی کا انتظام ‘ممبئی ڈیبرس کنٹرول اینڈ ٹریکنگ سسٹم’ (ایم ڈی سی ٹی ایس) کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ یقینی بنانے کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ‘ریڈی مکس کنکریٹ’ (آر ایم سی) والی گاڑیوں سے کنکریٹ یا دیگر مواد سڑکوں پر نہ گرے۔

کھلی جگہوں پر کوڑا جلانا اور گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی :
پورے ممبئی میں کھلی جگہوں پر کوڑا جلانے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے واقعات کی نگرانی وارڈ کی سطح پر تعینات مارشلز اور سی سی ٹی وی (سی سی ٹی وی) نگرانی کے نظام کے ذریعے کی جائے گی۔ مزید برآں، ٹریفک کے اہم راستوں اور زیادہ رش والے مقامات پر خصوصی ‘پی یو سی’ (پی یو سی – آلودگی کنٹرول) معائنہ مہم چلائی جائے گی، اور ضوابط کے مطابق واضح دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) بڑھنے کی صورت میں اضافی اقدامات :
ایئر کوالٹی انڈیکس کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور صورتحال کے پیشِ نظر ‘گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان’ (جی آر اے پی) کے تحت اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔ اگر اے کیو آئی (ہوا کے معیار کا اشاریہ) 200 سے تجاوز کر جاتا ہے، تو متاثرہ علاقوں میں گہری صفائی، سڑکوں کی دھلائی (جہاں ضروری ہو)، پانی کا چھڑکاؤ، مسٹنگ (باریک پھوار کا چھڑکاؤ) اور کھلے میں کوڑا کرکٹ جلانے پر سخت پابندی جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس بات کا بھی انتظام کیا گیا ہے کہ اگر اے کیو آئی مسلسل تین دنوں تک 300 سے اوپر رہتا ہے، تو مانیٹرنگ اسٹیشن کے 2 کلومیٹر کے دائرے میں آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کو روک دیا جائے گا۔

ممبئی کی فضا کو صاف اور ماحول دوست رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے، اس مکمل عملی منصوبے کے نفاذ کا باقاعدگی سے وارڈ کی سطح پر جائزہ لیا جائے گا۔ مزید برآں، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے نے ہدایت کی ہے کہ فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف ضروری احتیاطی اور نفاذی اقدامات کیے جائیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان