(جنرل (عام
مالیگاوں میں 16 مارچ کو جلسہ اور 26 مارچ کو بند کی تیاریاں جاری
(خیال اثر)
ملک میں بہوجن سماج کی متحرک اور منظم تنظیم کے روحِ رواں اور بہوجن کرانتی مورچہ کے آل انڈیا کنویئر جناب وامن میشرام صاحب مورخہ 16/ مارچ بروز پیر کو مالیگاؤں تشریف لا رہے ہیں، اور نیا بس اسٹینڈ کے قریب اسکول نمبر 14/ کے گراؤنڈ پر ایک احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ ملک میں برہمن واد اور منوسمرتی کے خلاف ببانگِ دہل بولنے والے اور آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کے خلاف پوری شدت کے ساتھ تحریک چلانے والے وامن میشرام کے ساتھ محترم مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی اور مولانا عبدالحمید ازہری نے گزشتہ دنوں لکھنؤ میں تمام تنظیموں کی میٹنگ لے کر 26/ مارچ کو بھارت بند کا اعلان کیا ہے۔ یہ بھارت بند کیسا ہو گا ؟ اس بند کے دور رس نتائج کیا ہونگے ؟ اسی کے ساتھ سی اے اے، این آر سی، اور این پی آر کے تعلق سے بھی تفصیلی معلومات جناب وامن میشرام صاحب کے علاوہ دیگر تنظیموں اور پارٹیوں کے ذمہ داران اس جلسہ عام میں دینگے۔ مقامی سطح پر اس جلسہ کا انعقاد بہوجن کرانتی مورچہ کے ساتھ راشٹریہ مسلم مورچہ اور کل جماعتی تنظیم کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔
اس جلسہ عام کی باضابطہ تیاریاں جاری ہیں، اور اسی سلسلے میں آج سے مختلف سیاسی پارٹیوں، مذہبی جماعتوں، ملی تنظیموں اور سماجی اداروں کے علاوہ اہم شخصیات سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے اس پروگرام کے لئے حمایت کی اپیل کی جا رہی ہے، اور اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہر طبقے سے اس پروگرام کو تاءید و حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
کل جماعتی تنظیم کے ترجمان، صوفی ملت صوفی غلام رسول قادری، راشٹریہ مسلم مورچہ کے ناسک ضلع کے ضلعی صدر الحاج سیٹھ محمد یوسف الیاس، راشٹریہ مسلم مورچہ کے شمالی مہاراشٹر کے سکریٹری جاوید انور، بہوجن کرانتی مورچہ کے راجو کیدارے، حفظ الرحمن ازہری ، صوفی جمیل قادری ٹیلر نے آج شہر کی جن شخصیات کو لیٹر دیا، اور حمایت حاصل کی، ان میں نمایاں طور پر شہر کے موجودہ ایم ایل اے، محترم حضرت مولانا مفتی محمد اسماعیل قاسمی، مہاراشٹر شاہ جماعت کے ریاستی صدر حاجی عبدالرحمن شاہ، لوک سنگھرش سمیتی کے صدر محمد سلیم، کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر جناب عتیق کمال، ڈاکٹر فیروز سفینہ میڈیکل، ینگ میمن کمیٹی کے فیروز میمن صاحب، پاور لوم بنکروں میں نمایاں مقام رکھنے والے اقبال سیٹھ امرویر اور یاسین جواہر کا گروپ، بنکر بیداری کمیٹی کے صدر اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کے اقلیتی سیل کے مہاراشٹر کے نائب صدر الحاج محمد یوسف سیٹھ نیشنل والے، مالیگاؤں شہر رکشہ یونین کے صدر، اور ڈاکٹر انیس احمد انصاری، فعال کارپوریٹر نعیم پٹیل اور انکے برادر عبدالرحیم پٹیل اور سینیر پترکار اشفاق صدیقی صاحب شامل ہیں۔
(جنرل (عام
‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے بانی ابھیجیت ڈپکے کے والدین ان کے سیاسی طنزیہ پلیٹ فارم کے وائرل ہونے سے سخت پریشان ہیں۔

نئی دہلی : سوشل میڈیا پر “کاکروچ جنتا پارٹی” (سی جے پی) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے کے خاندان کو پریشان کر دیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے بیٹے کو سیاسی طور پر طنزیہ مواد کی وجہ سے قانونی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم اور عام آدمی پارٹی کے سابق ساتھی ابھیجیت ڈپکے نے صرف ایک ہفتہ قبل یہ طنزیہ ڈیجیٹل مہم شروع کی تھی۔ تب سے اس پلیٹ فارم کو سوشل میڈیا پر کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد 19 ملین (19 ملین) سے تجاوز کر گئی ہے۔ ابھیجیت ڈپکے کے والدین، بھگوان ڈپکے اور انیتا ڈپکے، جو چھترپتی سمبھاجی نگر میں رہتے ہیں، نے ایک مراٹھی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سیاسی تبصروں میں اس کی شمولیت کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ بھگوان دیپکے نے کہا کہ آج کی سیاست کو دیکھتے ہوئے خوف محسوس کرنا فطری ہے، چاہے کسی کے کتنے ہی پیروکار ہوں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے خود خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ ہم ہر وقت اخبارات میں ایسے واقعات پڑھتے رہتے ہیں۔
ابھیجیت کی والدہ انیتا ڈپکے نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹا سیاست سے دور رہے اور اس کے بجائے اپنے کیریئر پر توجہ دے۔ اس نے کہا، “ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ بحفاظت گھر واپس آجائے۔ وہ سیاست میں جاری رہے یا نہیں یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ہماری بات سنیں گے یا نہیں۔ میں اس معاملے میں ان کا ساتھ نہیں دوں گی۔ میں اس کے بارے میں بہت پریشان ہوں۔” ابھیجیت کے والدین کے مطابق، ابھیجیت نے اعلیٰ تعلیم کے لیے پونے جانے سے پہلے چھترپتی سمبھاجی نگر میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ انہیں انجینئرنگ مشکل لگی جس کے بعد انہوں نے میڈیا اور صحافت کا رخ کیا۔ بھگوان ڈپکے نے کہا کہ اس کا بیٹا بعد میں صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک چلا گیا کیونکہ اس کی بہن پہلے سے وہاں رہ رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ ابھیجیت سیاست میں آنے کے بجائے پونے یا دہلی جیسے شہروں میں باقاعدہ ملازمت اختیار کریں۔
والدین نے کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے پڑوسیوں اور خاندان کے دیگر افراد سے “کاکروچ جنتا پارٹی” کے بارے میں سیکھا۔ بعد میں، والدہ انیتا ڈپکے نے کہا، “میرے ایک پوتے نے مجھے بتایا کہ اس کے سوشل میڈیا پر ملک کے بہت سے معروف لوگوں سے زیادہ فالوورز ہیں۔ اس سے پہلے، وہ AAP کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ تب بھی، میں نے ان سے کہا کہ ہم سیاست میں نہیں ہیں اور انہیں کچھ سماجی کام کرنا چاہیے۔” بھگوان ڈپکے نے اعتراف کیا کہ پلیٹ فارم کی اچانک مقبولیت نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ والد بھگوان ڈپکے نے مزید کہا کہ “میں پریشان ہوں کیونکہ اب وہ مشہور ہو گیا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ میں پچھلی دو راتوں سے سو نہیں پایا، بس یہی سوچ رہا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ مجھے سیاست سے نفرت ہے اور اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
جرم
مغربی بنگال فائرنگ اور بم دھماکہ میں ملوث تین مفرور ملزمین ممبئی سے گرفتار

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ۷ مئی کو مغربی بنگال ہاوڑا میں فائرنگ اور بم دھماکہ میں مطلوب تین ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, مغربی بنگال کے شیبوپور پولس اسٹیشن کی حدود میں فائرنگ کی واردات انجام دی گئی تھی, اس میں مطلوب ملزمین ممبئی کے دیونار ایس آر اے کی بلڈنگ میں روپوش ہے اس بنیاد پر ۲۱ مئی کو کرائم برانچ نے یہاں چھاپہ مار کر تین مفرور ملزمین شمیم احمد عبدالرشید ۴۰ سال، جمیل اختر علی ۴۳ سالہ، آفتاب انور خورشید ۴۴ سالہ کو ممبئی میں گرفتار کر لیا۔ ان مفرور ملزمین پر شیبو پور پولس اسٹیشن میں کئی تقریبا ۵ معاملات بھی درج ہیں, یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی باندرہ مسجد شہید، تشدد، احتجاجی مظاہرہ : پولس پر پتھراؤ کا الزام حالات کشیدہ امن برقرار 10 افراد گرفتار، مزید گرفتاریوں کے لئے آپریشن شروع

ممبئی کے باندرہ علاقہ میں ریلوے کی زمین پر انہدامی کارروائی کے دوران حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے, جب یہاں واقع ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا مسجد کی شہادت پر مسلمانوں نے احتجاج کیا اور اسی دوران پولس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کیا پولس پر مقامی مسلمانوں نے الزام عائد کیا کہ پولس نے بھی ان پر پتھراؤ کیا۔ اس متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پتھراؤ کے معاملہ میں اب تک پولس نے ۱۰ ملزمین کو گرفتار کیا ہے ان پر اقدام قتل سمیت فساد برپا کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔
ممبئی کے باندرہ ایسٹ علاقے میں تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کے دوران کشیدگی پھیل گئی، جب انہدام کی کارروائی مبینہ طور پر پرتشدد ہو گئی، جس کے نتیجے میں پتھراؤ اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تصاد م کی شکل اختیار کر گئی۔ اس واقعے کے بعد نرمل نگر پولیس نے 10 شناخت شدہ ملزمان اور دیگر کے خلاف بی این ایس دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 20 مئی کو باندرہ ایسٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب غریب نگر علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے آپریشن کے دوران پیش آیا۔ یہ کارروائی عدالتی احکامات اور انہدام کے طے شدہ شیڈول سے متعلق ہدایات کے بعد کی گئی۔ حکام نے آپریشن کے دوران ممبئی پولیس، ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف)، ہوم گارڈز اور دیگر عملہ کو تعینات کیا تھا۔ شکایت کے مطابق جب اہلکار انہدام کی کارروائی کر رہے تھے تو تقریباً 100 سے 150 لوگوں کی بھیڑ موقع پر جمع ہو گئی اور احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس حکام نے مبینہ طور پر لوگوں سے پرامن طور پر منتشر ہونے کے لیے بار بار اعلانات کیے ہیں۔ لیکن، کہا جا رہا ہے کہ بھیڑ مشتعل ہو گئی اور آپریشن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ایف آئی آر میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہجوم میں سے کچھ لوگوں نے نعرے بازی شروع کردی اور کہا جارہا ہے کہ انہوں نے بدامنی پیدا کر کے انہدام کے کام کو روکنے کی کوشش کی۔ افراتفری کے دوران، جائے وقوع پر موجود پولیس اور اہلکاروں پر پتھر اور دیگر اشیاء پھینکے جانے کی بات کہی گئی، جس سے علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ بعد ازاں پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہلکی طاقت لاٹھی چارج کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ میں کئی پولس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ شکایت میں خاص طور پر آپریشن کے دوران تعینات پولیس اہلکاروں اور سیکورٹی عملے کے زخمی ہونے کا ذکر ہے۔ بعد ازاں زخمی اہلکاروں کو طبی امداد دی گئی۔ پولیس نے ایف آئی آر میں 10 ملزمان کو نامزد کیا ہے اور ان پر غیر قانونی اسمبلی، ہنگامہ آرائی، سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی سے باز رکھنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سرکاری ملازمین پر حملے سے متعلق مختلف الزامات عائد کیے ہیں۔ معاملہ زیر تفتیش ہے۔ حکام تشدد میں مبینہ طور پر ملوث مزید افراد کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں, علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں امن و امان میں خلل پیدا نہ ہو اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ پتھراؤ کے واقعہ کے بعد اب اس کو ہندو مسلم اور مذہبی رنگ دینے کی سوشل میڈیا پر کوشش شروع ہو گئی ہے جس پر پولیس نظر رکھ رہی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
