Connect with us
Wednesday,17-June-2026

جرم

مسجدوں میناروں کے شہر مالیگاؤں میں نوزائیدہ بچی کو موت کے منہ میں پھینکنے والی بے رحم ماں کی پولس کررہی ہے تلاش

Published

on

murder

اسپیشل اسٹوری : وفا ناہید
جانے کیسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے جگر گوشے کو پھینک کر چلے جاتے ہیں. ایک ماں جو کہ 9 مہینے تکلیف اٹھا کر اپنے مادر شکم میں ایک زندگی کی تخلیق کرتی ہیں. ہر طرح کا درد برداشت کرکے جب وہ ماں بنتی ہے تو وہ ایک لمحہ اس کی زندگی کا انتہائی انمول لمحہ ہوتا ہے. ماں کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رب کائنات نے اس ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے اور وہ رب 70 ماؤں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے. اب اس کے بعد اگر ماں کا ایک گھناؤنا روپ سامنے آتا ہے تو دل یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا واقعی یہ کوئی ماں ہے یا ڈائن. جس نے اپنی جوانی کے حسین پلوں کو گناہ کے سمندر میں غرق کردیا ہے اور اس گناہ کی نشانی کو وہ اپنے مادر شکم میں پال رہی ہے. کیا اس وقت اس عورت کی ممتا مرجاتی ہے. جب گناہ کرتے وقت اس کے قدم نہیں لڑکھڑائے, جب اپنے والدین کو دھوکہ دیتے وقت اس کے اس کا دل نہیں کانپا, جب اس عیاشی کے دلدل میں لذت گناہ کرتے ہوئے اسے احساس نہیں ہوا کہ وہ خالق کائنات جو شہ رگ سے قریب ہے وہ 7 پردوں میں سے اسے دیکھ رہا ہے. مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں میں ایسا ہی ایک شرمناک واقعہ پیش آیا. موصولہ تفصیلات کے مطابق مورخہ 16 جون بروز منگل صبح 7 سے ساڑھے 7 بجے کے درمیان نیشنل ہائی وے نمبر 3 سوندگاؤں پھاٹہ مالدہ شیوار کے پاس جعفر سیٹھ کے ملّے کے بازو میں گٹ نمبر 76 پر کھلے میدان میں کسی نامعلوم عورت نے اپنا گناہ چھپانے کے لئے اپنی نوزائیدہ بچی کو خونخوار کتوں اور موذی جانوروں کے درمیان چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلی. روتی ہوئی ننھی معصوم بچی کو راہ چلتے ہوئے ذیشان مستری نے دیکھا تو اسے اٹھا کر اسی محلے کی ایک خاتون خانہ کو سونپ دیا اور اس بات کی اطلاع ذیشان مستری کے دوست اور مالدہ شیوار میں رہنے والے عبدالرحمن انصاری نے گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں کے انصاری ضیاء الرحمن مسکان کو دی تب گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کی جانب سے پوارواڑی پولیس اسٹیشن میں انصاری ضیاء الرحمن مسکان نے ایف آئی آر درج کروائی اور بچی کو سول ہسپتال میں ایڈمیٹ کروایا تاکہ قانونی کاروائی میں کسی طرح کی کوئی پیچیدگی نہ آئے اور بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوسکے اور دیگر معلومات مل سکے کی بچی کس کی ہے اور کیوں اسے اس طرح بے یار و مددگار مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا. وہ گنہگار عورت بچی کو اس طرح کتوں کے سامنے موت کے منہ میں ڈال کر سمجھ رہی ہوگی کہ خس کم جہاں پاک مگر اسے شاید معلوم نہیں کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں. اور مجرم گناہ کرتے وقت کچھ نہ کچھ ثبوت چھوڑ دیتا ہے. تب وہ پولس کی دبش سے بچ نہیں پاتا. اس کے علاوہ ایک عدالت اور ہے جہاں نہ ثبوت کی ضرورت ہے اور گواہوں کی. اس ذات کا انصاف تو بہترین انصاف ہے. جو اس نوزائیدہ بچی کو ضرور ملے گا.
بچی کے ساتھ س طرح کی گھناؤنی حرکت کرنے والی ماں کو پولس تلاش کررہی ہے. ابھی فی الحال پوارواڑی پولیس اسٹیشن کے پی آئی گلاب راؤ پاٹل اور پی ایس آئی کالے اس کیس کی تحقیقات کررہے ہیں.
مسلسل دو روز سے گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے فیاض افسر, ضیاء الرحمن وائیرمین اور انصاری ضیاء الرحمن مسکان نے پولیس اسٹیشن میں اور سول ہوسپٹل میں کافی محنت کی ہے ابھی تحقیقات جاری ہے بچی سول ہوسپٹل میں ایڈمیٹ کرانے کے بعد اس کی دیکھ ریکھ کے لیے ایک لیڈیز پولیس کے علاوہ گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے ضیاء الرحمن وائیرمین اور ان کی اہلیہ بھی خوب محنت کررہی ہے شہر کے مشہور عمرہ ٹور کے مالک شفیق حاجی کا بھی بہت تعاون رہا بچی کا دودھ اور دیگر اخراجات شفیق حاجی اور ضیاء الرحمن مسکان برداشت کررہے ہیں.

جرم

بنگلورو میں لیو ان پارٹنر نے خاتون کو گلا دبا کر قتل کر دیا۔

Published

on

بنگلورو کے ملیشورم میں کرائے کے مکان میں ایک 20 سالہ خاتون کو اس کے ساتھی نے مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کر دیا۔ متاثرہ کی شناخت انوشا کے طور پر ہوئی ہے اور ملزم 25 سالہ شرتھ ہے جو ہاسن ضلع کے سکلیش پور کا رہنے والا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ دونوں کی ملاقات انسٹاگرام پر ہوئی تھی اور وہ گزشتہ چھ ماہ سے مالیشورم میں ایک ساتھ رہ رہے تھے۔ ہفتہ کی رات مبینہ طور پر ذاتی معاملات پر جھگڑا بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں شہر میں پانی کے ٹینکر ڈرائیور شرتھ نے انوشا کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔

یہ واقعہ پیر کو اس وقت سامنے آیا جب شرتھ نے مبینہ طور پر اپنے وکیل کو قتل کے بارے میں مطلع کیا۔ وکیل نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد سشادری پورم پولیس اسٹیشن کے افسران گھر پہنچے اور لاش کو برآمد کیا۔ مقدمہ درج کر لیا گیا، سرچ آپریشن کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد، انوشا کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی، جب کہ پولیس تحقیقات کے حصے کے طور پر شرتھ سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

اس سے قبل 13 جون کو بنگلورو میں ایک خاتون اپنے کرائے کے گھر میں مردہ پائی گئی تھی۔ متوفی، جس کی شناخت بھوانی ایس کے نام سے ہوئی تھی، نے بی ایس سی مکمل کیا تھا۔ کی ڈگری حاصل کی اور ٹگارپالیا میں ایک موبائل فون کی دکان پر بلنگ ایگزیکٹو کے طور پر کام کر رہا تھا۔ وہ جی ہوساہلی روڈ پر آرکڈز اسکول کے قریب کرائے کے مکان میں اکیلی رہتی تھی۔

والد سرینواس نے بتایا کہ 13 جون کی صبح ان کی بھابھی نے خاندان کو انسٹاگرام کہانی کے بارے میں مطلع کیا جس میں بھوانی کو ایک نامعلوم شخص کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ جب بھوانی کو بار بار کال کی گئی تو جواب نہیں ملا، خاندان نے اپنے آجر کی بیوی سے رابطہ کیا اور ان سے بھوانی کی خیریت دریافت کرنے کی درخواست کی۔

خاتون نے گھر کو اندر سے بند پایا۔ دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد جب اسے کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ جب پولیس گھر میں داخل ہوئی تو بھوانی فرش پر مردہ پائی گئی، جبکہ چندر شیکھر (عرف چندن یا چندو) نامی شخص بے ہوش لیکن سانس لے رہا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

پنجاب : پولیس کی منشیات فروشی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی، ایک گرفتار

Published

on

heroin

چندی گڑھ : پنجاب پولیس نے منشیات اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا ہے۔ پولیس فی الحال ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ معاملے کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔

پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں کسی بھی ملزم کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے آتی ہے تو وہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ پولیس نے اس کارروائی کی معلومات اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی ہیں۔

پولیس کے مطابق ان ملزمان سے 5.775 کلو گرام ہیروئن، 133640 ممنوعہ کیپسول/گولیاں، 39 کارتوس اور 36600 روپے نقدی برآمد ہوئی ہے۔ ان کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فی الحال تفتیش جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر پورے نیٹ ورک کی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون کون ملوث ہے اور وہ کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر کوئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پنجاب کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ایسی کارروائی ضروری ہے۔ “ہمارا واحد مقصد پنجاب کو منشیات سے پاک کرنا ہے، اور اس سمت میں ہماری بھرپور کوششیں جاری رہیں گی۔ ہم نہیں چاہتے کہ پنجاب کے نوجوان کسی بھی قسم کی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہوں۔”

واضح رہے کہ سرحد پار سے پنجاب میں منشیات کی سمگلنگ مسلسل ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس پہلے ہی کئی بڑی کارروائیاں کر چکی ہے۔ اس سے قبل، پنجاب پولیس نے 11 جون کو ایک کارروائی کے دوران 30 کلو گرام ہیروئن پکڑی تھی۔ اس کیس میں گرفتار ملزمان دبئی میں مقیم سمگلروں سے رابطے میں تھے اور ان کی مدد سے منشیات پنجاب سمگل کرتے تھے۔

Continue Reading

تعلیم

دہلی میں این ای ای ٹی کی تیاری کرنے والے طالب علم نے خودکشی کرلی، خودکشی نوٹ برآمد

Published

on

نئی دہلی: دہلی میں این ای ای ٹی کی تیاری کرنے والے ایک طالب علم نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ ہلاک ہونے والی طالبہ کی شناخت رینو کے طور پر کی گئی ہے، جو جنوب مغربی دہلی کے پالم علاقے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ طالب علم نے 3 مئی کو این ای ای ٹی کے امتحان میں شرکت کی تھی اور مبینہ طور پر امتحان منسوخ ہونے کے بعد سے ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ پولیس نے بتایا کہ رینو کے والد اپنے سسر کی موت کے بعد 13 جون کو اپنے سسرال گئے تھے۔ واقعہ کے وقت رینو گھر میں اکیلی تھی۔ اس نے مبینہ طور پر 13 جون کی شام کو پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔

جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والے خودکشی نوٹ سے اس کی ذہنی پریشانی کا پتہ چلتا ہے۔ نوٹ میں، اس نے اپنے والدین سے معافی مانگی اور لکھا کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہیں۔ خاندان کا اصل تعلق راجستھان سے ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء کی ذہنی صحت کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، خاص طور پر این ای ای ٹی امتحان سے متعلق تنازعہ اور پیپر لیک ہونے کے الزامات کے بعد۔

اس ہفتے کے شروع میں، راجستھان کے سیکر ضلع میں این ای ای ٹی کے ایک 22 سالہ امیدوار نے خودکشی کر لی۔ امیش مالی 21 جون کو ہونے والے این ای ای ٹی امتحان میں اپنی تیسری کوشش کی تیاری کر رہے تھے۔ سیکر میں این ای ای ٹی کے امیدوار کی یہ دوسری خودکشی تھی۔

پولیس کے مطابق امیش جھنجھنو ضلع کے نوال گڑھ کا رہنے والا تھا۔ اس کے والد ممبئی میں ٹائل کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ امتحان کی تیاری کے دوران وہ اپنی ماں، بڑی بہن اور چھوٹے بھائی کے ساتھ سیکر کے صنعت نگر تھانہ علاقے میں ایک فلیٹ میں رہ رہا تھا۔

منگل کو سامنے آنے والے اسی طرح کے ایک واقعے میں، دہرادون میں ایک 23 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر این ای ای ٹی کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد اپنی جان لے لی۔ اس نے اپنے والدین کے نام ایک نوٹ چھوڑا، جس میں لکھا تھا، “ماں اور پاپا، میں آپ سے پیار کرتا ہوں۔”

پولیس کے مطابق، ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کافی عرصے سے این ای ای ٹی امتحان کی تیاری کر رہی تھی اور میڈیکل کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی تھی۔

دریں اثنا، این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ نے منگل کو امیدواروں کو یقین دلایا کہ دوبارہ امتحان محفوظ طریقے سے اور بغیر کسی بے ضابطگی کے منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے طلباء اور والدین کو بھی خبردار کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے ایسے ریاکٹ سے ہوشیار رہیں جو لیک شدہ پیپرز کو بھاری رقم کے عوض فروخت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ایک ویڈیو پیغام میں ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ دوبارہ امتحان کا کوئی پرچہ لیک نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے امیدواروں کو خبردار کیا کہ وہ ٹیلی گرام چینلز کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کے شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی گرام ایپ کو 22 جون تک عارضی طور پر معطل کرنے کا مقصد امتحان سے متعلق جعلی خبروں اور گمراہ کن دعوؤں کو روکنا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان