(جنرل (عام
مالیگاؤں بند ضد فی صد کامیاب. این آر سی اور کین کے خلاف اہلیان مالیگاؤں کا تاریخ ساز پرامن احتجاج
(وفا ناہید)
آہن آر سی اور سی اے اے کو خلاف پورے ملک سے احتجاج جاری ہے. آج 19 دسمبر 2019 بروز جمعرات کو مسجدوں میناروں کے شہر مالیگاؤں نے بھی اپنا پرزور احتجاج درج کرایا. آہن گروں کے یہ شہر مسلم اکثریتی شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے. جس انگریزوں کو ملک سے بھگانے کے لئے تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے لوگ متحد ہوگئے تھے تب انگریز ملک چھوڑ کر بھاگے تھے. یہی صورتحال آج پچھلے ہفتے بھر سے پورے ہندوستان میں نظر آرہی ہیں. دارالحکومت دہلی میں گذشتہ دنوں جامعہ کے طلبا ء کے ساتھ جو کچھ ہوا, اس نے ممبئی بیسٹ بیکری احتجاج اور جلیان والا باغ کے قتل عام کی یادیں تازہ کردیں. پورے ہندستان کے مسلمانوں این آر سی اور سی اے اے کے خلاف میدان عمل میں ہیں . آج بروز مالیگاؤں شہر کے مسلمانوں نے بھی اس تحریک میں شامل ہوکر اپنا تاریخ ساز احتجاج درج کرایا ۔ آج صبح 10 بجے شہر کے تاریخی قلعے سے این آر سی اور کیب کو لے کر پر امن ریلی نکالی گئی جس میں شہر کے مسلمانوں نے بڑھ چرھ کر حصہ لیا اور سی اے اے کےکالے قانون کو رد کرنے کے لئے عدلیہ سے مطالبہ بھی کیا گیا. آج صبح 10 بجے شہرکے تاریخی قلعہ سے ریلی کا آغاز ہوا ۔ اس ریلی میں سبھی تنظیموں کے ساتھ ساتھ سبھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نیز برادران وطن نے بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور اس ریلی کے اختتام تک موجود رہے ۔ یہ ریلی شہر کی اہم شاہراوں سے گذرتے ہوئے پر امن طریقے سے قلب شہر میں موجود شہیدوں کی یادگار پر اختتام پذیر ہوئی ۔ اس ریلی میں کالے کپڑوں کے استعمال کے ساتھ ہاتھوں میں کالی فیت اور سینے پر ریجیکٹ سی اے اے کے اسٹیکرس کا بھی استعمال کیا گیا اوراس ریلی میں بی جے پی حکومت کے خلاف تنقیدی نعرے بھی لگائے گئے ۔ اس پر امن ریلی میں پولس کا سخت حفاظتی بندوبست رہا ۔ واضح رہے کہ این آر سی اور کیب کے خلاف آج مالیگاؤں بند کا اعلان بھی کیا گیا تھا. جو صد فی صد کامیاب رہا. شہر کے کاروبار مکمل طور بند نظر آئے ۔ ساتھ ہی پاورلوم مالکان نے بھی اپنی صنعت بند رکھ کر اس احتجاج میں شرکت کی . یہاں تک کہ شہر کی چھوٹی دکانیں بھی بند نظر آئی ۔ اس ریلی میں شہر کے مسلمانوں میں جوش و خروش دیکھا گیا. آج کا یہ احتجاج دستورہند بچاؤ کمیٹی کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا. دستور ہند بچاؤ کمیٹی کی آواز پر آج دینی و صنعتی شہر مالیگاؤں کا مکمل پر طور پر چکہ جام رہا۔ اس بند میں سیاسی، سماجی، فلاحی، تعلیمی و دیگر شعبہ جات نے بھرپور حصہ لیا۔ سروے کے مطابق گوٹھان سو فیصد بند رہا۔ مضافات وغیرہ دھیرے دھیرے بند میں شامل ہوتے گئے.آج کے اس مالیگاؤں بند میں شہر کی کئی اسکولیں اور دینی مدارس و مکاتب بھی بند تھے . اس کے علاوہ تانبا کانٹا، گڑ بازار سردار مارکیٹ قدوائی روڈ محمد علی روڈجیسے اہم ترین بازاری و کاروباری علاقے مکمل طور پر بند رہے. اس کے علاوہ جھونپڑپٹی علاقہ کسمبا روڈ، عائشہ نگر مین روڈ، آزاد نگر مین روڈ، رونق آباد مین روڈ کے بازاری علاقے صبح سے ہی بند رہے۔ شہر کی عوام نے ایک دن قبل ہی ضروریات زندگی کی اشیاء محفوظ کر لی تھی۔ اس تناظر میں شہر کے تمام ادارے، کلبوں ، بزموں کے ساتھ نئی نسل کے نوجوانوں میں کافی جوش وخروش دیکھا گیا۔ مودی سرکار کے کالے قانون (بل) کے خلاف عوام میں غصہ تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق ہزاروں افراد نے جلوس میں معیاری نعرے بازی کی اور کالی فیت کا استعمال بھی کیا۔ جیسے جیسے ریلی کا قافلہ بڑھتا گیا۔ عوام الناس گھروں سے نکل کر ریلی میں شرکت کرتے رہے اور صبح 10 بجے تک مکمل طور پر بند میں شامل ہو گئے ۔ صبح سے ہی کارپوریشن کے سامنے تاریخی قلعہ کے پاس عوامی سروں کا ایک ٹھاٹھیں سمندر جمع ہونا شروع ہوگیا تھا ۔ سب سے پہلے شہر کے یوسف الیاس، یوسف سیٹھ نیشنل والے, مولانا عبدالقیوم قاسمی، صوفی غلام رسول قادری، ڈاکٹر سعید فیضی و دیگر سرکردہ افراد نے ماحول سازی کی شروعات کر دی تھی. اس درمیان میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی اپنے فرزند کے ساتھ تشریف لائے ۔ تھوڑی ہی دیر میں دستور ہند بچاؤ کمیٹی کے روح رواں مولانا عمرین محفوظ رحمانی اپنے مداحوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے۔ اس درمیان میں عوامی ہجوم میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا ۔ قلعہ علاقے سے نریندرمودی کا پتلا بھی جلوس میں دیکھا گیا۔ شرکاء ریلی نے ہاتھوں میں ترنگا لیے ہوئے تھے اور مودی سرکار کے کالے قانون این آر سی اور سی اے اے کے خلاف جم کر نعرے بازی کی گئی ۔ جیسے جیسے جلوس آگے بڑھتا گیا۔ عوامی ہ
ممبئی پریس خصوصی خبر
اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔
“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”
ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔
اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
