Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں بند ضد فی صد کامیاب. این آر سی اور کین کے خلاف اہلیان مالیگاؤں کا تاریخ ساز پرامن احتجاج

Published

on

(وفا ناہید)
آہن آر سی اور سی اے اے کو خلاف پورے ملک سے احتجاج جاری ہے. آج 19 دسمبر 2019 بروز جمعرات کو مسجدوں میناروں کے شہر مالیگاؤں نے بھی اپنا پرزور احتجاج درج کرایا. آہن گروں کے یہ شہر مسلم اکثریتی شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے. جس انگریزوں کو ملک سے بھگانے کے لئے تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے لوگ متحد ہوگئے تھے تب انگریز ملک چھوڑ کر بھاگے تھے. یہی صورتحال آج پچھلے ہفتے بھر سے پورے ہندوستان میں نظر آرہی ہیں. دارالحکومت دہلی میں گذشتہ دنوں جامعہ کے طلبا ء کے ساتھ جو کچھ ہوا, اس نے ممبئی بیسٹ بیکری احتجاج اور جلیان والا باغ کے قتل عام کی یادیں تازہ کردیں. پورے ہندستان کے مسلمانوں این آر سی اور سی اے اے کے خلاف میدان عمل میں ہیں . آج بروز مالیگاؤں شہر کے مسلمانوں نے بھی اس تحریک میں شامل ہوکر اپنا تاریخ ساز احتجاج درج کرایا ۔ آج صبح 10 بجے شہر کے تاریخی قلعے سے این آر سی اور کیب کو لے کر پر امن ریلی نکالی گئی جس میں شہر کے مسلمانوں نے بڑھ چرھ کر حصہ لیا اور سی اے اے کےکالے قانون کو رد کرنے کے لئے عدلیہ سے مطالبہ بھی کیا گیا. آج صبح 10 بجے شہرکے تاریخی قلعہ سے ریلی کا آغاز ہوا ۔ اس ریلی میں سبھی تنظیموں کے ساتھ ساتھ سبھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نیز برادران وطن نے بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور اس ریلی کے اختتام تک موجود رہے ۔ یہ ریلی شہر کی اہم شاہراوں سے گذرتے ہوئے پر امن طریقے سے قلب شہر میں موجود شہیدوں کی یادگار پر اختتام پذیر ہوئی ۔ اس ریلی میں کالے کپڑوں کے استعمال کے ساتھ ہاتھوں میں کالی فیت اور سینے پر ریجیکٹ سی اے اے کے اسٹیکرس کا بھی استعمال کیا گیا اوراس ریلی میں بی جے پی حکومت کے خلاف تنقیدی نعرے بھی لگائے گئے ۔ اس پر امن ریلی میں پولس کا سخت حفاظتی بندوبست رہا ۔ واضح رہے کہ این آر سی اور کیب کے خلاف آج مالیگاؤں بند کا اعلان بھی کیا گیا تھا. جو صد فی صد کامیاب رہا. شہر کے کاروبار مکمل طور بند نظر آئے ۔ ساتھ ہی پاورلوم مالکان نے بھی اپنی صنعت بند رکھ کر اس احتجاج میں شرکت کی . یہاں تک کہ شہر کی چھوٹی دکانیں بھی بند نظر آئی ۔ اس ریلی میں شہر کے مسلمانوں میں جوش و خروش دیکھا گیا. آج کا یہ احتجاج دستورہند بچاؤ کمیٹی کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا. دستور ہند بچاؤ کمیٹی کی آواز پر آج دینی و صنعتی شہر مالیگاؤں کا مکمل پر طور پر چکہ جام رہا۔ اس بند میں سیاسی، سماجی، فلاحی، تعلیمی و دیگر شعبہ جات نے بھرپور حصہ لیا۔ سروے کے مطابق گوٹھان سو فیصد بند رہا۔ مضافات وغیرہ دھیرے دھیرے بند میں شامل ہوتے گئے.آج کے اس مالیگاؤں بند میں شہر کی کئی اسکولیں اور دینی مدارس و مکاتب بھی بند تھے . اس کے علاوہ تانبا کانٹا، گڑ بازار سردار مارکیٹ قدوائی روڈ محمد علی روڈجیسے اہم ترین بازاری و کاروباری علاقے مکمل طور پر بند رہے. اس کے علاوہ جھونپڑپٹی علاقہ کسمبا روڈ، عائشہ نگر مین روڈ، آزاد نگر مین روڈ، رونق آباد مین روڈ کے بازاری علاقے صبح سے ہی بند رہے۔ شہر کی عوام نے ایک دن قبل ہی ضروریات زندگی کی اشیاء محفوظ کر لی تھی۔ اس تناظر میں شہر کے تمام ادارے، کلبوں ، بزموں کے ساتھ نئی نسل کے نوجوانوں میں کافی جوش وخروش دیکھا گیا۔ مودی سرکار کے کالے قانون (بل) کے خلاف عوام میں غصہ تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق ہزاروں افراد نے جلوس میں معیاری نعرے بازی کی اور کالی فیت کا استعمال بھی کیا۔ جیسے جیسے ریلی کا قافلہ بڑھتا گیا۔ عوام الناس گھروں سے نکل کر ریلی میں شرکت کرتے رہے اور صبح 10 بجے تک مکمل طور پر بند میں شامل ہو گئے ۔ صبح سے ہی کارپوریشن کے سامنے تاریخی قلعہ کے پاس عوامی سروں کا ایک ٹھاٹھیں سمندر جمع ہونا شروع ہوگیا تھا ۔ سب سے پہلے شہر کے یوسف الیاس، یوسف سیٹھ نیشنل والے, مولانا عبدالقیوم قاسمی، صوفی غلام رسول قادری، ڈاکٹر سعید فیضی و دیگر سرکردہ افراد نے ماحول سازی کی شروعات کر دی تھی. اس درمیان میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی اپنے فرزند کے ساتھ تشریف لائے ۔ تھوڑی ہی دیر میں دستور ہند بچاؤ کمیٹی کے روح رواں مولانا عمرین محفوظ رحمانی اپنے مداحوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے۔ اس درمیان میں عوامی ہجوم میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا ۔ قلعہ علاقے سے نریندرمودی کا پتلا بھی جلوس میں دیکھا گیا۔ شرکاء ریلی نے ہاتھوں میں ترنگا لیے ہوئے تھے اور مودی سرکار کے کالے قانون این آر سی اور سی اے اے کے خلاف جم کر نعرے بازی کی گئی ۔ جیسے جیسے جلوس آگے بڑھتا گیا۔ عوامی ہ

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان