Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

اسرائیل کی بنیاد ظلم وتشدد پر، فلسطین فلسطینیوں اور مسلمانوں کا تھا اور رہے گا، حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے علماء و صحافیوں کا خطاب

Published

on

press conference in Hyderabad

مجلس علمائے ہند اور صحافیوں کی جانب سے حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین اور غزہ کے باشندوں پر کی جانے والی بمباری اور تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی، اور مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ اسرائیل کی بنیاد ہی ظلم وتشدد پر مبنی ہے، فلسطین فلسطینیوں اور مسلمانوں کا تھا، اور رہے گا۔ دو ریاستی حل ناممکن ہے، اس کا کوئی تصور نہیں، آج وقت آ گیا ہے، کہ اسرائیلی ظلم کے خلاف بلا مسلک ومذہب متحدہ طور پر تمام اٹھ کھڑے ہوں، اور نہتے فلسطینیوں کی ہر سطح پر تائید حمایت اور مدد فراہم کی جائے۔

مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں اور مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ سات دہائیوں سے انسانیت کے علمبرداروں سے اس بات کا تقاضہ کر رہا ہے کہ وہ انصاف کی بنیادوں پر بیت المقدس، فلسطین اور فلسطینیوں کو اسرائیلی مظالم اور اس کے قبضہ سے آزاد کرائیں۔ جنوبی ہند کے تاریخی شہر حیدرآباد میں تنظیم جعفریہ کی جانب سے دفتر علمائے ہند پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا، جس کی صدارت ونگرانی تنظیم جعفریہ کے صدر مولانا سید تقی رضا عابدی نے کی۔ اس پریس کانفرنس کو شہر کے علماؤ اور مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں نے مخاطب کیا۔ پریس کانفرنس کا آغاز قرات کلام مجید سے کیا گیا۔ اس اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے نگران جلسہ مولانا سید تقی رضا عابدی نے کہا کہ موجودہ وقت دراصل ہم سے امتحان لے رہا ہے۔

دیکھنا یہی ہے کہ اس امتحان میں کون کامیاب ہوگا، اور کون ناکام ہوگا۔ یہ امتحان ساری انسانیت سے ہے مسئلہ کسی مسلک یا مذہب کا نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ انسانیت سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے کہ آج فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے۔ معصوم بچے چاہے کسی مذہب کے ہوں، وہ بچے ہیں اور ان کو نشانہ بناکر قتل کرنا درندگی اور شیطانیت ہے، اور یہی درندگی اور شیطانیت اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ دراصل اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسرائیلی جنگی طیارے عام رہائشیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فلسطینی بچوں کا چن چن کر قتل عام کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی بربریت کا عالم یہ ہو چکا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بھی بمباری کر رہا ہے۔ آج جو کوئی بھی اسرائیل کی کھلی دہشت گردی کی پردہ داری کر رہے ہیں، وہ ظلم کا ساتھ دیتے ہوئے خود بھی اس سفاکیت کے مجرم بن رہے ہیں۔ اسرائیل وہ ناجائز ریاست ہے جس نے پچھلے 70 برسوں میں فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ حقیقتاً اسرائیل کی بنیاد ہی ظلم وتشدد پر رکھی گئی ہے۔ مولانا تقی رضا عابدی نے انقلاب اسلامی ایران کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس انقلاب کا آغاز وقت کے شاہ کے خلاف اسی وجہ سے تھا کہ اس نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا جس کی مخالفت میں ایرانی اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ آج بھی اسرائیل کا ساتھ دینے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ مولانا نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی مزاحمت کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کہتا ہے کہ ظالموں کے خلاف ڈٹ جاو اور آج مزاحمتی تحریک حماس ظالم اسرائیل کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے اجلاسوں، قرار دادوں کو بے معنی قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے خلاف عملی سخت اقدامات پر زور دیا۔ سینئر صحافی شجیع اللہ فراست نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے فارمولے کو یکسر خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل غزہ پر ہونے والی بمباری اور مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی تشدد کی مذمت کرنے کے لیے آج ہم جمع ہیں۔ فلسطین میں ہونے والی تازہ شہادتوں کے اعداد وشمار کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی بربریت میں شہید ہونے والوں میں ہر تیسرا اور چوتھا ایک معصوم بچہ ہے۔غزہ ایک ایسا شہر ہے جو پہلے ہی سے تباہ حال ہے، اور ایک کھلی جیل بنا ہوا ہے اس کے باوجود اس کو مزید تباہ کیا جا رہا ہے۔ جو کچھ یہاں انفرا اسٹرکچر ہے، اس کو بھی برباد کیا جا رہا ہے۔

فلسطین میں ہونے والے اس ظلم کا آغاز آج نہیں بلکہ اس کی ابتدا پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ درد بھری کہانی ہے، جس کو دنیا کے روبرو بار بار پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل فلسطینیوں پر ظلم کی ابتدا صیہونیت کے آغاز سے ہوتی ہے۔ یہودیوں میں کچھ وہ ہیں جو عام زندگی بسر کرتے ہیں، لیکن بہت سے وہ صیہونی ہیں، جو اپنے سیاسی، معاشی اور انتہا پسندانہ ایجنڈوں پر کام کر رہے ہیں، جس میں ان کے علاوہ دوسروں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ دراصل اسی بے رحم صیہونیت نے 19ویں صدی کے اواخر میں ایسے حالات پیدا کیے اور برطانیہ، فرانس کے ہمراہ دیگر پشت پناہوں کی حمایت کے ساتھ بالفور اعلامیہ کروایا جس میں یہودیوں کے لیے ایک ملک کے قیام کا وعدہ کیا گیا۔ یہی وہ وقت تھا جب ان طاقتوں نے ایک جانب یہودیوں کی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا، اور دوسری جانب خطہ عرب میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف عربوں کو استعمال کیا گیا، اور ان سے سودے بازی کی گئی کہ اگر وہ عالمی جنگ میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف ان کا ساتھ دیں گے، تو انھیں پوری عرب دنیا کا حکمران بنا دیا جائے گا۔ اس دوران صیہونی تحریک چلی اور بڑی تعداد میں یوروپ سے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسایا جانے لگا۔ آگے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لیگ آف نیشن کے ذریعہ فلسطین میں ایک ناجائز اسرائیلی ریاست کے قیام کو تسلیم کیا گیا۔ شجیع اللہ فراست نے اسرائیل مخالف فلسطینی کاز کی ہر سطح پر حمایت وتائید پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ دنیا کے سامنے اس بات کو بار بار دہرایا جائے کہ کس طرح سے فلسطین میں ایک ناجائز ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سینئر صحافی سید باقر نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ مسئلہ فلسطین کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ صیہونیت ہے۔ وہ صرف فلسطین پر قبضہ نہیں بلکہ وہ مدینہ پاک تک اپنے گریٹر اسرائیل کی توسیع کا ناپاک منصوبہ رکھتے ہیں۔ سید باقر نے اپنے پانچ نکات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ وفلسطین کی آزادی کی لڑائی صرف اسرائیل ہی سے نہیں، بلکہ ان منافقین سے بھی ہے جو شخصی، تنظیمی یا حکومتی طور پر اسرائیل کے کھلے اور چھپے ہوئے مددگار بنے ہوئے ہیں، یہ وہ غدار ہیں جو فلسطین کے کاز میں سب سے بڑی رکاوٹ اور اسرائیل کی ڈھال بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سلطنت عثمانیہ سے غداری کرنے والے ٹولوں سے لے کر صدی کی ڈیل تک اپنا منہ چھپانے والے ایک کے بعد ایک اب بے نقاب ہو رہے ہیں۔ اگر آج بھی ان کی کھل کر مخالفت نہیں کی جائے گی، تو ہر اہل منصب کو کل بروز محشر خدا کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا ہوگا۔ اس لیے کہ ظالم کا ساتھ دینے والے بھی انھیں کے ساتھ ہوں گے۔

فلسطین کا معاملہ صرف کسی زمین کے تکڑے کا نہیں بلکہ یہاں مسلمانوں کا تیسرا حرم پاک ہے، اور اسکی فضیلت اور اس سے وابستگی کیلئے ہر سطح پر شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ دراصل اسرائیل اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، جس میں ایک بڑی جنگ کروانا، گریٹر اسرائیل کا قیام، مسجد اقصیٰ کا انہدام اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر شامل ہے۔ آج فلسطینی اپنے معصوم بچوں کی قربانیاں دے کر مسجد اقصیٰ اور ارض فلسطین کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یقیناً کوئی بھی مقصد کا حصول بغیر قربانی کے ممکن نہیں۔ آج ہم کو بھی عملی طور پر فلسطین کی آزادی کے لیے قربانی کو پیش کرنے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم حکمرانوں سے اب کوئی امید نہیں۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ عنقریب ایسے عوامی انقلاب برپا ہوں گے، جو فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے حقیقی معنوں میں راہیں ہموار کریں گے۔ سینئر صحافی سید جعفر حسین نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل نہ حق کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حماس بے سرو سامانی کے باوجود اسرائیل سے نہ صرف مقابلہ کر رہی ہے، بلکہ خدا کی مدد سے صیہونی منصوبوں کو ناکام بنا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج اسرائیل دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہا ہے۔ 14 ممالک نے آج اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ عرب حکمران جنھوں نے اسرائیل سے تعلقات بنائے ہیں، ان کو چاہئے کہ وہ اس پر از سر نو غور کریں، اور امت مسلمہ کے لیے اسرائیل کے ساتھ تمام رشتے منقطع کیے جائیں۔ سینئر صحافی مجتبیٰ زیدی نے اسرائیلی بربریت کی سخت الفاظ میں مذمت کی، اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ انھوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیا۔

(جنرل (عام

وقف بل پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اویسی اور کانگریس کے بعد آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

Published

on

MLA-Amanatullah-Khan

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے منظور کر لیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے تنازعہ اب بھی ختم نہیں ہو رہا۔ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ خان نے درخواست میں درخواست کی کہ وقف (ترمیمی) بل کو “غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29، 30 اور 300-اے کی خلاف ورزی کرنے والا” قرار دیا جائے اور اسے منسوخ کیا جائے۔ اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ یہ بل آئین کے بہت سے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کو من مانی کرنے کا اختیار ملتا ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2025 کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ جاوید کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر “من مانی پابندیاں” فراہم کرتا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا۔ ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کیونکہ یہ پابندیاں عائد کرتا ہے جو دیگر مذہبی اوقاف میں موجود نہیں ہیں۔ بہار کے کشن گنج سے لوک سبھا کے رکن جاوید اس بل کے لیے تشکیل دی گئی جے پی سی کے رکن تھے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بل میں یہ شرط ہے کہ کوئی شخص صرف اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کی بنیاد پر ہی وقف کا اندراج کرا سکتا ہے۔

اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بل کے ذریعے وقف املاک کا تحفظ چھین لیا گیا ہے جبکہ ہندو، جین، سکھ مذہبی اور خیراتی اداروں کو یہ تحفظ حاصل ہے۔ اویسی کی درخواست، جو ایڈوکیٹ لازفیر احمد کے ذریعہ دائر کی گئی ہے، میں کہا گیا ہے کہ “دوسرے مذاہب کے مذہبی اور خیراتی اوقاف کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے وقف کو دیے گئے تحفظ کو کم کرنا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتی ہے۔” عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم وقفوں اور ان کے ریگولیٹری فریم ورک کو دیے گئے قانونی تحفظات کو “کمزور” کرتی ہیں، جبکہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز اور گروپوں کو ناجائز فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اویسی نے کہا، ’’مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری نازک آئینی توازن کو بگاڑ دے گی۔‘‘ آپ کو بتاتے چلیں کہ راجیہ سبھا میں 128 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 95 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ لوک سبھا نے 3 اپریل کو بل کو منظوری دی تھی۔ لوک سبھا میں 288 ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 232 نے اس کی مخالفت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

قومی

کیا نیا وقف بل مسلم کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے…؟

Published

on

Waqf-Bill-2024

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا نیا وقف بل ایک مرتبہ پھر مسلم کمیونٹی میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، شفافیت، اور ان کے غلط استعمال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ نئے بل میں چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے وقف اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل کا استعمال تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبوں میں کیا جا سکے گا۔

تاہم، کچھ مذہبی و سماجی تنظیموں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف جائیدادیں خالصتاً مذہبی امور سے منسلک ہیں، اور حکومت کی براہِ راست مداخلت مذہبی خودمختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ یہ بل وقف جائیدادوں کی آزادی اور ان کے اصل مقصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین قانون اور کچھ اصلاح پسند رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر بل کو ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وقف اثاثے، جو اب تک بد انتظامی یا غیر قانونی قبضوں کی نظر ہوتے آئے ہیں، ان کے بہتر انتظام سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔

پرانے اور نئے وقف بل میں کیا فرق ہے؟
پرانا وقف قانون :
پرانا وقف قانون 1995 میں “وقف ایکٹ 1995” کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود لاکھوں وقف جائیدادوں کا بہتر انتظام اور تحفظ تھا۔
اس قانون کے تحت:

  • ریاستی وقف بورڈز قائم کیے گئے۔
  • وقف جائیدادوں کے انتظام کی ذمہ داری وقف بورڈ کے سپرد کی گئی۔
  • وقف کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
  • متولی (منتظم) کی تقرری بورڈ کی منظوری سے ہوتی تھی۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں عمل درآمد کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ وقف املاک پر غیر قانونی قبضے، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نگرانی جیسے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
نیا وقف بل :
نئے وقف بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان میں شامل ہیں :

  • ڈیجیٹل رجسٹری : تمام وقف جائیدادوں کی آن لائن رجسٹری اور ان کی نگرانی کا نظام۔
  • مرکزی ڈیٹا بیس : ایک قومی سطح کا وقف پورٹل بنایا جائے گا جہاں تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
  • غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی : قبضے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
  • انتظامی شفافیت : وقف بورڈ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے اور آڈٹ سسٹم کو سخت بنانے کی تجویز۔
  • شکایتی نظام : عوام کے لیے ایک فعال شکایت سیل کا قیام تاکہ وقف سے متعلق بدعنوانی یا زیادتیوں کی شکایت کی جا سکے۔

فرق کا خلاصہ:
| پہلو… | پرانا وقف قانون (1995) | نیا وقف بل (2025)
1995 رجسٹریشن | دستی رجسٹری |
2025 ڈیجیٹل رجسٹری و قومی پورٹل |
1995 نگرانی | ریاستی سطح پر |
2025 قومی سطح پر نگرانی و ڈیٹا بیس |
1995 شفافیت, محدود |
2025 بڑھتی ہوئی شفافیت و آڈٹ سسٹم |
1995 قبضہ ہٹانے کا نظام | پیچیدہ قانونی طریقہ کار |
2025 فوری قانونی کارروائی کا اختیار |
1995 عوامی شمولیت | کمزور شکایت نظام |
2025 فعال شکایتی نظام |

نئے وقف بل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی اصلاحات جیسے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین اور مذہبی حلقوں کو اندیشہ ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کہیں خودمختاری کو متاثر نہ کرے۔ بل کے اصل اثرات اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ فی الحال، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اور کمیونٹی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com