(جنرل (عام
تریپورہ فساد : شرپسند وں کے خلاف کسی کارروائی کا نہ ہونا انتہائی افسوسناک، نفرت کی سیاست ملک کو تباہ کردے گی : مولانا ارشدمدنی
تریپورہ میں ہونے والے فساد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ شرپسندوں کے خلاف اب تک کسی ٹھوس کارروائی کا نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ ردعمل انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے تری پورہ فسادزدہ علاقوں کا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد پیش تفصیلی رپورٹ پر ظاہر کرتے ہوئے کہی۔ مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مفتی سید معصوم ثاقب اور سکریٹری جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا اظہر مدنی پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے تریپورہ فساد زدہ علاقہ کا دورہ کر کے اپنی تفصیلی اور تفتیشی رپورٹ مولانا مدنی کو پیش کی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ تریپورہ کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ایک پرامن ریاست رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ البتہ ادھر جب سے ایک مخصوص نظریہ کو ماننے والی پارٹی اقتدار میں آئی ہے فرقہ پرست عناصر اور ان کی تنظیموں کو ایک طرح سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، فساد برپا کرنے کی سازشیں تو پہلے سے ہوتی رہی ہیں، لیکن پچھلے دنوں بنگلہ دیش میں ہوئے واقعات کو بہانہ بنا کر بعض فرقہ پرست تنظیموں نے وہاں حیوانیت اور بربریت کا جو مظاہرہ کیا وہ یہ بتاتا ہے کہ فرقہ واریت کا زہر کس طرح لوگوں کے دلوں میں اندر تک سرایت کر گیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مطابق 12 مسجدوں پر حملے ہوئے، جلوس کے دوران کی گئی آتشزنی سے مذہبی عبادت گاہوں اور مسلمانوں کی دوکانوں و دیگر املاک کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تریپورہ میں جو کچھ ہوا ہے، اس سے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ مجروح ہوئی ہے۔ ایک ایسے جمہوری ملک میں کہ جہاں آئین کی بالادستی مسلم ہو جس میں ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہوں۔ ایک منتخب شدہ حکومت کے ہوتے ہوئے کسی ریاست میں اگر اس طرح کے افسوسناک واقعات رونما ہوں اور مرکز و ریاست دونوں حکومتیں کچھ نہ کریں، تو اس سے آئین وقانون کے بالادستی کے ساتھ ساتھ انصاف کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
مولانا مدنی نے دعوی کیا کہ جلوس کے دوران شرپسندوں کی بھیڑ مسلم اکثریتی علاقوں سے انتہائی دلآ زار نعرہ لگاتی اور مسجدوں اور دوکانوں کو جلاتی ہوئی گزری، اور پولس اور انتظامیہ کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے رہے، یہ کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ باور کرایا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ اس کا رد عمل تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی غیر ملک میں کچھ ہوتا ہے تو اس کا انتقام اپنے ملک کے شہریوں سے لیا جانا کہا کا انصاف ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے شرپسند عناصر کے خلاف جس طرح کی کارروائی کی ویسی کارروائی ہماری حکومت نے شرپسند عناصر کے خلاف کیوں نہیں کی؟ ہم نے بنگلہ دیش میں ہوئے تشدد کی سخت مذمت کی تھی، کسی بھی مہذب سماج میں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔
تریپورہ میں فرقہ پرست طاقتوں نے مسلم اقلیت کے خلاف جو کچھ کیا، ہم اس کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تریپورہ کی سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ریاست میں مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کو نہ صرف یقینی بنائے بلکہ خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی کرے، اگر ایسے لوگوں کو کھلا چھوڑ دیا گیا یا انہیں سیاسی تحفظ فراہم کیا گیا تو ان کے حوصلہ مزید بڑھ سکتے ہیں، اور وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی مذموم کارروائیاں انجام دیکر امن و قانون کے لئے خطرہ بنتے رہیں گے۔
مولانا مدنی نے اس امرپر بھی سخت افسوس کا اظہار کیا کہ تریپورہ کئی دنوں تک شرپسند عناصر کے نشانہ پر رہا، اور آئین کی پاسداری کا حلف لینے والے ہمارے رہنما تماش بین بنے رہے۔ ملک کے آئین اور سیکولر روایت کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ تری پورہ ہائی کورٹ نے ازخود ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی سرکار اپنا فرض ایمانداری سے پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا نے ایک بار پھر اپنا دوہرا چہرہ دکھا دیا، بنگلہ دیش کے پرتشدد واقعات کو تو اس نے خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا، لیکن جب تریپورہ میں حیوانیت کا کھیل ہوا تو اس کی کوئی خبر نہیں دکھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند شرپسندوں کے ہاتھوں جلائی ومسمار کی گئی مسجدوں کی تعمیر نو کرائے گی، اور متاثرین کی باز آبادکاری بھی کریگی، لیکن تریپورہ کے مسلمانوں کے دلوں میں ان واقعات کے بعد جو ڈر اور خوف بیٹھ گیا ہے، وہ اتنے بھر سے دور نہ ہوگا، بلکہ اس کی واحد صورت یہ ہے کہ پورے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تفتیش ہو، اور اس کی بنیاد پر شرپسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو، تاکہ انہیں ملک کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ امتیاز اور تعصب کا رویہ اختیار کر کے ایک خاص کمیونٹی کو قومی دھارے سے الگ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ در حقیقت وہ ملک کو تباہی کے راستہ پر ڈال رہے ہیں۔ جمہوری نظام سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے، ملک کی بڑی آبادی کا خودکو غیر محفوظ تصور کرنا انتہائی خطرناک اور تشویشناک ہے۔ حکومتیں ڈر اور خوف سے نہیں، بلکہ عدل و انصاف سے چلتی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔
‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔
مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
