Connect with us
Wednesday,12-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

جمعیتہ علماء کے ضلعی صدر مفتی سید محمد قاسم جیلانی کی گزارش پر کارپوریشن انتظامیہ نے مسلم ڈاکٹروں کی ٹیم کو اس مہم میں شامل کیا

Published

on

(خیال اثر )
دھولیہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کورونا وبائی بیماری کی روک تھام کے لئے وارڈ ں نمبر ٨،٩،١۰،جن میں جونا دھولیہ، اکبر چوک، ولی پورہ، مچھلی بازار کے علاوہ دیگر علاقوں میں ١۵/اپریل بروز بدھ یعنی آج سے دو دن کے لئے مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔انتظامیہ نے دھولیہ شہر کو کورونا سے پاک رکھنے کا عزم کیاہے۔تاہم بدھ سے گھر گھر جاکر ہر فرد کی اسکریننگ مہم شروع ہے۔اقلیتی سماج میں انتظامیہ کی اس مہم کو لے کر ڈر و خوف کا ماحول بنا ہواتھا۔اقلیتی سماج تذبذب میں مبتلا تھے۔اقلیتوں میں پائی جانے والی بے چینی کو محسوس کرکے اور انتظامیہ کی مہم اقلیتی علاقوں میں کامیابی سے ہمکنار ہو اس کے لئے جمعیتہ علماء کے ضلعی صدر مفتی سید محمد قاسم جیلانی نے کارپوریشن کمیشنر عزیز شیخ اور مئیر چندرکانت سونار سے اس مہم میں مسلم ڈاکٹروں کی ٹیم شامل کرنے کی گزارش کی جسے انتظامیہ نے بخوشی قبول کیا۔اس مہم میں ١۶/مسلم ڈاکٹروں کی ٹیم شامل کی گئی ہے۔
آج الحمد اللہ اقلیتی علاقوں میں مسلم ڈاکٹروں کی ٹیم نے گھر گھرجاکر ہر ایک فرد کی اسکریننگ کی۔الحمد اللہ اقلیتی سماج نے بے خوف ہوکر اسکریننگ مہم میں انتظامیہ کا مکمل ساتھ دیا۔پہلے دن ہی اقلیتوں کے ذریعے مکمل تعاون ملنے پر انتظامیہ نے بھی راحت کی سانس لی۔اقلیتی علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے اسکریننگ مہم کئے جانے پر جمعیتہ علماء کے ضلعی صدر مفتی سید محمد قاسم جیلانی دامت برکاتہم کی ہدایت پر نائب ضلع صدر الحاج غفران سیٹھ نے کارپوریشن انتظامیہ کی ٹیم کا اور ڈاکٹروں کا گل دے کر استقبال کیا۔
مفتی سید محمد قاسم جیلانی نے شہریان سے اپیل مین کہا کہ عوام بقیہ دنوں میں انتظامیہ کا اسی طرح تعاون کریں۔کیونکہ انتظامیہ نےشہر کو کورونا سے پاک رکھنے کا عزم کیا ہے اور ان کے اس عزم کو کامیاب بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا گھاٹکوپر پہاڑی کھسکنے کے سبب ۵ کی موت، مہلوکین کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50,000 روپے کی مالی امداد کا اعلان

Published

on

Kurla-Ghatkoper

ممبئی : کرلا گھاٹکوپر مغربی علاقہ اشوک نگر میں پہاڑی کھسکنے کے سبب علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی اور کہرام مچ گیا۔ فائر بریگیڈ اور پولس نے راحتی کام شروع کردیا ہے۔ ملبہ میں دب کر پانچ مکینو ں کی موت ہوگئی ہے, جبکہ چار زخمیو ں کو اسپتال داخل کیا گیا ہے پولس نے پورے علاقہ میں پہرہ لگا کر مذکورہ بالا علاقہ میں عام لوگوں کے داخلہ پر پابندی عائد کردی ہے۔ ڈی سی پی گنیش شندے نے اس کی تصدیق کی ہے۔ کرلا (مغربی) کے اشوک نگر، پہاڑی نمبر 3 میں آج صبح (12 اگست 2026) کو لینڈ سلائیڈنگ کا ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے میں پہاڑی سے مٹی اور ملبہ دو سے تین مکانات پر گر گیا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ممبئی کی میئرریتو تاوڑے نے فوری طور پر جائے حادثہ کا دورہ کرکے ذاتی طور پر بچاؤ کاموں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ کنبہ سے تعزیت اور تسلی کا اظہار کیا۔ انہوں نے موجود تمام ایجنسیوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ امدادی کام تیزی سے اور مناسب تال میل کے ساتھ انجام دے۔ اس موقع پر وارڈ کمیٹی کے چیئرپرسن وجیندر شندے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش دھکنے، ‘ایل’ وارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر (انچارج) شری انل جادھو اور دیگر متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔ میئر ریتو تاوڑے نے اس واقعہ میں جان کی بازی ہارنے والے ہر فرد کے لواحقین کو فوری طور پر 4 لاکھ روپے کی مالی امداد اور ہر زخمی کو ان کے علاج کے لیے 50,000 روپے کی طبی امداد دینے کا اعلان کیا۔

واقعہ کی جگہ اور اس تک رسائی کا راستہ انتہائی تنگ ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں صرف ایک شخص ہی گزر سکتا ہے۔ ممبئی فائر بریگیڈ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، ممبئی پولیس، 108 ایمبولینس سروسز اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے افسران، عملہ اور کارکن ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اب تک دو لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ دو زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انتظامیہ امدادی کارروائیوں اور مجموعی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستان کے بلوچستان میں باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے مستقبل کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیے، باغی 85 فیصد علاقے پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہے۔

Published

on

BALOCH

کوئٹہ : پاکستان کے بلوچستان میں صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ بلوچ مزاحمت کار پاکستانی فوج اور پولیس پر ٹارگٹ حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بلوچستان کا بیشتر حصہ پاکستان سے آزاد کرالیا ہے۔ وہ بلوچستان میں ایک الگ جھنڈے اور آئین کے ساتھ اپنی حکومت قائم کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے چین میں تناؤ میں بھی اضافہ کیا ہے، کیونکہ یہ صوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کا مرکز ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور ان سے وابستہ گروپوں نے پاکستانی فوج پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان گروہوں نے مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس صلاحیت نے پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستانی فوج بلوچستان کے کئی علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہے۔ بلوچ مزاحمت کاروں نے افغانستان کے ساتھ سرحد بالخصوص افغانستان کے ساتھ سرحد کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی فوج کے کئی بنکرز اور چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے اور وہاں اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔

بلوچ باغی پاکستانی فوج کے قافلوں، فوجی اڈوں اور سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسٹریٹجک مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں گوادر کے آس پاس کے علاقے اور ریکوڈک جیسے معدنی وسائل کے منصوبے شامل ہیں۔ بلوچ باغی ہٹ اینڈ رن کے ہتھکنڈوں سے آگے بڑھ رہے ہیں اور گھات لگا کر حملے اور خودکش حملے سمیت مزید جدید ترین فوجی آپریشن کر رہے ہیں۔ ان حملوں نے پاکستانی فوج کے حوصلے پست کر دیے ہیں، جس سے ان کے صوبے میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پاکستان پر اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ انہوں نے کوئٹہ تفتان شاہراہ کو بلاک کر دیا ہے۔ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والی گاڑیوں کو پنکچر کیا جا رہا ہے اور ان کے ٹائروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ یہ پاکستان اور چین کو بلوچستان کے قیمتی وسائل نکالنے سے روکتا ہے۔ کئی بارودی سرنگیں بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ خضدار، تربت اور دالبندین سمیت متعدد علاقوں میں فرنٹیئر کور اور پاکستانی فوج کے قافلوں پر 48 سے زائد حملوں میں 35 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً 12 اضلاع جن میں کیچ، کوئٹہ، نوشکی اور گوادر شامل ہیں، باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کا تقریباً 85 فیصد حصہ پاکستانی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے۔

بلوچستان میں باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے سی پیک کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گوادر پورٹ، سی پی ای سی کا ایک اہم منصوبہ، بلوچستان میں واقع ہے۔ سی پیک منصوبہ پاکستان کو بلوچستان کے راستے چین کے سنکیانگ سے ملاتا ہے۔ بلوچستان قدرتی گیس، کوئلہ، تانبے اور سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ چین نے اس صوبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ لہذا، اگر بلوچستان غیر مستحکم ہو جاتا ہے، تو یہ چین کے سی پی ای سی کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جس میں اس نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سائبر فراڈ، ایک کروڑ سے زائد کی ٹھگی، ۷ ملزمین گرفتار

Published

on

ARRESTED..8

ممبئی : سائبر پولس اسٹیشن نے ایک ایسے سائبر جرائم کا معمہ حل کرنے کا دعوی کیا ہے, جس میں شکایت کنندہ کو وہاٹس اپ پر۲ اپریل سے ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ تک ڈیجیٹل اریسٹ کر کے منی لانڈنگ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی اور فرضی الیکٹرانک ڈستاویزات ارسال کر کے آن لائن ایک کروڑ ۶۷ لاکھ ۴۰ ہزار کی دھوکہ دہی کی تھی, اس معاملہ میں ٹیکنیکل تفتیش کے دوران پولس نے۷ ملزمین کو گرفتار کیا ہے, جس کی شناخت سنجے ہیرا لال ۵۷ سالہ جو او ٹی پی تیار کیا کرتا تھا، ۳۲ سالہ خاتون ملزمہ دھوکہ کی رقم ٹھکانہ لگایا کرتی تھی، رشی رام چندر مینا ۳۸ بینک اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقومات کی منتقلی کیا کرتا تھا، نوشاد علی ۳۱ سالہ شکایت کنندہ اور متاثرہ کو ڈیجیٹل اریسٹ کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل طریقے سے اس گروہ میں کام کیا کرتا تھا, محمد خالد حفیظ الدین سیف ۲۷ ڈیجیٹل ماہر، جوگیش مہتا ۴۳ سالہ اور زبیر حسین کو اپنے اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقم جمع کرنے میں تعاون کیا کرتے تھے ملزمین کے قبضے سے ۲۷ موبائل، ۲ لیپ ٹاپ، ۵ ڈیجیٹل سائن ڈیوائس ۶۱۳ متعدد کمپنیوں کے سم کارڈ ۱۰ چیک بک ۲ پاس بک ۲ اے ٹی ایم کارڈ ضبط کیے ہیں ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈیجیٹل اریسٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور ایسے میں نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر رابطہ نہ رکھیں, اگر کوئی ڈیجیٹل اریسٹ کی دھمکی دیتا ہے تو پر یقین نہ کرے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان