Connect with us
Wednesday,16-September-2026

(جنرل (عام

ہندوستان کے کئی علاقوں میں جزوی چاند گہن دیکھا گیا

Published

on

جزوی چاند گہن کل شب حیدرآباد سمیت ہندوستان کے کئی علاقوں میں دیکھاگیا۔ یہ چاند گہن تقریبا دو گھنٹے 58 منٹ رہاجبکہ چاند گہن کا مکمل وقت 5 گھنٹے 58 منٹ رہا۔ جزوی چاند گہن کاآغازکل شب ایک بجکر 31 منٹ پر ہوا۔ پورا چاند گہن تقریبا تین بجے شب دیکھا گیا اوراس کااختتام چار بجکر 29 منٹ پر ہوا۔ یہ چاند گہن آسٹریلیا، افریقہ، جنوبی امریکہ اور یوروپ کے بیشتر ممالک میں بھی دیکھا گیا۔ یہ چاند گہن سال کا آخری چاند گہن تھا۔چاند گہن کے دوران زمین کاسایہ چاند کی سطح پر ہوتا ہے۔ چاند گہن اُس وقت ہوتا ہے جب زمین، سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔ یہ چاند گہن ایک ایسے وقت ہوا جب دنیا بھر کے خلانوردوں کی جانب سے اپولو لونا کے ذریعہ پہلی مرتبہ انسان کے چاند کی سطح پر قدم رکھنے کے 50 سال کا جشن منایاجا رہا ہے۔ نیل آرم اسٹرانگ نے 20 جولائی 1969 کو چاند کی سطح پر پہلا قدم رکھا تھا۔اس اپولو مشن کے 50 برس مکمل ہورہے ہیں۔ ہندوستان میں چاند گہن 149 برس میں پہلی مرتبہ گرو پورنیما کے وقت ہوا۔ ہندوستان میں اب اگلا چاند گہن 2021 میں ہوگااور یہ مکمل چاند گہن ہوگا۔

(جنرل (عام

جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی کا یو سی سی پر حکومت سے سوال، شریعت کے خلاف کوئی قانون قابل قبول نہیں۔

Published

on

Arshad-Madni

نئی دہلی : مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس مبینہ بیان پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ 2029 سے پہلے این ڈی اے کی حکومت والی تمام 21 ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کیا جائے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک آئین کے تحت چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت؟ انہوں نے یو سی سی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق میں مداخلت قرار دیا۔ ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ملک کے سیکولر آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تنظیم نے یونیفارم سیول کوڈ کے خلاف اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کیس میں اب تک چھ سماعتیں ہو چکی ہیں اور جمعیت کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل اور دیگر وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تنظیم کو انصاف ملے گا۔

جمعیت کے صدر نے کہا کہ مسلمان شریعت کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی قانون کو قبول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک مسلمان ہر چیز پر سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن وہ اپنے مذہب اور ایمان پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول یہ سوال مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ مسلم عائلی قوانین قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آئینی دفعات کے تحت درج فہرست قبائل کو یو سی سی سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مسلمانوں کو دی گئی مذہبی آزادی کا احترام کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ان لوگوں کے لیے متبادل سول قوانین پہلے سے موجود ہیں جو کسی مذہبی پرسنل لاء کے تحت اپنے معاملات کو نہیں چلانا چاہتے۔ اس کے نتیجے میں، انہوں نے ایک لازمی یکساں سول کوڈ کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔

جمعیت کے صدر نے حکومت کے ’ایک ملک، ایک قانون‘ اور ’ایک گھر میں دو قانون نہیں ہو سکتے‘ جیسے نعروں پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا قانونی فریم ورک بہت سے معاملات میں مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین اور خصوصی دفعات کی اجازت دیتا ہے۔ ملک بھر میں گائے کے ذبیحہ سے متعلق قوانین میں بھی یکسانیت نہیں ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جائے اور پورے ملک میں اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یو سی سی کے نفاذ کا مقصد شہریوں کی مذہبی آزادی کو روکنا اور ان کے آئینی حقوق کو محدود کرنا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش اتسو اور وسرجن جلوس کے پس منظر چمبور سمیت شمالی ممبئی میں پولس کا مارچ

Published

on

ممبئی کے مضافاتی شمالی ریجن کی حدود میں چمبور سمیت دیگر حساس علاقوں میں گنیش اتسو اور وسرجن جلوس کے پس منظر میں روٹ مارچ کا انعقاد کیا گیا ممبئی پولیس کی اضافی فورسیز اور دیگر دستوں نے سڑکوں پر روٹ مارچ کر کے عوام کو تحفظ کا یقین دلایا ہے۔ ایڈیشنل کمشنر ایسٹ ریجن دھننجے کلکر نی کی ہدایت پر شمالی علاقوں میں روٹ مارچ کیا گیا تاکہ گنپتی اتسو کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس بھی گنپتی پر خصوصی طور پر الرٹ پر ہے۔ ممبئی میں گنپتی اتسو کے پس منظر میں شمالی علاقوں گوونڈی, کرلا, چمبور سمیت دیگر حساس میں پولیس نے گشت میں اضافہ کر دیا ہے اس کے ساتھ ہی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر بھی سیکورٹی سخت کر دی ہے۔

ممبئی کے مغربی مضافات اندھیری ساکی ناکہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی پولیس الرٹ پر ہے یہاں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے حساس علاقوں پر خصوصی نگرانی کے ساتھ پولیس اسٹیشن کے سنیئر افسران کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر ممبئی کے تمام ریجن اور زونل سطح پر روٹ مارچ اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جارہا ہے اعلی افسران ساحل سمندر اور مصنوعی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر خیمہ زن بھی ہے 25 ستمبر کو شہر میں گنپتی وسرجن بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ایسی صورتحال میں امن وامان کی بقا کیلئے پولیس مستعد اور الرٹ ہے۔ ممبئی کے اہم مقامات گرگاؤں چوپاٹی, دادر, و دیگر تالاب اور سمندر و وسرجن کے مقامات پر خصوصی پہرہ لگایا گیا ہے اس کے علاوہ بی ایم سی نے بھی یہاں گنیش بھکتوں کی سہولیات کے لئے خاطر خواہ انتظامات کر نے کا دعوی کیا ہے ممبئی کے باندرہ بینڈ اسٹینڈ سمیت دیگر سمندروں جوہو چوپاٹی پر بھی پولیس کا بندوبست رہے گا۔ آج شمالی ممبئی زون اور ریجن میں گنیش اتسوکے سبب پولیس نے روٹ مارچ کر کے حساس علاقوں کا بھی جائزہ لیا ہے اس روٹ مارچ کا مقصد عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے جبکہ فرقہ پرست اور سماج دشمن عناصر پر اس سے خوف طاری ہوتا ہے ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر شہر میں حالات پر نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ممبئی میں گنیش اتسو کے دوران ہی آزاد میدان میں منوج جارنگے پاٹل کی ممبئی روانگی نے ممبئی پولیس کیلئے چیلنج کھڑا کر دیا ہے جبکہ ممبئی پولیس نے اب تک جارنگے کو احتجاجی مظاہرہ کی اجازت نہیں دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اقلیتی نوجوانوں کے لیے ‘انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کا قیام،بھیونڈی ایسٹ سے رئیس شیخ کا مطالبہ

Published

on

Rais-Shaikh

ممبئی بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے ریاست کے چھ ریونیو ڈویژنوں میں ‘اقلیتی انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اقلیتی آبادی کے بڑے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتی نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے میں مدد دی جا سکے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے اقلیتی ترقی، سنیتر پوار کو ایک خط لکھا ہے۔اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ اقلیتیں ریاست کی کل آبادی کا 20 فیصد ہیں، جن میں مسلم برادری کا حصہ 11.54 فیصد ہے۔ غربت کی وجہ سے دسویں اور بارہویں جماعت کی سطح پر مسلم طلبہ میں اسکول چھوڑنے (ڈراپ آؤٹ) کی شرح 30 فیصد ہے۔ بمشکل 10 فیصد مسلم نوجوان ہی اعلیٰ تعلیم کے مرحلے تک پہنچ پاتے ہیں۔ تعلیمی دھارے سے باہر ہونے والے ان طلبہ کو ہنر مندی کی تربیت اور کاروبار کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جہاں ‘بارٹی’ (بارٹی)، ‘مہاجیوتی’ (مہاجوتی) اور ‘سارتھی’ (سارتھی) جیسے تحقیقی اور تربیتی ادارے دیگر برادریوں کے نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروبار سے متعلق تربیت اور مواقع فراہم کرتے ہیں، وہیں اقلیتی برادری کے لیے مختص ادارہ ‘مارٹی’ (مارٹی) مناسب فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ کی تربیت کے حوالے سے اب تک فعال نہیں ہو سکا ہے۔رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ مولانا آزاد مائنارٹیز فنانشل ڈیولپمنٹ کارپوریشن’ ان مراکز کے ساتھ شراکت داری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کارپوریشن قرض کی اسکیموں کو مربوط کرنے، مالی امداد فراہم کرنے، اور پروجیکٹ رپورٹس کی تیاری اور جانچ پڑتال جیسے امور سنبھال سکتی ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سنیتر پوار کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اگر ایسے مراکز قائم کیے جاتے ہیں تو ہر ریونیو ڈویژن میں سالانہ 1,000 سے زائد نوجوان مرد و خواتین اپنے مائیکرو اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان