Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مذہب کے بیناد پرکسی کو بھی شہریت نہیں دی جاسکتی ہے: اویسی

Published

on

asad

بی جے پی نے تمام قیاس آرائیوں کوختم کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات کیلئے ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے
ممبئی :آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم ) کے سربراہ اسدالدین نے آج یہاں کے ملک کے موجودہ سنگین حالات سے مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،بلکہ انہیں ثابت قدم رہ کر ان حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ملک کے سیکولرزم اور جمہوریت کی بقا کے لیے اعتدال پسند قوتوں کو کامیاب بنانا ہوگا۔ انہوں نے مہاراشٹراسمبلی انتخابات ایم آئی ایم سے اتحاد نہ کیے جانے کے لیے کانگریس سمیت حزب اختلاف کو ذمہ دار قراردیا ہے۔جنوبی ممبئی کےایک ہوٹل میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم آئی ایم کے صدراسدالدین اویسی نے اس منطق کا ذکرکیا کہ ہمیشہ اپوزیشن کے درمیان سمجھوتہ نہ ہونے پرایم آئی ایم سے سوال کیوں کیاجاتا،اس تعلق سے ذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ دوسری پارٹیوں سے بھی وضاحت طلب کرے۔ اویسی نے واضح کیاکہ ونچت اگھاڑی سے سمجھوتہ نہ ہونا، دراصل نشستوں کی تقسیم پرتال میل نہیں ہوسکا ہے ۔اس سوال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم ،کوبی جے پی کی بی ٹیم کہنے والوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ ہم خود ’اے ٹیم‘ کے زمرے میں آتے ہیں ۔دراصل مہاراشٹرہی نہیں بلکہ ملک میں سیاست کی ایک مضبوط آواز کی ضرورت ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہم نے سماج کے کمزوراور دبے کچلوں کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب معاشرے میں مساوات مضبوط ومستحکم ہوگی تو سب کو جمہوریت میں اپنا حق ملے گا، ریاست میں کسانوں کی خودکشی اور وعدوں پر بی جے پی کوئی بات نہیں کرتی ہے جبکہ مہنگائی جی ایس ٹی اور بے روزگار ی خاموشی اختیار رکھے ہوئے ہی۔ بلکہ بلکہ کو فرقہ پرستی اور علاقائیت کا رنگ دینے کے لیے این آر سی اور ترمیمی بلوں پر پر بات کی جاتی ہے اور تاکہ اکثریت کی منہ بھرآئی جائے ۔اسدالدین اویسی نے واضح کیاکہ ترمیم شدہ شہری بل نافذکر کے ملک میں غیرقانونی طورپر مقیم ہندوؤں کو شہریت دینے کی باتیں کی جارہی ہیں۔جوکہ خطرناک عمل ہے۔جبکہ سوائے مسلمانوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور یہ غیرمساوی عمل ہے اگر اس بل کا نفاذ ہوتاہے تو یہ جناح کے دوقومی نظریا ت کا فروغ ہو گا ۔دراصل این آر سی کے تعلق سے آسام میں جو فہرست سامنے و ¿ئی ہے ،اس کی وجہ سے بی جے پی کو تکلیف ہوئی ہے اب ان کے وزرا کہہ رہے ہیں ہم این آر سی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ ہجومی تشدد پر مکتوب لکھاجاتا ہے تب ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پرکاش امبیڈکر کا وہ احترام کرتے ہیں ۔ گوڈسے کو اگرپہلادہشت گرد قراردیا جائے توبی جے پی کے وزیر گری راج سنگھ کو کیوں تکلیف پہنچتی ہے ۔انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ صرف دعا پر اکتفا نہ کرتے ہوئے میدان عمل اور میدان کارسازمیں آکر جمہوری طریقے سے آگے آئیں اورجمہوریت پر یقین رکھےں،الیکشن میں حصہ لے کر ووٹوں کا تناسب بڑھائیں۔ ای وی ایم اور وی وی پیڈ کو ملایا جائے امریکہ میں بھی بیلٹ پیپر کا استعمال کیا جاتا ہے اس پر شک ہے تو الیکشن کمیشن کوجواب دینا چاہئے۔اسدالدین اوسی نے کہا کہ مذہب کے بیناد پرکسی کو بھی شہریت نہیں دی جاسکتی ہے۔ بی جے پی مسلمانو ں کے لئے کیا کرتی ہے یہ معلوم ہے اس نے الیکشن میں کتنی نمائندگی دی ہے اس سے پتہ چلتا ہے۔اگرہم جناح کے دو قومی نظریات کو خارج کیا ہے ہم بھارت کے پہلے شہری ہے۔اس موقع پر رکن پارلیمان اور مہاراشٹرایم آئی ایم کے صد ر امیتاز جلیل نے کہا کہ ایم آئی ایم نے 52 امیدواروں کو میدان عمل میں اتارا ہے ہرسماج کے لوگوں کو ہم نے حصہ داری دی ہے اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ایسے مقامات پر امیدوار کھڑے کئے ہیں جہاں پارٹی مستحکم ہے ،جنرل سکریٹری شاکر پٹنی اور ممبئی صد ر فیاض احمد کے ساتھ حیدرآباد کے ایم ایل اے اے بلالا اور ممبئی کے سابق ایم ایل اے حاجی بشیر موسیٰ پٹیل بھی موجود تھے۔

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com