Connect with us
Tuesday,21-July-2026

(جنرل (عام

نوکر بھرتی پر پابندی کے خلاف اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کی جانب سے قومی بیروزگار دن، پوسٹ کارڈ اندولن، ٹیکسٹ میسج اندولن کامیاب

Published

on

( خیال اثر )
مرکزی و صوبائی حکومت کی جانب سے نوکر بھرتی پرپابندی کے خلاف مختلف ریاستوں میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی جانب سے تنظیم کے بانی ساجد نثار احمد اور چودھری واصل علی کی قیادت میں قومی بیروزگار دن، پوسٹ کارڈ آندولن، ٹیکسٹ مسیج آندولن کامیاب رہا۔ مہاراشٹر میں ٹیچر بھرتی کا عمل شروع ہو اس کے لئے اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ ۱۱۱۳۸ پچھلے ایک سال سے مسلسل کوشش کر رہی ہے 1 جولائی سے گھر بیٹھے دھرنا آندولن جاری ہے جس کا آج 79 وا‌ں دن ہے۔ جسکی وجہ سے حکومت اس بھرتی کو مخصوص اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔ حکومت کو جگانے کے لیے تنظیم کی جانب سے نیشنل بیروزگار دن کے موقع پر ریاست بھر سے تمام بے روزگار نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مالیگاؤں میں قومی بیروزگار دن کے موقع پر احتجاج کیا گیا۔ پوسٹ کارڈ روانہ کیا گیا۔ وزیر اعلی، وزیر تعلیم کو ٹیسٹ مسیج کرتے ہوئے اپر ضلع ادھیکاری اور پرانت آفیسران کے معرفت میمورنڈم بھیجا گیا۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ٹیچر بھرتی کو مخصوص اجازت دیتے ہوئے TAIT امتحان کی تاریخ فوراً ظاہر کی جاے۔ مظاہرہ میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے بانی و جنرل سیکریٹری ساجد نثار احمد، ریاستی نایب صدر الطاف احمد، مالیگاؤں شہر صدر ساجد عبدالحمید، الطاف حسین شعبان، انصاری محمد یونس، شاہد اختر، و دیگر طلباء شامل تھے۔۔بیروزگار دن کے موقع پر ریاست بھر سے ڈی۔ایڈ بی۔ایڈ طلباء و طالبات نے ٹیکسٹ میسج اندولن کو بھی کامیاب بنایا، اس ضمن میں تمام طلباء نے اپنے موبائل فون سے ریاست کے وزیرِ اعلیٰ ادّو ٹھاکرے صاحب، ریاست کے وزیرِ تعلیم ورشا تائی گایکواڑ، ریاست کے وزیرِ دیہی ترقی حسن مشرف صاحب اور دیگر وزراء کو انکے موبائل پر ٹیکسٹ میسج کرکے ٹیچر بھرتی پرعائد پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں میسیج بھیجنے کا کام کیا، ریاست کے الگ الگ اضلاع سے امیدواروں نے ٹیکسٹ میسج اندولن کو کامیاب بنایا،
پوسٹ کارڈ اندولن کے ضمن میں ریاست کے مختلف اضلاع سے تمام ڈی۔ایڈ بی۔ایڈ امیدوار ریاست کے وزیرِ اعلیٰ اور ادھو ٹھاکرے صاحب اور وزیرِ تعلیم ورشا تائی گایکواڈ میڈم کو پوسٹ کارڈ بھیج کر اندولن کیا،
اس اندولن میں بلڈانہ ضلع سے شیخ عمران، وسیم علی خان، مصعب احمد، محمد کاظم، شاہ رخ شیخ، سید رازق عمران سر، ابوزید سر اور روشن شیخ امیدواروں نے حصہ لیا اور اپنے پوسٹ آفیس سے ریاست کے وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ تعلیم کو پوسٹ کارڈ بھیج کر ٹیچر بھرتی کا مطالبہ کیا،
پوسٹ کارڈ اندولن میں جالنہ ضلع سے محسن خان سر، مستقیم شیخ ، شیخ صوفیان، توفیق احمد، ہارون شیخ، عادل قریشی اور آقب شیخ نے پوسٹ کارڈ اندولن کو کامیاب بنایا، اکوله ضلع سے شیخ عمران ابراہیم، شیخ ارشاد ابراہیم، سلمہ بی حیدر شاہ، سیما فردوس شیخ حنیف، شازیہ فردوس ان امیدواروں نے ٹیکسٹ میسج اندولن کے ساتھ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ تعلیم کو پوسٹ کارڈ بھیج کر مطالبہ کیا کے ٹیچر بھر تی کو مخصوص اجازت دی جائے،
جلگاؤں ضلع سے اس آندولن میں رشید خان، تنویر احمد ، ایاز شیخ،احمد فراز، مستان تاڈوی، یعقوب شیخ، شیخ لقمان، ندیم خان، وزیرِ شیخ، محمد بلال، پرویز شیخ، جاوید شیخ، حفاظت خان، عادل سر، اظہر سر، محسن خان اور بھساول شہر سے تنظیم کے ممبر نزہت تبسم نے پوسٹ کارڈ اندولن میں حصہ لیا، تنظیم کے تمام ممبران نے پوسٹ کارڈ اندولن اور بیروزگار دن کے موقع پر ٹیکسٹ میسج اندولن کر کے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کے ٹیچر بھرتیوں پرعائد پابندی ہٹائی جائے اور اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے،
ان تمام اندولن میں ریاست بھر کے مختلف اضلاع سے امیدواروں نے حکومت کے چار مئی ۲۰۲۰ کے فیصلے کو واپس لینے کی مانگ کی، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ، رُکی ہوئی ٹیچر بھرتی کو مخصوص اجازت دی جائے اور جلد ہی بچے ہوئے آسامیوں کو پر کیا جائے اور اسی کے ساتھ ساتھ دوسرے ٹی۔اے۔آئی۔ٹی امتحان کی تاریخ ظاہر کی جائے اگر حکومت فیصلہ لینے میں تاخیر کرتی ہی تو جلد ہی تنظیم کی جانب سے ریاستی سیکریٹری ساجد نثار احمد کی رہنمائی میں ممبئی آزاد میدان پر ایک بہت بڑا ریاست گیر اندولن کیا جائیگا۔۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دادر چیتنہ بھومی پر احتجاج کے دوران اورنگ زیب کی تصویر لہرانے پر ہنگامہ، پولس کو تفتیش کا حکم، اب تک ۸ ایف آئی آر درج

Published

on

FIR

ممبئی میں دادر چیتنہ بھومی پر سی جے پی کے احتجاجی مظاہرہ میں اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کی تصویر للہرانے پر ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے اور اس سے حالات بھی کشیدہ ہو گئے ہیں جبکہ اورنگ زیب کی آڑ میں اب سیاست بھی شروع ہو گئی ہے, جبکہ پولس اس معاملہ میں تفتیش کر رہی ہے۔ دلی کے جنتر منتر احتجاج کی حمایت میں مہاراشٹر اور ممبئی میں حمایت اور احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ممبئی پولس نے کارروائی میں شدت پیدا کردی ہے, اب تک مظاہرین کے خلاف تقریبا ۸ ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں چیتنہ بھومی شیواجی پارک میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مرین ڈرائیو میں ۲ آزاد میدان میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ممبئی میں اب احتجاج کے دوران اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کا پوسٹر لہرانے پر سیاست شروع ہو گئی۔ اس معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اورنگ زیب کی تصویر یہاں دادر چیتنہ بھومی میں احتجاج کے دوران لہرائی گئی جیسے بعد میں ہٹا دیا گیا, لیکن اس معاملہ میں پولس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ تصویر کس نے احتجاج میں شامل کی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا ممبئی میں اورنگ زیب کی تصویر لہرانے کے معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے اور اس معاملہ میں باقاعدہ طور پر یہ معلوم کر رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے یہ تصویر لہرائی تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ڈی سی پی مہندر پنڈت نے بتایا کہ اس معاملہ میں سوشل میڈیا کے معرفت ملزم کی شناخت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی طریقے سے سڑک جام کرنے اور بلا پیشگی اجازت احتجاج کرنے پر کیس درج کیا گیا۔ اسی معاملہ میں اب یہ بھی تفتیش جاری ہے کہ اورنگ زیب کی تصویر کیوں لائی گئی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا, جبکہ اس واقعہ کے بعد سیاست شروع ہو گئی ہے اور پیپر لیک کا معاملہ اورنگ زیب کے نذر ہو گیا ہے۔ ممبئی پولس کو وزارت داخلہ نے اس معاملہ میں تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے اور پولس اس معاملہ میں انکوائری کر رہی ہے۔ پولس نے اب تک جو ایف آئی آر درج کی ہے, اس میں ۶۰۰ ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پیپر لیک پر پولیس کی کارروائی کے حوالے سے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کو لے کر سپریم کورٹ سے مداخلت کا اعظمی کا مطالبہ

Published

on

Abu Asim Azmi

ممبئی : ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے، پیپر لیک اسکینڈل کے سلسلے میں لیے گئے جارحانہ موقف کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اعظمی نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ لال بہادر شاستری کے برعکس، جنہوں نے ایک ریلوے حادثے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا تھا، یہ حکومت متعدد طلباء کی خودکشی کے باوجود کسی قسم کا احتساب قبول کرنے سے انکاری ہے۔

اعظمی نے سونم وانگچک کی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے طلبا کے مستقبل کے لئے یہ لڑائی شروع کی ہے ملک کے تعلیمی نظام میں ہونے والی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے 20 دن کی بھوک ہڑتال کی ہے۔ تاہم، انہوں نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو ان کے خلاف لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سہارا لینا کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے الفاظ – “جب سڑکیں خاموش ہو جاتی ہیں تو پارلیمنٹ خود مختار ہو جاتی ہے” کو یاد کرتے ہوئے اعظمی نے کہا کہ پارلیمنٹ اس وقت سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ایسے وقت میں شہریوں کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے دیے گئے آئین کے مطابق پرامن طریقے سے سڑکوں پر نکلنے اور ناانصافی اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کا پورا حق ہے۔

یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ملک میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے اور آمریت جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کی کارروائی اور سونم وانگچک کے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کا ازخود نوٹس لے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محمد علی جوہر یونیورسٹی کارروائی، سیاسی انتقام کا نتیجہ، 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے بجائے اسے اہل قرار دیا جائے : ابو عاصم

Published

on

ABUASIM

ممبئی رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کیمپس کے اندر 38 عمارتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے انتظامیہ کے احکامات کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے۔ اس پس منظر میں، اتر پردیش حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ یہ سارا آپریشن خالصتاً سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ یہ یونیورسٹی کوئی تجارتی عمارت یا شاپنگ مال نہیں ہے۔ یہ طلباء کی تعلیم کے لیے قائم ایک اہم مرکز ہے۔ تعلیم ملک اور ریاست کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آج پورے اترپردیش میں سرکاری اور پرائیویٹ عمارتوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے تو اس سے یہ بات سامنے آئے گی کہ تقریباً 90 فیصد کے پاس مکمل ریگولیٹری منظوری نہیں ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ حکومت اکثر دیگر متعدد عمارتوں کو ضابطوں کے مطابق ریگولرائز کرتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس یونیورسٹی کے خلاف اتنا سخت فیصلہ کیوں لیا جا رہا ہے؟

الزام ہے کہ انتظامیہ اس ادارے کو صرف اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کہ یہ ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے جسے اعظم خان نے قائم کیا تھا۔ یہ دوہرا معیارایک طرف “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” (سب کے لیے ترقی) کی تبلیغ، دوسری طرف تعلیم میں پسماندہ کمیونٹی کے لیے بنائے گئے ادارے کے خلاف بلڈوزر استعمال کرنے کی دھمکی انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہر وہ شہری جو قوم اور ریاست کی ترقی کا خواہاں ہے اس کا مطالبہ ہے کہ اگر ان عمارتوں کے حوالے سے کوئی تکنیکی یا پرمٹ سے متعلق بے ضابطگیاں ہیں تو انہیں قواعد کے مطابق فوری طور پر ریگولرائز کیا جائے۔ حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ ایک نئی یونیورسٹی بنانے کی بجائے پہلے سے قائم تعلیمی ادارے کو تباہ کرنے کی کوششوں کو روکے اور اس تعلیمی ادارے کے تحفظ کے لیے تمام مسماری کے احکامات واپس لے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان