Connect with us
Sunday,02-August-2026

مہاراشٹر

نائر اسپتال کی ڈائلیسیس مشینیں بند ، مریضوں کی پریشانی میں اضافہ

Published

on

ممبئی:نائر اسپتال کسی نہ کسی وجہ سے اخبارات کی سرخیوں میں رہتا ہے۔ گزشتہ سال ایم آر آئی مشین میں ایک شخص دھات کے لوازمات سمیت میشن میں جاکر فوت ہوگیا تھا، امسال پائل تڑوی معاملہ میں نائر اسپتال کا کیس کورٹ میں زیر التوا ہے۔ ڈاکٹر پائل تڑوی کا معاملہ ٹھنڈا بھی نہیں ہواتھا کہ ڈائلیسیس کی مشینوں کی خرابی کا سنگین مسئلہ سامنے آگیا ہے۔ اہلیانِ ممبئی کو حیرت ہے کہ ایک ساتھ نائر اسپتال کی ۵؍ ڈائلیسیس مشینیں کیسے خراب ہوسکتی ہے؟ مشینیں خراب ہونے کی صورت میں ڈائلیسیس کے مریضوں کو سائن اور کے ای ایم اسپتال بھیجا جارہا ہے۔ مریضوں کی شکایت موصول ہوئی ہے کہ ہمارا علاج نائر اسپتال میں جاری تھا، مشین میں خرابی کی بات کرکے ہمیں سائن اور کے ای ایم اسپتال میں ڈائلیسیس کروانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ جب ہم سائن اسپتال اور کے ای ایم اسپتال پہنچ رہے ہیں تو وہاں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نائر اسپتال کے مریضوں کا معائنہ و ڈائلیسیس نہیں کرسکتے ہیں۔ کیونکہ نائر اسپتال کے مریضوں کو داخل کرلیا گیا تو ہمارے اسپتال میں پہلے سے موجود مریض کا کیا ہوگا؟ وہ کہاں جائیں گے؟ اس طرح کا جواب دے کر مریضوں کوواپس بھیج رہے ہیں۔ ایک مریض نے سابق کارپوریٹر شاکر انصاری سے فون پر رابطہ کرکے حالت سے آگاہ کیا تو شاکر انصاری نائر اسپتال پہنچ گئے۔ انہوں نے نائر اسپتال کی ایک افسر ساریکا پاٹل سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے اسپتال میں ڈائلیسیس کی مشینیں کام نہیں کررہی ہیں ، کچھ تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی ہے، اس لیے مریضوں کو سائن اور کے ای ایم اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ سابق کارپوریٹر شاکر انصاری نے کہا کہ ہمیں یہ بھی نہیں بتا جارہا ہےکہ مشینیں کب تک درست کی جائیںگی؟مشینوں کا سن کر میں حیران ہوں کہ ایک ساتھ ۵؍ مشینیں کیسے خراب ہو سکتی ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال انتظامیہ صرف اتنا جملہ کہہ کر بَری ہونے کی کوشش کررہا ہے کہ مشینیں خراب ہونے کی صورت میں ڈائلیسیس نہیں ہوسکتا ہے۔ مریضوں کی پریشانی سے انتظامیہ کو کوکئی سروکار نہیں ہے۔ ممبئی رابطہ کے ایک عہدیدار نے اس ضمن میں جب نائر اسپتال کے ڈین رمیش بھارمل سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں مریضوں کی پریشانی کا اندازہ ہے۔ہم انہیں سائن اور کے ای ایم اسپتال منتقل کررہے ہیں تاکہ ان کا علاج جاری رہ سکے۔ جب ڈین سے سوال کیا گیا کہ ایک ساتھ پانچ مشینیں کیسے خراب ہوگئی تو انہوں نے کہا کہ مشین میں استعمال ہونے والے فلٹر پانی کے پی ایچ میں کچھ خرابی ہوئی ہے۔جب ہم نے پانی سپلائی کے متعلق ای وارڈ سے رابطہ کرکے گفتگو کی تو انہوں نے کہا کہ پی ایچ لیول میں کچھ خرابی نہیں ہے ۔ ہر چیز درست ہونے کی بات ای وارڈ والوں نے کی ۔ ڈین نے کہا کہ میشن میں پانی کی پی ایچ سطح صحیح نہیں ہونے کی صورت میں میشن کام نہیں کررہی ہے۔چونکہ اب یہ معاملہ پانی سپلائی سے منسلک ہے تو ایک دو دن مزید لگ سکتے ہیں ۔ ہم ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ جلد از جلد مشینیں ٹھیک ہوجائیں اور مریضوں کو راحت ملے۔ مریضوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ہمیں نائر سے سائن یا کے ای ایم منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس والے ٹال مٹول کررہے ہیں۔ سابق کارپوریٹر شاکر انصاری نے کہا کہ نائر اسپتال انتظامیہ کی غلطی اور لاپرواہی سے اتنا سنگین مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ مریضوں کو پیش آرہی تکالیف کی ذمہ دار نائر اسپتال انتظامیہ ہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کوہ نور عمارت سانحہ متاثرین کی فوری مالی امداد، بحالی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو : ابوعاصم اعظمی

Published

on

abu asim

ممبئی مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور شہری ترقی کے وزیر ایکناتھ شندے، اور ریلیف اور بحالی کے وزیرمکرند جی جادھو کو ایک خط ارسال کرانہوں نے بھیونڈی شہر کے بالاجی نگر علاقے میں چار منزلہ کوہ نور عمارت کے گرنے کے المناک اور سنگین واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل کی ہے۔خط کے ذریعے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اہم مطالبات اور مسائل پیش کئے ہیں جس میں انتظامی لاپرواہی پر سوال بھی اٹھایا ہے

بھیونڈی نظام پور سٹی میونسپل کارپوریشن نے پہلے اس عمارت کو ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا تھا اور نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ مکینوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ انتظامی تاخیر اور لاپرواہی کے باعث جانیں ضائع ہوئیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی فوری امداد کے ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت حادثے میں جان گنوانے والے شہریوں کے لواحقین کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کرے اور تمام زخمیوں کو سرکاری خرچ پر بہترین طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انتہائی خطرناک عمارتوں کا سٹرکچرل آڈٹ کیوں سے متعلق اعظمی نے کہا کہ بھیونڈی شہر میں تمام خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتوں کا ‘سٹرکچرل آڈٹ’ فوری طور پر کیا جانا چاہیے، اور ان کے رہائشیوں کی عارضی اور مستقل بحالی کے انتظامات بلا تاخیر کیے جانے چاہئیں۔قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بڑے حادثے اور اس سے منسلک غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جلد از جلد بھیونڈی میں متاثرہ خاندانوں تک انصاف اور راحت پہنچ جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان