Connect with us
Sunday,02-August-2026

مہاراشٹر

لون کھیڑی گاؤں میں۷؍سالہ طالبہ کی عصمت دری

Published

on

دھولیہ:ملک میں عصمت دری کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہی جارہا ہے۔ دھولیہ کے لون کھیڑی گاؤں میں پیر کی شام ایک مذموم واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ۷؍ سالہ معصوم بچی کی عصمت کو تار تار کردیا گیا۔ پیر کی شام تقریباً ۵؍ بجے اسکول کی چھٹی ہوئی ایک نا بالغ معصوم بچی اپنے علاقہ کے دنیش رمیش پوار کو اسکول کے باہر دیکھا ، دنیش نے اسے گھر تک چھوڑنے کے لیے بائک پر بیٹھنے کے لیے اصرار کیا ، بچی نے سوچا کہ ہمارے علاقہ کا شناسا ہی ہے یہ سوچ کر بچی بائک پر سوار ہوگئی ۔ نابالغ بچی اس بات سے بے خبر تھی کہ دنیش رمیش پوار کے دماغ میں شیطان سوار ہے اور دنیش رمیش نے اسے سنسان جگہ اُمرا نالے کے قریب لے جاکر عصمت دری کی۔ عصمت دری کے بعد موقع سے فرار ہوگیا، بچی کچھ دیر بعد اپنے آپ کو سنبھالتی ہوئی لڑکھڑاتی ہوئی گھر تک پہنچی ۔ افراد خانہ بے چین تھے کہ اب تک اسکول سے بچی کیوں نہیں لوٹی ؟ دیر سے گھر لوٹنے پر اور بچی کی حالت دیکھ کر حیران ہوکرسوال کئے تو بچی نے پوری داستان سنادی۔ معصوم بچی کے ساتھ اتنے بڑے حادثہ کی خبر سن کر گھر کے افراد مقامی پولس اسٹیشن میں شکایت کی ۔ تھوڑی ہی دیر بعد گاؤں میں یہ بات آگ کی طرح پھیل گئی۔دیر رات تک یہ معاملہ چلتا رہا، صبح تعلقہ پولس اسٹیشن میں گاؤں والوں نے ڈیرا ڈال دیا۔ پولس پر کاروائی کا دباؤ بنایا گیا،پولس ملزم کے گھر پہنچی تو ملزم فرار ہوچکا تھا ، ملزم کے افراد خانہ معاملہ پر پردہ ڈالنے کے لیے ٹال مٹول کرتے رہیں۔ پولس نے معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے گاؤں کے لوگوں کومطمئن کرنے کی کوشش کی۔ لیکن گاؤں کے ادیواسی اپنی ضد پر قائم رہ کر جلد از جلد ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہیں۔بروز منگل ۳۰؍ جولائی کو دوپہر تک تمام لوگ ضلع کلکٹر آفس پہنچ کر مکتوب پیش کرتے ہوئے ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرکے سخت کاروائی کامطالبہ کیا۔ دھولیہ ضلع کلکٹر آفس پر ادیواسیوں کے درمیان دیہی علاقہ کے ایم ایل اے کنال پاٹل بھی موجود تھے ۔ کنال پاٹل گاؤں کے لوگوں سے معاملہ کی پوچھ تاچھ کررہے تھے انہوں نے بچی کے ساتھ ہوئے ظلم کے واقعہ کو بیان کیا۔ پولس رپورٹ کے مطابق ہم نے شکایت ملنے پر گناہ درج کیا ، بچی سے ملاقات کے لیے گئے تو بچی کے پرائیوٹ پارٹ سے خون بہت زیادہ بہنے کی خبر موصول ہوئی ہم نے دھولیہ سول اسپتال میں بچی کو داخل کیا۔ملزم کی تلاش کی لیکن کہیں بھی پتہ نہیں چل سکا ، ایک خفیہ معلومات کی بناء پر ہم نے نظام پور کا رخ کیا۔پولس کے اس دستہ میں ایڈیشنل ایس پی راجو بھجبڑ، ساکری کے ڈیژنل پولس افسر شری کا نت گھمرے کی زیر نگرانی کاروائی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ اس کاروائی میں دونوں اہم افسروں کے علاوہ دھولیہ تعلقہ پولس اسٹیشن کے پولس انسپکٹردلیپ گانگورڈے، پی ایس آئی گنجانن گوٹے،پی ایس آئی بور کھیڑے، پی ایس آئی کاڑے، پی ایس آئی چودھری ، پی ایس آئی نندا پاٹل، انور پٹھان وغیرہ شامل تھے۔انہوں نے نظام پور میں آراکھاڑے گاؤں سے ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ایڈیشنل ایس پی راجو بھجبڑ نے اس ضمن میں کہا ہے کہ عصمت دری کے ملزم کو ہم نے تحویل میں لے لیا ہے۔ پوسکو کے تحت کیس بھی درج کیا گیا ہے، جلد ہی کورٹ میں ملزم دنیش کی پیشی ہوں گی۔ گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ جب تک ملزم کو کڑی سزا نہیں دی جاتی تب تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کوہ نور عمارت سانحہ متاثرین کی فوری مالی امداد، بحالی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو : ابوعاصم اعظمی

Published

on

abu asim

ممبئی مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور شہری ترقی کے وزیر ایکناتھ شندے، اور ریلیف اور بحالی کے وزیرمکرند جی جادھو کو ایک خط ارسال کرانہوں نے بھیونڈی شہر کے بالاجی نگر علاقے میں چار منزلہ کوہ نور عمارت کے گرنے کے المناک اور سنگین واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل کی ہے۔خط کے ذریعے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اہم مطالبات اور مسائل پیش کئے ہیں جس میں انتظامی لاپرواہی پر سوال بھی اٹھایا ہے

بھیونڈی نظام پور سٹی میونسپل کارپوریشن نے پہلے اس عمارت کو ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا تھا اور نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ مکینوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ انتظامی تاخیر اور لاپرواہی کے باعث جانیں ضائع ہوئیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی فوری امداد کے ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت حادثے میں جان گنوانے والے شہریوں کے لواحقین کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کرے اور تمام زخمیوں کو سرکاری خرچ پر بہترین طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انتہائی خطرناک عمارتوں کا سٹرکچرل آڈٹ کیوں سے متعلق اعظمی نے کہا کہ بھیونڈی شہر میں تمام خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتوں کا ‘سٹرکچرل آڈٹ’ فوری طور پر کیا جانا چاہیے، اور ان کے رہائشیوں کی عارضی اور مستقل بحالی کے انتظامات بلا تاخیر کیے جانے چاہئیں۔قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بڑے حادثے اور اس سے منسلک غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جلد از جلد بھیونڈی میں متاثرہ خاندانوں تک انصاف اور راحت پہنچ جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان