Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

ممبئی میونسپل کارپوریشن نے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے بنگلے کو ڈیفالٹر قرار دیا!

Published

on

اگر عام ممبئی والوں پر پانی کا بل دو تین ماہ سے زیادہ واجب الادا ہوتا ہے، تو برہمومبائی میونسپل کارپوریشن فورا کاروائی کرتی ہے، لیکن وزیر اعلی اور دیگر وزرا کی سرکاری رہائش گاہ پر پانی کا بل 24 لاکھ 56 ہزار 469 بقایا ہونے کے باوجود میونسپل کارپوریشن وزیر اعلی اور دیگر وزراء کی سرکاری رہائش گاہ پر مہربان ہے۔
آر ٹی آئی کارکن شکیل احمد شیخ نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ویبسائٹ سے معلومات اکھٹی کی ہیں۔ معلومات کے مطابق وزیر اعلی سمیت دیگر وزراء کے سرکاری رہائش گاہوں پر کل 24 لاکھ 56 ہزار 469 روپے کا بقایاجات واجب الاد ہے اور میونسپل کارپوریشن نے ان بنگلوں کو ڈیفالٹر فہرست میں ڈال دیا ہے۔
جن وزراء کے پانی کے بل سرکاری رہائش گاہوں سے زیر التواء ہیں ان میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے (ورشا بنگلہ)، وزیر اعلی کے سیکیوریٹی اہلکار (تورنا)، وزیر خزانہ اجیت پوار (دیوگیری)، جینت پاٹل (سیواسدن)، نتن راؤت، وزیر توانائی (پرن کوٹی)، بالا تھورات، وزیر برائے محصول (رائل اسٹون)، اپوزیشن لیڈر دیویندر فڑنویس (ساگر)، اشوک چوہان (میگھ دوت) سبھاش دیسائی، وزیر صنعت (پوراتن)، دلیپ ولسے پاٹل (شیوگیری)، عوامی باندھ کام (ساروجنک اپکرم) وزیر ایکناتھ شندے (نندنون)، راجیش ٹوپے ( جیٹ ون)، نانا پاٹولے، اسپیکر قانون ساز اسمبلی (چترکٹ)، راجندر شنگھے (سات پڑا)، نواب ملک (مکتاگری)، چھگن راؤ بھجبل (رام ٹیک)، رام راجا نمبالکر قانون ساز اسپیکر (اجنٹھا) اور سہیادری گیسٹ ہاؤس وغیرہ۔

کس وزیر کی رہائش گاہ پر کتنا بقایا ہے!

نمبر, وزیر کا نام رہائش گاہ کا نام پانی کا بل نمبر, بقایا بیلنس
1 ادھو ٹھاکرے، وزیراعلی ورشا
DXX 8190001
DXX8180007
DXX8170002
DXX8160008
کل مجموعی بقایا رقم. – /13275
6101 / –
5038 / –
502 / –
24916 / –
اگست 2020
دسمبر 2019
جون 2020
2020 اکتوبر

2 ) وزیراعلی کے سیکیوریٹی آفیسر تورنا
DXX8150003
کل مجموعی بقایا رقم -/3803
اپریل 2020 -/3803

3) اجیت پوار، وزیر خزانہ دیوگیری
DXX 7520005
DXX 7510000
DXX9240000
کل مجموعی بقایا رقم -/ 84224
43010 / –
8066 / –
نومبر 2019 -/135300
2020 فروری
2020 جولائی

3) جینت پاٹل سیوا سدن DXX7570008
کل مجموعی بقایا رقم -/115288
جنوری 2020 -/115288

4 ) نتن راؤت ، وزیر توانائی پرن کٹی
DXX8260003
کل مجموعی بقایا رقم -/115288
جنوری 2020 -/ 115288

5( بالا صاحب تھورات ، وزیر محصول رائل اسٹون DXX8480003
DXX8490008
کل مجموعی بقایا رقم -/12809
4970 / –
نومبر 2019 -/17779

6) اشوک چوہان میگھ دوت DXX7650004
کل مجموعی بقایا رقم -/111005
نومبر 2019 -/111005

7 ) سبھاش دیسائی، وزیر صنعت، پوراتن
DXX8290007
DXX8300001
کل مجموعی بقایا رقم -/50120
71587 /-
نومبر 2019
نومبر 2019 -/121707

8) دلیپ ولسے پاٹل شیوگیری
DXX 7580002
DXX7590007
کل مجموعی بقایا رقم -/5756
344996 / –
نومبر 2019 -/350752
نومبر 2019

9 )وزیر ایکناتھ شندے، عوامی باندھ کام (پبلک انڈرٹیکنگ) نندنون DXX8350004
DXX8360009
DXX8370003
کل مجموعی بقایا رقم -/119524
7971 / –
11866 / –
جنوری 2020 139361
جنوری 2020
نومبر 2019

10 ) راجیش ٹوپے جیٹ ون DXX8060002
DXX9310002
کل مجموعی بقایا رقم -/6703
236817 / –
اگست 2020 -/243520
نومبر 2019

11) نانا پاٹولے، اسمبلی اسپیکر چترکوٹ
DXX8270008
کل مجموعی بقایا رقم -/83514
جنوری 2020 -/83514

12) راجندر شنگھے سات پڑا DXX8070007
کل مجموعی بقایا رقم -/23746
جنوری 2020 -/23746

13) نواب ملک مکتاگیری DXX9320007
DXX8110005
DXX8120000
DXX8130004
کل مجموعی بقایا رقم -/30102
5989 / –
24699 / –
9599 / –
جون 2020 -/70389
نومبر 2019
جنوری 2020
2020 اپریل

14) چھگن راؤ بھجبل رام ٹیک DXX9340006
DXX7540004
DXX9350000
کل مجموعی بقایا رقم -/39939
90303 / –
14173 / –
فروری 2020 -/144415
2020 فروری
2020 فروری

15) رام راجا نمبالکر قانون ساز اسپیکر اجنٹھا
DXX 7630005
کل مجموعی بقایا رقم -/ 128797
دسمبر 2019 -/128797

16 )دیویندر فڑنویس ساگر DXX7660009
DXX7670003
کل مجموعی بقایا رقم -/111550
13003 / –
نومبر 2019
نومبر 2019 -/124553

17) سہیادری گیسٹ ہاؤس DXX9290003
DXX9290015
کل مجموعی بقایا رقم -/640523
105333 / –
نومبر 2019
نومبر 2019 -/745856

آر ٹی آئی کارکن شکیل احمد شیخ کے مطابق اگر سرکاری محکمہ پانی کا بل وقت پر نہیں بھرتا ہے تو پھر عام عوام بقایا پانی کا بل کیسے ادا کریں گے؟ شکیل احمد شیخ نے سوال کیا ہے کہ کیا مہانگر پالیکا کمشنر اقبال سنگھ چہل بقایا دار وزیروں کے گھروں کا کنکشن منقطع کرنے کی ہمت کریں گے؟

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com