Connect with us
Thursday,23-July-2026

سیاست

ممبئی میونسپل کارپوریشن نے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے بنگلے کو ڈیفالٹر قرار دیا!

Published

on

اگر عام ممبئی والوں پر پانی کا بل دو تین ماہ سے زیادہ واجب الادا ہوتا ہے، تو برہمومبائی میونسپل کارپوریشن فورا کاروائی کرتی ہے، لیکن وزیر اعلی اور دیگر وزرا کی سرکاری رہائش گاہ پر پانی کا بل 24 لاکھ 56 ہزار 469 بقایا ہونے کے باوجود میونسپل کارپوریشن وزیر اعلی اور دیگر وزراء کی سرکاری رہائش گاہ پر مہربان ہے۔
آر ٹی آئی کارکن شکیل احمد شیخ نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ویبسائٹ سے معلومات اکھٹی کی ہیں۔ معلومات کے مطابق وزیر اعلی سمیت دیگر وزراء کے سرکاری رہائش گاہوں پر کل 24 لاکھ 56 ہزار 469 روپے کا بقایاجات واجب الاد ہے اور میونسپل کارپوریشن نے ان بنگلوں کو ڈیفالٹر فہرست میں ڈال دیا ہے۔
جن وزراء کے پانی کے بل سرکاری رہائش گاہوں سے زیر التواء ہیں ان میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے (ورشا بنگلہ)، وزیر اعلی کے سیکیوریٹی اہلکار (تورنا)، وزیر خزانہ اجیت پوار (دیوگیری)، جینت پاٹل (سیواسدن)، نتن راؤت، وزیر توانائی (پرن کوٹی)، بالا تھورات، وزیر برائے محصول (رائل اسٹون)، اپوزیشن لیڈر دیویندر فڑنویس (ساگر)، اشوک چوہان (میگھ دوت) سبھاش دیسائی، وزیر صنعت (پوراتن)، دلیپ ولسے پاٹل (شیوگیری)، عوامی باندھ کام (ساروجنک اپکرم) وزیر ایکناتھ شندے (نندنون)، راجیش ٹوپے ( جیٹ ون)، نانا پاٹولے، اسپیکر قانون ساز اسمبلی (چترکٹ)، راجندر شنگھے (سات پڑا)، نواب ملک (مکتاگری)، چھگن راؤ بھجبل (رام ٹیک)، رام راجا نمبالکر قانون ساز اسپیکر (اجنٹھا) اور سہیادری گیسٹ ہاؤس وغیرہ۔

کس وزیر کی رہائش گاہ پر کتنا بقایا ہے!

نمبر, وزیر کا نام رہائش گاہ کا نام پانی کا بل نمبر, بقایا بیلنس
1 ادھو ٹھاکرے، وزیراعلی ورشا
DXX 8190001
DXX8180007
DXX8170002
DXX8160008
کل مجموعی بقایا رقم. – /13275
6101 / –
5038 / –
502 / –
24916 / –
اگست 2020
دسمبر 2019
جون 2020
2020 اکتوبر

2 ) وزیراعلی کے سیکیوریٹی آفیسر تورنا
DXX8150003
کل مجموعی بقایا رقم -/3803
اپریل 2020 -/3803

3) اجیت پوار، وزیر خزانہ دیوگیری
DXX 7520005
DXX 7510000
DXX9240000
کل مجموعی بقایا رقم -/ 84224
43010 / –
8066 / –
نومبر 2019 -/135300
2020 فروری
2020 جولائی

3) جینت پاٹل سیوا سدن DXX7570008
کل مجموعی بقایا رقم -/115288
جنوری 2020 -/115288

4 ) نتن راؤت ، وزیر توانائی پرن کٹی
DXX8260003
کل مجموعی بقایا رقم -/115288
جنوری 2020 -/ 115288

5( بالا صاحب تھورات ، وزیر محصول رائل اسٹون DXX8480003
DXX8490008
کل مجموعی بقایا رقم -/12809
4970 / –
نومبر 2019 -/17779

6) اشوک چوہان میگھ دوت DXX7650004
کل مجموعی بقایا رقم -/111005
نومبر 2019 -/111005

7 ) سبھاش دیسائی، وزیر صنعت، پوراتن
DXX8290007
DXX8300001
کل مجموعی بقایا رقم -/50120
71587 /-
نومبر 2019
نومبر 2019 -/121707

8) دلیپ ولسے پاٹل شیوگیری
DXX 7580002
DXX7590007
کل مجموعی بقایا رقم -/5756
344996 / –
نومبر 2019 -/350752
نومبر 2019

9 )وزیر ایکناتھ شندے، عوامی باندھ کام (پبلک انڈرٹیکنگ) نندنون DXX8350004
DXX8360009
DXX8370003
کل مجموعی بقایا رقم -/119524
7971 / –
11866 / –
جنوری 2020 139361
جنوری 2020
نومبر 2019

10 ) راجیش ٹوپے جیٹ ون DXX8060002
DXX9310002
کل مجموعی بقایا رقم -/6703
236817 / –
اگست 2020 -/243520
نومبر 2019

11) نانا پاٹولے، اسمبلی اسپیکر چترکوٹ
DXX8270008
کل مجموعی بقایا رقم -/83514
جنوری 2020 -/83514

12) راجندر شنگھے سات پڑا DXX8070007
کل مجموعی بقایا رقم -/23746
جنوری 2020 -/23746

13) نواب ملک مکتاگیری DXX9320007
DXX8110005
DXX8120000
DXX8130004
کل مجموعی بقایا رقم -/30102
5989 / –
24699 / –
9599 / –
جون 2020 -/70389
نومبر 2019
جنوری 2020
2020 اپریل

14) چھگن راؤ بھجبل رام ٹیک DXX9340006
DXX7540004
DXX9350000
کل مجموعی بقایا رقم -/39939
90303 / –
14173 / –
فروری 2020 -/144415
2020 فروری
2020 فروری

15) رام راجا نمبالکر قانون ساز اسپیکر اجنٹھا
DXX 7630005
کل مجموعی بقایا رقم -/ 128797
دسمبر 2019 -/128797

16 )دیویندر فڑنویس ساگر DXX7660009
DXX7670003
کل مجموعی بقایا رقم -/111550
13003 / –
نومبر 2019
نومبر 2019 -/124553

17) سہیادری گیسٹ ہاؤس DXX9290003
DXX9290015
کل مجموعی بقایا رقم -/640523
105333 / –
نومبر 2019
نومبر 2019 -/745856

آر ٹی آئی کارکن شکیل احمد شیخ کے مطابق اگر سرکاری محکمہ پانی کا بل وقت پر نہیں بھرتا ہے تو پھر عام عوام بقایا پانی کا بل کیسے ادا کریں گے؟ شکیل احمد شیخ نے سوال کیا ہے کہ کیا مہانگر پالیکا کمشنر اقبال سنگھ چہل بقایا دار وزیروں کے گھروں کا کنکشن منقطع کرنے کی ہمت کریں گے؟

سیاست

دہلی پولیس نے این ایس اے سے متعلق رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معمول کا انتظامی عمل ہے۔

Published

on

Delhi-Protest

نئی دہلی : این ای ای ٹی پیپر لیک کو لے کر قومی راجدھانی میں جاری احتجاج کے درمیان، دہلی پولیس نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) پر اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ اسے این ایس اے کے تحت مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کوئی نیا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ یہ حکم ایک معمول کے انتظامی عمل کا حصہ ہے جو برسوں سے جاری ہے، اور ہر تین ماہ بعد اس کی تجدید کی جاتی ہے۔ 15 جولائی کو، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) 1980 کی دفعہ 3(3) کے تحت ایک حکم جاری کیا۔ اس حکم کے مطابق، دہلی پولیس کمشنر کو این ایس اے کے تحت 19 جولائی سے 18 اکتوبر تک حاصل اختیارات کا استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس مدت کے دوران، اگر قومی سلامتی یا امن عامہ کے مفاد میں ضروری سمجھا جاتا ہے، تو دہلی پولیس کمشنر این ایس اے کی دفعہ 3(2) کے تحت کسی فرد کے خلاف احتیاطی حراست کا حکم جاری کر سکتا ہے۔ تاہم دہلی پولیس نے واضح کیا کہ یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے۔ حکام کے مطابق یہ انتظام کافی عرصے سے جاری ہے اور ہر تین ماہ بعد اس میں توسیع کی جاتی ہے۔

دہلی پولیس کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس نے اطلاع دی ہے کہ سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے دہلی پولیس کمشنر کو این ایس اے کے تحت حراست کے خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔ پولیس نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجدید کا حکم 7 جولائی 2026 کو 19 جولائی سے 18 اکتوبر 2026 تک کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ یہ حکم چیف جسٹس کے احتجاج شروع ہونے سے پہلے جاری کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ جاری احتجاج کے پیش نظر کوئی خصوصی درخواست یا علیحدہ حکم جاری نہیں کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اہلیان ممبئی کے لیے بہتر صحت اور طبی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی بنانے کی میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی اہم ہدایات

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے بی ایم سی کے صحت اور طبی محکموں کو ایک جامع، کثیر سطحی پالیسی بنانے کی ہدایت دی ہے جس کا مقصد ممبئی کے شہریوں کو معیاری، سستی، جامع اور جوابدہ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پالیسی کو مرحلہ وار تیار کیا جائے اور اس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی آپریشنز، صفائی ستھرائی اور افرادی قوت کے انتظام جیسے مختلف پہلوؤں کو شامل کیا جائے۔ بی ایم سی کے صحت اور طبی محکموں کی ایک خصوصی میٹنگ حال ہی میں بی ایم سی ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی، جہاں بھیڈے نے رہنمائی فراہم کی۔ میٹنگ میں ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا لاونگرے نے شرکت کی ۔ڈپٹی میونسپل کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی میونسپل کمشنر (میونسپل کمشنر آفس) شری پرشانت گائیکواڑ، میڈیکل ایجوکیشن اور بڑے اسپتالوں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیلیش موہتے، ایگزیکٹیو ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر دکشا شاہ، اور متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے صحت اور طبی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعدد سطحی اصلاحات کو مرحلہ وار طریقے سے نافذ کریں، جس کا مقصد بی ایم سی کی جانب سے فراہم کی جانے والی مختلف صحت اور طبی خدمات کو زیادہ شہری پر مبنی بنانا ہے۔ اسی مناسبت سے متعلقہ محکموں کی جانب سے مجوزہ پلان کے حوالے سے ایک ڈیجیٹل پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ اس پلان میں سنگ میل اور مقاصد کا تعین کیا گیا ہے اور ان پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے سنگ میل اور ہر مرحلے کے لیے طے شدہ اہداف کے بارے میں تفصیلات درج ذیل ہیں

پہلا مرحلہ : اس مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے طے کیے گئے مقاصد میں شامل ہیں: میونسپل کارپوریشن کی صحت اور طبی سہولیات پر ‘سٹیزن چارٹر’ کی نمائش؛ ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں صفائی کے انتظام کو مزید مضبوط اور موثر بنانا؛ شکایات کے تیز تر ازالے کو یقینی بنانا؛ ایچ ایم آئی ایس (ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم) کو زیادہ مؤثر طریقے سے نافذ کرنا؛ ہسپتال کی خدمات اور سہولیات کے لیے ایک جامع ڈیش بورڈ کو فعال کرنا؛ اور ‘سمارٹ اور ڈیجیٹل او پی ڈی’ سسٹم کو لاگو کرکے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (او پی ڈی) میں مریض کے انتظار کے اوقات کو کم کرنا۔ اس میں محکمہ صحت عامہ کے ذریعے مختلف پرمٹ اور لائسنس جاری کرنے کے عمل کو ہموار کرنا بھی شامل ہے۔ ان شرائط و ضوابط کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانا جن کے تحت یہ اجازت نامے اور لائسنس متواتر چیک کے ذریعے دیئے گئے تھے۔ اور جہاں ضرورت ہو وہاں جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانا۔

مزید برآں، بہتری کے پہلے مرحلے میں ٹیکنالوجی کے موافق اقدامات شامل ہیں جو مریضوں کے لیے انتہائی اہم اور فائدہ مند ہیں، جیسے کہ خالی طبی آسامیوں کو پُر کرنا اور بڑے میونسپل ہسپتالوں میں بیمہ امداد کے وقف سیلز کا قیام تاکہ مریضوں کو ہیلتھ انشورنس کے فوائد حاصل کرنے میں مدد ملے۔ مزید برآں، اس منصوبے میں طبی علاج کے خواہاں مریضوں کے لیے ہنگامی حالات کے دوران ضروری ادویات کی فوری دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی بہتری کا پروگرام شامل کیا گیا ہے۔

دوسرا مرحلہ : اس مجوزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے جو مقاصد طے کیے گئے ہیں ان میں کئی اہم اقدامات شامل ہیں: پائلٹ بنیادوں پر ‘آن لائن بیڈ ایلوکیشن’ کو لاگو کرنا- اس طرح آن لائن سسٹم کے ذریعے ویٹنگ لسٹ میں ضرورت مند مریضوں کو ہسپتال کے بستروں کی فراہمی؛ ہسپتال کی خدمات کو غیر مرکزی بناناخاص طور پر ایسے مریضوں کو ریفر کر کے جنہیں معمولی علاج کی ضرورت ہوتی ہے مضافاتی ہسپتالوں میں۔ اور برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ہر وارڈ میں پائلٹ بنیادوں پر 24/7 کلینک شروع کرنا۔

مزید برآں، دوسرے مرحلے میں ایسے اقدامات شامل ہیں جیسے کہ ضرورت مند مریضوں کے لیے 50% تک کی لاگت کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کو محفوظ بنانے کے لیے — پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے — مشترکہ کوششیں کرنا۔ ہسپتال کے افسران اور عملے کو نرم مہارت، طبی اخلاقیات اور متعلقہ شعبوں میں تربیت فراہم کرنا؛ اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کے لیے خصوصی ایوارڈز کا قیام۔ دوسرے مرحلے کی ایک اور نمایاں خصوصیت ‘مصنوعی ذہانت’ (اے آئی) پر مبنی مختلف اجزاء کو شامل کرنا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ریڈیولاجی، پیتھالوجی، اور ریسورس مینجمنٹ سے متعلق پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ : اس مجوزہ منصوبے کا تیسرا مرحلہ بنیادی طور پر ‘کوالٹی ایشورنس’ پر مرکوز ہے۔ اس میں شامل ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پولس کا عظیم کارنامہ! مالونی میں تین برس ۲۰۲۳ سے غائب ہوا لاپتہ بچہ سرپرستوں کے سپرد

Published

on

Missing child

ممبئی پولس کی کاوشوں کے سبب تین سال بعد ایک ۸ سالہ بچہ کو پولس نے ان کے اہل خانہ کے سپرد کردیا اور مغموم اہل خانہ کے چہرے میں خوشیاں لوٹائی ہے۔ اندھیر ی ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی حدود میں اسنہاسدن نامی یتیم خانہ نے شکایت درج کروائی تھی کہ ان کے یہاں کا ایک بچہ غائب ہو گیا ہے۔ ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۳ کو اس معاملہ میں پولس کے اغوا کی شکایت درج کی تھی۔ ۲۲ اکتوبر کو ہی یہ بچہ لاوارث حالت میں جوہو چوپاٹی پر مشتبہ حالت میں پایا گیا تھا, جسے پولس نے یتیم خانہ میں رکھا تھا۔ ۸ سالہ انیس خان کسی کو بلا بتائے یتیم خانہ سے چلا گیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تلاش شروع کرُدی ہے۔ تمام گمشدہ ایف آئی آر ۲۰۲۳ سے لے کر اب تک گمشدگی ایف آئی آر کا معائنہ کیا گیا, اس کے ساتھ ہی پولیس کو معلوم ہوا کہ ماٹونگا میں بھی اسی نام کا ایک بچہ ہے۔ ایسے میں ریکارڈ کی جانچ کی گئی اور یہاں سے معلوم ہوا کہ یہ بچہ ملاڈ مالونی میں مقیم تھا۔ اس کے بعد پولس نے اس کے گھر کا پتہ معلوم کیا اور پھر مالونی پولس اسٹیشن سے معلوم ہوا کہ اس بچے کا نام امن شیخ ہے جس کے بعد پولس نے اس کی پھوپھی سے تصویر بتا کر معلوم کیا تھا اس نے اس کی شناخت کر لی اور بعدازاں پولیس نے ۳ برس سے لاپتہ ۸ سالہ بچہ کو اس کے گھر والوں کے سپرد کردیا یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان