Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

محمد صدیق : کشمیری موسیقی کا روایتی آلہ ’ تمبکناری‘ بنانے والا کاریگر

Published

on

Muhammad-Siddique

وادی کشمیر میں مٹی سے صرف مختلف قسموں کے برتن ہی نہیں بنائے جاتے ہیں، بلکہ یہاں مٹی سے موسیقی کا ایک روایتی آلہ بھی تیار کیا جاتا ہے، جس کا استعمال وادی کے شہر و گام میں شادی بیاہ یا دوسری خوشی کی تقریبوں میں کیا جاتا ہے۔ وادی میں گرچہ مٹی سے برتن بنانے کا ہنر انحطاط پذیر ہے۔ تاہم سری نگر کے برین علاقے سے تعلق رکھنے والا محمد صدیق نامی ہنر مند اپنے کارخانے میں مٹی سے تیار ہونے والے روایتی کشمیری موسیقی آلہ ’تمبکناری‘ بنا کر اپنی روزی روٹی بھی کماتا ہے، بلکہ اپنی شاندار ثقافت کے اس اہم جز کو زندہ رکھے ہوئے بھی ہے۔ موصوف کاریگر اپنا سارا دن بجلی سے چلنے والے پہیے پر تمبکناری بنانے میں صرف کرتا ہے۔

مٹی اور پانی کی آمیزش سے تیار ہونے والی تمبکناری کی گردن لمبی اور کھوکھلی ہوتی ہے، اور اس کو بھٹی میں پکانے کے بعد اس پر رنگ و روغن چڑھایا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمبکناری ایران یا وسطی ایشیا سے کشمیر آئی ہے۔

محمد صدیق نے کہا کہ میں اپنے کارخانے میں دن بھر کام کر کے اپنے اہل و عیال کی کفالت کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا، ’میں اپنے کارخانے میں صبح سے شام تک کام کرتا ہوں، اور کم سے کم پچاس تمبکناریاں تیار کرتا ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا، ’مجھے سال بھر ڈیلروں کی طرف سے آرڈرس ملتے رہتے ہیں، جن کو میں مال فراہم کرتا ہوں۔‘

موصوف کاریگر نے کہا کہ ایک بڑی تمبکناری بازار میں ڈھائی سو سے ڈیڑھ سو روپیہ میں فروخت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’تمبکناری بنانے کے لئے وسطی ضلع بڈگام سے خاص قسم کی مٹی لائی جاتی ہے، اس قسم کی مٹی پر سبزی نہیں اگتی ہے، اور نہ ہی اس کو مکان بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا، ’حکومت نے اس علاقے میں مٹی کھودنے پر پابندی عائد کی ہے، جس سے اس کام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اور ہماری روزی روٹی متاثر ہوسکتی ہے۔‘

محمد صدیق نے اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کشمیری پنڈت برادری کے لوگوں سے مٹی کے برتنوں کے بڑے بڑے آرڈرس ملتے تھے جنہیں وہ شادی بیاہ کے موقعوں پر استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’لیکن ان کی کشمیر سے ہجرت کے بعد اس روایتی تجارت کو شدید دھچکا پہنچا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں مجھے پھولوں کے گملے بنانے کے لئے بھی بڑے آرڈرس ملتے تھے، لیکن وہ بھی روبہ زوال ہے۔

محمد صدیق نے کہا کہ تاہم اس کے باوجود میں دن بھر اپنے کارخانے میں تمبکناریاں بنانے کےساتھ مصروف رہتا ہوں۔ انہوں نے کہا، ’اکثر مجھے مٹی کے برتنوں کے بھی آرڈس ملتے ہیں، لیکن میں ان کو مسترد کرتا ہوں، کیونکہ اس کے لئے وقت نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا، ’میرے بچوں کو اس کام میں دلچسپی نہیں ہے، گرچہ میں انہیں یہ کام سیکھنے کی تاکید کرتا رہتا ہوں تاکہ یہ روایت زندہ رہ سکے۔‘

موصوف کاریگر جموں وکشمیر حکومت کا انتہائی مشکور ہے، جس نے اس کو تمبکناری بنانے کے لئے بجلی سے چلنے والا پہیہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پہیے سے ہمارا کام آسان بھی ہوا ہے، اور کام بھی زیادہ نکلتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان