Connect with us
Friday,19-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

شہر کے دیڑھ سو سے زائد ڈاکٹرز نے پی پی ای کٹ کی ایڈوانس بکنگ کی

Published

on

( خیال اثر )
اس وقت شہر کی صورت حال یہ ہے کہ اکثر ڈاکٹرز نے اپنے تحفظ اور کرونا وائرس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی جنرل پریکٹس کو بند کردیا ہے ، جس کی وجہ سے شہر بھر میں مریضوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان ہی خدشات کے پیش نظر رضا اکیڈمی نے ڈاکٹرز کے لیے پی پی ای کٹ شہر میں منگوانے کے لیے اس وقت سے جدوجہد شروع کردی تھی جب اس شہر میں کرونا وائرس نے دستک دی تھی، اس مشن میں اکیڈمی کو کامیابی ملی اس تعلق سے تفصیلات پیش کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے مقامی صدر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے بتایا کہ اس عظیم خدمت میں معاونت کے لیے ہم ہوپس انڈیا ممبئی کے فاؤنڈر حاجی ریحان انور دھوراجی والا کے شکر گزار ہیں، جن کی کاوشوں کے سبب ہم آج اس پوزیشن میں آچکے ہیں کہ شہر کے ڈاکٹرز کو ایسی معیاری پی پی ای کٹ فراہم کرسکیں جس کے استعمال کے بعد وہ اپنے تحفظ کے متعلق بے خوف ہوکر مریضوں کی خدمت کر سکیں، موصوف نے کہا کہ شہر کے دیڑھ سو سے زائد ڈاکٹرز نے رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے دفتر سے رابطہ قائم کرتے ہوئے دو دنوں میں دو سو سے زیادہ پی پی ای کٹ کی بکنگ کی ہے، رضوی سلیم شہزاد نے کہا کہ شہر کے میونسپل کمشنر کشور بروڈے، ایڈیشنل کلکٹر لکشمن راؤت ، پرانت آفیسر وجیانند شرما، اور ایڈیشنل ایس پی سندیپ گھوگھے نے رضا اکیڈمی کی اس کامیاب جدوجہد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کام کی ستائش کی ہے، رضا اکیڈمی کے غلام فرید اور محمد ابراہیم راجو رضوی نے بتایا کہ کرونا زدہ شہر میں یہ رضا اکیڈمی کی ایک ایسی خدمت ہے جس کا برملا اعتراف شہر کے ڈاکٹر ز حضرات نے کٹ کی ایڈوانس بکنگ کرتے ہوئے کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ جو پی پی ای کٹ صرف 600 روپیہ میں رضا اکیڈمی کے ذریعے فراہم کی جارہی ہے وہ کٹ اس وقت دیڑھ ہزار روپیوں میں بھی آسانی سے کہیں دستیاب نہیں ہے، الطاف تابانی اور حاجی محمد رضوی نے بتایا کہ شہر کی تیزی سے بدلتی صورت حال اور سخت کرفیو کے نفاذ کو دیکھتے ہوئے رضا اکیڈمی نے یہ اہم فیصلہ کیا ہے کہ ڈاکٹر حضرات کی رہائش گاہوں اور دواخانوں تک پہنچ کر یہ کٹ انہیں دی جائے ، آج شام سے پی پی ای کٹ پہنچانے کے کام کی شروعات کی جائے گی ، ہمیں امید ہے کہ اب بہت سارے ایسے دواخانے جو کرونا وائرس کی وبا کے عام ہونے کے بعد بند ہو چکے تھے وہ ان شاء اللہ دوبارہ کھیلں گے اور مریضوں کو درپیش مشکلات کسی حد تک کم ہو سکیں گی، شہر کی کچھ اہم شخصیات نے بھی اس کام کی ستائش کی، جن میں ڈاکٹر حامد اقبال، ڈاکٹر منظور حسن ایوبی، ذوالفقار سیٹھ ( حسین سیٹھ کمپاؤنڈ) حاجی صدیق تابانی، حاجی احمد رضا حافظ عبدالعزیز، حاجی عبدالمجید بکھار والے وغیرہ شامل ہیں، پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے کہا کہ شہر میں اگر اپنے تحفظ کو لے کر ڈاکٹرز نے کام کرنا بند کردیا تو اس شہر کے مریضوں کا کیا ہوگا؟ یہ سوچ کر جو قدم رضا اکیڈمی نے اٹھایا میں اس سے بہت متاثر ہوں، قاری زین العابدین رضوی، اہل سنت وجماعت کی بزرگ شخصیت قاری زین العابدین نے رضا اکیڈمی کے اراکین کو اس کار خیر پر مبارکباد پیش کی اور دعاؤں سے نوازا، صغیر سر نے کہا کہ مجھے یہ سب دیکھ کر بے حد خوشی ہے، اللہ پاک نے نازک اور سنگین حالات میں یہ خدمت رضا اکیڈمی کے حصے میں دی، مشہور صنعت کار جمیل کرانتی نے اس کام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی شدید ضرورتوں کے پیش نظر کیا گیا یہ ایک اہم قدم ہے جسے یاد رکھا جائے گا، غفران انصاری سر نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے جبکہ پورا ملک لاک ڈاؤن سے ٹھپ ہو چکا ہے رضا اکیڈمی مالیگاؤں نے ہوپس انڈیا ممبئی کی مدد سے اتنی بڑی تعداد میں شہر میں پی پی ای کٹ منگوا کر ایک بڑی اہم خدمت انجام دی ہے، سابق نائب میئر جمیل سیٹھ زر والے نے کہا کہ جب مجھے یہ خبر سننے کو ملی کہ کرونا وائرس میت کی تجہیز و تکفین اور شہر کے ڈاکٹرز کے لیے دو الگ الگ حفاظتی کٹس رضا اکیڈمی کے ذریعے شہر میں منگوائی جارہی ہے تو خوشی ہوئی اور دل سے دعائیں نکلیں، سابق صدر بلدیہ میڈم ساجدہ نہال احمد نے بھی اس کام پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے اراکین رضا اکیڈمی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، رضا اکیڈمی کے شکیل احمد سبحانی نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ضرورت کے مطابق مالیگاؤں کے علاوہ اطراف و جوانب کے دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی قبرستان کٹ اور پی پی ای کٹس کو ہوپس انڈیا ممبئی کی مدد سے پہنچایا جائے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

شندے کے کام پر عوامی نمائندوں کا اعتماد بلند، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمان کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا : ملند دیورا

Published

on

شیو سینا کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملند دیورا نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی میٹنگ میں کئی ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت ہی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کی پارٹی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین اجلاس غیر حاضر تھے ان میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔

دیورا نے کہا کہ آج عوام اور عوامی نمائندوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے کام اور قیادت پر بھروسہ ہے۔ ایکناتھ شندے صاحب ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو شندے صاحب کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔سنجے راؤت کو نشانہ بناتے ہوئے ملند دیورا نے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور قواعد کا علم نہیں ہے۔ یو بی ٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ کس قسم کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں اور وہپ کے قواعد کیا ہے ۔ وہپ کے معاملے پر دیورا نے کہا کہ وہپ صرف ایوان میں ووٹنگ کے لیے جاری کیا جاتا ہے، کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت کے لیے نہیں۔ یہ پارلیمانی قاعدہ ہے اور جو لوگ برسوں سے رکن ہیں انہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔ملند دیورا نے مزید کہا کہ سنجے راوت کبھی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ممبران پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ کو پیسے دیے گئے، اور کبھی ممبران پارلیمنٹ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔سنجے راوت نے اپنے ہی ایم پیز کی توہین کی۔ اس طرح کے رویے کے ساتھ، کون اس کے ساتھ کام کرنا چاہے گا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کا یو بی ٹی کی قیادت پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر انہیں دستیاب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لیڈر اب بھی ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا ہر اس شخص کا خیر مقدم کرتی ہے جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کرنا ہے۔آخر میں، دیورا نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ میں ان کی خیر خواہی ہی کرسکتا ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے سلسلے میں معاہدہ و مفاہمت پر دستخط

Published

on

ممبئی ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کاتصور اس کی تاریخی خوبصورتی کو زندہ کرنا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس قلعے کا تحفظ کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان آج (18 جون 2026)ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے کام کے سلسلے میں ایک مفاہمت معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں، جسے ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ لاس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی، محکمہ کسٹم کے پرنسپل کمشنر جناب اجے کمار پانڈے، محکمہ کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر نتن تاگڑے، وکرم پھڑکے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (جنوبی زون)پرشانت گائیکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (جنوبی زون) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر یوگیش دیسائی، قدیم ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری، ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر کے کے سانگلے وغیرہ موجود تھے

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی ہدایت کے مطابق ممبئی میں قدیم ڈھانچوں کا تحفظ اور تحفظ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ کے تحفظ اور احیاء کی پہل کی ہے۔ اس معاہدہ نامے کے تحت قلعہ ماہم کے خستہ حال ڈھانچے کو مضبوط اور دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ قلعہ کے علاقے میں موجود تاریخی کنویں کی تلاش اور کھدائی کی جائے گی۔ قلعہ کے اندرونی چاروں طرف پیدل چلنے کا راستہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ قلعہ کی بنیاد کی حفاظت کے لیے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے 20 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ۔میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈپارٹمنٹ نے ماہم قلعہ پر سے تجاوزات کو ہٹا کر مقیم مقامی باشندوں کی بازآبادکاری کی ہے۔ لہٰذا اب اس قلعے کی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جائے گی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ پر جو ایک تاریخی اور قدیم ورثہ ہے، پر تجاوزات کو ہٹانے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب انتظامیہ اس قلعے کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

کسٹم ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل کمشنراجے کمار پانڈے نے کہا کہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ ماہم قلعہ کو محکمہ کسٹم کے کسٹم اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے شروع کیا گیا تحفظ اور بحالی کا کام اس قلعے کو مشہور کرے گا۔ نیز، یہ قلعہ ممبئی والوں کے لیے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی کرے گا۔ماہم ایک قدیم قلعہ ہے اور راجہ بیمب دیو کی اولاد نے 12ویں اور 13ویں صدی کے آس پاس یہ قلعہ تعمیر کیا تھا۔ ممبئی کے سات جزیروں میں سے ماہم طاقت کا مرکزی مرکز تھا اور یہ قلعہ اسی شاندار تاریخ کی علامت ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 1975 میں قلعہ ماہم کو ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ قلعہ کا کل رقبہ تقریباً 3 ہزار 796.02 مربع میٹر ہے۔ فی الحال یہ قلعہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ قلعہ ماہم کے موجودہ ڈھانچے پر کچی آبادیوں کی شکل میں تجاوزات تھیں۔ پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد، درست دستاویزات کی تصدیق کی گئی اور 275 کچی آبادیوں کو کرلا اور ملاڈ میں پروجیکٹ متاثرین کے لیے دستیاب فلیٹوں میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ایک مذہبی ڈھانچے کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈویژن آفس، کسٹم ڈپارٹمنٹ، قدیم ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری اور ویرماتا کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سانگل کے جیجا بائی کی رہنمائی میں کرنے کی تجویز ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر باغی اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے : ابوعاصم اعظمی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر میں شیوسینا کے جاری آپریشن ٹائیگر پر بات کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی ممبئی/مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “آج کے عوامی نمائندے، لیڈر، اور کارکن اب نظریے پر نہیں چلتے، وہ لالچی ہو گئے ہیں۔ جو لوگ عوام کا ووٹ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے پارٹیاں بدلتے ہی ان کےعہدہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ اگر کوئی پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑتا ہے تو اسے پارٹی کا جھنڈا، بینر، نشان اور رقم فراہم کی جاتی ہے۔ کارکنان اپنے امیدوار کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ نمائندے پارٹی کے نظریے کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں، اور لوگ اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں ، اس لیے وہ انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم فتح کے بعد وہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہیں ۔ ایسا قانون بنایا جائے کہ اگر کوئی امیدوار فتحیابی کے بعد دوسری پارٹی میں شامل ہو جائے تو اس کا عہدہ کالعدم قراردیا جائے ۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو لالچ دینے، ڈرانے دھمکانےاور اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ شامل نہیں ہوتے ہیں تو انہیں کیجریوال اور سنجے سنگھ کی طرح جیل بھیج دیا جاتا ہے، لیکن وہ بے قصور ثابت ہوئے تھے۔بی جے پی دیگرپارٹی میں شگاف پیداکرنے کےلئے کوشاں ہوگئی ہے اس لئے مسلسل کئی پارٹیوں کے دو حصے ہوگئے ہیں ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان