Connect with us
Sunday,24-May-2026
تازہ خبریں

جرم

مالیگاوں شہر میں کورونا سے زیادہ شوگر اور بلڈ پریشر سے موت

Published

on

(خیال اثر)
کورونا جیسی خطرناک وبائی بیماری اور لاک ڈاون کے درمیان مالیگاوں کے بڑا قبرستان میں آج بروز جمعہ دوپہر تک 13 میت کی تدفین اور دیگر قبرستانوں کی تفصیل نہیں مل پائی ہے. قبرستان میں یکے بعد دیگرے آنے والے جنازوں کو دیکھ کر قرب و جوار میں رہنے والے مرد و خواتین حیران و پریشان ہو گئے ہیں. قبر کھود ملازمین بھی مسلسل قبروں کی تیاری کرتے کرتے تھک کر چور ہو گئے ہیں. ایسے عالم میں شہر کی صورت حال سنگین ہوتی جارہی ہے. کاروبار بند ہونے اور اشیائے ضروریہ کی کمی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی اموات نے کورونا کو پچھے چھوڑتے ہوئے ہائے کورونا ہائے کورونا کا ورد کرنے پر مجبور ہو گئی ہے. شہر میں ان دنوں اموات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے. ضعیف مرد و خواتین معمولی سے معمولی بیماریوں کی وجہ سے فوت ہوتے جارہے ہیں. اس کی بڑی وجہ بر وقت علاج کی سہولیات کا مہیا نہ ہونا اور ماہر ڈاکٹروں کے ہاسپٹلوں کا بند ہونا بھی قرار دیا جارہا ہے. اس دوران شہری لیڈران ایک دوسرے پر الزام تراشی اور حکام کو میمورنڈم دینے تک محدود رہتے ہوئے خود کو بری الذمہ قرار دینے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں. شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض بر وقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے یکے بعد دیگرے داعی اجل کو روانہ ہوتے جارہے ہیں. جمیعت علماء ناسک کے ضلعی صدر اور مدرسہ اسلامیہ بڑا قبرستان کے شیخ الحدیث اور جید عالم دین حضرت مولانا عبدالباری قاسمی اور صوفی ملت صوفی غلام رسول قادری کی رحلت بھی اسی المیے کا شاخسانہ ہے. اگر دونوں حضرات کو بر وقت طبی امداد مہیا ہو جاتی تو شہر ان دونوں محرومین کے صدمہ جانکاہ سے دوچار نہ ہو پاتا حالانکہ کہا جاتا ہے کہ موت کا ایک دن معین ہے پھر بھی……..
مالیگاوں کا محمکہ صحت معمولی بیماریوں سے نبرد آزما رہنے والے افراد کی موت کو بھی کورونا پازیٹیو قرار دیتی جارہی ہے. شہر کے گلیاروں میں یہ چرچا عام ہوتی جارہی ہے کہ بڑھتی ہوئی اموات کے سلسلے میں سنگھی ذہنیت کارفرما ہے وہیں شہری لیڈران مرکزی و ریاستی حکومتوں سے دستیاب ہونے والے خطیر فنڈ پر اپنی نظریں لگائے ہوئے ہیں. کورونا جیسی خطرناک وبائی بیماری کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے عوام و خواص کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہیں مزدور طبقہ بھکمری کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ایسے حالات میں مخیر حضرات اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کو غریب و مزدور طبقہ کی امداد کے لئے آگے آنا چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ محمکہ پولیس کے بے جا ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے ورنہ ہمارا شہر کسی دن بڑے ہنگامے کا شکار ہو سکتا ہے.

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading

جرم

مغربی بنگال فائرنگ اور بم دھماکہ میں ملوث تین مفرور ملزمین ممبئی سے گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ۷ مئی کو مغربی بنگال ہاوڑا میں فائرنگ اور بم دھماکہ میں مطلوب تین ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, مغربی بنگال کے شیبوپور پولس اسٹیشن کی حدود میں فائرنگ کی واردات انجام دی گئی تھی, اس میں مطلوب ملزمین ممبئی کے دیونار ایس آر اے کی بلڈنگ میں روپوش ہے اس بنیاد پر ۲۱ مئی کو کرائم برانچ نے یہاں چھاپہ مار کر تین مفرور ملزمین شمیم احمد عبدالرشید ۴۰ سال، جمیل اختر علی ۴۳ سالہ، آفتاب انور خورشید ۴۴ سالہ کو ممبئی میں گرفتار کر لیا۔ ان مفرور ملزمین پر شیبو پور پولس اسٹیشن میں کئی تقریبا ۵ معاملات بھی درج ہیں, یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

مہاراشٹر کے ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھلے عام فائرنگ, یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا اور کہرام مچ گیا۔

Published

on

Firing

ناگپور : مہاراشٹر کے ناگپور سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائک سوار نوجوانوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر کی طرف کھلے عام فائرنگ کی۔ فائرنگ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کچھ دن پہلے ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے حساس زون میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ اب اس واقعہ نے سیکورٹی انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھ موٹر سائیکل سوار فائرنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے، جب کہ ناگپور میں محل کے کوٹھی روڈ علاقے میں فائرنگ کے واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ یہ علاقہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈ کوارٹر کے بہت قریب ہے۔ سنگھ کا ہیڈکوارٹر ریشم باغ میں واقع ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اتوار، 17 مئی کو تقریباً 11:30 بجے پیش آیا، جب چھ نامعلوم افراد تین موٹرسائیکلوں پر آئے اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر سے 1.5 کلومیٹر (کلومیٹر) دور ایک علاقے میں فائرنگ کی۔ پولیس نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ روی موہتو اور گنگا کاکڑے نے شکایت کنندہ سوربھ کے ساتھ جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے علاقے میں تسلط قائم کرنے اور دہشت پھیلانے کی نیت سے فائرنگ کی۔ تفتیش کاروں کو ملزمان کے درمیان جھگڑے کا شبہ ہے۔ ریشم باغ میں آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کافی سخت ہے۔

ناگپور کے محل علاقے کے کوٹھی روڈ علاقے میں دو راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ روی موہتو، گنگا کاکڑے، اور دیگر ملزمان کے پاس منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سامان رکھنے کا سابقہ ​​مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ ان کے مجرمانہ پس منظر کے پیش نظر پولیس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد کوتوال تھانے کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور تحقیقات شروع کردی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعہ سے محل کے علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے جس کے باعث پولیس کی گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان