Connect with us
Thursday,16-April-2026

سیاست

مودی نے آکسیجن کی دستیابی کا جائزہ لیا

Published

on

modi

وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں آکسیجن ٹینکروں کی بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لئے کہا ہے، جس کے پیش نظر ایک ریاست سے دوسری ریاست جانے والے آکسیجن ٹینکروں کو اجازت سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔

مسٹر مودی نے ملک میں کورونا کی وباء کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے درمیان آکسیجن کی بڑھتی طلب کے پیش نظر جمعہ کو آکسیجن کی دستیابی کا جائزہ لیا۔

حکام نے بتایا کہ ریاستوں اور ٹرانسپورٹرز سے کہا گیا ہے کہ ٹینکر کو چوبیس گھنٹے چلایا جائے تاکہ ہر جگہ آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس بات کو ذہن میں رکھنے کے لئے کہا گیا ہے کہ ڈرائیوروں سے شفٹوں میں کام کرایا جائے، تاکہ ان پر بوجھ نہ بڑھ جائے۔ سلنڈر فلنگ پلانٹ میں بھی ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ دن رات کام ہونا چاہئے۔ حکومت طبی آکسیجن کے لئے صنعتی سلنڈر کے استعمال کی بھی اجازت دے رہی ہے۔ اسی طرح آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے نائٹروجن ٹینکروں کو بھی آکسیجن ٹینکروں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم کو میڈیکل گریڈ آکسیجن درآمد کرنے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

جائزہ اجلاس میں، صحت، روڈ ٹرانسپورٹ اور اسٹیل اور دیگر وزارتوں کے حکام سے بھی تجاویز لی گئیں۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ تمام متعلقہ وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔

وزیر اعظم نے آکسیجن کی فراہمی کی موجودہ صورتحال اور سب سے زیادہ متاثرہ 12 ریاستوں میں 15 دن کی ضرورت کا جائزہ لیا۔ ان ریاستوں میں مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات، اترپردیش، دہلی، چھتیس گڑھ، کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو، پنجاب، ہریانہ اور راجستھان شامل ہیں۔ وزیر اعظم کو ان تمام ریاستوں میں ضلعی وار آکسیجن کی فراہمی کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ریاستوں اور مرکزی حکومت کے مابین باقاعدہ رابطہ ہے اور 20، 25 اور 30 ​​اپریل کے تخمینے کی بنیاد پر آکسیجن کی ضرورت کے تخمینے شیئر کئے گئے ہیں۔ ان کی بنیاد پر، ان 12 ریاستوں کو بالترتیب 20، 25 اور 30 ​​اپریل کے لئے 4880، 5619 اور 6593 ٹن گیس مختص کی گئی ہے۔ آکسیجن کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر انہیں ملک میں پیداواری صلاحیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ طبی استعمال کے لیے اسٹیل پلانٹوں میں اضافی آکسیجن کی فراہمی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناسک ٹی سی ایس کیس کی تفتیش میں اے ٹی ایس اور این آئی اے بھی شامل, پولیس کا ایجنسیوں کو مکتوبات ارسال

Published

on

ممبئی: ناسک ٹی سی ایس کیس کی تفتیش میں اب این آئی اے اور اے ٹی ایس سمیت دیگر تفتیشی ایجنسیاں بھی شامل ہوچکی ہیں اس معاملہ میں کئی اہم خلاصے بھی ہوئے ہیں اس لئے ناسک پولیس نے تفتیشی ایجنسیوں کو اس تفتیش میں شامل ہونے کیلئے مدعو کیا ہے۔ ممبئی ناسک ٹی سی ایس تبدیلی مذہب جنسی استحصال کے معاملہ میں پولیس نے 9 ایف آئی آر درج کی ہے جس میں 9 ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے ان ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے اور اختیارات کا غلط استعمال کر کے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیا ہے ساتھ ہی ملازمین کی مذہبی جذبات کو بھی مشتعل کیا اس معاملہ میں جنسی استحصال، مذہبی جذبات مجروح کرنا، کام کی جگہ پر ہراسائی سمیت دیگر دفعات کے تحت ناسک پولیس اسٹیشنوں میں کیس درج کئے گئے ہیں تمام ملزمین کے ایک دوسرے کے روابط پائے گئے ہیں اس میں 2 خواتین اور بقیہ مرد شامل ہے۔
ناسک پولیس کمشنر سندیپ کارنک نے دعوی ہے کہ اس معاملہ میں پولیس نے کیس درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے اس کے ساتھ ہی کئی ملزمین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں ندا خان پر بھی ایک اہم ملزمہ ہے اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کی کارروائی میں پایا ہے کہ ٹی سی ایس کے ملازمین نے و الزامات عائد کئے تھے اس میں تبدیلی مذہب، جنسی استحصال، خواتین کو ان کے کام کی جگہ پر ہراسائی کرنا، مذہبی جذبات مجروح کرنا، گروپ سازی کر کے سازش کو انجام دینا شامل ہے۔
اس معاملہ میں پولیس اب یہ معلوم کر رہی ہے کہ ان ملزمین نے تبدیلی مذہب اور دیگر معاملات کو انجام دینے کیلئے گروپ سازی کیوں کی تھی اس کے پس پشت کون لوگ شامل ہے شبہات ہے کہ ان کی کمپنی کو غیر ملکی فنڈنگ بھی ہوئی ہے ایسے میں اب اس تفتیش میں قومی سلامتی ایجنسی این آئی اے اور اے ٹی ایس کی بھی انٹری ہوچکی ہے تفتیشی ایجنسیوں کو ناسک پولیس کمشنر سندیپ کارنک نے از خود مکتوبات ارسال کئے ہیں اور انہیں تفتیش میں شامل ہونے کی گزارش کی ہے اس کے ساتھ ہی بیرون ملک فنڈنگ سے لے کر ٹیررفنڈنگ سے متعلق بھی یہ ایجنسیاں تفتیش کر سکتی ہے ناسک کے اس معاملہ کے بعد اب اس پر سیاست بھی شروع ہوگئی ہے اور اسے سیاسی لیڈران نے اسے ایک نیا لفظ کارپوریٹ جہاد کا رنگ بھی دینا شروع کردیا ہے اس لئے اب یہ معاملہ انتہائی حساس ہوچکاہے۔ اس معاملہ میں ملزمین کے اہل خانہ نے سنگین الزامات سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ تبدیلی مذہب اور کارپوریٹ جہاد کا معاملہ صرف میڈیا تک ہی محدود ہے جبکہ اس کوئی معاملہ اس کیس میں نہیں ہے۔

Continue Reading

سیاست

آئینی ترمیمی بل 2026 لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔

Published

on

نئی دہلی: لوک سبھا نے جمعرات کو آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 کے تعارف کو منظوری دے دی۔ یہ اہم بل، جس کا مقصد خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی کو نافذ کرنا ہے، ایوان میں ووٹوں کی تقسیم کے بعد منظور کیا گیا۔ اپوزیشن کے مطالبے کے بعد ووٹنگ کا باقاعدہ طریقہ کار اپنایا گیا جس کے بعد ووٹوں کی تقسیم ہوئی۔ اس دوران 251 ارکان پارلیمنٹ نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 185 نے مخالفت کی۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے ایوان میں کھڑے ہو کر بل پیش کیا، جس سے قانون سازی کے عمل میں ایک اہم قدم تھا۔ اس سے قبل ارکان پارلیمنٹ نے بل کو بحث کے لیے پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ آئین (131ویں ترمیم) بل، 2026 کے ساتھ، حد بندی بل، 2026، اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیمی) بل، 2026 کو بھی لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔

عام طور پر، لوک سبھا میں تجاویز کو صوتی ووٹ سے منظور کیا جاتا ہے، لیکن جب کسی فیصلے پر اختلاف ہوتا ہے، تو تقسیم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ عمل ایک خودکار ووٹ ریکارڈر سسٹم کا استعمال کرتا ہے، جس میں اراکین پارلیمنٹ اپنے ووٹ کو “ہاں”، “نہیں” یا “غیر حاضر” کے طور پر ریکارڈ کرتے ہیں۔ تقسیم کے بعد ووٹ کی پرچیاں بھی استعمال کی گئیں۔ کل 333 ارکان پارلیمنٹ نے اپنا ووٹ ڈالا، اور اس مرحلے کے دوران کسی نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اُتپال سنگھ نے ووٹنگ کے عمل کے بارے میں ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اگر کوئی ممبر اپنا ووٹ تبدیل کرنا چاہتا ہے تو وہ پرچی کے ذریعے ایسا کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ووٹ صرف اسی صورت میں درست ہوگا جب ممبر پہلی گھنٹی کے بعد اور دوسری گھنٹی سے پہلے صحیح وقت پر بٹن دبائے۔ اراکین پارلیمنٹ انفرادی رزلٹ بورڈ پر بھی اپنے ووٹ دیکھ سکتے ہیں۔ اپوزیشن نے خواتین ریزرویشن بل پیش کرنے کے دوران تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔

Continue Reading

جرم

گوریگاؤں منشیات کیس : پولیس نے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا، اب تک سات گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی کے گورگاؤں میں نیسکو سینٹر میں لائیو کنسرٹ کے دوران دو طالب علموں کی منشیات کی زیادتی سے موت کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پولیس مسلسل نئے انکشافات کر رہی ہے۔ ونرائی پولیس نے اس معاملے میں ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی اب تک کل سات افراد کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔ یہ ساتواں مشتبہ مبینہ طور پر منشیات کی سپلائی کرنے والے ایک سنڈیکیٹ سے وابستہ ہے اور وہ بڑی تقریبات اور لائیو کنسرٹس میں منشیات کی فراہمی کا ذمہ دار تھا۔ پولیس اب بھی مرکزی ملزم کی تلاش میں ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ گینگ انتہائی منصوبہ بند طریقے سے کام کرتا تھا۔ منشیات کو پہلے بیرونی علاقوں سے ممبئی لایا جاتا تھا اور پھر مختلف ذرائع سے کنسرٹس اور پارٹیوں جیسے بڑے پروگراموں میں پہنچایا جاتا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کلیان سے ممبئی تک قلیوں کے ذریعے منشیات لے جایا جاتا تھا اور پھر طلباء اور نوجوانوں کو فروخت کیا جاتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق 10 اپریل کو نیسکو سینٹر میں ہونے والے کنسرٹ سے صرف ایک روز قبل ایم ڈی ایم اے کی ادویات سپلائی کی گئیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ دو طالب علموں کی موت اس دوا کی زیادہ مقدار لینے سے ہوئی ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے کنسرٹ میں موجود افراد سے بھی تفتیش شروع کردی ہے۔ کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنی بڑی تقریب میں منشیات کیسے پہنچی اور سیکورٹی میں کوتاہی کہاں ہوئی۔ ونرائی پولیس نے بدھ کی رات دیر گئے اس نئے ملزم کو گرفتار کیا اور جمعرات کو اسے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پورا نیٹ ورک کافی بڑا ہے اور اس میں مزید لوگ ملوث ہو سکتے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان