Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مودی نے رکھا آگرہ میٹرو ریل پرجکٹ کا سنگ بنیاد

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو اترپردیش کی تاج نگری آگرہ میں میٹر ریل پروجکٹ کے تعمیراتی کام کا ورچول پروگرام کے ذریعہ سنگ بنیاد رکھا۔
اس موقع پر 15ویں واہنی پی اے سی پریڈ میدان میں منعقد پروگرام میں گورنر آنندی بین پٹیل، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری بھی موجود تھے۔
سنگ بنیاد رکھنےکے بعد مودی نے کہا’آگرہ میں اسمارٹ سہولیات کو فروغ دینے کے لئے پہلے ہی تقریبا 1000کروڑ روپئے کے پروجکٹ پر کام چل رہا ہے۔ گذشتہ سال جس کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ وہ بھی اب بن کر تیار ہے۔8000کروڑ روپئے سے زیادہ کی قیمت یہ میٹرو پروجکٹ، آگرہ میں اسمارٹ سہولت کے قیام سے متعلق مشن کو مضبوطی ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ تھی کہ پروجکٹوں کا اعلان تو کردیا گی اتھا لیکن رقم کے انتظام پرزیادہ دھیان نہیں دیا گیا تھا۔ اس لئے پروجکٹوں سالوں سال تک التواء کا شکار رہے۔ میری حکومت نے نئی پروجکٹوں کے آغاز کے ساتھ ان کے لئے بجٹ کا انتظام کرنے پر بھی دھیان دیا۔
اس موقع پر مسٹر یوگی نے کہا کہ آگرہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک نیا متبادل میٹروں کے طور پر شروع ہورہا ہے۔ آگرہ ہمیں 26 لاکھ آباد ی ہے ساتھ ہی فی سال لاکھوں سیاح یہاں آکر سیاحت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں کے ماحولیات میں دقت آرہی تھی۔میٹرو ریل کے وجود میں آنے کے بعد آلودگی میں کمی آئے گی اور آمدورفت بہتر ہوگا۔
وزیر برائے شہری ترقیات ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ آگرہ میں اچھا کام کیا ہے۔ پورے ملک میں 100اسمارٹ سٹی میں آگرہ چوتھے نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی حکومت نے سال 2004سے 2014تک صرف 150کروڑ روپئے شہری ترقیاتی پروجکٹس پر خرچ کیا تھا۔ جبکہ مودی حکومت کے 2014سے 2020 کے میعاد کار میں 10لاکھ کروڑ سے زیادہ کا کام ہوچکا ہے۔
آگرہ میٹر ریل پروجکٹ اترپردیش میٹرو ریل کارپوریشن کے سرپرستی میں چلے گی۔ اس کے تحت 29.4کلو میٹر لمبے دو کاریڈوربنائے جانے کی تجویز ہے۔ تاج ایسٹ گیٹ سے سنکدرآباد کے درمیان تقریبا 14کلو ممیٹر لمبا پہلا کاریڈور تعمیر ہوگا۔جس کے تحت 13میٹر اسٹیشن بنائے جائیں گے۔ دوسرا کاریڈور آگرہ کینٹ سے کالندا ویہار کے درمیان بنایا جائے گا جس کی لمبائی 15.4کلومیٹر ہوگی اور اس کے تحت کل 14میٹر اسٹیشن ہونگے۔
میٹر ریل پروجکٹ سے آگرہ کی 26لاکھ آبادی مستفید ہوگی۔ ساتھ ہی فی سال آگرہ آنے والے تقریبا 60لاکھ سیاح بھی شہر میں عالمی سطح کے میٹروں خدمات سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔آگرہ میٹرو ریل پروجکٹ کے طور پر آگرہ شہر کو ایک جدید اور عالمی سطح کا ماس ریپڈ ٹرانجٹ سسٹم(ایم آر ٹی ایس)دستیاب ہوسکے گا۔آگرہ میٹرو ریل کے کاریڈور اس طرح سے طے کئے گئے ہیں کہ شہر کے 04اہم ریلوے اسٹیشنوں، بس ڈیپو، کالجوں ، اہم بازار اور سیاحتی مقامات کو آپس میں جوڑا جاسکے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com