Connect with us
Monday,22-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

تجاوزات مکت مالیگاؤں گروپ کی تشکیل، پھولوں کے درمیان کمشنر سے ملاقات

Published

on

(وفا ناہید) مسجدوں میناروں کے لئے مشہور شہر مالیگاؤں کی سب سے گندی بات یہ ہے کہ جتنا شہر میں علم ہے. اتنے ہی لوگ جاہل ہیں. مطلب پڑھے لکھے جاہل. جاہلوں کو ہم سمجھا سکتے ہیں مگر یہ پڑھے لکھے جاہلوں کو سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہوتا ہے. مطلب انہیں سمجھانے والا اپنا ماتھا پیٹ لیتا ہے. کیونکہ جس طرح نیم حکیم خطرہ جان ہوتا ہے اسی طرح ان پڑھے لکھے جاہلوں کے پاس ان کی اپنی ایک منطق ہوتی ہے ایک دلیل ہوتی ہے. جس سے وہ سامنے والے فریق کا منہ بند کرنا جانتے ہیں. خوبیاں تو اس شہر میں بہت ساری تھی. واضح رہے ہم نے لفظ تھی کا استعمال کیا ہے. کیونکہ اس وقت شہر میں کسی جنگل راج کا سماں لگتا ہے. ارے ٹھہرئیے جنگل راج بول کر کہیں ہم جنگل کی توہین تو نہیں کررہے ہیں کیونکہ جنگل میں بھی کچھ قوانین ہوتے ہیں اور جنگلی جانور اس کی پاسداری کرتے ہیں. مگر ہمارے شہر میں تو عام آدمی سے لے کر خواص تک صرف اپنے ہی رنگ میں شہر کو رنگنا چاہتے ہیں. جس کی وجہ سے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا مقولہ صادق آتا ہے. شہر کی کارپوریشن سے لے کر نیتا تک کو ذرا ذرا سی بات کے لئے میمورنڈم اور دھرنا آندولن کی سیاست چلتی ہیں. شہر میں صاف صفائی نہیں ہو رہی.
مالیگاؤں میں ریل اور تجاوزات ختم کرنے کا خواب گذشتہ نصف صدی سے دکھایا جاتا رہا ہے. ریل اور تجاوزات سے پاک شہر کا خواب دیکھتے دیکھتے نسل در نسل منوں مٹی کے نیچے سو گئی لیکن شہر آج بھی تجاوزات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے مفاد پرست لیڈران نے اس موضوع کو اپنی سیاسی دوکان چمکانے کے لئے استعمال کیا. اخبارات میں بڑی بڑی تصاویر شائع کروانے کے بعد وہ بھی اپنا گھر اور اپنی جیب کی فکر میں منہمک ہوگئے. کل تجاوزات مکت مالیگاؤں گروپ کا ایک وفد ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری کی قیادت میں مالیگاؤں کارپوریشن کمشنر سے ملا سب سے پہلے گروپ کی جانب سے کمشنر کو پھولوں کا نذرانہ پیش کیا گیا پھر تجاوزات مکت مالیگاؤں گروپ کو تشکیل دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، اس پر روشنی ڈالی گئی اس کے بعد شفیق صاحب نے کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتی کرمن کے تعلق سے نہ جانے کتنے افراد نے بار بار مطالبہ کیا ہے مگر افسوس کارپوریشن کا تجاوزات مخالف محکمہ ناکارہ اور نکما ہوگیا ہے اور اب تک کی کارکردگی صفر رہی ہے آخر ان سے باز پرس کب ہوگی؟ ڈاکٹر اخلاق احمد نے کمشنر سے پوچھا کہ کارپوریشن انتظامیہ کس مرض کی دوا ہے لوگوں کو جنازہ لے جانے میں تکلیف ہوتی ہے اور خاص طور پر اسکول کے بچوں کو بے حد پریشانی ہوتی ہے. غفران بھائی نے کہا کہ مچھلی بازار پیرا ڈائز اسکول کے عقب میں دس فٹ کا راستہ تھا جس کو بند کر دیا گیا ہے کئی مرتبہ شکایت کی گئی مگر کچھ حاصل نہیں ہوا. عبدالاحد بھائی نے کمشنر سے مطالبہ کیا کہ اتی کرمن اٹھانے کے بعد دوبارہ نہ ہو اس کے لیے کارپوریشن کے پاس آگے کا کیا مستقل حل ہے بتائیے زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا. ارشد پٹھان اور حکیم اعظم صاحب نے کہا کہ آگرہ روڈ کی ٹریفک کو کم کرنے کے لئے مرزا غالب روڈ کی تنگی کو دیکھتے ہوئے دگڑو آئل مل کے بازو سے جو راستہ سردار نگر کی طرف جاتا ہے اس کو کھولا جائے جس پر وہاں بیٹھے کرمچاری نے بتایا کہ وہ راستہ 40 فٹ کا نقشے میں نہیں ہے اور محمد علی روڈ کے پاس ایک کارخانہ ہے جو پرائیویٹ ہے اسے خریدنا پڑے گا جس پر کمشنر نے گول مول جواب دے کر فنڈ کی کمی کا بہانہ بنایا. عرفان شاہد صاحب نے کہا کہ آپ اتی کرمن محکمے کو متحرک کریں یا پھر گھر بھیج دیں اور ہمیں اتی کرمن صاف کرنے کے لئے تحریری اجازت نامہ دیں جس پر کمشنر نے ٹالنے کے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ جب کارروائی ہوگی تو ہم مل کر کام کریں گے. عمر فاروق الخدمت نے کمشنر سے سوال کیا کہ پچھلے ہفتے جمیعت علماء نے اتی کرمن ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا تو آپ نے ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جس پر کمشنر نے وہی لولا لنگڑا بہانا بنایا کہ پولس بندوبست ملتے ہی اتی کرمن صاف کیا جائے گا فاروق بھائی نے کمشنر کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ہم نے پولس ڈیپارٹمنٹ کو فیس بھر دی ہے اب آپ کہہ رہے ہو کہ پیسہ بھرا نہیں گیا تو کمشنر کہنے لگے کہ انہوں نے پیسہ لیا ہی نہیں. بہر حال آج کی ملاقات میں یہ محسوس ہوا کہ کمشنر سمجھاؤ سمیتی اور گھر جاؤ سمیتی کا صدر ہے. پورا شہر دھول، گرد غبار، گندگی اور اتی کرمن سے پریشان ہے مگر کمشنر کو کوئی پرواہ نہیں ہے.
اس وفد میں ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری، عرفان شاہد، ارشد پٹھان، عبدالاحد، عمر فاروق الخدمت، شفیق ٹنو، شکیل حاجی، غفران بھائی، اعظم بھائی، الطاف کرانہ، لڈو بلڈر اور اطہر عرفان وغیرہ حاضر رہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان