Connect with us
Friday,24-July-2026

(جنرل (عام

مولانا سید ارشدمدنی کا فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ، متاثرین سے ملاقات جمعیۃعلماء ہند کے امدادی کاموں کا لیا جائزہ

Published

on

(وفا ناہید)
نئی دہلی : یہ ایک منصوبہ بند فسادتھا جس میں شرپسند عناصر کو اس بات کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی کہ وہ جس طرح چاہئیں تباہی پھیلائیں چنانچہ اس کا فائدہ اٹھاکر انہوں نے دہلی کے شمالی مشرقی علاقوں میں زبردست تباہی مچائی، تین دن تک قتل وغارت گری لوٹ ماراور آتش زنی کامذموم سلسلہ جاری رہا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوتے رہے، جانی نقصان کی گنتی توکی جاسکتی ہے لیکن جو مالی نقصانات ہوئے ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتاہے جو کچھ ہماری آنکھوں نے دیکھاوہ بہت روح فرسااور افسوسناک ہے اور اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، یہ الفاظ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے دہلی کے فسادمتاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد ردعمل کے طورپر کہے، مولانا مدنی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ ہی نہیں کیا بلکہ کسی مذہبی امتیازکے بغیر متاثرین سے ملاقات کی ان کی رودادسنی انہیں دلاسادیااور ہر طرح کی مددکا یقین دلایا، واضح رہے کہ جمعیۃعلماء ہند کاایک نمائندہ وفدمولانامدنی کی ہدایت پر پچھلے 23 روز سے فسادمتاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کو ہر طرح کی مددپہنچانے کا کام کررہا ہے اور فسادکے دوران ہوئے مالی نقصانات کا سروے بھی کررہا ہے تاکہ اس کی بنیادپر مقدوربھر متاثرین کی مالی مددکی جاسکے اہم بات یہ ہے کہ فسادکے دوران جلائے گئے مکانوں کی تعمیر اور مرمت کا بیڑابھی اب جمعیۃعلماء ہند نے اٹھالیا ہے تاکہ جس قدرجلد ممکن ہوانہیں دوبارہ رہنے کے لائق بنادیا جائے، اپنے دورے کے دوران مولانا مدنی نے کھجوری خاص میں مکانات کی تعمیر ومرمت کے کام کا باضابطہ طورپر آغاز اپنی دعاسے کیا اس موقع پر متاثرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن سے مولانا مدنی نے فردافردا ملاقاتیں کیں اور انہیں دلاسہ دیا بعدازاں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ بہت دل دہلا دینے والا ہے آج کی مہذب دنیا میں اس طرح کی قتل وغارت گری کو کسی بھی لحاط سے صحیح نہیں ٹہرایا جاتابلکہ یہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک کے ماتھے پر ایک سیاہ داغ کی طرح ہے انہوں نے کہا کہ منافرت کی یہاں جو آگ لگائی گئی اس نے ایک ایسے بڑے علاقے کو جلاکر خاکستر کردیا جہاں ہندواورمسلمان برسوں سے محبت اور اخوت کے ساتھ رہتے آئے تھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ عینی شاہدین نے جو کچھ بتایا اور جوکچھ اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ دنیاکے سامنے آیا اس کی بنیادپر کہا جاسکتاہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اپنی تمام تر سازشوں کے باوجود ہندومسلم اتحادکو توڑنے میں ناکام رہی ہیں کئی جگہوں پر فسادکے دوران ہندووں نے مسلمانوں کا تحفظ کیا اور کئی علاقوں میں مسلمان اپنے پڑوسی ہندو بھائیوں کے لئے ڈھال بن گئے اگرچہ فسادکے دوران ہماری بہت سی مسجدوں کی بے حرمتی ہوئی ان میں آگ لگائی گئی مگر اس کے باوجود مسلم علاقوں میں کسی ایک مندرکو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا مولانا مدنی نے کہا کہ یہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ ہم جس مذہب اسلام کے ماننے والے ہیں اس میں ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم دوسرے مذاہب اور ان کی عبادت گاہوں کا احترام کریں، انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں اتحاداور رواداری کے اسی جذبہ کو ختم کرنے کے درپے ہیں مگر ایک بارپھر انہیں ناکامی ہاتھ لگی ہے، چنانچہ جو کچھ ہوا اسے کلیجے پر پتھر رکھ کر فراموش کرکے آگے بڑھنے اور ہندومسلم اتحادکو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اس فساد میں ایک بڑا رول باہر سے آنے والے شرپسندوں کا رہا ہے مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ اس پر شرمناک خاموشی کا مظاہرہ کررہے ہیں اگر انصاف سے کام لیا جاتااور دہلی پولس منصفانہ طریقہ سے قانون کے مطابق کام کرتی تو فساد پر قابو پایا جاسکتا تھا مگر افسوس اس نے ایسا نہیں کیا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے ہر فسادکے موقع پر پولس کا یہی کردارسامنے آتاہے وہ فسادیوں کی معاون بن جاتی ہے مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ ہمارے وکلاء کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہے اگر قانونی کارروائی ٹھیک سے نہیں ہوتی ہے تو وکلاء کی یہ ٹیم آگے کا قانونی عمل پوراکرے گی جمعیۃعلماء ہند کے رضاکار اور عہدیداران بھی اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ کارروائی کی آڑمیں کوئی بے گناہ پولس کا نشانہ نہ بننے پائے اس طرح کی شکایتیں ملنے کے بعد جمعیۃعلماء کے وفدنے پولس کمشنر اور دوسرے اعلی افسران کے ساتھ میٹینگیں کی ہیں اور اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ہے، پولس کمشنر نے منصفانہ کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے انہوں نے متاثرین سے کہا کہ وہ ڈراورخوف سے باہر نکلیں نڈرہوکر شرپسند عناصر کے خلاف ایف آئی آردرج کرائیں اور اپنی اپنی آبادیوں میں رواداری اور اتحاد کے جذبے مضبوط کرنے کی عملی کوششیں کریں کیونکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوتوڑنے، منافرت کی آگ لگاکر امن اور اتحادکی فضاء کو تاڑ تاڑ کرنے کی فرقہ پرست طاقتوں کی خطرناک کوششوں کو ہم ہندومسلم اتحادکے ذریعہ ہی ناکام بناسکتے ہیں، دورہ کے دوران مولانا مدنی کے ہمراہ مفتی عبدالرازق ناظم اعلیٰ صوبہ دہلی، قاری دلشادقمر، قاری فیضی، ڈاکٹر شمس، کے علاوہ معززین علاقہ اور عہدیداران جمعیۃعلماء صوبہ دہلی موجود تھے۔

بالی ووڈ

راکھی ساونت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر بحث چھڑ گئی

Published

on

Rakhi-Sawant

ممبئی : اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت راکھی ساونت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ملک بھر میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پوسٹ حالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑ کر دیکھی جا رہی ہے۔ پوسٹ میں سرخ رنگ کے سینیٹری پیڈ کی علامتی تصویر شیئر کی گئی تھی، جسے متعدد صارفین نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ افراد نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اس علامتی انداز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب اور متنازع قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے سماجی اور عوامی معاملات پر اظہارِ خیال، آزادیِ اظہار اور عوامی ذمہ داری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاحال راکھی ساونت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے کسی بھی سرکاری قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور مختلف طبقات اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کی قیادت میں امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک پرامن ترنگا ریلی اختتام پذیر

Published

on

Mumbai-Protest

ممبئی بھیونڈی کے شہریوں نے جمعہ کے روز بے ساختہ ایک ‘ترنگا پیدل یاترا’ (ترنگا مارچ) کا اہتمام کیا تاکہ ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک اسکینڈل پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاسکے اور ملک گیر طلباء کے احتجاج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے (بھیونڈی ایسٹ) رئیس شیخ کی قیادت میں پیدل مارچ میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ مارچ بھیونڈی کے امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک کے راستے کا احاطہ کرتے ہوئے شام کو جلوس نکالا گئا جلسے کے دوران کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے نہیں لہرے گئے بلکہ ہاتھوں میں ترنگا تھام کر شہریوں نے یکجتی کا جذبہ کو سرشار کیا۔ پرامن جلوس کے ذریعے اتحاد کے جذبے ایک قوم، ایک جذبہ’ کا مظاہرہ کیا۔ “انقلاب زندہ باد” (انقلاب زندہ باد) جیسے نعرے سمیت دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبات کے نعرے لگائے گئے بہت سے شرکاء نے ہندوستانی قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ دیگر نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ مارچ کا اختتام بھیونڈی سب ڈویژنل افسر کو میمورنڈم پیش کرنے کے ساتھ ہوا۔

تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ ’ترنگا مارچ‘ کسی مخصوص سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھا بلکہ بھیونڈی کے شہریوں کی طرف سے ایک بے ساختہ اقدام تھا۔ انہوں نے ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک ہونے اور احتجاج کرنے والے طلباء پر وحشیانہ لاٹھی چارج کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے ملک گیر غم و غصے کو نوٹ کیا۔ مارچ کا مقصد طلبہ کی تحریک کی حمایت کرنا اور امتحانی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک کے واقعہ کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ ’ترنگا ریلی‘ کے ذریعہ جاری کردہ میمورنڈم میں چار مطالبات پیش کیے گئے ہیں: دہلی کے ’جنتر منتر‘ پر طلبہ کے مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج کی عدالتی تحقیقات؛ این ای ای ٹی پیپر لیک ہونے پر خودکشی کرنے والے طلباء کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد؛ اور دہلی کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں طلباء مظاہرین کے خلاف درج پولیس مقدمات کو واپس لے لیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک طلبا احتجاج : سوشل میڈیا پر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں غصہ چوطرفہ کارروائی کا مطالبہ

Published

on

Shiwaji-Park-Protest

ممبئی : ممبئی میں شیواجی پارک دادر میں احتجاج کے دوران ایک پولس اہلکار کی شرمناک حرکت سامنے آنے کے بعد ممبئی پولس نے اس کانسٹبل دیپک کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوا ہے, وہ ویڈیو غیر ذمہ دارانہ ہے اہلکار کی نیت خاتون سے بدسلوکی یا پھر اس سے چھیڑخانی نہیں تھی۔ جب ایک مرد کو مظاہرہ کے دوران پکڑنے اہلکار گیا تھا تو خاتون مظاہرین درمیان میں آگئی اور یہی وہ ویڈیو ہے اس معاملہ میں تفتیش کے بعد پولس محکمہ کے اعلیٰ افسران نے ویڈیو فوٹیج کا بغور معاملہ کے بعد مذکورہ بالا پولس اہلکار کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے شہریوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ پولس نے اپنے تردیدی بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین پر قابو کرنے والے کانسٹیبل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس نے قصدا خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا ہے, یہ بات ضرور ہے کہ وہ مظاہرین کو کنٹرول کر رہا تھا۔

اس معاملہ ایڈوکیٹ نتن ساتپوتے نے پولس کانسٹبل کو کلین چٹ دئیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ سے اپیل کی ہے وہ ازخود اس اہلکار کے خلاف کیس درج کروائیں اگر اس معاملہ میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا وہ مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اور دیگر میں طلبا پر تشدد برپا کرنے کے جو ویڈیوز وائرل ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ اس میں کئی ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے ہیں جو انتہائی درندگی پر مبنی ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک کانسٹبل دو طلبا کو جھوٹے ڈرگس کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے رہا ہے تو دوسرے ویڈیو میں پولس کانسٹبل کی یہ شرمناک حرکت سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو کے بعد کئی سیاسی لیڈران نے بھی اسے ٹوئٹ کیا ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, جبکہ اس معاملہ میں پولس نے کانسٹبل کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے پولس محکمہ کی شبیہ بھی متاثر ہے اس ویڈیو نے ممبئی پولس کو داغدار کر دیا ہے۔ پولس کے رویہ سے عوام میں ناراضگی ہے اور پولس کے تازہ موقف سے بھی عوام میں حیرت ہے کہ کانسٹبل بے قصور ہے اور اس کی کوئی خطا نہیں ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان