Connect with us
Monday,20-April-2026

(جنرل (عام

مولانا سید ارشدمدنی کا فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ، متاثرین سے ملاقات جمعیۃعلماء ہند کے امدادی کاموں کا لیا جائزہ

Published

on

(وفا ناہید)
نئی دہلی : یہ ایک منصوبہ بند فسادتھا جس میں شرپسند عناصر کو اس بات کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی کہ وہ جس طرح چاہئیں تباہی پھیلائیں چنانچہ اس کا فائدہ اٹھاکر انہوں نے دہلی کے شمالی مشرقی علاقوں میں زبردست تباہی مچائی، تین دن تک قتل وغارت گری لوٹ ماراور آتش زنی کامذموم سلسلہ جاری رہا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوتے رہے، جانی نقصان کی گنتی توکی جاسکتی ہے لیکن جو مالی نقصانات ہوئے ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتاہے جو کچھ ہماری آنکھوں نے دیکھاوہ بہت روح فرسااور افسوسناک ہے اور اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، یہ الفاظ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے دہلی کے فسادمتاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد ردعمل کے طورپر کہے، مولانا مدنی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ ہی نہیں کیا بلکہ کسی مذہبی امتیازکے بغیر متاثرین سے ملاقات کی ان کی رودادسنی انہیں دلاسادیااور ہر طرح کی مددکا یقین دلایا، واضح رہے کہ جمعیۃعلماء ہند کاایک نمائندہ وفدمولانامدنی کی ہدایت پر پچھلے 23 روز سے فسادمتاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کو ہر طرح کی مددپہنچانے کا کام کررہا ہے اور فسادکے دوران ہوئے مالی نقصانات کا سروے بھی کررہا ہے تاکہ اس کی بنیادپر مقدوربھر متاثرین کی مالی مددکی جاسکے اہم بات یہ ہے کہ فسادکے دوران جلائے گئے مکانوں کی تعمیر اور مرمت کا بیڑابھی اب جمعیۃعلماء ہند نے اٹھالیا ہے تاکہ جس قدرجلد ممکن ہوانہیں دوبارہ رہنے کے لائق بنادیا جائے، اپنے دورے کے دوران مولانا مدنی نے کھجوری خاص میں مکانات کی تعمیر ومرمت کے کام کا باضابطہ طورپر آغاز اپنی دعاسے کیا اس موقع پر متاثرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن سے مولانا مدنی نے فردافردا ملاقاتیں کیں اور انہیں دلاسہ دیا بعدازاں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ بہت دل دہلا دینے والا ہے آج کی مہذب دنیا میں اس طرح کی قتل وغارت گری کو کسی بھی لحاط سے صحیح نہیں ٹہرایا جاتابلکہ یہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک کے ماتھے پر ایک سیاہ داغ کی طرح ہے انہوں نے کہا کہ منافرت کی یہاں جو آگ لگائی گئی اس نے ایک ایسے بڑے علاقے کو جلاکر خاکستر کردیا جہاں ہندواورمسلمان برسوں سے محبت اور اخوت کے ساتھ رہتے آئے تھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ عینی شاہدین نے جو کچھ بتایا اور جوکچھ اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ دنیاکے سامنے آیا اس کی بنیادپر کہا جاسکتاہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اپنی تمام تر سازشوں کے باوجود ہندومسلم اتحادکو توڑنے میں ناکام رہی ہیں کئی جگہوں پر فسادکے دوران ہندووں نے مسلمانوں کا تحفظ کیا اور کئی علاقوں میں مسلمان اپنے پڑوسی ہندو بھائیوں کے لئے ڈھال بن گئے اگرچہ فسادکے دوران ہماری بہت سی مسجدوں کی بے حرمتی ہوئی ان میں آگ لگائی گئی مگر اس کے باوجود مسلم علاقوں میں کسی ایک مندرکو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا مولانا مدنی نے کہا کہ یہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ ہم جس مذہب اسلام کے ماننے والے ہیں اس میں ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم دوسرے مذاہب اور ان کی عبادت گاہوں کا احترام کریں، انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں اتحاداور رواداری کے اسی جذبہ کو ختم کرنے کے درپے ہیں مگر ایک بارپھر انہیں ناکامی ہاتھ لگی ہے، چنانچہ جو کچھ ہوا اسے کلیجے پر پتھر رکھ کر فراموش کرکے آگے بڑھنے اور ہندومسلم اتحادکو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اس فساد میں ایک بڑا رول باہر سے آنے والے شرپسندوں کا رہا ہے مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ اس پر شرمناک خاموشی کا مظاہرہ کررہے ہیں اگر انصاف سے کام لیا جاتااور دہلی پولس منصفانہ طریقہ سے قانون کے مطابق کام کرتی تو فساد پر قابو پایا جاسکتا تھا مگر افسوس اس نے ایسا نہیں کیا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے ہر فسادکے موقع پر پولس کا یہی کردارسامنے آتاہے وہ فسادیوں کی معاون بن جاتی ہے مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ ہمارے وکلاء کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہے اگر قانونی کارروائی ٹھیک سے نہیں ہوتی ہے تو وکلاء کی یہ ٹیم آگے کا قانونی عمل پوراکرے گی جمعیۃعلماء ہند کے رضاکار اور عہدیداران بھی اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ کارروائی کی آڑمیں کوئی بے گناہ پولس کا نشانہ نہ بننے پائے اس طرح کی شکایتیں ملنے کے بعد جمعیۃعلماء کے وفدنے پولس کمشنر اور دوسرے اعلی افسران کے ساتھ میٹینگیں کی ہیں اور اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ہے، پولس کمشنر نے منصفانہ کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے انہوں نے متاثرین سے کہا کہ وہ ڈراورخوف سے باہر نکلیں نڈرہوکر شرپسند عناصر کے خلاف ایف آئی آردرج کرائیں اور اپنی اپنی آبادیوں میں رواداری اور اتحاد کے جذبے مضبوط کرنے کی عملی کوششیں کریں کیونکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوتوڑنے، منافرت کی آگ لگاکر امن اور اتحادکی فضاء کو تاڑ تاڑ کرنے کی فرقہ پرست طاقتوں کی خطرناک کوششوں کو ہم ہندومسلم اتحادکے ذریعہ ہی ناکام بناسکتے ہیں، دورہ کے دوران مولانا مدنی کے ہمراہ مفتی عبدالرازق ناظم اعلیٰ صوبہ دہلی، قاری دلشادقمر، قاری فیضی، ڈاکٹر شمس، کے علاوہ معززین علاقہ اور عہدیداران جمعیۃعلماء صوبہ دہلی موجود تھے۔

(جنرل (عام

ممبئی : بچوں کو لڑکیوں کا لباس پہنا کر زنخہ بنانے والا زنخوں کا سربراہ گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

Published

on

ممبئی : ممبئی میں بچوں کو لڑکیوں کے لباس زیب تن کرواکر زنخہ بنا کر بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے ایک زنخہ کو پولس نے گرفتار کیا ہے, جو بچوں کو بھیک منگوانے اور زندہ گینگ کا سربراہ تھا۔ ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۶ نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا ہے۔ شیواجی نگر پولیس اسٹیشن 237/2026 u/s 139, 142, 352, 351(2) بی این ایس کے ساتھ دفعہ 4, 6, 8, 12, 17 پی او سی ایس او کے ساتھ دفعہ 5 کے ساتھ بچوں کی غیر اخلاقی اسمگلنگ اور خواتین کے تحفظ کے ایکٹ 7 کے ساتھ سیکشن 18 تھرڈ پرسن ایکٹ (*پی او سی ایس او کے ساتھ جبری جنسی تعلقات) کا مقدمہ ملزم پر درج کیا گیا تھا اس معاملہ میں پولس نے بابو عینال خان عرف بابو گرو عرف بابو زنخہ، عمر 30 سال، رہائشی گلی نمبر 9، باب رحمت مسجد کے قریب، رفیق نگر پارٹ نمبر 2، شیواجی نگر گوونڈی کو گرفتار کیا ہے۔ شکایت کنندہ کے نابالغ بیٹے کو اغوا کرکے زبردستی تیسری جنس کا فرد بنایا اور اپنے مالی فائدے کے لیے بچے کو لوکل ٹرین میں بھیک مانگنے پر مجبور کیا اور مذکورہ نابالغ کو لڑکیوں کے کپڑے پہنا کر مرد گاہکوں کے ساتھ فطری جنسی استحصال کرنے پر بھی مجبور کیا، جس کے لیے پولیس اسٹیشن میں مذکورہ جرم درج کیا گیا۔ اس معاملہ کی تفتیش کے لیے کرائم برانچ نے ملزم کو زیر حراست کیا کرائم برانچ نے اپنی خفیہ خبر کی بنیاد پر ملزم کو واشی ناکہ سے گرفتار کیا, جو اپنی شناخت چھپا کر یہاں روپوش تھا, مذکورہ ٹیم نے موصول اطلاع کے مطابق نئی ممبئی کے واشی کوپری گاؤں میں جال بچھا دیا تھا۔ لیکن مطلوب ملزم کو شک ہو گیا اور وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دیگر راستے سے موٹر کار میں ممبئی کی طرف بھاگنے لگا۔ پھر مذکورہ ٹیم نے اس کی موٹر کار کا بھی پیچھا کیا اور اسے پنجراپول جنکشن، ٹرامبے، ممبئی سے گرفتار کرلیا۔ اس وقت اس بات کی تصدیق ہوئی کہ مذکورہ مطلوب ملزم وہی ہے اور اسے کرائم برانچ آفس لایا گیا۔ مذکورہ جرم کے سلسلے میں جب اس پوچھ گچھ کی گئی تو پایا گیا کہ وہ اس جرم میں سرگرم عمل تھا، اس کا طبی معائنہ کیا گیا اور مزید تفتیش کے لیے اسے شیواجی نگر پولس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا۔ ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اس کے خلاف 1) شیواجی نگر پولیس اسٹیشن جی نمبر نمبر 718/2024 سی 115(2), 118(1), 353,351 بی این ایس نارپولی پولیس تھانہ نمبر نمبر1704/2024 سی 109, 118(1), 352, 351, بی این ایسکرلا پولس اسٹیشن جی این او ایس240/2017 سی 365، 342، 348، آئی پی سی دیونار پولیس اسٹیشن نمبر۔ نمبر150/ 2010 سی 324,323 آئی پی سی شیواجی نگر پولیس اسٹیشن 218/2025 سی 3(اے), 6(اے) سیکشن 3 کے ساتھ پارپٹ ایکٹ فارن نیشنل آرڈر سیکشن 318(4), 336, 337, 339, 340(2) بی این ایس کے تحت مقدمات درج ہیں یہ اطلاع آج یہاں یونٹ ۶ کے انچارج بھارت گھونے دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے ملاڈ میں منوہر ومن دیسائی اسپتال کا لیا جائزہ

Published

on

ممبئی : ممبئی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے آج (20 اپریل 2026) ملاڈ ایسٹ علاقے میں واقع ممبئی میونسپل کارپوریشن کے منوہر ومن دیسائی اسپتال کا دورہ کیا۔ اس دورہ کے دوران انہوں نے اسپتال کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ، انتہائی نگہداشت کے شعبہ اور اسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں سے بھی بات چیت کی۔ اس کے ساتھ انہوں نے اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور متعلقہ افسران و ملازمین سے بھی بات چیت کی اور وہاں کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کے آج کے دورے کے دوران، ڈاکٹر چندرکانت پوار، چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مضافاتی اسپتالوں کے شعبہ کے سربراہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ آج کے دورے کے دوران ڈاکٹر شرما نے اسپتال سے متعلق مشینری، ایمبولینس اور مختلف امور کا جائزہ لیا اور وہاں کی صورتحال پر متعلقہ افراد کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی خدمات فراہم کرنے والے متعلقہ افسران اور ملازمین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، ڈاکٹر شرما نے ہدایت دی کہ اسپتال میں طبی خدمات فراہم کرنے والے تمام ڈاکٹروں اور متعلقہ ملازمین کو چاہیے کہ وہ اسپتال میں طبی علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے ساتھ زیادہ خوش اسلوبی سے بات کریں اور مریضوں کی مناسب طریقے سے مشاورت کریں۔ ڈاکٹر شرما نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی اور خدمات کی سہولیات کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا۔ منوہر ومن دیسائی ہسپتال ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ایک اہم ہسپتال ہے جو ملاڈ مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ 180 بستروں پر مشتمل یہ اسپتال 1976 سے ممبئی والوں کو طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ دفتری کام کے دنوں میں اس اسپتال کا آؤٹ پیشنٹ رجسٹریشن صبح 8 بجے سے 11 بجے کے درمیان کھلا رہتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لینسکارٹ اسٹور میں بی جے پی لیڈر نازیہ الہی کی شرانگیزی, اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کی اپیل

Published

on

ممبئی : ممبئی کے اندھیری علاقہ میں لیسنکارٹ اسٹور میں داخل ہوکر بی جے پی لیڈر نازیہ الہی نے نہ صرف یہ کہ نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک مسلم نوجوان سے بحث کر تے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح سے یہاں شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے لینسکارٹ میں ہندو لباس و طریقہ رسم و رواج پر پابندی کے بعد نازیہ الہی نےسوشل میڈیا پر لینسکارٹ میں داخل ہوکر یہاں ہندو ملازمین کو تلک لگایا جس کے بعد یہ معاملہ اب مذہبی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے لینسکارٹ کے مالک پیوش بنسل سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر اسلامی رسم و رواج کے لیے اتنی “محبت” ہے تو ہندو اکثریت والے ہندوستان میں ہندو عقائد کے لیے اتنی “نفرت” کیوں ہے؟ لینسکارٹ کے دوہرے معیار کے خلاف ملک بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لوگ مختلف طریقوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سناتن روایات کی حامی اور بی جے پی لیڈر نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا اور ملازمین کو تلک لگایا۔نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا۔نازیہ نے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات اور شناخت سے پوری طرح آگاہ رہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لینسکارٹ اسٹور کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے، اس نے لکھا، “تلک آپ کےلئے باعث افتخار ہے۔ کلاوا آپ کا سنسکار (مقدس دھاگہ) آپ کا سنسکار (ثقافت) ہے۔ سناتن آپ کی پہچان ہے ہر ہر مہادیوکا نعرہ لگانا آپ کا اعزاز ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہندو جہاں بھی کام کرتے ہیں، انہیں اپنی شناخت اور روایات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ نازیہ نے لکھا۔چاہے آپ لینسکارٹ میں کام کریں یا ایئر انڈیا میں، آپ جہاں بھی ہوں، اپنی شناخت سے کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔” نازیہ نے اپنی پوسٹ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دفتر، وی ایچ پی، بجرنگ دل، مہاراشٹر بی جے پی اور ایئر انڈیا کو ٹیگ کیا
لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگانے کی مہم پوسٹ کی گئی تصاویر میں نازیہ الٰہی خان لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس پوسٹ پر سابق مسلم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔بہت سے صارفین نے انتہائی جارحانہ اور بیہودہ تبصرے کیے ہیں جن کا یہاں ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔لینسکارٹ دوہرے معیار کے الزامات کے درمیان تنازعہ کاشکار ہوگیا ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ لینسکارٹ کے اپنے ملازمین کے لیے لباس اور تصویر کے حوالے سے داخلی ہدایات گزشتہ کچھ دنوں سے گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک ہندو اکثریتی ملک میں ایک ہندو ملکی کمپنی جس میں ہندو ملازمین اور ہندو خریداروں کی اکثریت ہے، ہندو مذہبی عقائد اور ہندو شناخت کو دبانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے۔ پیوش بنسل نے دو الگ الگ پوسٹس میں ان الزامات کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لینسکارٹ گرومنگ گائیڈ لائنز پرانی ہیں۔
لینسکارٹ کے ڈریسنگ رولز پر تنقید
پیوش بنسل نے تسلیم کیا کہ سندھور، بندی اور کلاوا پر پابندی عائد تھی۔لوگ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس طرح کے گہرے امتیازی رہنما خطوط کسی میں موجود ہے۔ لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ “نئے رہنما خطوط کہاں ہیں جو سندور، بندی اور کلاوا پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟” دریں اثنا، لینسکارٹ کے کئی سابق اور موجودہ ملازمین رپورٹ کر رہے ہیں کہ کس طرح کمپنی ہندو ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ کچھ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں اس لیے نکال دیا گیا کیونکہ وہ ہندو مذہبی عقائد کی پاسداری کرتے تھے یا ان کی حمایت میں بات کرتے تھے۔لینسکارٹ کے حصص فروخت ہوئے۔مذہبی امتیاز کے الزامات اور اس کے ارد گرد بڑھتے ہوئے تنازعہ کے بعد، لینسکارٹ کے حصص فروخت ہو رہے ہیں۔ پیر کو، لینسکارٹ کے حصص دونوں بڑے انڈیکس، بی ایس ای اور این ایس ای پر تقریباً دو فیصد گر گئے۔ دوپہر 2:40 بجے اس خبر کو شائع کرنے کے وقت، بی ایس ای پر لینسکارٹ کے حصص 1.83%، یا ₹9.80، ₹524.75 تک نیچے تھے۔ دریں اثنا، این ایس ای پر، لینسکارٹ کے حصص 1.82%، یا ₹9.75، گر کر ₹524.80 پر آ گئے۔اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا ہے جبکہ یہ معاملہ مذہبی بھید بھائو اور فرقہ پرستی سے بھی وابستہ ہے اور کھلے عام مذہبی عناد پیدا کرتے ہوئے نازیہ الہی نے کسی ایک مذہب کا ہدف بھی بنایا ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان