Connect with us
Tuesday,08-September-2026

(جنرل (عام

مولانا سید ارشدمدنی کا فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ، متاثرین سے ملاقات جمعیۃعلماء ہند کے امدادی کاموں کا لیا جائزہ

Published

on

(وفا ناہید)
نئی دہلی : یہ ایک منصوبہ بند فسادتھا جس میں شرپسند عناصر کو اس بات کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی کہ وہ جس طرح چاہئیں تباہی پھیلائیں چنانچہ اس کا فائدہ اٹھاکر انہوں نے دہلی کے شمالی مشرقی علاقوں میں زبردست تباہی مچائی، تین دن تک قتل وغارت گری لوٹ ماراور آتش زنی کامذموم سلسلہ جاری رہا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوتے رہے، جانی نقصان کی گنتی توکی جاسکتی ہے لیکن جو مالی نقصانات ہوئے ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتاہے جو کچھ ہماری آنکھوں نے دیکھاوہ بہت روح فرسااور افسوسناک ہے اور اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، یہ الفاظ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے دہلی کے فسادمتاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد ردعمل کے طورپر کہے، مولانا مدنی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ ہی نہیں کیا بلکہ کسی مذہبی امتیازکے بغیر متاثرین سے ملاقات کی ان کی رودادسنی انہیں دلاسادیااور ہر طرح کی مددکا یقین دلایا، واضح رہے کہ جمعیۃعلماء ہند کاایک نمائندہ وفدمولانامدنی کی ہدایت پر پچھلے 23 روز سے فسادمتاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کو ہر طرح کی مددپہنچانے کا کام کررہا ہے اور فسادکے دوران ہوئے مالی نقصانات کا سروے بھی کررہا ہے تاکہ اس کی بنیادپر مقدوربھر متاثرین کی مالی مددکی جاسکے اہم بات یہ ہے کہ فسادکے دوران جلائے گئے مکانوں کی تعمیر اور مرمت کا بیڑابھی اب جمعیۃعلماء ہند نے اٹھالیا ہے تاکہ جس قدرجلد ممکن ہوانہیں دوبارہ رہنے کے لائق بنادیا جائے، اپنے دورے کے دوران مولانا مدنی نے کھجوری خاص میں مکانات کی تعمیر ومرمت کے کام کا باضابطہ طورپر آغاز اپنی دعاسے کیا اس موقع پر متاثرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن سے مولانا مدنی نے فردافردا ملاقاتیں کیں اور انہیں دلاسہ دیا بعدازاں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ بہت دل دہلا دینے والا ہے آج کی مہذب دنیا میں اس طرح کی قتل وغارت گری کو کسی بھی لحاط سے صحیح نہیں ٹہرایا جاتابلکہ یہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک کے ماتھے پر ایک سیاہ داغ کی طرح ہے انہوں نے کہا کہ منافرت کی یہاں جو آگ لگائی گئی اس نے ایک ایسے بڑے علاقے کو جلاکر خاکستر کردیا جہاں ہندواورمسلمان برسوں سے محبت اور اخوت کے ساتھ رہتے آئے تھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ عینی شاہدین نے جو کچھ بتایا اور جوکچھ اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ دنیاکے سامنے آیا اس کی بنیادپر کہا جاسکتاہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اپنی تمام تر سازشوں کے باوجود ہندومسلم اتحادکو توڑنے میں ناکام رہی ہیں کئی جگہوں پر فسادکے دوران ہندووں نے مسلمانوں کا تحفظ کیا اور کئی علاقوں میں مسلمان اپنے پڑوسی ہندو بھائیوں کے لئے ڈھال بن گئے اگرچہ فسادکے دوران ہماری بہت سی مسجدوں کی بے حرمتی ہوئی ان میں آگ لگائی گئی مگر اس کے باوجود مسلم علاقوں میں کسی ایک مندرکو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا مولانا مدنی نے کہا کہ یہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ ہم جس مذہب اسلام کے ماننے والے ہیں اس میں ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم دوسرے مذاہب اور ان کی عبادت گاہوں کا احترام کریں، انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں اتحاداور رواداری کے اسی جذبہ کو ختم کرنے کے درپے ہیں مگر ایک بارپھر انہیں ناکامی ہاتھ لگی ہے، چنانچہ جو کچھ ہوا اسے کلیجے پر پتھر رکھ کر فراموش کرکے آگے بڑھنے اور ہندومسلم اتحادکو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اس فساد میں ایک بڑا رول باہر سے آنے والے شرپسندوں کا رہا ہے مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ اس پر شرمناک خاموشی کا مظاہرہ کررہے ہیں اگر انصاف سے کام لیا جاتااور دہلی پولس منصفانہ طریقہ سے قانون کے مطابق کام کرتی تو فساد پر قابو پایا جاسکتا تھا مگر افسوس اس نے ایسا نہیں کیا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے ہر فسادکے موقع پر پولس کا یہی کردارسامنے آتاہے وہ فسادیوں کی معاون بن جاتی ہے مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ ہمارے وکلاء کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہے اگر قانونی کارروائی ٹھیک سے نہیں ہوتی ہے تو وکلاء کی یہ ٹیم آگے کا قانونی عمل پوراکرے گی جمعیۃعلماء ہند کے رضاکار اور عہدیداران بھی اس بات کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں کہ کارروائی کی آڑمیں کوئی بے گناہ پولس کا نشانہ نہ بننے پائے اس طرح کی شکایتیں ملنے کے بعد جمعیۃعلماء کے وفدنے پولس کمشنر اور دوسرے اعلی افسران کے ساتھ میٹینگیں کی ہیں اور اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ہے، پولس کمشنر نے منصفانہ کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے انہوں نے متاثرین سے کہا کہ وہ ڈراورخوف سے باہر نکلیں نڈرہوکر شرپسند عناصر کے خلاف ایف آئی آردرج کرائیں اور اپنی اپنی آبادیوں میں رواداری اور اتحاد کے جذبے مضبوط کرنے کی عملی کوششیں کریں کیونکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوتوڑنے، منافرت کی آگ لگاکر امن اور اتحادکی فضاء کو تاڑ تاڑ کرنے کی فرقہ پرست طاقتوں کی خطرناک کوششوں کو ہم ہندومسلم اتحادکے ذریعہ ہی ناکام بناسکتے ہیں، دورہ کے دوران مولانا مدنی کے ہمراہ مفتی عبدالرازق ناظم اعلیٰ صوبہ دہلی، قاری دلشادقمر، قاری فیضی، ڈاکٹر شمس، کے علاوہ معززین علاقہ اور عہدیداران جمعیۃعلماء صوبہ دہلی موجود تھے۔

(جنرل (عام

ساکی ناکہ اسلم شیخ مین ہول سانحہ : امدادی رقم ۱۰ لاکھ بینک اکاؤنٹ میں جمع، مرحوم کی اہلیہ انجم شیخ نے مئیر کا کیا شکریہ ادا

Published

on

Ritu-Tawde

ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے 10 لاکھ کی مالی امداد انجم شیخ کے حوالے کی گئی ہے، مرحوم اسلم شیخ کی اہلیہ جو ساکی ناکہ (یادو نگر) کے رہنے والے ہیں جو خیرانی روڈ، کرلا میں ایک مین ہول کے سانحے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ انجم شیخ نے ایک خط بھیجا جس میں میئر، تمام سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں اور میونسپل انتظامیہ کو اس بحران کے دوران ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی طرف سے فراہم کردہ فوری مدد اور کارپوریشن کی طرف سے بروقت فراہم کی جانے والی مدد کے لیے شکریہ ادا کیا۔ 2 جولائی 2026 کو پیش آنے والے سانحے کے بعد، مئیر ریتو تاوڑے شیخ خاندان سے تعزیت کے لیے پہنچی خاندان کی ضرورت مند حالات کو تسلیم کرتے ہوئے، اس نے فوری طور پر 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کارپوریشن کے ‘ایل’ وارڈ (کرلا) دفتر نے اس معاملے کی پیروی کی، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور وراثت کے دستاویزات سے متعلق ضروری رسمی کارروائیوں کی تکمیل کو یقینی بنایا۔

4 اگست 2026 کو، 10 لاکھ کی رقم براہ راست انجم شیخ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی میونسپل کارپوریشن کو امداد کا تحریری اعتراف جمع کرواتے ہوئے، انجم شیخ نے اپنے خط میں کہا میئر کی طرف سے ہمارے خاندان کے لیے اس انتہائی مشکل وقت میں کیا گیا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ میں تمام جماعتوں کے عوامی نمائندوں، عہدیداروں، میئر، اور میونسپل افسران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سارے عمل میں رہنمائی اور تعاون کیا خاندان کے والد کفیل اسلم شیخ کے سانحہ ارتحال سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ تاہم، اس سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا فرض تھا۔ انجم شیخ کے خط میں ظاہر کیے گئے جذبات میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو زیادہ حساسیت کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ پی ایم او دفتر کا اہلکار بتا کر تقریب میں داخلہ کی کوشش دو زیر حراست

Published

on

ممبئی : وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ممبئی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اس وقت ہلچل مچ گئی جب ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع نیتا امبانی کلچرل سینٹر (این ایم اے سی سی) میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے اہلکار کے طور پر ظاہر کر کے داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نوجوان کے ساتھ آنے والے ایک اور شخص کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حراست میں لیے گئے نوجوان کی شناخت 24 سالہ روہن پاریکھ کے طور پر کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روہن کے پاس ایک شناختی کارڈ تھا جس میں وزیر اعظم کے دفتر سے وابستگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی چیک کے دوران معائنہ کرنے پر کارڈ جعلی نکلا۔پی ایم او آفیشل ہونے کا دعویٰ کیا۔ ذرائع کے مطابق روہن پاریکھ نے خود کو وزیر اعظم کے دفتر کا اہلکار بتایا۔ وہ اس دعویٰ شدہ شناخت کی بنیاد پر تقریب کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وزیر اعظم کے طے شدہ پروگرام کی وجہ سے جائے وقوعہ پر تعینات سیکورٹی ایجنسیاں اور ممبئی پولیس پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھی۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو اس کی نقل و حرکت مشکوک معلوم ہوئی اور اس کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ جانچ کے دوران اس کے قبضے میں پی ایم او شناختی کارڈ مشکوک پایا گیا۔ چنانچہ اسے حراست میں لے لیا گیا، اور پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ باڈی گارڈ اس کے ساتھ قبضے سے بندوق برآمدہوئی ۔کیس کا ایک خاص طور پر سنگین پہلو یہ ہے کہ روہن پاریکھ تنہا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک فرد بھی تھا جو اس کے محافظ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس شخص سے ایک بندوق برآمد ہوئی۔پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے سرکاری معلومات جاری نہیں کی ہیں کہ بندوق لائسنس یافتہ ہے یا غیر قانونی۔ حکام اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص کے پاس اسلحہ لے جانے کے لیے ایک درست لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات موجود تھیں۔ کرائم برانچ نے تفتیش شروع کر دی ہے واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے معاملے کی مزید تحقیقات ممبئی کرائم برانچ کو سونپ دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ روہن پاریکھ نے مبینہ طور پر جعلی پی ایم او شناختی کارڈ کیوں بنایا اور اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی اس کی بھی تلاش کر رہی ہے کہ روہن نے شناختی کارڈ کہاں سے حاصل کیا، اس کے ساتھ آنے والے مسلح فرد سے اس کا تعلق اور اس واقعہ سے قبل دونوں نے کن مقامات کا دورہ کیا تھاسیکیورٹی ایجنسیاں بھی پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ وزیر اعظم کی شرکت سے متعلق ایک تقریب کا ہے، سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس پورے واقعہ کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ پولیس فی الحال حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ان کے موبائل فون، شناختی دستاویزات اور دیگر سامان کی جانچ کر رہی ہے مزید قانونی کارروائی اور الزامات کی تصدیق کے بارے میں تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کے شمالی علاقہ میں منشیات فروشوں کے خلاف پولس کی سخت کارروائی، غیر قانونی گھر و قبضہ جات مسمار : ڈی سی پی گجانن راج مانے

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی پولیس نے منشیات فروشو ں کے خلاف اب سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ منشیات فروشوں پر قدغن لگانے کے لئے پولس نے ان کے غیر قانونی مکانات اور اثاثوں وملکیت کی مسماری اور بلڈورز ایکشن شروع کردیا ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر، شمالی ممبئی 3، ممبئی کے حکم کے مطابق کرار پولیس تھانے کی حدود میں منشیات فروشی کرنے والے ریکارڈ پر موجود جرائم پیشہ مطلوب ملزمین کے گھر پر بی ایم سی اور پولس کی مشترکہ کارروائی میں گھروں اور جنگلات کی زمین پر قائم غیر قانونی قبضہ جات پر بلڈوزر چلایا گیا۔ جرائم پیشہ اور منشیات فروشوں میں 1) سائلہ سبھاش پٹیل عرف شالو عمر 35 سال عرف سائلہ بائی عرف شالو راجو پوار، 2) دھرمندر لوہاری جیسوار عمر 20 سال، 3) سکندر لوہار جیسوار عمر 21 سال، 4) پشپا نارائن تاڈے عمر 36 سال، 5) سبھاش موتی لال پٹیل عمر 49 سال، 6) بھرت عرف سونو رام ناتھ نشاد عمر 27 سال، 7) محمد ابراہیم عبدالعزیز شیخ عرف جون عمر 59 سال، 8) امنہ قدیر محمد انصاری عمر 39 سال، 9) عائشہ سلیم شیخ عمر 40 سال، 10) سنتوش اشوک شرکے عمر 21 سال، 11) غفران علی ممتاز علی خان عمر 35 سال شامل ہے ان کے غیر قانونی ٹھکانوں اور گھروں و مکانات پر پولس نے بی ایم سی کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کر کے مکانات کو ہی بلڈوز کردیا ہے۔ یہ پولیس تھانے کی حدود میں محکمہ جنگلات کے آپا پاڑہ، پالن نگر، بنجاری پاڑہ، پنپری پاڑہ، آدیواسی پوپٹ کمپاؤنڈ، امبیڈکر نگر، ماتنگ گڑھ، للوبھائی کمپاؤنڈ، جیسوار نگر، جامروشی نگر اس جگہ پر غیر قانونی گھر تعمیر کر کے مقیم تھے۔

ان کے خلاف این ڈی پی ایس قانون کے تحت وقتاً فوقتاً کرار پولیس تھانے میں مقدمات درج ہیں۔ مذکورہ منشیات فروشی کرنے والے ملزمان کے غیر قانونی گھروں پر کارروائی کرکے منشیات فروشی کے دھندے کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے آج تاریخ ۷ ستمبر کو صبح 10:00 بجے سے 16:00 بجے تک کرار پولیس تھانے اور محکمہ جنگلات کی جانب سے مشترکہ طور پر غیر قانونی 11 گھروں پر انہدامی کارروائی کی گئی مذکورہ کارروائی پولیس ڈپٹی کمشنر، گجانن شولنگ راجمانے، شمالی زون 3، ممبئی اوراسسٹنٹ پولیس کمشنر، سمتا نگر ڈیویژن، ممبئی کی رہنمائی میں کرار پولیس تھانے کے سینئر پولیس انسپکٹر سشیل کمار گائیکواڈ کی نگرانی میں کرار پولیس تھانے کے پولیس افسران اور عملدار نیز محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین کے ساتھ مشترکہ طور پر انہدامی کارروائی کو انجام دیا گیا اس سے منشیات فروشوں میں پولس اور بی ایم سی اور محکمہ جنگلات کی کارروائی کا خوف پیدا ہوگا اس کارروائی کے بعد منشیات فروشوں میں کافی دہشت ہے اس سے عوام میں پولس کے تئیں اعتماد بحال ہوا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان