مہاراشٹر
مالیگاؤں کی قدیم آگرہ روڈ کا تعمیری کام جاری لیکن ٹریفک نظام درہم برہم
(خیال اثر) ایک طویل عرصہ سے آگرہ روڑ کی تعمیر کا مسئلہ سنگین رخ اختیار کئے ہوئے ہے. شہر کے سبھی لیڈران نے اس روڈ کی تعمیر کے لئے کوششیں کی ہیں لیکن تا ہنوز اس بدنصیب روڈ کی تعمیر میں رخنہ اندازی حائل ہوتی جارہی ہے. یہ مصروف ترین شاہراہ ٹریفک اژدہام میں آج اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کررہی ہے. عام دنوں کے علاوہ خصوصاً جمعہ کا دن مالیگاؤں شہر کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل رہا کرتا ہے. حالیہ دنوں فلائے اوور بریج کی آدھی ادھوری تعمیر اور اس سے لگ کر غیر قانونی تجاؤزات کے علاوہ بے ترتیب پارکنگ بھی آمد و رفت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سبب بنی ہوئی ہیں. اس روڈ پر بے ہنگم ٹریفک کو ترتیب سے رواں دواں رکھنے کے لئے ٹریفک پولیس بھی شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے. اگر اتفاق سے کبھی اس روڈ پر ٹریفک پولیس متحرک دکھائی دیتی ہے تو اسے صرف اور صرف اپنے مالی فوائد کی فکر سوار رہتی ہے. شمالی رخ سے آنے والی مہا منڈل کی تمام بسیں بس اسٹیشن میں نہ روکتے ہوئے آگرہ روڑ پر روک کر سواریاں اتارنے کا کام کرتی ہیں. اس طرح جب کبھی بھی مہامنڈل کی بسیں روڈ پر رکتی ہیں تو دور تک دیگر گاڑیوں کی قطاریں آمد و رفت کو مسسدود کرتے ہوئے ٹریفک نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیتی ہیں جس سے مسافرین کے علاوہ راہگیروں کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مرے پر سو درے کے مصداق ان دنوں اس روڈ کی تعمیر کے لئے جے سی بی مشین اور روڈ رولر کے ذریعے نکیلے پتھر بچھا کر اسے ہموار کرنے کا کام کیا جارہا ہے اس طرح ایک جانب سے سفر میں مصروف تمام سواریوں اور رہگیروں خصوصاً خواتین مسافرین کو مجبوراً غلط رخ پر بے ترتیبی سے آنے جانے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے ایسے حالات میں اگر زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلا کسی مریض کو لے جانے والی ایمبولنیس بے ترتیب و بے ہنگم ٹریفک میں پھنستی ہے تو جان کنی کے عالم میں مبتلا مریض کی جان پر بن آتی ہے. ٹریفک پولیس کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہوا ٹریفک کا یہ بے ہنگم نظام چیخ چیخ کر ان کی تساہلی اور لاپرواہی کا ثبوت دے رہا ہے. اس مصروف ترین شاہراہ پر جے سی بی اور روڈ رولر جیسی ہاتھی نما مشینوں کے علاوہ دیگر ساز و سامان لانے والی دیو ہیکل گاڑیوں کی رخنہ اندازی کی وجہ سے یہ شاہراہ موت کی شاہراہ بنتی جارہی ہے. اس شاہراہ پر آمد و رفت میں مصروف مسافرین اپنی جان اپنی ہی ہتھیلوں پر رکھتے ہوئے سفر کرنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں جبکہ اس مصروف ترین روڈ پر ٹریفک کا شور و غل اور آمد و رفت کو کم کرنے کے لئے ایک عدد بائے پاس روڈ بھی تعمیر کی گئی ہے لیکن شمال سے مغرب کی جانب سفر کرنے والی سامان سے لدی ہوئی تمام مال ٹرکیں وسط شہر سے گزرنے والی اسی روڈ کو قابل استعمال بناتی ہیں.ٹریفک پولیس محمکہ کو چاہیے کہ جس مقام پروسط شہر کی یہ مصروف ترین شاہراہ اور بائی پاس شاہراہ کا سنگم موجود ہے وہیں پر موجود رہتے ہوئے مغربی سمت میں جانے والی مال گاڑیوں کو بائی پاس روڈ سے گزرنے کا بندو بست کریں تب ہی شہر کے درمیانی حصے سے گزرنے والی اس آگرہ روڈ کا بے ہنگم ٹریفک ختم ہوگا. یہ بھی حقیقت ہے کہ اس روڈ پر بے ہنگم اور بے ترتیب ٹریفک کی وجہ سے سینکڑوں جانیں تلف ہو چکی ہیں. اتنی کثیر تعداد میں جانوں کا اتلاف ہونے کے باوجود شہری لیڈران اور محمکہ پولیس ہوش کے ناخن نہیں لے رہے ہیں.
ممبئی پریس خصوصی خبر
کرلا : ہندو سکل سماج کارکن اور خوانچہ فروشوں میں تصادم، بی ایم سی آپریشن کے دوران مار پیٹ، دو مشتبہ افراد حراست میں، پولیس الرٹ

ممبئی : ممبئی کے کرلا علاقہ میں گزشتہ شب بی ایم سی عملہ کے ہمراہ ایک ہندو سکل سماج کے رضا کار پر حملہ کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کرلا پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کر لیا ہے. اس معاملہ میں پولیس نے دو افراد کو زیر حراست بھی لیا ہے پولیس نے بتایا کہ گزشتہ شب 7 بجکر 41 منٹ پر کرلا آکاش گلی میں بی ایم سی کی کارروائی جارہی تھی اور اس رضا کار نے اس غیر قانونی خوانچہ فروش کی شکایت کی تھی, جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا فی الوقت حالات پرامن ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔
کرلا میں خوانچہ فروشوں کے خلاف بی ایم سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی جاری ہے ایسے میں ہندوسکل سماج اور خوانچہ فروشوں میں تصادم کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے اس سے انکار کیا ہے آج بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے متاثرہ اکشے کی بھابھا اسپتال میں جاکر عیادت کی اتنا ہی نہیں اس معاملہ میں کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے انہوں نے پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کریٹ سومیا نے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوانچہ فروش مسلم بنگلہ دیشیوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا, اتنا ہی نہیں انہوں نے کہا کہ کرلا اسٹیشن پر پولیس اور بی ایم سی کے سازباز و ملی بھگت کے سبب پھیری والوں ہاکروں خوانچہ فروشوں پر کارروائی میں تال مل کیا جاتا ہے, یہی وجہ ہے کہ یہاں ہاکرس کی غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے. ایک ماہ قبل ہی خوانچہ فروشوں نے مل کر نوجوانوں پر حملہ کر دیا ان کے سر پر چوٹ آئی تھی. اس کے ساتھ ہی بھانڈوپ میں بی ایم سی افسران و اہلکاروں ور لوکھنڈوالا میں بھی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے. انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں مسلم بنگلہ دیشی ہاکروں کے سبب اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. اس لئے مسلم بنگلہ دیشی خوانچہ فروشوں پر سخت کارروائی ہو, انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشیوں اور پھیری والوں کے خلاف ان کی مہم جاری رہے گی۔ کریٹ سومیا نے کہا کہ اکشے اپنی بہن کے ساتھ کرلا اسٹیشن کی جانب جارہا تھا کہ اچانک پھیری والوں سے اس کی حجت ہوئی اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا, کرلا میں اس واقعہ کے بعد پولیس نے الرٹ جاری کردیا ہے. ساتھ ہی آکاش گلی میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرلا پولیس اسٹیشن کے سنیئر انسپکٹر وکاس مہمکر نے کہا کہ آکاش گلی میں مارپیٹ کے واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کر دی ہے, حالات پرامن ہے اور سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس الرٹ ہوگئی ہے, جبکہ کشیدگی کے بعد صورتحال پرامن ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پونہ لب جھیل : مسلم نوجوانوں پر تشدد، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، ابوعاصم اعظمی کا خاطیوں پر کیس درج کرنے کا مطالبہ

ممبئی : پونہ سسورڈ لب جھیل میں مسلم نوجوانوں پر افطار کے دوران مسلح سو سے دو سو حملہ آوروں کا حملہ انتہائی تشویشناک ہے اس حملہ کے بعد پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں پر زور مطالبہ کیا ہے کہ خاطیوں شرپسندوں پر سخت کارروائی کی جائے اور ان پر اقدام قتل کا کیس درج ہو, کیونکہ ان مسلم نوجوانوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا, اس کے باوجود پولیس نے معمولی دفعات میں کیس درج کیا ہے, جو سراسر غلط ہے. آج حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں, اگر کوئی باہر نماز ادا کرتا ہے تو اس پر حملہ کیا جاتا ہے ماضی میں مسجد کے باہر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لے کر کھڑا ہوجایا کرتی تھی کہ نمازی سے اپنے بچوں کیلئے دعا کروائیں اور وہ بچے کے سر پر پھونک مارتے تھے, لیکن اب نماز پڑھنے پر واویلا مچایا جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی تشدد کیا جاتا ہے انہو ں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے اصولوں پر ریاست کا کام کاج چلے گا یہ دعوی کیا جاتا ہے, لیکن آج حالات کچھ اس طرح سے کہ منہ میں رام بگل میں چھری والا معاملہ ہوگیا ہے. انہوں نے کہا کہ یہ غنڈہ گردی بند ہونی چاہئے اور میں یہاں اسمبلی میں ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو میں کہاں نماز ادا کروں گا. اسی طرح سے اگر کوئی کھیت میں ہے تو وہاں نماز ادا کرتا ہے جو جس جگہ ہے وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے, لیکن آج حالات کچھ اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کی عبادت پر اعتراضات کئے جاتے ہیں جو سراسر غلط ہے, اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو کوئی ماحول خراب کرتا ہے, اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔
بزنس
مارکیٹ اسکول: ایس آئی پی کیا ہے، اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ آسان سرمایہ کاری کے سمارٹ فارمولے اور اس کی اہم خصوصیات کے بارے میں جانیں۔

ممبئی: صحیح طریقے سے سرمایہ کاری کرنا آج اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ مؤثر طریقے سے سرمایہ کاری کرنا۔ اس تناظر میں، نظامی سرمایہ کاری کے منصوبے (ایس آئی پی) ایک ایسے آپشن کے طور پر سامنے آئے ہیں جو عام افراد کو بھی نظم و ضبط کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ایس آئی پی کے ذریعے، سرمایہ کار ایک مقررہ رقم میوچل فنڈ اسکیم میں باقاعدہ وقفوں پر لگا سکتے ہیں—جیسے ہفتہ وار، ماہانہ یا سہ ماہی۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ صرف ₹500 سے شروع کر سکتے ہیں اور کمپاؤنڈنگ کا فائدہ اٹھا کر طویل مدت میں اچھا منافع کما سکتے ہیں۔ ایس آئی پی کی سب سے بڑی طاقت روپے کی لاگت کا اوسط ہے، یعنی جب مارکیٹ نیچے ہوتی ہے تو آپ کو زیادہ یونٹس ملتے ہیں، اور جب مارکیٹ اوپر ہوتی ہے تو کم یونٹس حاصل کرتے ہیں۔ یہ طویل مدت کے دوران خریداری کی اوسط لاگت کو متوازن کرتا ہے۔ مزید برآں، ایس آئی پی باقاعدہ سرمایہ کاری کی ضرورت کے ذریعے نظم و ضبط کی سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں۔ پروفیشنل فنڈ مینیجر تحقیق اور مارکیٹ کے تجزیے کی بنیاد پر آپ کی رقم کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، خطرے کو کم کرتے ہیں اور بہتر منافع کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔ ایس آئی پی کی ایک اور اہم خصوصیت ان کی لچک ہے۔ سرمایہ کار اگر چاہیں تو اپنے ایس آئی پیز کو روک سکتے ہیں، بڑھا سکتے ہیں یا روک سکتے ہیں۔ مزید برآں، سرمایہ کاری پر کوئی بالائی حد نہیں ہے، یعنی آپ اپنی آمدنی کی بنیاد پر اپنی سرمایہ کاری بڑھا سکتے ہیں۔ ایس آئی پی کا سب سے بڑا فائدہ “کمپاؤنڈنگ کی طاقت” ہے، یعنی آپ کے پیسے نہ صرف بڑھتے ہیں، بلکہ اس پر حاصل ہونے والے منافع مزید منافع بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جتنی جلدی ایس آئی پی شروع کریں گے، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص 30 سال کی عمر سے ہر ماہ 10,000 روپے کی سرمایہ کاری کرتا ہے، تو وہ 60 سال کی عمر تک تقریباً 3 کروڑ روپے کا کارپس بنا سکتا ہے۔ تاہم، اگر یہی سرمایہ کاری 40 سال کی عمر میں شروع کی جائے تو یہ رقم نمایاں طور پر کم ہوگی، تقریباً 90 لاکھ روپے۔ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ تاخیر کی قیمت اہم ہو سکتی ہے۔ ایس آئی پی کی بہت سی قسمیں ہیں، ہر ایک مختلف ضروریات کے مطابق ہے۔ سب سے عام ایک “فکسڈ ایس آئی پی” ہے، جس میں ایک مقررہ رقم کی باقاعدگی سے سرمایہ کاری شامل ہوتی ہے۔ “لچکدار ایس آئی پی” میں آپ اپنی آمدنی کی بنیاد پر اپنی سرمایہ کاری کی رقم کو بڑھا یا گھٹا سکتے ہیں۔ ایک “دائمی ایس آئی پی” کا کوئی مقررہ ٹائم فریم نہیں ہے، جس سے آپ اسے کسی بھی وقت روک سکتے ہیں۔ مزید برآں، ایک “ٹرگر ایس آئی پی” مارکیٹ کے حالات کی بنیاد پر کام کرتا ہے، جس میں سرمایہ کار کچھ شرائط طے کرتے ہیں۔ ایک “اسٹیپ اپ ایس آئی پی” ان لوگوں کے لیے مثالی ہے جن کی آمدنی ہر سال بڑھتی ہے، کیونکہ یہ آپ کو آہستہ آہستہ اپنی سرمایہ کاری کی رقم بڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔ “ویلیو ایوریجنگ پلان (وی آئی پی)” اور “متعدد ایس آئی پی” جیسے اختیارات بھی دستیاب ہیں، جو مخصوص قسم کے سرمایہ کاروں کے لیے مفید ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس آئی پی شروع کرنے سے پہلے اپنے مالی اہداف کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے، جیسے کہ گھر خریدنا، بچوں کی تعلیم یا ریٹائرمنٹ۔ اپنی خطرے کی برداشت کو سمجھنا بھی ضروری ہے تاکہ آپ صحیح فنڈ کا انتخاب کر سکیں۔ سرمایہ کاری کی رقم کو برقرار رکھیں جسے آپ دباؤ کے بغیر باقاعدگی سے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کی مدت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاری مارکیٹ کے اتار چڑھاو کو متوازن کرتی ہے اور کمپاؤنڈنگ کا پورا فائدہ فراہم کرتی ہے۔ ایس آئی پی شروع کرنا بہت آسان ہے۔ سب سے پہلے، اپنے اہداف اور خطرے کی بھوک کی بنیاد پر صحیح میوچل فنڈ کا انتخاب کریں۔ پھر، کے وائی سی کا عمل مکمل کریں، سرمایہ کاری کی تاریخ اور مدت کا تعین کریں، اور اپنی صلاحیت کے مطابق رقم مقرر کریں۔ اس کے بعد آپ آن لائن یا آف لائن ایس آئی پی شروع کر سکتے ہیں۔ ہر ایک کے مختلف مالی اہداف ہوتے ہیں، لیکن مناسب منصوبہ بندی کے بغیر، وہ اکثر ادھوری رہ جاتے ہیں۔ ایس آئی پی آپ کو ہر مقصد کے لیے علیحدہ سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس سے آپ اپنے تمام اہداف کو منظم طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
