Connect with us
Wednesday,05-August-2026

سیاست

کسان مخالف سیاہ قانون کے خلاف مالیگاؤں راشٹریہ مسلم مورچہ آیا میدان میں، ایڈیشنل کلکٹر کو شکایتی مکتوب پیش, بھارت بند مکمل تائید و حمایت

Published

on

(خیال اثر)
ایک طویل عرصہ .سےمودی سرکار کے ذریعے بنائے گئے کسان مخالف قوانین کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کے خلاف ملک بھر کے کسان سڑکوں پر اتر کر احتجاج کررہے ہیں. کسانوں نے اپنے زبردست احتجاج سے بی جے پی حکومت کی ناک میں دم کر رکھا ہے. کسانوں کا صرف یک سطری مطالبہ ہے کہ کسان مخالف قوانین کو رد کیا جائے حالانکہ کے حکومت اس زرعی قوانین میں افہام و تفہیم کے ذریعے رد و بدل کرنے کا اظہار بھی کیا ہے لیکن ہندوستانی کسان اس زرعی قانون کو یکسر رد کرنے کی ضد پر اٹل ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستانی کسانوں کے حق میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ سماجی و فلاحی تنظیمیں بھی کسانوں کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں.
آج راشٹریہ مسلم مورچہ کے مقامی صدر شیخ اکبر اشرفی و دیگر ذمہ داران نے کسانوں کے حق میں 8 دسمبر کے بھارت بند کے اعلان کو تقویت و حمایت پہنچانے کے لئے ایڈیشنل کلکٹر کو تحریری مکتوب دیتے ہوئے کسانوں کے لئے سم قاتل ثابت ہونے والے کسان مخالف قوانین کی مخالفت میں اپنااحتجاج درج کرایا. مسلم راشڑیہ مورچہ کے ضلعی صدر الحاج یوسف الیاس کا کہنا ہے کہ تین ماہ قبل اقتدار کے زعم میں بی جے پی حکومت نے جو نیا قانون پاس کیا ہے وہ کسانوں کے علاوہ عوامی فلاح و بہبود کے لئے نقصان دہ ہے. پہلے جو قانون تھا اس میں کسانوں کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کا بھی عنصر تھا اس لئے کسان مخالف قانون کو نافذ نہ کرتے ہوئے رد کردیا جائے. راشٹریہ مسلم مورچہ کے مقامی صدر سیٹھ محمد اکبر اشرفی نے کہا کہ زرعی قانون میں تبدیلی کسانوں کے علاوہ عام عوام کے لئے وبال جان ثابت ہوگا کیونکہ غریب عوام کے علاوہ متوسط طبقہ بھی مہنگائی اور بے روزگاری سے حیران و پریشان ہے. آل انڈیا علماء بورڈ مہاراشٹر کے ترجمان اور سنی جمیعت الاسلام مالیگاؤں کے صدر صوفی نورالعین صابری نے حکومت وقت کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا نامی وبائی بیماری کے سبب ملک کے تمام ہی کاروبار بند رہے ہیں. اس وبائی بیماری کے دوران لاکھوں افراد کئی ماہ سے فاقہ کشی کے ماحول میں زندگی گزارتے رہے ہیں ایسے نامسائد حالات میں مودی سرکار کی جانب بننے والا نیا زرعی قانون کسانوں کو برباد کردے گا اور اس کالے قانون سے ملک کے چند امیروں کو ہی فائدہ پہنچے گا اس لئے اس نئے قانون کو بلا کسی ترمیم کے فورأ سے پیشتر رد کیا جائے. انھوں نے 8 دسمبر کو کسانوں کی جانب سے بھارت بند کے اعلان کی تائید و حمایت کرتے ہوئے ان کے حق میں آواز بلند کی ہے. راشٹریہ مسلم مورچہ کے ریاستی ذمہ داران نے شہریان سے گزارش کی ہے کہ پر امن طریقے سے کسانوں کے حق میں احتجاجاً اپنے کاروبار کو بند رکھیں اور نہ صرف اپنے بلکہ کسانوں کے لئے بھی ان کی تائید و حمایت کریں کیونکہ اگر بھارت مکمل طور پر بند ہوتا ہے تو بھاجپائی حکومت اس کالے قانون کو نافذ کرنے سے پہلے ہی رد کر سکتی ہے.

بین الاقوامی خبریں

حوثی گروپ بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملے تیز کرے گا، آئل ٹینکر پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

Published

on

Red-Sea

صنعاء : شمالی بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یمن کے حوثی گروپ نے کہا کہ وہ سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف اپنی مہم تیز کرے گا۔ حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساریہ نے کہا کہ “وفا” نامی آئل ٹینکر کو سعودی بحیرہ احمر کے ایک بڑے بندرگاہی شہر ینبو کے ساحل پر بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ساریا نے کہا کہ حملہ درست تھا، لیکن اس نے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جسے انہوں نے “ایک ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی” قرار دیا۔ ساریہ کے مطابق، حوثی فورسز نے مہم کے آغاز سے اب تک آٹھ سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ 29 دیگر کو اپنے راستوں کا رخ موڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ جولائی میں، حوثی گروپ نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں پر بحری پابندی کا اعلان کیا، اور دعویٰ کیا کہ یہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی سعودی ناکہ بندی کے جواب میں ہے۔ ان نئی کشیدگیوں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے جو دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

دریں اثنا، یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور نے بدھ کو بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حملے کی شدید مذمت کی۔ وزارت نے اسے “دہشت گردانہ حملہ” اور “بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت نے ہندوستان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اس نے جہاز کے عملے کو تمام ضروری مدد اور مدد فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے کہا، “جمہوریہ یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار بحری جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حوثی دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتی کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جب کہ یہ کشتی بحیرہ احمر میں حملہ کر رہی تھی۔ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں سمندری ٹریفک، محفوظ نیویگیشن اور تجارت کی آزادی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔” یہ بیان منگل کی شام ہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) کی طرف سے جاری کردہ ایک ردعمل کے بعد آیا ہے۔ ہندوستان نے ‘ایم ایس وی فیض نور اولیا’ پر حملے کی مذمت کی تھی اور تصدیق کی تھی کہ جہاز میں سوار تمام 13 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

Published

on

ARREST-5

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان