Connect with us
Saturday,01-August-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں صنعت پارچہ بافی پر مندی کے مہیب سائے دراز، 7 روزہ پاور لوم بند کا پہلا دن کامیاب,پر شور دھڑکنیں تھم گئیں

Published

on

(خیال اثر)
مالیگاؤں کی صنعت پارچہ بافی پاور لوم پر شور آوازوں سے متحرک اور رواں دواں رہتی ہے. جس دن یہ پر شور آوازیں تھم جاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی بھی تھم کر رہ گئی ہے شہر کے بیشتر بنکروں نے از خود اپنے کارخانوں پر تالا لگاتے ہوئے بند کا حصہ بن کر خود کو محفوظ و مامون رکھنے کی کوشش کی لیکن ایسے بھی چند بنکر بند کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تو ان کے پاور لوم کارخانوں کو بند کرنے کے لئے چند شر پسند عناصر نے زبردستی کرتے ہوئے ساز و سامان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی. ایسی اطلاع شہر میں عام ہوتے ہی پاور لوم تنظیموں کے ذمہ داران نے ایسے کسی بھی فعل کی مذمت کرتے ہوئے صبر و تحمل سے بند کو کامیاب کرنے کی اپیل ظاہر کی.
مالیگاؤں کی صنعت پارچہ بافی کے حالات ہمیشہ ہی دگر گوں رہتے ہیں. سوتی دھاگوں اور تیار کپڑوں کی خریدی کرنے والے تاجیران ہمیشہ سے ہی بنکروں کا استحصال کرتے آئے ہیں. کبھی سوتی دھاگے بنکروں کی قوت خرید سے باہر چلے جاتے ہیں تو کبھی تیار کپڑوں فروختگی انھیں خسارے سے دوچار کئے رہتی ہے. بیرون ریاست کے کپڑا بیوپاری کروڑوں روپیے کے تیار کپڑے خرید کر راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں. ایسا ہونے پر دھوکہ دہی کے شکار بنکر اپنا دل مسوس کر اپنی زمین جائداد فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. بہت سے واقعات ایسے بھی رونما ہوئے ہیں کہ جن پاور لوم کارخانوں کو بنکر رات دن اپنا لہو پلا کر جاری و ساری رکھا کرتے تھے ان کارخانون کی فروختگی کے بعد ان ہی پاور لوم کارخانوں میں انھیں مزدور کی حیثیت سے اپنی اور اہل خانہ کی کفالت پر مجبور ہونا پڑا ہے. حالیہ وقت میں پاور لوم صنعت پر زبردستی لادی گئی مندی کے مہیب سائے اپنا گھیرا تنگ کرتے نظر آ رہے ہیں. اسے محسوس کرتے ہوئے مالیگاؤں شہر کی مختلف پاور لوم تنظیموں نے باہم مشوروں سے 7دنوں کے لئے پاور لوم کارخانوں کو مکمل طریقے سے بند رکھنے کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے جس پر عمل آوری کرتے ہوئے آج بروز منگل صبح 8 بجے سے شہر کے بیشتر بنکروں نے اپنے پاور لوم کارخانوں کو مکمل طور پر بند رکھتے ہوئے پاور لوم بنکر تنظیموں کے بند کو تقویت پہنچائی ہے.
ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں. ہر بار اس سنگین مسئلے کا حل پاور لوم کارخانوں کو بند رکھتے ہوئے نکالا گیا ہے. اس کے بر عکس دیکھا جائے تو ماضی کی بہ نسبت آج کی صورتحال انتہائی سنگین صورت کی حامل ہے کیونکہ کورونا جیسی وبائی بیماری اور زبردستی نافذ شدہ لاک ڈاؤن نے تمام ہی شعبہ حیات کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے. ایسے حالات میں مذکورہ 7 دنوں کا بند پاور لوم مزدوری سے منسلک افراد پر بھکمری کے سائے اپنا ڈیرہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں. پاور لوم بنکر تنظیموں کو شہری لیڈران اور حکومت کے ذمہ داران سے ملتے ہوئے اس سنگین مسئلے کا دیر پا اور ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کرنا چاہیے. ان نامسائد حالات میں مندی اور بند کے مہیب سائے اگر طویل ہوتے ہیں تو مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت کی پر شور دھڑکنیں منجمد ہو کر شہر کی پارچہ بافی صنعت کو اسی طرح گور غریباں کے حوالے کردیں گی جس طرح بنارس شہر کی مشہور عالم بنارسی ساڑیوں کی صنعت کو زندہ در گور کردیا گیا ہے. آج مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت اپنے اس 7روزہ بند کے ذریعے شہری لیڈران اور ارباب حکومت کی جانب ان کی توجہ کے طلبگار ہیں .اب دیکھنا یہ ہے کہ صنعت پارچہ بافی کو زندہ رکھنے کے لئے میدان عمل میں آ کر کون کردار کا غازی بنتا ہے یا پھر سبھی بلند بانگ دعوے کرنے والے غازئ گفتار بن کر خوشنما اور تسلی آمیز بیانات تک محدود رہیں گے.

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان