(جنرل (عام
محنت کشوں کا شہر مالیگاؤں اس شہر نے اُردو ادب کو قلم کے سپاہی عطا کئے ہیں

(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں 5 روزہ اُردو کتاب میلے کا شاندار آغاز ہوگیا. اس موقع پر مہاراشٹر اُردو اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر احمد رانا صدیقی ممبئی سے تشریف لائے تھے. آج صبح ساڑھے 11بجے موصوف نے نمائندے نے تفصیلی گفتگو کی. اُردو کے اہل ذوق قارئین کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کا یہ انٹرویو حاضر خدمت ہے . محترم ڈاکٹر احمد رانا صدیقی نے ممبئی پریس کو بتایا کہ اُردو اکیڈمی کی جانب سے ہمارے ابھی جو آنے والے پروگرام ہونے والے ہیں. اس میں اُردو لائبریری اور اردو گھر کا جو مطالبہ ہے اسے پورا کیا جائے گا. اس کے علاوہ اُردو کے فروغ کے لئے بہت سارے پروگرام منعقد کئے جائینگے. کئی ضلعوں میں اُردو کو روزگار سے جوڑنے کے لئے کیا تدبیریں ہیں. اس کی تیاریاں چل رہی ہیں. موصوف نے مہاراشٹر میں اُردو کے مستقبل کے تعلق سے کہا کہ مہاراشٹر میں اُردو کا مستقبل بہت سنہرا ہے. بہت پیارا ہے. پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ بہتر اُردو مہاراشٹر ہی میں فروغ پارہی ہے. نمائندے نے جب مہاراشٹر اُردو اکیڈمی کے 2018 کے ایوارڈ یافتگان کے بارے میں دریافت کیا کہ رکن اُردو اکیڈمی ایوارڈ کی شفارش کے بدلے ایوارڈ کی رقم کی مانگ کرتے ہیں تو موصوف نے کہا کہ ہم بالخصوص آپ سے ایک چیز جاننا چاہتے ہیں کہ ابھی تک یہ چیز ہماری جانکاری میں نہیں تھی. کیونکہ اس بار ہم نے پوری کوشش کی تھی کہ صحیح لوگوں کو ایوارڈ ملے لیکن اگر ایسی کہیں ذرا سی بھی لغزش یا غلطیاں پائی جاتی ہیں تو برائے کرم ان کی تفصیل مجھے ارسال کرنے کی زحمت کریں اور مجھے بتائیں . تاکہ میں اس پر پورے طریقے سے غور و فکر کرکے ان اراکینوں کو جنھوں نے اس طرح کی حرکتیں کی ہیں ان کو یا تو اکیڈمی کی جانب سے برخاست کیا جائے گا یا ان کو اس کی سزا منتخب کی جائے گی تاکہ آئندہ وہ اس طرح کی غلطی نہ کرسکے . ویسے میری جانکاری میں بالکل نہیں ہے. پھر بھی اگر آپ اس کی جانکاری دینے کی کوشش کریں گی تو میں آپ کا بے حد شکر گزار رہوں گا کہ ایسی حرکتیں اگر ہوئی ہیں تو اگر ایک بھی آدمی مجھ کو مل جاتا ہے کہ واقعی میں میرے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ میں نے ایوارڈ لیا ہے اور پیسہ میں نے دے دیا ہے. ایسا کوئی ایک آدمی بھی مل جاتا ہے تو میں شکر گزار رہوں گا جانکاری دینے کے لئے اور یہ جانکاری خفیہ رکھی جائے گی. دوسری بات یہ ہے کہ آنے والے وقت میں ہم نے یہی کوشش کیا تھا چونکہ ہمارے پاس وقت بہت کم تھا جس وقت ہم کو یہ عہدہ ملا تو ایوارڈ دینے کی جو کوششیں ہوتی ہیں جو ذرائع ہوتے ہیں. اس میں کافی وقت لگتا ہے. جب موصوف سے پوچھا گیا کہ مہاراشٹر اُردو اکیڈمی کا ایوارڈ قابلیت کو دیا جاتا ہے یا شفارش کو ؟ تو موصوف نے نہایت خندہ پیشانی سے اس کی وضاحت کی کہ
جب ہمیں عہدہ ملا تو ہمارے پاس بہت کم وقت تھا کہ نئے ممبران کا انتخاب کرنا تو اس کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں تھا. پہلے سے چونکہ کچھ چیزیں طے ہوچکی تھی جس کے تحت اتنے سارے پروگرام ہم کو مجبوراً کرنے پڑیں. پھر بھی ہم نے اس پر نظر رکھی ہے . پھر بھی کسی سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اگر موقع ملتا ہے تو برائے کرم مجھ کو بتائے کہ فلاں فلاں لوگوں کی شفارش گئی تھی ان کی یا اس لائق نہیں تھے کہ ان کو ایوارڈ دیا گیا ہے. تو ہم اس پر نظر ثانی کریں گے اور آئندہ اس طرح کی غلطی نہ ہو اس پر پورا غور و خوض کیا جائے گا. میں بہت شکر گزار رہوں گا . ڈاکٹر صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ دیکھئے میں واقعی میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اُردو اکیڈمی میں ایسی جو بھی حرکتیں ہورہی ہیں مطلب یہاں کے ممبران یا یہاں کے افسران اگر اس کا غلط یا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں تو میں اس کی تاک میں ہوں کہ اے کاش مجھے وہ غلطی ملے تو میں پوری ذمے داری کے ساتھ اس پر کاروائی کروں گا اور آئندہ اکیڈمی کی جانب سے کوئی سوچے بھی نہ ایسی غلطی کرنے کے بارے میں. میں ان کی ایسی سزا منتخب کراؤں گا. میں ابھی مالیگاؤں پہنچا ہوں اور ابھی اُردو گھر دیکھنے جارہا ہوں. وہاں ہم کیا کرسکتے ہیں اور ہم نے ارادہ بنایا ہے اُردو گھر دیکھنے کے بعد ہم کو اچھا لگا تو آئی اے ایس اور آئی پی ایس کی کوچنگ سینٹر بھی ہم اسی گھر میں شروع کریں گے جس میں مسلم نوجوان اگر آئی اے ایس , آئی پی ایس کی تیاری کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے بہتر سہولت مہیا کی جائے گی. دوسرے آج میری بات ہوئی ہے
بھارت سرکار سے جناب نقوی صاحب سے جو پروگرام چل رہا ہے مسلم بالخصوص اقلیتوں کے لئے میں چاہوں گا کہ یہاں بھی ایک سینٹر نوجوانوں کے لئے شروع کیا جائے تاکہ وہ اس سے کچھ ہنر سیکھ سکے. یہ ہمارے پروگرام ہے. آج ہم ان ساری چیزوں کا معائنہ کرکے طے کرلیں گے تو آنے والے وقت میں ہم یہ سارے پروگرام ہم یہاں شروع کریں گے.
مالیگاؤں کے تعلق سے پوچھے جانے پر موصوف نے کہا کہ میں 6 سال قبل جب مہانگرپالیکا کا چناؤ تھا جس میں مجھے مالیگاؤں کی ذمے داری سونپی گئی تھی اس وقت میں لگ بھگ 1 مہینہ مالیگاؤں میں تھا. میں نے 16 مسلم امیدوار دیئے تھے لیکن اتفاق کہ ہمارے امیدوار ہار گئے تھے لیکن ہم نے کوشش کیا تھا اس شہر کو بہتر بنانے کے لئے لیکن یہاں کی عوام نے بی جے پی کے نام پر ہمیں ووٹ نہیں دیا تھا. اس وقت پورا مہینہ مالیگاؤں میں تھے. یہاں کا جائزہ بھی لیا تھا کہ ہم کچھ کریں گے لیکن یہاں کے لوگوں نے اس وقت توجہ نہیں دیا. اب انشاء اللہ تعالیٰ آنے والے وقت میں ہم کیا کرسکتے ہیں کہ اُردو اکیڈمی ہمارے پاس میں ہے. اس کے تحت ہم انشاء اللہ بہت کچھ کرنے کی کوشش کریں گے. مالیگاؤں ہمیں بہت پسند ہے. یہاں کے لوگ بھی بہت پسند ہے. جب نمائندہ نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مالیگاؤں سے اُردو اکیڈمی کا کوئی رکن منتخب نہیں کیا جاتا تو موصوف نے کہا کہ آئندہ باڈی میں مالیگاؤں سے بھی اکیڈمی کے رکن کو منتخب کیا جائے گا. اس ر غور و خوص چل رہا ہے. اس بار انشاء اللہ مالیگاؤں سے ضرور اکیڈمی کے رکن کا انتخاب عمل میں آئے گا.
موصوف نے اہلیان مالیگاؤں کو پیغام دیا ہے کہ مالیگاؤں سے مجھے بہت لگاؤ ہے . اس کی وجہ ہے کہ یہ زرخیز شہر ہے. اس کے علاوہ یہ محنت کشوں کا شہر ہے. یہاں جو لوگ رزق تلاش کرتے ہیں. روز کنواں کھودکر پانی پینے والے لوگ انتہائی سادہ اور معصوم ہے. مالیگاؤں شہر نے ادب کو قلم کے سپاہی عطا کئے ہیں جو دن رات اُردو ادب کی خدمت میں لگے ہیں.
(جنرل (عام
وقف بل پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اویسی اور کانگریس کے بعد آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے منظور کر لیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے تنازعہ اب بھی ختم نہیں ہو رہا۔ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ خان نے درخواست میں درخواست کی کہ وقف (ترمیمی) بل کو “غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29، 30 اور 300-اے کی خلاف ورزی کرنے والا” قرار دیا جائے اور اسے منسوخ کیا جائے۔ اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ یہ بل آئین کے بہت سے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کو من مانی کرنے کا اختیار ملتا ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2025 کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ جاوید کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر “من مانی پابندیاں” فراہم کرتا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا۔ ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کیونکہ یہ پابندیاں عائد کرتا ہے جو دیگر مذہبی اوقاف میں موجود نہیں ہیں۔ بہار کے کشن گنج سے لوک سبھا کے رکن جاوید اس بل کے لیے تشکیل دی گئی جے پی سی کے رکن تھے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بل میں یہ شرط ہے کہ کوئی شخص صرف اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کی بنیاد پر ہی وقف کا اندراج کرا سکتا ہے۔
اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بل کے ذریعے وقف املاک کا تحفظ چھین لیا گیا ہے جبکہ ہندو، جین، سکھ مذہبی اور خیراتی اداروں کو یہ تحفظ حاصل ہے۔ اویسی کی درخواست، جو ایڈوکیٹ لازفیر احمد کے ذریعہ دائر کی گئی ہے، میں کہا گیا ہے کہ “دوسرے مذاہب کے مذہبی اور خیراتی اوقاف کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے وقف کو دیے گئے تحفظ کو کم کرنا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتی ہے۔” عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم وقفوں اور ان کے ریگولیٹری فریم ورک کو دیے گئے قانونی تحفظات کو “کمزور” کرتی ہیں، جبکہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز اور گروپوں کو ناجائز فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اویسی نے کہا، ’’مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری نازک آئینی توازن کو بگاڑ دے گی۔‘‘ آپ کو بتاتے چلیں کہ راجیہ سبھا میں 128 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 95 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ لوک سبھا نے 3 اپریل کو بل کو منظوری دی تھی۔ لوک سبھا میں 288 ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 232 نے اس کی مخالفت کی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔
قومی
کیا نیا وقف بل مسلم کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے…؟

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا نیا وقف بل ایک مرتبہ پھر مسلم کمیونٹی میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، شفافیت، اور ان کے غلط استعمال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ نئے بل میں چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے وقف اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل کا استعمال تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبوں میں کیا جا سکے گا۔
تاہم، کچھ مذہبی و سماجی تنظیموں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف جائیدادیں خالصتاً مذہبی امور سے منسلک ہیں، اور حکومت کی براہِ راست مداخلت مذہبی خودمختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ یہ بل وقف جائیدادوں کی آزادی اور ان کے اصل مقصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین قانون اور کچھ اصلاح پسند رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر بل کو ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وقف اثاثے، جو اب تک بد انتظامی یا غیر قانونی قبضوں کی نظر ہوتے آئے ہیں، ان کے بہتر انتظام سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔
پرانے اور نئے وقف بل میں کیا فرق ہے؟
پرانا وقف قانون :
پرانا وقف قانون 1995 میں “وقف ایکٹ 1995” کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود لاکھوں وقف جائیدادوں کا بہتر انتظام اور تحفظ تھا۔
اس قانون کے تحت:
- ریاستی وقف بورڈز قائم کیے گئے۔
- وقف جائیدادوں کے انتظام کی ذمہ داری وقف بورڈ کے سپرد کی گئی۔
- وقف کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
- متولی (منتظم) کی تقرری بورڈ کی منظوری سے ہوتی تھی۔
تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں عمل درآمد کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ وقف املاک پر غیر قانونی قبضے، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نگرانی جیسے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
نیا وقف بل :
نئے وقف بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان میں شامل ہیں :
- ڈیجیٹل رجسٹری : تمام وقف جائیدادوں کی آن لائن رجسٹری اور ان کی نگرانی کا نظام۔
- مرکزی ڈیٹا بیس : ایک قومی سطح کا وقف پورٹل بنایا جائے گا جہاں تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
- غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی : قبضے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
- انتظامی شفافیت : وقف بورڈ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے اور آڈٹ سسٹم کو سخت بنانے کی تجویز۔
- شکایتی نظام : عوام کے لیے ایک فعال شکایت سیل کا قیام تاکہ وقف سے متعلق بدعنوانی یا زیادتیوں کی شکایت کی جا سکے۔
فرق کا خلاصہ:
| پہلو… | پرانا وقف قانون (1995) | نیا وقف بل (2025)
1995 رجسٹریشن | دستی رجسٹری |
2025 ڈیجیٹل رجسٹری و قومی پورٹل |
1995 نگرانی | ریاستی سطح پر |
2025 قومی سطح پر نگرانی و ڈیٹا بیس |
1995 شفافیت, محدود |
2025 بڑھتی ہوئی شفافیت و آڈٹ سسٹم |
1995 قبضہ ہٹانے کا نظام | پیچیدہ قانونی طریقہ کار |
2025 فوری قانونی کارروائی کا اختیار |
1995 عوامی شمولیت | کمزور شکایت نظام |
2025 فعال شکایتی نظام |
نئے وقف بل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی اصلاحات جیسے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین اور مذہبی حلقوں کو اندیشہ ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کہیں خودمختاری کو متاثر نہ کرے۔ بل کے اصل اثرات اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ فی الحال، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اور کمیونٹی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔
-
سیاست6 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا