Connect with us
Monday,01-June-2026
تازہ خبریں

جرم

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ: خصوصی جج نے سادھوی پرگیہ سنگھ کے وکیل سے سرکاری گواہ کو دو ہزار روپئے دینے کا حکم دیا

Published

on

ممبئی3 دسمبر
مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں آج یہاں خصوصی این آئی اے جج نے بھگوا ملزمین کے وکلاء کو حکم دیا کہ مالیگاؤں سے ممبئی گواہی کے لیئے آئے سرکاری گواہ کو دو ہزار روپئے اداکریں کیونکہ گواہ سے جرح نہ کرنے کی صورت میں گواہ کو ممبئی میں قیام کرنا پڑے گا۔
عدالت کے حکم کے باوجود آج عدالت میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت تین ملزم حاضر نہیں ہوئے جبکہ ملزمین کرنل پروہت اور سمیر کلکرنی عدالت میں موجود تھے، سادھوی پرگیہ سنگھ اور دیگر غیر حاضر ملزمین کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی کہ بیرون ریاست ہونے کی وجہ سے ملزمین عدالت میں حاضر ہونے سے قاصر ہیں لیکن ملزمین کی غیر موجودگی میں دفاعی وکلاء عدالت میں حاضر رہیں گے۔
خصوصی این آئی اے عدالت کے جج پی آرسٹرے نے سرکاری گواہ شکیل خلیفہ کوکل دوبارہ گواہی کے لیئے طلب کیا ہے جبکہ دفاعی وکلاء کو حکم دیا کہ وہ گواہ کو دو ہزار روپئے ادا کریں نیز عدالت نے دفاعی وکلاء سے کہا کہ وہ تمام ملزمین کی عدالت میں جلد از جلد حاضری کو یقینی بنائیں ورنہ عدالت سخت فیصلہ کرنے سے گریز نہیں کریگی۔
اسی درمیان ممبئی ہائی کورٹ میں آج کرنل پروہت کیجانب سے اس کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی عرضداشت پر سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کردی کیونکہ کرنل پروہیت نے عدالت میں عذر پیش کیا کہ اس کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ موکل روہتگی بحث کریں گے جو کرونا کی وجہ سے دہلی سے ممبئی کا سفر کرنے سے قاصر ہیں۔
دوران کارروائی ممبئی ہائی کورٹ میں جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)کی جانب سے بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے کے لیئے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی کے علاوہ ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ کریتیکا اگروال ودیگر موجود تھے۔
اسی درمیان ملزم سمیر کلکرنی نے ممبئی سیشن عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور ملزم کرنل پروہت عدالت کا وقت برباد کررہے ہیں لہذا ان کی ضمانت منسوخ کرنا چاہئے۔
سمیر کلکرنی نے کہا کہ وہ روزانہ پونے سے ممبئی کاسفر کرتے ہیں تاکہ عدالتی کارروائی میں حصہ لے سکیں لیکن دیگر ملزمین کی عدم دلچسپی کی وجہ سے عدالت کا قیمتی وقت برباد ہورہا ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

جرم

ممبئی پوائی قتل کیس میں مفرور ملزم گرفتار، ہفتہ قبل تنازع پر غصہ قتل کا شاخسانہ، قتل کے بعد پولس تفتیش میں خلاصہ

Published

on

ARREST-1

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۱۰ نے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو سورت گجرات سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پوائی تنگا گاؤں ساکی وہار میں ۲۴ مئی کو ایک ۵۵ سالہ یوسف نامی شخص کی لاش ملی تھی, جسے کسی نے دھاردار ہتھیار سے وار کر کے سینے پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولس نے اس معاملہ میں قتل کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کر دیا اور پھر اس معاملہ میں تقریبا ۱۰۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور معلوم ہوا کہ گجرات میں قتل کے بعد ملزم فرار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو یہاں سے گرفتار کیا اور مزید کارروائی کے لئے پوائی پولس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم دیپک عرف دیپا نتھو پرساد ورما ۲۶ سالہ کی یوسف سے کسی بات پر تنازع ہوا, ایک ہفتہ قبل تنازع ہوا تھا جس کا غصہ اس کے دل میں تھا اور اسی نے طیش میں آکر یوسف کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا, پولس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

Published

on

ARRESTED

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان