Connect with us
Wednesday,22-April-2026

(جنرل (عام

اترپردیش کے اناو عصمت دری اور اغوا معاملے میں کلدیپ سنگھ سینگرقصوروار قرار

Published

on

دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے اترپردیش کے اناو عصمت دری اور اغوا معاملے میں پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے برخاست ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو قصوروار ٹھہرایا، سیشن جج دھرمیش سنگھ نے سینگر کو قصورواور ٹھہراتے ہوئے کہاکہ اس معاملے میں سزا کے لئے عدالت میں بحث 19 دسمبر کو ہوگی۔ حالانکہ سینگر کے وکیل سزا کے لئے آج ہی بحث چاہتے تھے۔ عدالت نے اس معاملے میں ایک دیگر ملزم خاتون ششی سنگھ کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔ ششی سنگھ پر متاثرہ کو بہلا پھسلا کر رکن اسمبلی کے گھر لے جانے کا الزام تھا۔
سینگر اترپردیش میں اناو ضلع کے بانگرمئو اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتا تھا۔ اس کے خلاف عصمت دری اور اغوا کے معاملے کی سماعت یہاں کی تیز ہزاری عدالت میں چل رہی تھی۔ اس کے علاوہ سینگر پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت میں تین معاملے چل رہے ہیں۔
یہ معاملہ 2017 کا ہے جس میں سینگر کے خلاف متاثرہ کے ساتھ عصمت دری کرنے کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ سی بی آئی کو یہ معاملہ 2018 میں منتقل کیا گیا تھا۔
تیس ہزاری عدالت میں پانچ اگست کو اس معاملے کی سماعت شوع ہوئی تھی، دونوں ملزمین کے خلاف نواگست کو الزام طے کئے گئے تھے۔ اس معاملے میں چار ماہ سے زیادہ سماعت چلی۔ عدالت نے عصمت دری کی متاثرہ کو نابالغ مانا ہے۔
سینگر پر الزام تھاکہ نوکری دینے کا وعدہ کرکے اس نے اپنی رہائش گاہ پر متاثرہ کے ساتھ عصمت دری کی۔ متاثرہ کا اغوا کر کے اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی بھی کی گئی۔
عدالت کے فیصلہ سنانے کے بعد وہاں موجود سینگر رونے لگا جبکہ دوسری ملزم ششی سنگھ فیصلے کے بعد بے ہوش ہوگئی۔
متاثرہ اور اس کی ماں کے یوگی آدتیہ ناتھ کی لکھنؤ واقع رہائش گاہ کے باہر خودکشی کرنے کی کوشش کے بعد اس معاملے نے طول پکڑ لیا۔اس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم سے اناو معاملے کی جانچ لکھنؤ سے دہلی منتقل کی گئی تھی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

خلیجی ملکوں میں جنگی بحران کے سبب گیس کنکشن کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانے والا گروہ بے نقاب، تین ملزمین گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی: خلیجی ملکوں میں جنگ کے سبب ایندھن کی قلت و بحران کا فائدہ اٹھا کر گیس فراہمی اور گیس کنکشن کے نام پر دھوکہ دہی کر نے والے گروہ کو پولیس نے بے نقاب کیا ہے اور سائبر سیل نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے جو گیس کنکشن بحال کر نے کے نام پر لوگوں سے دغا بازی کیا کرتے تھے۔ ممبئی مہانگر گیس لمٹیڈ کے نام پر اے پی کے فائل ارسال کر کے شہریوں کو بے وقوف بنا کر دھوکہ دہی کا شکار بنانے والے ایک گروہ کو ممبئی سائبر سیل نے بے نقاب کر نے کا دعوی کیا ہے اور اس معاملہ میں تین ملزمین کو جھار کھنڈ سے گرفتار کر نے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ شکایت کنندہ اوپیندر نارائن 65 سالہ نے شکایت درج کروائی کہ ان کے وہاٹس اپ پر مہانگر گیس لمٹیڈ سے ایک گیس کنکشن منقطع کرنے کا پیغام موصول ہوا اس کے ساتھ ہی ایک فائل دی گئی تھی اور یہ اے بی کے فائل تھی اور اسے اجازت نامہ کیلئے ارسال کیا گیا تھا اس متعلق سائبر سیل نے تیکنیکل تفتیش شروع کر دی اور سائبر سیل نے اس معاملہ میں اہم ملزم عارف انصاری جھار کھنڈ،سمیت اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ملزم عارف انصاری مغربی بنگال سے تعلق رکھتا ہے پولیس نے آج تینوں ملزمین کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرکے اسے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا پولیس نے اس معاملہ میں عارف انصاری 28سالہ، بلال محمد نوشاد 28 سالہ جھار کھنڈ اور محبوب عالم محمد نوشاد 25 سالہ کو گرفتار ہے ان کے قبضے سے پانچ موبائل فون ضبط کئے گئے ہیں یہ تینوں ہی اے پی کے فائل تیار کر کے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ورلی میں بی جے پی ریلی سڑک جام کرنے پر کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی ورلی پولیس اسٹیشن کی حدود میں بی جے پی نے پارلیمنٹ میں خواتین بل نامنظور کئے جانے کے خلاف سڑک جام کر کے ریلی منعقد کی تھی جس پر پولیس نے کیس درج کر نے کا دعوی کیا ہے یہ کیس منتظم کے خلاف درج کیا گیا ہے جبکہ اس ریلی کو اجازت دی گئی تھی لیکن سڑک پر 20 منٹ تک جام لگانے اور ٹریفک میں خلل پیدا کرنے کے معاملہ میں پولیس نے کیس درج کیا ہے واضح رہے کہ ممبئی میں بی جے پی کی ریلی منعقد کی گئی تھی جس پر ایک خاتون مسافر نے اعتراض کر تے ہوئے کہا کہ سڑک جام کر نے کے بجائے میدان میں ریلی نکالی جائے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل تھا جس کے بعد پولس نے منتظم کے خلاف کیس درج کر لیا ہے اور اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے اس کی تصدیق کی ہے پولیس نے اجازت نامہ کی خلاف ورزی کر نے کے معاملہ میں یہ کیس درج کیا ہے پولیس نے بتایا کہ جن شرائط پر اجازت دی گئی تھی اس کی خلاف ورزی ہوئی اس لئے 138 دفعہ کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ سڑک پر قبضہ کر کے آمدورفت کو یرغمال بنانے کا کیس پولیس نے درج کیا ہے اس معاملہ میں مزید تفتیش بھی جاری ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس ریلی کے سبب ٹریفک نظام میں خلل پیدا ہوئی تھی اور اس کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : پاورلوم بجلی کی رعایت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی شرط منسوخ کی جائے, رئیس شیخ کا دیویندر فڑنویس سے مطالبہ

Published

on

ممبئی: مغربی ایشیا میں جنگ، نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ایل پی جی بحران کی وجہ سے جزوی لاک ڈاؤن اور مزدوروں کو ہونے والی بے روزگاری کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی صنعت مشکل میں ہے۔ اس میں مارکیٹنگ اور ٹیکسٹائل ڈیپارٹمنٹ نے پاور لوم بجلی کی رعایت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا ہے۔ نتیجہ کے طور پر، اس بات کا خدشہ ہے کہ ریاست کی یہ بڑی صنعت ٹھپ ہو جائے گی اور آن لائن رجسٹریشن کی شرط کو واپس لے لیا جائے، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے مطالبہ کیا ہے۔
ایم ایل اے رئیس شیخ نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور ٹیکسٹائل کے وزیر سنجے ساوکرے کو خط لکھا ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ ٹرمپ ٹیرف میں مسلسل تبدیلیاں، آبنائے ہرمز کی بندش، خام مال اور یارن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خلاف ریاستی حکومت کی پالیسی، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ان تمام وجوہات کی وجہ سے ریاست میں ٹیکسٹائل انڈسٹری بحران کا شکار ہے۔
ریاست میں 9 لاکھ 48 ہزار پاور لومز ہیں۔ زراعت کے بعد سب سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرنے والا ‘مائیکرو سکیل پاور لوم’ سیکٹر شدید بحران کا شکار ہے۔ پیداوار میں بھاری نقصان اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا اندیشہ ہے۔ اکثر، پاور لوم کی جگہ ایک شخص کی ہوتی ہے اور پاور لوم کا مالک دوسرا ہوتا ہے۔ کچھ جگہوں پر پاور لومز کرائے پر ہیں جبکہ پرانے پاور لومز اکثر استعمال میں رہتے ہیں۔ لہذا، آن لائن رجسٹریشن کی عملی حدود ہیں پاور لومز کی آن لائن رجسٹریشن کے لیے درکار تمام معلومات براہ راست تصدیق کے ساتھ ‘مہاوتارن اور ٹورنٹو کمپنی’ کے پاس ہیں۔ صنعت کے شعبے کو درحقیقت متاثر کرنا ایک تضاد ہے جبکہ حکومت کی پالیسی ’’کاروبار کرنے میں آسانی‘‘ ہے۔ 26 اپریل آن لائن رجسٹریشن کی آخری تاریخ ہے۔ اس کے نتیجے میں بھیونڈی، مالیگاؤں اور اچل کرنجی میں پاور لوم کے تاجروں میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ اس لیے ایم ایل اے رئیس شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاور لوم بجلی سبسڈی کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی تجویز کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور میٹر کے مطابق بجلی سبسڈی کا موجودہ نظام برقرار رکھا جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان