Connect with us
Wednesday,07-October-2026

(جنرل (عام

کشمیر: طلبا رول نمبر سلپیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور

Published

on

Jammu-and-Kashmir

وادی کشمیر میں اگرچہ ٹوجی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال ہوئی ہیں تاہم سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کی براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس کی مسلسل معطلی کے باعث طلبا کو فارم جمع کرنے یا رول نمبر سلپیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے متعلقہ ضلع مجسٹریٹ دفاتر کے چکر برابر کاٹنے پڑرہے ہیں۔طلبا کا کہنا ہے کہ ٹوجی انٹرنیٹ سروس کی بحالی ان کے لئے نامراد ثابت ہورہی ہے جس کے باعث ان کے مشکلات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
طلبا کے ایک گروپ جو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نظامت فاصلاتی تعلیم میں مختلف پی جی، انڈر گریجویٹ، ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ کورسز میں زیر تعلیم ہیں، نے یو این آئی اردو کو بتایا: ’ہم 8 ہزار طلبا مانو میں مختلف مضامین بشمول پوسٹ گریجویشن اور گریجویشن کررہے ہیں، ہمارے امتحانات مارچ میں ہونے والے ہیں، لیکن ہمیں اپنی رول نمبر سلپیں ڈائون لوڈ کرنے کے لئے ضلع مجسٹریٹ کے دفاتر کا چکر کاٹنا پڑرہا ہے کیونکہ ایک تو ہماری یونیورسٹی کی ویب سائٹ وائٹ لسٹڈ یونیورسٹیوں کی ویب سائٹوں میں شامل ہی نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارے علاقائی مرکز میں بی ایس این ایل کا براڈ بینڈ انٹرنیٹ ہے جو سرکاری حکمنامے کے باوجود مسلسل معطل ہے‘۔
طلبا کا کہنا ہے کہ رول نمبر سلپ ڈائون لوڈ کرنے کے لئے ضلع مجسٹریٹ دفاتر کا چکر کاٹنا ان کے لئے درد سر ہی نہیں بلکہ سوہان روح بھی بن گیا ہے۔
دریں اثنا یونیورسٹی کے علاقائی ناظم ڈاکٹر اعجاز اشرف نے طلبا کو درپیش اس پریشانی پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا: ’میں بے بس و بے کس ہوں، میں نے کئی بار حکام کو لکھا کہ میرے سینٹر میں براڈ بینڈ سروس کو بحال کریں لیکن کسی نے کان دھرنے کی زحمت گورا نہیں کی، اگر سینٹر کا برڈ بینڈ انٹرنیٹ بحال ہوتا تو بچے وہیں رول نمبر سلپیں ڈائون لوڈ کرتے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ہماری براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس بند ہے دوسری طرف ہماری یونیورسٹی کی ویب سائٹ وائٹ لسٹڈ ویب سائیٹوں میں شامل بھی نہیں ہے۔
موصوف ناظم نے کہا کہ ایک طرف تعلیمی اداروں میں انٹرنیٹ سہولیت کی بحالی کے دعوے کئے جارہے ہیں اور دوسری طرف مانو جیسے مرکزی تعلیمی ادارے کے ریجنل سینٹر میں انٹرنیٹ بحال نہیں کیا جارہا ہے جو قابل افسوس ہی نہیں بلکہ افسردگی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی مرکز میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات لگاتار بند رہنے کے باعث وہ حیدرآباد میں واقع ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ضروری خط وکتابت و رابطہ فیکس یا پوسٹل محکمے کی وساطت سے کررہے ہیں جو نہ صرف کار طویل ہے بلکہ کارے دارد والا معاملہ بھی ہے۔ یونیورسٹی کی تمام تر سرگرمیاں آن لائن انجام پاتی ہیں اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی سے ہمارا مرکز عضو معطل بن کے رہ گیا ہے۔
ایک طلاب علم، جو اردو میں پی جی کررہا ہے، نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک تو ہم امتحان میں تاخیر ہونے کے باعث پریشان تھے ہی تو دوسری طرف اب ہم رول نمبر سلپس ڈاون لوڈ کرنے کے لئے پریشان ہیں، اس سے ہماری امتحان کے لئے تیاریوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ یوں تو ہرجگہ طلبا کے لئے ترجیحی بنیادوں پر سہولیات بہم رکھی جاتی ہیں لیکن یہاں معاملہ اس کے عین برعکس ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نظامت فاصلاتی تعلیم کے سالانہ امتحانات بمطابق شیڈول گزشتہ برس ستمبر تا اکتوبر میں ہونے والے تھے لیکن یہاں نامساعد حالات کے پیش نظر امتحانات کو موخر کیا گیا تھا جو اب 11 مارچ سے منعقد ہونے والے ہیں۔
کنٹرولر امتحانات مرزا فرحت اللہ بیگ کے مطابق سالانہ امتحانات ستمبر 2019 میں ہونے والے تھے لیکن جموں وکشمیر میں نامساعد حالات کے پیش نظر ان امتحانات کو وہاں ملتوی کرنا پڑا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی ٹیراپوزم اور دیگر ادویات نشہ آور اشیاء سمیت ایک مشتبہ شخص گرفتار

Published

on

ممبئی نشہ آور اشیاء مخالف دستہ (دیونار پولیس تھانہ دفعہ 8 (ک) سہ 22(ک) این ڈی پی ایس ایکٹ 1985
۶ اکتوبر کو صبح 10.40 بجے سے 12.40 بجے کے دوران پولس نے ایک مشتبہ شخص کی تلاشی لی اور اس کے پاس سے نشہ آور ادویات برآمد کی گئی ہے جس میں قیمت تقریباً 1,98,00,000/- قیمت کا 02 کلو 475 گرام وزن کا کل 4500 ‘ این آئی ٹی کور-10 نام کی نائٹرازپام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاء 2) قیمت تقریباً 55,12,000/- قیمت کا 689 گرام وزن کا کل 5300 ‘ پروکالم-1 نام کی الپرازولام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاءکل قیمت تقریباً 2,53,12,000/- قیمت کی نشہ آور اشیاء نشہ آور اشیاء مخالف یونٹ ورلی یونٹ کی ٹیم ممبئی شہر میں نشہ آور اشیاء خرید و فروخت کرنے والے، فراہم کرنے والے، ذخیرہ کرنے والے افراد کی تلاش کر رہی تھی تب ٹیم کو قابل اعتماد مخبر سے خبر ملی کہ، ڈاکٹر ذاکر حسین نگر، گوونڈی، ممبئی اس جگہ پر ایک شخص نشہ کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی گولیوں کی نشہ آور اشیاء کی فروخت کر رہا ہے۔ مذکورہ خبر کی تصدیق کرکے ایک شخص کے گھر سے قیمت تقریباً 1,98,00,000/- قیمت کا 02 کلو 475 گرام وزن کا کل 4500 ‘ این آئی ٹی کور-10 نام کی نائٹرازپام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاء اور قیمت تقریباً 55,12,000/- قیمت کا 689 گرام وزن کا کل 5300 ‘ پروکالم-1 نام کی الپرازولام ٹیبلٹس‘ یہ نشہ آور اشیاء ایسا کل قیمت تقریباً 2,53,12,000/- قیمت کی نشہ آور اشیاء ضبط کی گئی ہے۔مذکورہ کامیاب کارکردگی جناب ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، ممبئی جوائنٹ پولس کمشنر انل کنبھارے، (جرائم)کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی پورنیما چوگلےشرنگی، ورلی یونٹ کے انچارج سنتوش سالونکھے کی قیادت میں،روہت سالی اور ٹیم نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گڈچرولی ماؤ نوازوں کے چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد اور آتشیں اسلحہ جات برآمد

Published

on

ممبئی ؛ گڈچرولی ضلع میں ماؤ نواز سرگرمیاں مؤثر طریقے سے ختم ہو چکی ہیں اور خطے میں ماؤ نواز تحریک تقریباً دم توڑ چکی ہے۔ ماؤ نواز سیکیورٹی فورسز کو خطرے میں ڈالنے اور تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیے مختلف اقسام کے ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد استعمال کرتے تھے۔ ریاستی سرحد کے ساتھ واقع دور دراز جنگلاتی علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہ یہ مواد تیار کرتے اور خفیہ طور پر جنگل میں زمین کے نیچے دبا دیتے تھے۔ ان ذخیروں کا مقصد ‘نکسل ہفتوں’ (نکسل ویکس) اور انتخابات جیسے مواقع پر سیکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملہ کرنا تھا۔ اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے، گڈچرولی پولیس فورس نے کل، 6 اکتوبر 2026 کو ایک آپریشن کے دوران ماؤ نوازوں کی جانب سے زمین کے نیچے چھپایا گیا مواد کامیابی سے برآمد کر لیا۔تفصیلات کے مطابق مہاراشٹرچھتیس گڑھ سرحد پر واقع کوپرشی (کوپارشی) جنگلاتی علاقے میں ماؤ نوازوں کی جانب سے آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ چھپائے جانے کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، گڈچرولی پولیس فورس نے سرچ آپریشن کیا۔ گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ایم رمیش کی ہدایت پر، پرانہِتا (پرن ہیتا) سے اسپیشل آپریشن اسکواڈ (ایس او ایس) کے پانچ یونٹس اور بی ڈی ڈی ایس (بم ڈٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ) کی دو ٹیموں کو جنگلاتی علاقے میں تعینات کیا گیا۔ کل، 6 اکتوبر 2026 کو اسپیشل آپریشن اسکواڈز نے علاقے کا محاصرہ کیا اور بی ڈی ڈی ایس کے اہلکاروں نے مکمل تلاشی لی۔ موقع سے ماؤ نوازوں سے برآمد ہونے والے اسلحہ جات میں 1) ایک .303 رائفل، 2) دو سنگل شاٹ رائفلیں، 3) دیسی ساختہ دو پستول، 4) ایک بی جی ایل (بی جی ایل.) لانچر، 5) دس بی جی ایل شیل، 6) اکیس زندہ کارتوس، 7) سات ڈیٹونیٹرز، 8) 150 میٹر کیبل وائر، 9) دو میگزین، 10) دو پریشر ککر، 11) تین واکی ٹاکی، 12) تین واکی ٹاکی چارجرز، اور 13) دو واکی ٹاکی بیٹریاں؛ ماؤ نوازوں کا دیگر سامان شامل ہے سینئر افسران کی ہدایت پر موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔یہ آپریشن اسپیشل آپریشن اسکواڈ (پرانہتا)، انٹیلی جنس سیل اور بی ڈی ڈی ایس (بی ڈی ڈی ایس.) ٹیم کے اہلکاروں نے کامیابی سے انجام دیا۔ یہ کارروائی گڈچیرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی)ایم رمیش کے احکامات اور رہنمائی میں، اور ایڈیشنل ایس پی (آپریشنز) کارتک مدھیرا، ایڈیشنل ایس پی گوکل راج جی، ایڈیشنل ایس پی آہری (پرانہتا) ہرش وردھن بی جے، اور ڈپٹی ایس پی (آپریشنز) مسٹر سنیل اوئکے کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ رمیش نے اس آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں کی ستائش کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

احمد آباد کے 10 اسکولوں کو بم کی دھمکیاں، طلبہ کو جلد گھر بھیج دیا گیا۔

Published

on

احمد آباد : احمد آباد کے کم از کم 10 اسکولوں کو بدھ کے روز بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس سے حکام نے طلباء کو جلد گھر بھیجنے اور متاثرہ کیمپس میں پولیس، فائر ڈپارٹمنٹ کے عملے اور بم کا پتہ لگانے اور ناکارہ بنانے والی ٹیموں کو تعینات کرنے کا اشارہ کیا۔ دھمکیاں ملنے کے بعد اسکول انتظامیہ نے حکام کو الرٹ کیا، جس کے بعد سیکیورٹی ٹیموں کو مختلف مقامات پر چیک کرنے کے لیے روانہ کیا گیا۔ مبینہ طور پر متاثرہ اسکولوں میں ویجل پور کے علاقے میں واقع زائیڈس اسکول بھی ہے۔ اسکول نے دھمکی ملنے کے بعد روانگی کے وقت سے پہلے طلبا کو رہا کردیا، جبکہ پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی گاڑیوں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر کیمپس بھیج دیا گیا۔ اسکولوں نے بھی والدین کو طلباء کے جلد منتشر ہونے کے بارے میں مطلع کرنا شروع کردیا۔ حکام کیمپس میں سیکیورٹی چیکنگ کر رہے ہیں، جبکہ خطرات کی نوعیت اور منبع کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

رپورٹس کے مطابق، دھمکیوں کے سلسلے میں جن دیگر اسکولوں کا نام لیا گیا ہے، ان میں سیٹلائٹ میں بوداک دیو اسکول فار چلڈرن، چھروڈی میں ایس جی وی پی اسکول، سنت کبیر اسکول اور ڈرائیو اِن روڈ پر ایشیا اسکول شامل ہیں۔ متاثرہ اسکولوں کی صحیح تعداد کا ابھی بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کیونکہ حکام الرٹس کا جواب دیتے رہے ہیں۔ احمد آباد حالیہ مہینوں میں ایسے ہی کئی واقعات کا مشاہدہ کر چکا ہے۔ ستمبر میں، تین عدالتوں اور گجرات اسمبلی کے علاوہ شہر کے 10 اسکولوں کو بم کی دھمکی والی ای میل بھیجی گئیں۔ مقامات پر سیکیورٹی چیکنگ میں کوئی مشکوک چیز نہیں ملی، بعد میں دھمکیوں کو دھوکہ دہی کے طور پر بیان کیا گیا۔ جنوری میں، احمد آباد ضلع کے کم از کم 16 اسکولوں کو بھی بم کی دھمکی کی ای میلز موصول ہوئیں، جس کے نتیجے میں اسپیشل آپریشنز گروپ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈز نے انخلا اور تلاشی لی۔ پورے احمد آباد میں سیکیورٹی کا تازہ ردعمل، پولیس اور ہنگامی ٹیمیں متاثرہ اسکول کے احاطے کی جانچ کر رہی ہیں جبکہ حکام پیغامات کے ماخذ اور اعتبار کی چھان بین کر رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان