Connect with us
Friday,24-July-2026

(جنرل (عام

کشمیر میں عید الفطر، اجتماعی نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا

Published

on

وادی کشمیر میں اتوار کو کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر عید الفطر انتہائی سادگی سے منائی گئی۔ کہیں بھی نماز عید کا بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا تاہم بعض دیہی اور دور دراز علاقوں میں لوگوں نے نماز فجر کے بعد نماز عید ادا کی جس دوران سماجی دوری کا خیال رکھا گیا۔
گذشتہ رات قریب پونے گیارہ بجے جب پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے اعلان کیا کہ پاکستان بھر میں اتوار کو عیدالفطر منائی جائے گی تو وادی کشمیر میں بھی مختلف مذہبی تنظیموں کے سربراہوں بالخصوص جموں وکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے بھی اتوار کو عید الفطر منانے کا اعلان کیا۔
یو این آئی اردو کو موصولہ اطلاعات کے مطابق عید منانے کا اعلان اتنی تاخیر سے ہوا کہ وادی میں بیشتر لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز تراویح ادا کرچکے تھے۔ پاکستانی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے ساتھ ہی وادی میں کہیں مساجد کے لاوڈ اسپیکروں تو کہیں ڈھول بجاکر لوگوں کو شوال کا چاند نظر آنے کی اطلاع دی گئی۔
وادی میں عید الفطر کے موقع پر سب سے بڑے اجتماعات عیدگاہ سری نگر اور درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوتے ہیں تاہم کورونا وائرس کے خطرات اور حکومتی ایڈوائزری کے پیش نظر یہ اجتماعات منعقد نہیں ہوسکے۔ وادی کی تمام بڑی مساجد، امام بارگاہوں اور زیارتگاہوں کے منبر و محراب بھی خاموش رہے۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کشمیر میں نماز عید کے اجتماعات منعقد نہیں ہوئے۔ گذشتہ برس عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی یہاں یہ اجتماعات منعقد نہیں ہوسکے تھے کیونکہ تب انتظامیہ نے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں، جن کے تحت کشمیر کی خصوصی پوزیشن منسوخ کی گئی تھی، کے پیش نظر یہاں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک طلبا احتجاج : سوشل میڈیا پر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں غصہ چوطرفہ کارروائی کا مطالبہ

Published

on

Shiwaji-Park-Protest

ممبئی : ممبئی میں شیواجی پارک دادر میں احتجاج کے دوران ایک پولس اہلکار کی شرمناک حرکت سامنے آنے کے بعد ممبئی پولس نے اس کانسٹبل دیپک کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوا ہے, وہ ویڈیو غیر ذمہ دارانہ ہے اہلکار کی نیت خاتون سے بدسلوکی یا پھر اس سے چھیڑخانی نہیں تھی۔ جب ایک مرد کو مظاہرہ کے دوران پکڑنے اہلکار گیا تھا تو خاتون مظاہرین درمیان میں آگئی اور یہی وہ ویڈیو ہے اس معاملہ میں تفتیش کے بعد پولس محکمہ کے اعلیٰ افسران نے ویڈیو فوٹیج کا بغور معاملہ کے بعد مذکورہ بالا پولس اہلکار کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے شہریوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ پولس نے اپنے تردیدی بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین پر قابو کرنے والے کانسٹیبل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس نے قصدا خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا ہے, یہ بات ضرور ہے کہ وہ مظاہرین کو کنٹرول کر رہا تھا۔

اس معاملہ ایڈوکیٹ نتن ساتپوتے نے پولس کانسٹبل کو کلین چٹ دئیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ سے اپیل کی ہے وہ ازخود اس اہلکار کے خلاف کیس درج کروائیں اگر اس معاملہ میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا وہ مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اور دیگر میں طلبا پر تشدد برپا کرنے کے جو ویڈیوز وائرل ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ اس میں کئی ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے ہیں جو انتہائی درندگی پر مبنی ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک کانسٹبل دو طلبا کو جھوٹے ڈرگس کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے رہا ہے تو دوسرے ویڈیو میں پولس کانسٹبل کی یہ شرمناک حرکت سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو کے بعد کئی سیاسی لیڈران نے بھی اسے ٹوئٹ کیا ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, جبکہ اس معاملہ میں پولس نے کانسٹبل کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے پولس محکمہ کی شبیہ بھی متاثر ہے اس ویڈیو نے ممبئی پولس کو داغدار کر دیا ہے۔ پولس کے رویہ سے عوام میں ناراضگی ہے اور پولس کے تازہ موقف سے بھی عوام میں حیرت ہے کہ کانسٹبل بے قصور ہے اور اس کی کوئی خطا نہیں ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

این ای ای ٹی پیپر لیک معاملہ : دہلی کی عدالت نے ملزم منوج شرورے کی درخواست ضمانت مسترد کر دی

Published

on

نئی دہلی : دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ نے جمعہ کو این ای ای ٹی-یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں گرفتار منوج شرورے کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں منوج شرورے کے رول کو اہم قرار دیا ہے۔ اسپیشل جج (سی بی آئی) اجے گپتا نے دونوں فریقوں کو سننے اور ریکارڈ پر موجود شواہد پر غور کرنے کے بعد منوج شرورے کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ منوج شرورے نے تین طالب علموں کے کیمسٹری کے سوالات کو محفوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان طلبہ میں سے ایک ملزم کوچنگ سینٹر کے آپریٹر کا بیٹا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، شیرور نے ملزم پی وی کی مدد کی۔ کلکرنی ان طلباء کو کیمسٹری کے سوالات فراہم کرتے ہیں۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں اب تک 13 ملزمین کو گرفتار کیا ہے اور امتحان سے قبل این ای ای ٹی-یو جی کے سوالیہ پرچے حاصل کرنے اور پھیلانے میں ملوث ایک مبینہ نیٹ ورک کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سی بی آئی نے یہ کیس 12 مئی کو مرکزی وزارت تعلیم کے تحت محکمہ ہائر ایجوکیشن سے موصول ہونے والی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا تھا۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، پونے کی ایجوکیشن کنسلٹنٹ منیشا واگھمارے نے طلباء کو اکٹھا کرنے میں ایک درمیانی کا کردار ادا کیا جنہوں نے خصوصی کوچنگ سیشن میں شرکت کے لیے لاکھوں روپے ادا کیے تھے۔ ان سیشنز میں ایسے سوالات پر بحث کی گئی اور ان کا حکم دیا گیا جو بعد میں این ای ای ٹی-یو جی 2026 کے امتحان میں ظاہر ہوں گے۔ واگھمارے نے امیدواروں کے لیے خصوصی کوچنگ کلاسز کا اہتمام کیا، جسے این ٹی اے کی جانب سے مقرر کردہ نباتیات کی ایک سینئر استاد منیشا مندرے نے پڑھایا۔ منیشا پر بیالوجی پیپر لیک کیس میں شریک ماسٹر مائنڈ ہونے کا شبہ ہے، جبکہ کیمسٹری کے پروفیسر پی وی۔ کلکرنی کو لیک ہونے والے پیپر نیٹ ورک کا مبینہ کنگ پن سمجھا جاتا ہے۔ تیجس ہرشد شاہ، جو پونے کی اکیڈمی میں فزکس پڑھاتے ہیں، پر الزام ہے کہ اس نے فزکس کے سوالات کو شریک ملزم منیشا سنجے حوالدار سے حاصل کیا۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور ملک بھر میں کئی مقامات پر تلاشی لی گئی۔ دریں اثنا، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے 21 جون کو این ای ای ٹی-یو جی کا دوبارہ امتحان کامیابی سے کرایا تھا جب کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے خدشات کی وجہ سے اصل امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہر یونیورسٹی پر یوپی سرکار کی کارروائی پر عوامی تحریک کا انتباہ! اسلام جمخانہ میں علمائے کرام اور دانشوروں کا اجلاس، ریاستی گورنر سے مداخلت کی اپیل

Published

on

Abu-Asim

ممبئی رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو منہدم کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم پر ممبئی میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف آج ممبئی کے معروف ‘اسلام جم خانہ’ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شرکاء نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے مراکز قائم کرنے کے بجائے ایک ایسے ادارے کو تباہ کر رہی ہے جو ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔

اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، تعلیمی نظام اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یونیورسٹی کے آپریشنز یا تعمیرات کے حوالے سے کوئی تکنیکی بے ضابطگی تھی تو حکومت کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور ادارے کو بچانا چاہیے تھا۔ کوئی تعمیری حل تلاش کرنے کے بجائے یہ کارروائی صرف اور صرف سیاسی انتقام کے جذبے سے کی جارہی ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس غیر منصفانہ پالیسی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وفد فوری طور پر مہاراشٹر کے گورنر سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کرے گا، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ اتر پردیش حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ وارننگ بھی جاری کی گئی کہ اگر حکومت نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف مزید کارروائی کی تو ممبئی میں زبردست عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس اہم اجلاس میں ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی، یوسف ابراہانی، معراج صدیقی، مولانا انیس اشرفی، عامر ادریسی، سلیم الوار، سعید حامد، سرفراز آرزو، اور ڈاکٹر زیبا ملک سمیت ممبئی کے ممتاز علمائے کرام، سماجی کارکنان، اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان