Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

کسم تیواری نے منجھے ہوئے نیوز اینکر سمیت اوستھی کے چھکے چھڑا دیئے ،ملک کا میڈیا عوامل گمراہ کر رہا ہے

Published

on

اس وقت پورے ملک کے مسلمان ایک عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں، یکے بعد دیگرے حکومت مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کررہی ہیں اور مسلمانان ہند نہایت صبر و تحمل سے حکومت کا ہر وار برداشت کررہے ہیں، کانگریس این سی پی جیسی سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کے ڈسے ہوئے مسلمانوں کو بی جے پی سالم نگل جانا چاہتی ہے سچ کہا جائے تو جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں سب نے مسلمانوں کا استحصال ہی کیا ہے، مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے . پھر چاہے وہ کانگریس ہو راشٹریہ وادی ہو یا سماج وادی سب نے مسلمانوں کے مسائل پر صرف سیاسی روٹیاں ہی سینکی ہیں ، ان پارٹیوں اور ان کے لیڈران نے کبھی مسلمانوں کو متحد ہونے نہیں دیا، ہمیشہ ان کے درمیان آپسی نفرت ہی پیدا کی، یہی وجہ ہے کہ اب تک مسلمان اپنے قائد و سالار سے محروم رہیں، یہ پارٹیاں مسلمانوں سے ہمدردی کا جھوٹا ناٹک کرکے انہیں آپس میں الجھائے رکھتی ہیں ، تاکہ یہ کسی پرچم تلے یکجا نہ ہوسکیں ، جب کہ مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے بھی مسلمان چاہے سفر پر جاتے یا جنگ پر اپنا امیر یا سالار مقرر کرتے تھے ، اب جب کہ مسلمانوں پر ہند کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے ایسے میں مسلمان بے یار و مددگار کچھ کانگریس کے پالے میں ہیں تو کچھ کو این سی پی نے ہتھیا لیا ہے اور کچھ سماج وادی میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں،( یہاں ہم ان نام نہاد مسلمانوں کا تذکرہ نہیں کریں گے جو فرقہ پرست شیوسینا اور بی جے پی کے ٹٹو ہیں ) یہ تینوں بظاہر سیکولر پارٹیاں ہیں، جنھوں نے کبھی مسلمانوں کا بھلا نہیں سوچا، ہمیشہ اقتدار کا لالچ دے کر ایک دوسرے کے خلاف الجھائے رکھا ، جس کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہیں، جس کا پورا فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ، آج بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیمیں مسلمانوں کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے، ہجومی تشدد (مآب لنچنگ) میں مسلمانوں کا سیاسی قتل عام (Political Murder) کیا جارہا ہے ،یہ وہ تنظیمیں ہیں جو جانوروں پر تشدد کے خلاف احتجاج کرکے قانون ہاتھ میں لیتی ہیں ، جانوروں کی حفاظت کے لئے قانون ہیں مگر مسلمانوں کا خون پانی کی طرح سڑکوں پر بہہ رہا ہے، کیا اسی دن کے لئے ملک کو آزاد کرایا گیا تھا، بجرنگ دل ، وشوہندو پریشد اور آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست پارٹیاں آج مسلمانوں کو غدار کہہ کر بھارت چھوڑنے کا کہہ رہی ہیں مگر نہ کانگریس کے منہ میں زبان ہے نہ راشٹروادی گونگی ہے بہری تو سماج وادی بھی نہیں ہے ، پھر کیا وجہ ہے کہ کچھ کہنے سے پہلے ان پارٹیوں کو لکنت طاری ہو جاتی ہے ، آج مآب لنچنگ کے بعد مسلمانوں کے سر پر سب سے بڑا خطرہ این آر سی کا ہے ، مسلمان باہر محفوظ نہ تھا، اب تو این آر سی کے نام پر اسے ملک بدر کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں ، طلاق ثلاثہ بل منظور کرکے شریعتِ میں مداخلت کی کوشش کی گئی ، یوں تو لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر ہم حالیہ مسلمانوں کے سلگتے مسائل پر بات کریں گے ، اس وقت مآب لنچنگ کے وجہ سے ملک کا مسلمان گھر سے نکلتے ہوئے ڈر رہا ہے کہ پتہ نہیں کب ظالم جنونی ہجوم اسے ییٹ پیٹ کر قتل کردیں ، ان سب باتوں کو ہوا دے رہا ہے ملک کا الیکٹرانک میڈیا، میڈیا چاہے کوئی بھی ہو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا ، اگر میڈیا ہی گمراہ کرنے لگے تو عوام کی حفاظت خطرے کی زد میں آجاتی ہے ، ابھی ہم اس کا خلاصہ کردیتے ہیں، کملیش تیواری مرڈر کیس میں اے بی نیوزنے حد کردی، اے بی کے نیوز اینکر سمیت اوستھی نے کملیش تیواری کی ماں کسم تیواری کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا، سمیت اوستھی نے کملیش تیواری مرڈر کیس کے تار بلاوجہ مسلمانوں سے جوڑنے اور اسے ہندو مسلمان کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی مگر اس بزرگ خاتون کسم تیواری نے اس منجھے ہوئے نیوز اینکر کی ساری اینکری نکال دی ، یوپی کی اس خاتون نے سمیت اوستھی کو جھاڑ دیا کہ ہندو اور مسلمان کا نام میں نے نہیں لیا بلکہ آپ نے لیا ہے، کسم تیواری کے جھاڑنے پر سمیت اوستھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ لائیو ٹیلی کاسٹ چل رہا ہے، کسم تیواری باربار کملیش تیواری مرڈر کیس میں یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ کا نام لے رہی تھی، اس کے باوجود اس مرڈر کیس کو مسلمانوں سے جوڑ کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،آج مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے لئے تمام ہندو تنظیمیں ایک ہوگئی ہیں ، دبے دبے کانگریس راشٹروادی اور سماج وادی بھی اس کی ہمنوا ہے مگر مسلمانوں میں اتحاد کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات بھول کر بلاتفریق ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو جائے تو پھر یہ فرقہ پرست ان کی مآب لنچنگ بھول جائیں گے، لیکن آج مسلمان ہی مسلمان کا سب سے بڑا دشمن ہے، معاف کرنا مگر یہ اتنا ہی سچ ہے جتنا کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوب جاتا ہے، اسمبلی الیکشن کے نتائج کے بعد ابو عاصم اعظمی نے ایک انٹرویو دیا، جس میں اعظمی صاحب نے ایم آئی ایم پر تنقید کی، ان کا کہنا ہے کہ صرف مسلمانوں کو نہیں ہندوؤں کو بھی ساتھ لے کر چلیں اور اتحاد المسلمین کی وجہ سے سے یہ صرف مسلمانوں کی پارٹی کہلاتی ہے، موصوف جب سماج وادی سے منسلک ہوئے تھے تب مسلمانوں نے خوشیاں منائیں تھی ، انہیں قائد ملت کے خطاب سے نوازا تھا، ابو عاصم اعظمی کی شہرت کا ڈنکا بجتا تھا مگر سماج وادی نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور بابری مسجد شہادت کے مجرم کلیان سنگھ سے ہاتھ ملا لیا تھا، تب زخم خوردہ مسلمانوں نے واپس کانگریس میں پناہ لی تھی کیونکہ ان کے پاس سیکولر کے نام پر کانگریس اور سماج وادی پارٹی تھی دونوں ہی پارٹیاں سیکولر کے مکھوٹے میں اپنا چہرہ جھپائے ہوئے تھی، راشڑ وادی بھی کانگریس کی کوکھ سے جنمی ہے، ایسے میں مسلمانوں کو ایک اپنی پارٹی کی اشد ضرورت تھی، جو واقعی ان کی اپنی ہو ، انہیں پتہ ہے کہ اگر مسلمان ایک ہوگئے تو یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔، ایک شخص اگر مسلمانوں کے لئے لڑرہا ہے انہیں متحد کررہاہے تو خدارا اگر اس شخص کے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتے تو نہ کریں مگر برائے کرم اس کی ٹانگ نہ کھینچے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان