مہاراشٹر
لاک ڈاؤن کیخلاف منگل کو تجارتی تنظیموں کیساتھ جنتا دل سیکولر کا احتجاج

مالیگاؤں : (خیال اثر ) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے چلتے پچھلے سال ملک بھر میں سرکار کی طرف سے لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا. تقریباً تین ماہ سخت لاک ڈاؤن رہا جس کی وجہ سے چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے کنگال ہوگئے. یہاں تک کہ کئی بڑے کاروباری بھی دیوالیہ ہوگئے۔ کئی نے تو خودکشی بھی کر لی. حالات کچھ حد تک سدھرنے پر کاروبار دھیرے دھیرے اپنی رفتار پر آ ہی رہے تھے کہ مہاراشٹر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی آڑ میں ایک بار پھر ریاستی سرکار نے سخت لاک ڈاؤن کی جانب پیش قدمی کردی۔
مالیگاؤں میں کورونا کی صورتحال اطمینان بخش ہونے کے باوجود گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے رات کے کرفیو کا نفاذ کردیا گیا جس کی وجہ سے شہر میں چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے پھر سے پریشانی کا شکار ہوگئے. انتظامیہ سے گفت شنید پر بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔ انہیں حالات میں مہاراشٹر سرکار کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن جیسی شرائط عائد کردی گئیں. جس کی وجہ سے شہر سمیت مہاراشٹر بھر کے چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں سمیت دیگر کاروباری افراد بھی سخت نالاں نظر آئے. مالیگاؤں میں کچھ زیادہ ہی بے چینی دیکھنے کو ملی کیونکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس کے فوراً بعد عید کا تہوار ہے. شہر میں دھندہ کاروبار کرنے والے جو پچھلے سال زبردست معاشی بحران سے گذرے تھے، اس سال یہ امید لئے ہوئے تھے کہ اب کی بار رمضان المبارک اور عید کا سیزن اچھا گذرے گا تو پچھلے سال کے نقصان کی کچھ حد تک بھرپائی ہو سکے گی مگر سرکاری رہنمایانہ ہدایات کے چلتے انہیں پھر مایوسی ہوئی۔
جنتادل سیکولر نے شہر کے کاروباری افراد کی اس مایوسی اور فکرمندی کو محسوس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کاروبار جاری رکھنے کے تعلق سے سرکار نے اپنے حکمنامے میں تبدیلی نہیں کی تو جنتادل سیکولر کے ورکر پارٹی سیکریٹری مستقیم ڈِگنیٹی کی قیادت میں دوکانیں کُھلوائیں گے- جنتادل سیکولر کے اس اعلان کی شہر بھر کی کئی تنظیموں، ہاکر یونینوں اور سرکردہ شخصیات نے حمایت کی. جنتادل سیکولر کی جانب سے جب دوکانوں کو کُھلوانے کی کوشش کی گئی تو پولیس انتظامیہ نے سیکریٹری مستقیم ڈِگنیٹی سمیت جنتادل ورکروں اور آندولن کرنے والوں کو گرفتار کر لیا. جس کے بعد جنتادل کے ذمہ داران سے پولیس، پرانت اور کارپوریشن افسران نے کئی گھنٹہ طویل گفتگو کی جس میں یہ طئے پایا کہ 12 اپریل بروز پیر تک سرکار سے بات چیت کرکے انتظامیہ شہر مالیگاؤں کیلئے لاک ڈاؤن سے متعلق کوئی حل پیش کرے گی. اسی وقت جنتادل سیکولر کی جانب سے مستقیم ڈِگنیٹی نے یہ اعلان کیا گیا کہ اگر پیر تک کوئی مثبت فیصلہ نہیں لیا گیا تو منگل کے دن جنتادل سیکولر کی کارگذار صدر شانِ ہند نہال احمد کی قیادت میں چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں کے گھر کی خواتین سمیت شہر کے مختلف علاقوں کی خواتین بھی احتجاج کیلئے راستے پر آ جائیں گی۔
جنتادل سیکولر کے جیل بھرو آندولن نے مہاراشٹر بھر میں دھندہ بیوپار کرنے والوں میں جوش و ہمت پیدا کی. ریاست کے کئی علاقوں سے بذریعہ فون مبارکباد دینے کے ساتھ ہی اگلے احتجاجی قدم کا ساتھ دینے کیلئے بھی کئی کاروباریوں نے منشاء ظاہر کی.
مالیگاؤں شہر سمیت مہاراشٹر بھر کے چھوٹے بڑے کاروباری اور عام شہری بھی اب کسی طرح کے لاک ڈاؤن کی حمایت میں نہیں ہیں. کورونا وائرس کی سخت لہر کے دوران بھی کاروباریوں سمیت عوام کو ریاستی سرکار کی جانب سے پچھلے ایک سال میں کوئی خاص مدد فراہم نہیں کی گئی. اس کے برعکس چھوٹے سے لے کر بڑے کاروباریوں نے سرکار کو جی ایس ٹی، سیلس ٹیکس، انکم ٹیکس سمیت ہر طرح کے ٹیکس کی ادائیگی وقت مقررہ پر کی. اب ایسے افراد کی معاشی حالت تشویشناک ہے مگر سرکار ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے. یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کورونا سے نپٹنے کا موثر قدم بھی نہیں ہے. اس کی وجہ سے سرکاری خزانہ بھی خالی ہوتا جارہا ہے. اس لئے جنتادل سیکولر نے ایک لائحۂ عمل تیار کیا ہے کہ ہم مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ کو ایک مطالباتی خط روانہ کریں گے اور ان سے مانگ کریں گے کہ 12 اپریل پیر کے دن تک حکومت لاک ڈاؤن کے تعلق سے اپنی گائیڈ لائن میں تبدیلی لاتے ہوئے چھوٹا موٹا کاروبار جاری کرنے کیلئے مثبت فیصلہ لے. دوکاندار اور کاروباری احتیاطی تدابیر کے ساتھ تجارتی مراکز جاری کرنے پر رضامند ہیں تو حکومت بھی ان کے تعلق سے نرم گوشہ اختیار کرے۔
پچھلے سال رمضان کے مبارک مہینے میں عام لوگوں نے سرکار کی سبھی گائیڈ لائن پر مکمل عمل کرتے ہوئے مساجد کو بند رکھا. صرف پانچ افراد ہی نمازوں کے اوقات میں حاضر رہے مگر اس سال خصوصاً مالیگاؤں میں عوام مساجد بند کرنے کی قطعی حمایت میں نہیں ہیں اس لئے مساجد کے تعلق سے بھی حکومتی رہنمایانہ ہدایات کو تبدیل کرتے ہوئے رمضان المبارک میں نمازیوں پر پابندی عائد نہ کی جائے. دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات میں عقیدت مندوں کے داخلے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
یہ مطالبات جنتادل سیکولر کی جانب سے وزیراعلیٰ کو روانہ کئے جا رہے ہیں. ان مطالبات کی یکسوئی نہ ہونے یا اطمینان بخش فیصلہ نہ لئے جانے پر اعلان کے مطابق 13 اپریل بروز منگل، دوپہر تین بجے سے چار بجے کے درمیان جنتادل سیکولر کی کارگذار صدر شانِ ہند نہال احمد کی قیادت میں خواتین احتجاج کریں گی. یہ احتجاج صرف مالیگاؤں شہر ہی نہیں جنتادل سیکولر کی جانب سے مہاراشٹر کے کئی شہروں میں منعقد کیا جائے گا جس کیلئے پارٹی کے ریاستی ذمہ داران اور کاروباری یونینوں سے مسلسل رابطہ جاری ہے۔ کچھ شہروں کی یونینوں نے حمایت دینے کی حامی بھی بھری ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال کورونا بھگانے کے نام پر مودی سرکار نے تالی، تھالی بجانے اور موم بتی و ٹارچ جلانے جیسے اقدام اٹھائے تھے جس کا ملک بھر نے بھر پور ساتھ دیا تھا مگر مودی سرکار کے اس قدم سے کورونا ختم تو نہیں ہوا البتہ عوام کی تھالی اور ڈبّے تک خالی ہوگئے۔ اب نوبت کرو یا مرو کی آگئی ہے۔اس لئے جنتادل سیکولر مہاراشٹر بھر میں تجارتی تنظیموں کو ساتھ لے کر منگل کے دن خواتین کا جو احتجاج منعقد کرے گی اس میں تالی، تھالی اور اناج کے خالی ڈبّوں کے ساتھ زوردار احتجاج کیا جائے گا ریاست بھر میں ہونے والا یہ احتجاج اتنا زبردست ہوگا کہ مہاراشٹر سرکار کو چھوٹے کاروباریوں اور عوام کے آگے جھکنے پر مجبور کر دے گا۔ سخت اور بے جا لاک ڈاؤن کے خلاف عوامی غم و غصے کی ترجمانی کیلئے مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر جنتادل سیکولر کمربستہ ہے. جنتادل سیکولر سبھی چھوٹے بڑے کاروبار کرنے والوں سے درخواست کرتی ہے کہ آپ کے اپنے حق کیلئے چلائی جانے والی اس تحریک میں شامل رہ کر اسے طاقتور بنائیں.
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
سیاست
وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔
ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا