(جنرل (عام
جموں و کشمیر : 34 گھنٹوں کے ‘کورونا کرفیو’ کے بعد معمولات زندگی بحال
لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی طرف سے کورونا وباء کی روک تھام کو ممکن بنانے کے لئے 34 گھنٹوں پر محیط کورونا کرفیو نافذ رہنے کے بعد جموں و کشمیر میں پیر کے روز جزوی کاروباری سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔
یاد رہے کہ انتظامیہ نے کورونا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر جموں و کشمیر میں 34 گھنٹوں تک جاری رہنے والے ‘کورونا کرفیو’ کے نفاذ کے احکامات جاری کئے تھے، جس کے باعث یونین ٹریٹری میں اتوار کو ہر سو سناٹا چھایا رہا اور تمام تر کاروباری سرگرمیاں بند اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی۔
یو این آئی اردو کے ایک نمائندے نے شہر سری نگر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ سری نگر کے تمام علاقوں میں جزوی کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں اورکرفیو پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اتوار کو سڑکوں پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سری نگر کے تجارتی مرکز لالچوک جس کو گذشتہ روز سیل کر دیا گیا تھا، میں کاروباری سرگرمیاں اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بحال ہوئی ہے تاہم تازہ ہدایات کے مطابق بازاروں میں پچاس فیصد دکان ہی کھلے رہے، لوگوں اور دکانداروں کو دوسرے کارونا گائیڈ لائنز پر عمل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بازاروں، سڑکوں اور گاڑیوں میں لگ بھگ صد فیصد لوگوں کو فیس ماسک لگائے ہوئے دیکھا گیا اور دکانداروں کو بھی باقی تمام تر کورونا گائیڈ لائنز کو اپناتے ہوئے دیکھا گیا۔
موصوف نے کہا کہ سری نگر کے دیگر علاقوں بشمول مہاراج بازار، امیرا کدل، کورٹ روڈ، ریگل چوک، ریذیڈنسی روڈ، مولانا آزاد روڈ، مائسمہ، گاؤ کدل، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور ڈلگیٹ وغیرہ میں بھی پیر کے روز معمولات بحال ہوئے اور پچاس فیصد دکان کھلے رہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے کناروں پر ریڑوں پر مختلف چیزیں بالخصوص سبزیاں اور پھل بیچنے والوں نے بھی پیر کے روز اپنے ریڑے لگائے تھے اور کام میں مصروف تھے۔ بازاروں کے ساتھ ساتھ بینکوں اور دیگر سرکاری دفاتر میں بھی معمول کا کام کاج بحال ہوا، اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی معمول کے مطابق جاری رہی۔
وادی کے دوسرے ضلع صدر مقامات و قصبہ جات میں بھی 34 گھنٹوں کے کورونا کرفیو کے نفاذ کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے کی اطلاعات ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی پیر کو معمولات زندگی بحال ہوئے اور تازہ ہدایات کے مطابق بازاروں میں پچاس فیصد دکان کھلے رہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی بحال ہوئی۔ ادھر لوگوں کا الزام ہے کہ مسافر گاڑی والے کورونا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کر کے گاڑیوں میں صد فیصد سواریاں اٹھاتے ہیں۔
محمد اشرف نامی ایک مسافر نے یو این آئی کو بتایا کہ میں نے جس سومو میں چھانہ پورہ سے لالچوک تک سفر کیا اس میں برابر سواریاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سومو ڈرائیور نے ہمارے اصرار پر بھی پچاس فیصد سواریاں اٹھانے سے انکار کیا۔ ادھر ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں پچاس فیصد سواریاں اٹھانے سے ان کو بے تحاشا نقصان ہوگا۔
تصدق حسین نامی ایک سومو ڈرائیور نے یو این آئی کو بتایا کہ پچاس فیصد سواریاں اٹھانے سے ہم تیل کا خرچہ بھی نہیں کما سکیں گے تو ہمارا اور گاڑی کے دوسرے اخراجات کا کیا ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ ملک بھر کی طرح جموں و کشمیر میں بھی کورونا کیسز میں روز افزوں غیر معمولی اضافہ درج ہو رہا ہے، جس سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
جموں و کشمیر انتظامیہ نے کورونا کی اس دوسری لہر کی روک تھام کے لئے یونین ٹریٹری میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے، جس کے تحت بازاروں میں صرف پچاس فیصد دکان ہی کھلے رہتے ہیں اور مسافر بردار گاڑیوں کو بھی پچاس فیصد سواریاں اٹھانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
جرم
جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔
بزنس
ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔
ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔
کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔
گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم
ممبئی پریس خصوصی خبر
ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔
ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔
- کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
- گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
- اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
- کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات
ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔
حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :
ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—
- تھرڈ پارٹی حقوق
- بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
- دیگر تمام مالی ذمہ داریاں
ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔
حکومت نے ہدایت دی ہے—
- ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
- اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
- بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔
مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔
ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔
جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔
-
سیاست1 سال agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 سال agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 سال agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم5 سال agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 سال agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 سال agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 سال agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 سال agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
