(جنرل (عام
جماعتِ اسلامی ہند، مہاراشٹر کی اپیل : بلدیاتی انتخابات میں ذمہ داری کے ساتھ ووٹ ڈالیں، ووٹ ہی شہر کی طاقت اور مستقبل ہے
ممبئی : شیخ مجیب و شاکر شیخ ذمہ سیکرٹری جماعتِ اسلامی ہند، مہاراشٹر نے ان تمام شہروں کے شہریوں سے جہاں بلدیاتی (میونسپل) انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، اپیل کی ہے کہ وہ پوری ذمہ داری، بیداری اور اخلاقی اقدار کے شعور کے ساتھ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں۔ ذمہ داران نے واضح کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات صرف نالیوں، سڑکوں یا پانی کی فراہمی تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ یہ شہر کی عزت، انصاف، امن اور ہمہ جہت ترقی کا فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کا ووٹ ان کی اصل طاقت ہے اور اس کا براہِ راست تعلق آنے والی نسلوں کی زندگی سے ہے۔ مقامی خود اختیاری اداروں کے فیصلوں کا اثر شہریوں کی روزمرہ زندگی، سماجی ہم آہنگی اور انتظامیہ کے معیار پر پڑتا ہے۔ اس لیے جذبات یا وقتی فائدوں کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے سوچ سمجھ کر اور معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا نہایت ضروری ہے۔
ذمہ داران کے مطابق صحیح امیدوار وہی ہے جو دیانت دار ہو، عوام کے مسائل اور تکالیف کو سمجھتا ہو، ذاتی یا گروہی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتا ہو اور عوامی خدمت کو ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہو۔ بلدیاتی ادارے شہر کی سمت متعین کرتے ہیں، اور منتخب نمائندوں کا کردار اور اقدار ہی یہ طے کرتی ہیں کہ شہر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا یا زوال کی طرف جائے گا۔
ووٹوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ذمہ داران نے سخت انتباہ دیا ہے اور اسے ضمیر کی فروخت اور بچوں کے مستقبل سے خیانت قرار دیا ہے۔ چند پیسوں کے عوض ووٹ دینا دراصل شہر کے مستقبل کا سودا کرنا ہے۔ جو لوگ آج ووٹ خریدتے ہیں، وہ کل عوامی وسائل اور عوامی اعتماد کو بھی بیچنے سے گریز نہیں کریں گے، یہ بات بھی اپیل میں واضح کی گئی ہے۔
انتخابی عمل کے دوران سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن باہمی احترام، برداشت اور اتحاد ہی شہر کی اصل طاقت ہیں۔ لڑائی جھگڑے اور نفرت شہر کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرتے ہیں۔
ذمہ دارانِ جماعتِ اسلامی ہند، مہاراشٹر نے شہریوں کو یاد دلایا ہے کہ ووٹ دینا محض ایک حق نہیں بلکہ ایک فریضہ اور امانت بھی ہے۔ ووٹ نہ دینا نااہل اور غیر اخلاقی عناصر کو موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہر شہری کو چاہیے کہ وہ ضرور ووٹ دے، نہ ووٹ بیچے اور نہ کسی کو بیچنے دے، اور شہر کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔
آخر میں ذمہ داران نے اس یقین کا اظہار کیا کہ باخبر اور ذمہ دار شہری شرکت ہی کے ذریعے ایک مثالی، پرامن اور ترقی یافتہ شہر کی تعمیر ممکن ہے، اور جمہوری اقدار کے استحکام کے لیے اپنی وابستگی کو ایک بار پھر دہرایا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : مینارہ مسجد کی ۷۶ لاکھ کی پراپرٹی ٹیکس کی نوٹس واپس لی جائے, یہ کوئی کمرشل ادارہ نہیں ہے : اعظمی

یہ مسجد میں مدرسہ ہے یہاں بچے دینی تعلیم سے بہرور ہوتے ہیں اس لئے اس ٹیکس نوٹس کو واپس لیا جائے کیونکہ اتنی خطیر رقم ادائیگی مشکل ہے اور مسجد کو اتنی بڑی رقم کی نوٹس ارسال کرنا درست نہیں ہے ۔ سماجی انصاف میں اقلیتوں کے بجٹ میں ناانصافی ، سماجی انصاف بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایوان میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ پہلے محکہ کا بجٹ ۶ سو دو کروڑ روپیہ تھا بعد میں اس میں تخفیف ہو گئی اور ۲۰۲۴۔۲۵ میں بجٹ میں صرف ۲۸ ہزار طلبا کو تعلیمی وظائف ملے ہیں لیکن اب اس میں مزید تخفیف ہو کر صرف ۷ ہزار طلبا کو ہی تعلیمی وظائف کی فراہمی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اس لئے اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اتنا ہی نہیں اقلیتوں کے سہولیات کے مطابق بجٹ فراہم ہو انہوں نے ایوان میں اپنی بات اس شعر پر ختم کی۔ کبھی روزی کبھی آشیانہ چھین لیتا ہے جہاں ملتا ہے موقع آب و دانا چھین لیتا ہے، ہمیں اپنی تباہی کی خبر ہو ہی نہیں پاتی سب یہ خوشیاں ہماری غائبانہ چھین لیتا ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
