Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

متحدہ عرب امارات میں اردو زبان وادب کے بولنے سمجھنے والوں کی تعداد بڑھی ہے

Published

on

اردو ہندوستان کی وہ زبان ہے جو دنیا بھر میں مقبول ہے اور خاص طورسے متحدہ عرب امارات میں اردو زبان وادب کے بولنے سمجھنے والوں کی تعدادروز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ یہ بات قومی اردوکونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے متحدہ عرب امارات میں مقیم اردو کے معتبر شاعر عرفان اظہاراور دیبا سلیم عرفان کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں کہی۔
انہوں نے کہاکہ ان ممالک میں ہندوستان کی تہذیب وثقافت کو نہ صرف پسند کیا جارہا ہے بلکہ اپنا یابھی جارہا ہے۔ فارسی سے اردو شاعری تک کی سرپرستی اپنے اپنے دور کے بادشاہوں، نوابوں نے کی۔آج کے دورمیں بادشاہ اور نوابین موجود نہیں ہیں لیکن عرفان اظہاراور دیبا سلیم عرفان جیسی شخصیتیں اردو زبان کی ترقی وفروغ کے لیے کوشاں ہیں اور وہ دیارِ غیرمیں ہندوستان کی سیکڑوں سالہ گنگاجمنی تہذیب کی نمائندگی بھی کررہے ہیں۔
قومی کونسل کے صدر دفترمیں منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر عقیل نے مزید کہا کہ وہ یواے ای کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی اردو کی ترویج واشاعت کے لیے مشاعرے منعقد کراتے رہتے ہیں۔ شعروشاعری کا رجحان انھیں ورثے میں ملا ہے۔ ان کے والد محترم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہئ جغرافیہ کے پروفیسر تھے۔وہ اردوکے اچھے شاعر تھے۔ گھر کے شاعرانہ ماحول کے سبب عرفان اظہار کو بھی شعروشاعری سے دلچسپی ہوگئی۔ انھیں اس بات کا فخر حاصل ہے کہ یواے ای میں اردو کی تنظیمیں ان کی سرپرستی میں کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عرفان اظہاراردو پریس کلب انٹرنیشنل کے صدر بھی ہیں اور دبئی میں انڈیا کلب کے اسپورٹ ڈائریکٹر بھی۔انھیں متعدد تنظیموں، اداروں کی طرف سے کئی ایوارڈز سے بھی سرفراز کیا جاچکاہے، جن میں اسٹارڈسٹ اچیومنٹ ایوارڈ 2017،ملینیم لیڈرشپ ایوارڈ 2016، سیونتھ میڈل ایسٹ بزنس شپ لیڈرایوارڈ 2016، بیسٹ ڈوکیومنٹری ایوارڈدی فلم جرنی آف تھاؤزنڈس مائل 2015 کے علاوہ بیسٹ ہیومنیٹرین ایوارڈ فار دی فلم جرنی آف تھاؤزنڈس مائل 2015 خاص اہمیت کے حامل ہیں۔انھوں نے 2003 میں سرزمین دوبئی پر کاروبارکا آغاز کیا، اور پانچ سال کی قلیل مدت میں گروپ آف کمپنی کے مالک بن گئے۔
شیخ عقیل احمد نے عرفان اظہار کی اہلیہ دیبا سلیم کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ انھیں فارسی، فرنچ، اردو، ہندی کے علاوہ انگریزی پر عبور حاصل ہے۔ان کی دو کتابیں انگریزی میں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں سے ایک کتاب کا ترجمہ اردو میں بھی ہوچکاہے۔اس موقعے پرعرفان اظہار نے اپنی شاعری سے سامعین کو محظوظ کیا اوراردو کے تئیں کونسل کی خدمات کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ قومی کونسل نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں اردو کے فروغ کے لیے زمینی سطح پر کام کررہی ہے۔ کونسل کے ڈائرکٹر کی بہترکارکردگی اوراردو کی ترقی کے لیے اٹھائے جارہے اقدامات کی بھی انھوں نے تعریف کی۔ اس موقعے پر کونسل کی کئی شخصیات موجود رہیں، جن میں شمع کوثر یزدانی اسسٹنٹ ڈائرکٹر اکیڈمک، جناب ڈاکٹر فیروز عالم یجوکیشن اسٹنٹ آفیسر، اور ڈاکٹر شاہد اخترانصاری کے نام خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان