Connect with us
Monday,21-September-2026

(جنرل (عام

اردو کی کلاسیکی شاعری میں عشق کا اظہار براہِ راست نہیں ہوتا: پروفیسر ابنِ کنول،اردو شاعری میں عشق کی کیفیات نے روح سے جسم تک کا سفر مکمل کرلیا ہے: پروفیسر نجمہ رحمانی

Published

on

Urdu-Shayari

ہماری تہذیب میں عشق کی باتیں اشاروں، کنایوں، تشبیہات اور استعارات میں کہی جاتی ہیں جبکہ مغربی تہذیب میں عشق کا اظہار بلاواسطہ کھُل کر کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس اردو کی کلاسیکی شاعری میں عشق کا اظہار کبھی براہِ راست نہیں کیا جاتا۔ یہ بات شعبہئ اردو، دہلی یونیورسٹی، کے سابق صدر اور معروف افسانہ نگار پروفیسر ابنِ کنول نے سینٹ اسٹیفنز کالج میں یک روزہ سیمینار بعنوان ’اردو شاعری میں عشق کی ایمائی کیفیات‘ میں اپنے صدارتی خطاب میں کہی۔
انہوں نے کہاکہ سیمینار کا موضوع ہماری مشرقی تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔اس بارے میں انہوں نے مختلف شعرا کے کلام کی مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عشق ہمارے ادب کا اہم اور شاعری کا بنیادی موضوع ہے۔ غیراردو داں طبقے میں اردو شاعری کی مقبولیت کا سبب ہی عشق کا بیان ہے۔ یہ طبقہ ہماری شاعری سے محبت کرتا ہے اور شاعری میں عشق کی پیشکش کو کہیں پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سیمینار میں پیش کیے گئے مقالات پر فرداً فرداً تبصرہ بھی کیا۔
دہلی یونیورسٹی کے شعبہئ اردو کی صدر اور مہمانِ خصوصی پروفیسر نجمہ رحمانی نے کہا کہ اردو کے کلاسیکل شعرا کے کلام میں عشق کی متعدد کیفیات ملتی ہیں۔ میرؔ اپنے عشق پر خود ہی فریفتہ ہیں اور اپنے جذبے کے دیوانے ہیں۔ اسی لیے اُن کے یہاں رقیب بھی نہیں ہے۔ لیکن فیضؔ نے رقیب کو دوست بنا لیا ہے۔ انہوں نے سماج کی بدلتی ہوئی اخلاقی اقدار کے حوالے سے کہا کہ اردو شاعری میں عشق کی کیفیات نے روح سے جسم تک کا سفر مکمل کرلیا ہے۔ عشق ایک آفاقی جذبہ ہونے کے سبب روحانیت کا محور، رشتوں کی کشش اور تصوف کا مرکزہے۔ اس جذبے سے سرشار دل ہمیشہ ایمان دار ہوتا ہے، وہ درد آشنا ہوتا ہے اور دوسروں کے دکھ درد کو سمجھتا ہے۔
سیمینار کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر شمیم احمد نے کہا کہ اردو کے شعرا نے محبوب کے ساتھ ساتھ وطن اور سماج سے بھی عشق کیا ہے۔ سیمینا ر میں گیارہ مقالے پیش کیے گئے۔ پروفیسر مشتاق قادری نے ’اقبالؔ کی شاعری میں عشقِ رسولؐ‘،پروفیسر محمد ساجد حسین نے ’عشقِ رسولؐ اور اردو کلامِ غالبؔ‘، ڈاکٹر احمد امتیاز نے ’خواجہ میردردؔ کا تصورِ عشق: چند معروضات‘، ڈاکٹر علی احمد ادریسی نے اقبالؔ کا تصورِ عشق‘، ڈاکٹر ناصرہ سلطانہ نے ’داغؔ کی شاعری میں تصورِ عشق‘، ڈاکٹر عطیہ رئیس نے ’حسرتؔ کا تصورِ عشق‘، ڈاکٹر سطوت اللہ خالد نے ’اسرارالحق مجازؔ کی عشقیہ شاعری‘، ڈاکٹر عبدالرحمن نے ’مثنویاتِ میرؔ کا پسندیدہ موضوع:عشق‘، ڈاکٹر صبا عنبرین نے فیضؔ کی شاعری میں عشق کی کیفیت‘، توحید حقانی نے ’میرحسن کی مثنوی سحرالبیان میں نوجوان کرداروں کا عشق اور شمیم احمد نے میرتقی میرؔ کی غزلیات میں عشق کا بیان‘ کے موضوع پر مقالے پیش کیے۔
قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان کے اشتراک سے منعقد ہ اس سیمینار میں دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ، ریسرچ اسکالر، طلبہ و طالبات اور شعبہئ تاریخ کی ڈاکٹر ثبینا کاظمی اور شعبہئ فارسی کے ڈاکٹر ظفر امام بھی موجود تھے۔ اسی دوران سینٹ اسٹیفنز کالج میں بی اے (پروگرام)، سال دوم، کی طالبہ نمرہ بابا نے فیض احمد فیضؔ کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے‘ اور بی اے آنرس (انگلش)، سال سوم، کی طالبہ اقرا شمیم نے اقبال کی نظم مسجدِ قرطبہ کے ابتدائی اشعار پیش کیے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کےطلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہب کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

Published

on

I.-Airport

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان