ممبئی پریس خصوصی خبر
حقیقی موضوعات سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی نے آرٹیکل 370 لایا ہے : شرد پوار

ممبئی : شرد پوار نے کہاکہ ”مذکورہ وزیراعظم نے کہاکہ ’اپنے منشور میں مسٹر شرد پوار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘ سب سے پہلے ہمارے منشور جاری ہوگیا ہے۔ اور جب ارٹیکل 370 ہٹا دیا گیا ہے تو ہم اس پر اب کیا کہہ سکتے ہیں ؟“ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ 78 سالہ شرد پوار 21 اکٹوبر کو مہارشٹرا میں منعقد ہونے والے اسمبلی الیکشن میں مرکزی اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے قومی معاملات پر توجہہ مرکوز کرنے کی وجہہ سے اپوزیشن کو درپیش مشکلات کے متعلق بات کی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے اگر یہ ایک طرفہ لڑائی ہے تو وزیراعظم (نریندر مودی) یہاں پر نو عوامی جلسوں سے کیوں خطاب کررہے ہیں؟ کیوں مرکزی وزیرداخلہ (امیت شاہ) 20 جلسوں سے خطاب کررہے ہیں؟ کیوں وہ یہاں پر اتنا وقت گذار رہے ہیں؟ سارے ملک سے بی جے پی قائدین اس کے اراکین پارلیمنٹ ریاست کے کونے کونے میں جارہے ہیں۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حالات ان کے موافق نہیں ہیں۔ جو ہم نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں دیکھا ہے اور جو ہم اسمبلی الیکشن میں دیکھ رہے ہیں اس میں بڑا فرق ہے۔ اسی طرح کے حالات پورے مہارشٹرا میں ہیں‘ اور جن کے پاس معلومات کی کمی ہے وہی یہ کہہ رہے ہیں کہ (لڑائی یکطرفہ ہے) مذکورہ کانگریس کو بڑی مشکل سے راجستھان اور مدھیہ پردیش میں 2018 کے اسمبلی الیکشن میں اکثریت حاصل ہوئی ہے؟ وہاں پر بی جے پی کی سابق میں حکومت تھی۔ لہذا عوام نے بڑے پیمانے پر بی جے پی حکومت کو نکال باہر کیا۔ ایک اکثریت ہر حال میں اکثریت ہوتی ہے کیا آپ کو احساس ہورہا ہے کہ ایک کا ساتھی کمزور ہے؟ مذکورہ کانگریس کو بڑے پیمانے پر داخلی خلفشار کا سامنا ہے۔ ملند دیوا اور سنجے نروپم جیسے لوگ ایک دوسرے پر حملہ کررہے ہیں؟ میں اتنا نہیں سونچتا، آپ اگر کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں وہاں پر کانگریس کی حمایت میں ایک بڑی آبادی ملے گی۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ امیدوار کون ہے‘ وہ صرف کانگریس کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ اس قسم کی بنیاد وہاں پر ہے۔ درج فہرست پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے لئے ان کی پارٹی کانگریس ہے۔ یہ ایک مضبوط بنیاد ہے۔ جن لوگوں کے نام کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ ریاست میں کانگریس کے حقیقی لیڈران نہیں ہیں۔ وہ ٹیم میں شامل ہیں مگر زمینی سطح سے جڑے لیڈران میں ان کا شمار نہیں ہوتا۔ بی جے پی نے قومیت کو اجاگر کیا ہے اور جموں اور وکشمیر سے ارٹیکل 370 کو ہٹادیا۔ اس کا کیااثر پڑے گا؟ آپ کو مذکورہ الیکشن میں اصلی مسائل دیکھنے ہوں گے۔ زراعی طبقات میں بحران ہے۔ 16000 کسانوں نے خودکشی کرلی۔ اگر کچھ حالات بہتر قیمتوں کے انہیں ملتے ہیں تو حکومت فوری مداخلت کرتی ہے۔ اس کے لئے پیاز کے کسانوں کا معاملہ ہے۔ جب انہیں اچھی قیمت مل رہی تھی، مذکورہ حکومت نے پیاز کی درآمد بند کردی۔ یہ تمام پالیسیوں سے زراعت پر اثر پڑ رہا ہے۔ بینج اور کھاد کی قیمتوں پر کنٹرول یا قابو بلکل نہیں ہے۔ دوسری بات ہم تمام کئی سالوں سے مہارشٹرا کو ایک صنعتی اسٹیٹ کے طور پر ترقی دینے کے فیصلے پر سنجیدہ ہیں۔ اسی وجہہ سے (ریاست کے پہلے چیف منسٹر) وائی بی چوہان کے دنوں سے ہم نے ناگپور‘ اورنگ آباد‘ اور صنعتی پالیسیوں کو پیش کیا۔ان تمام علاقوں میں ہزاروں لوگ کام کررہے ہیں۔ آج کے وقت میں بی جے پی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ پالیسیوں کی وجہہ سے 50 فیصد سے زیادہ صنعتی یونٹس بند ہوگئے ہیں۔ صنعتوں کی تباہی ریاست کا سب سے حساس مسئلہ ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری۔ پونا میں 30-40 انجینئرنگ کالج آپ کو مل جائیں گے‘ مگر گریجویٹ ہونے والے لاکھوں طلبہ کو نوکری نہیں مل رہی ہے۔ یہ تمام انتخابات مسائل ہیں جس سے توجہہ ہٹانے کے لئے (مذکورہ بی جے پی) بار بار ارٹیکل 370 کو سامنے لارہی ہے۔ مذکورہ وزیراعظم نے کہاکہ ’اپنے منشور میں مسٹر شرد پوار کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے‘ سب سے پہلے ہمارے منشور جاری ہوگیا ہے۔ اور جب (ارٹیکل) 370 ہٹا دیا گیا ہے تو ہم اس پر اب کیا کہہ سکتے ہیں؟“ میں نے برسر عام یہ بیان دیا کہ اقدام اچھا ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی کہا‘ کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ہے۔ ارٹیکل 370 آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ میں ہر عوامی جلسہ عام میں کہا ہے‘ کون جموں وکشمیر میں اراضی خریدے گا اور وہاں پر زراعت کرے گا۔ مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ ارٹیکل 371 کا کیا اگر میں ناگالینڈ، سکم میں اراضی خریدتا ہوں میں شمال مشرق کے کسی حصہ میں نہیں کرسکتا۔ یہ بڑے پیمانے پر عوامی مسئلہ نہیں ہے یہاں پر ایک تاثر یہ ہے کہ مودی کے ساتھ آپ کا موزانہ بہتر ہے۔ میں ہوں۔ میں ان کی کئی پالیسیوں پر یقین نہیں رکھتا اور میں اب ان سے ملاقات کو موقع مل جائے تو ضرور تبادلہ خیال کروں گا۔ حال ہی میں میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ میں دہلی میں نہیں تھا اور زیادہ تر وقت میں ہندوستان کے باہر رہتا ہوں۔ میرے پاس ذاتی نفرت نہیں ہے۔ سب سے کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ ذاتی تعلقات اور سیاسی پیش قدمی دونوں الگ بات ہیں۔ سیاسی پیش قدمی اس ملک کے لیڈروں کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ آپ کے اور اپنے بھیتجے اجیت پوار اور این سی پی لیڈر پرفال پٹیل کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے کیسے کا کیا نتیجہ نکلے گا ہم اس کے متعلق نہیں جانتے۔ میرے خلاف کیا معاملہ ہے؟ یہاں پر ریاستی اسٹیٹ کوپراٹیو بینک کے 50 ڈائرکٹرس ہیں۔ انہوں نے ضلع بینکوں اور انڈسٹریز کے لئے پیسے لئے، انفرادی طور پر نہیں۔ یہاں پر تمام ڈائرکٹرس کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ہیں، جو بی جے پی- شیو سینا کانگریس اوراین سی پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکورہ شکایت کردہ نے کہاکہ زیادہ تر ڈائرکٹرس مسٹر پوار کو جانتے ہیں۔ ہاں میں جانتاہوں کیونکہ وہ اہم لوگ ہیں۔ اگر میں کسی کو جانتا ہوں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوا ہے کہ میں مجرم ہوں؟ نہ تو میں بینک کا ڈائرکٹر تھا اور نہ ہی فیصلہ ساز باڈی کا رکن تھا۔ اس بنیاد پر آپ کیس بناتے ہیں، محض اجیت پوار کے نام کا ذکر کر کے؟ پھر کیوں نہیں بی جے پی اور شیو سینا کے لیڈران کو بھی شامل کرتے ہیں، جو ڈائرکٹرس ہیں؟ شرد پوار نے بات چیت میں پرفال پٹیل پر عائد کیس کو بھی بے بنیاد الزامات کا نتیجہ قرار دیا۔ اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی جانب سے رافائیل معاملے کو اٹھانے پر لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم تو کسانوں کے بحران، خودکشی اور صنعتی شعبہ کی تباہی جیسے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔ آرٹیکل 370 اور رافائیل جیسے معاملات کو کیوں اٹھایا جارہا ہے؟ مہارشٹرا کے الیکشن سے اس کا کیا لینا دینا ہے؟
ممبئی پریس خصوصی خبر
پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔
قومی
کیا نیا وقف بل مسلم کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے…؟

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا نیا وقف بل ایک مرتبہ پھر مسلم کمیونٹی میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، شفافیت، اور ان کے غلط استعمال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ نئے بل میں چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے وقف اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل کا استعمال تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبوں میں کیا جا سکے گا۔
تاہم، کچھ مذہبی و سماجی تنظیموں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف جائیدادیں خالصتاً مذہبی امور سے منسلک ہیں، اور حکومت کی براہِ راست مداخلت مذہبی خودمختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ یہ بل وقف جائیدادوں کی آزادی اور ان کے اصل مقصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین قانون اور کچھ اصلاح پسند رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر بل کو ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وقف اثاثے، جو اب تک بد انتظامی یا غیر قانونی قبضوں کی نظر ہوتے آئے ہیں، ان کے بہتر انتظام سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔
پرانے اور نئے وقف بل میں کیا فرق ہے؟
پرانا وقف قانون :
پرانا وقف قانون 1995 میں “وقف ایکٹ 1995” کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود لاکھوں وقف جائیدادوں کا بہتر انتظام اور تحفظ تھا۔
اس قانون کے تحت:
- ریاستی وقف بورڈز قائم کیے گئے۔
- وقف جائیدادوں کے انتظام کی ذمہ داری وقف بورڈ کے سپرد کی گئی۔
- وقف کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
- متولی (منتظم) کی تقرری بورڈ کی منظوری سے ہوتی تھی۔
تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں عمل درآمد کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ وقف املاک پر غیر قانونی قبضے، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نگرانی جیسے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
نیا وقف بل :
نئے وقف بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان میں شامل ہیں :
- ڈیجیٹل رجسٹری : تمام وقف جائیدادوں کی آن لائن رجسٹری اور ان کی نگرانی کا نظام۔
- مرکزی ڈیٹا بیس : ایک قومی سطح کا وقف پورٹل بنایا جائے گا جہاں تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
- غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی : قبضے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
- انتظامی شفافیت : وقف بورڈ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے اور آڈٹ سسٹم کو سخت بنانے کی تجویز۔
- شکایتی نظام : عوام کے لیے ایک فعال شکایت سیل کا قیام تاکہ وقف سے متعلق بدعنوانی یا زیادتیوں کی شکایت کی جا سکے۔
فرق کا خلاصہ:
| پہلو… | پرانا وقف قانون (1995) | نیا وقف بل (2025)
1995 رجسٹریشن | دستی رجسٹری |
2025 ڈیجیٹل رجسٹری و قومی پورٹل |
1995 نگرانی | ریاستی سطح پر |
2025 قومی سطح پر نگرانی و ڈیٹا بیس |
1995 شفافیت, محدود |
2025 بڑھتی ہوئی شفافیت و آڈٹ سسٹم |
1995 قبضہ ہٹانے کا نظام | پیچیدہ قانونی طریقہ کار |
2025 فوری قانونی کارروائی کا اختیار |
1995 عوامی شمولیت | کمزور شکایت نظام |
2025 فعال شکایتی نظام |
نئے وقف بل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی اصلاحات جیسے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین اور مذہبی حلقوں کو اندیشہ ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کہیں خودمختاری کو متاثر نہ کرے۔ بل کے اصل اثرات اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ فی الحال، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اور کمیونٹی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
-
سیاست6 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا