Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں آگرہ روڑ پر چلا اتی کرمن کا بل ڈوزر، تجاوزات کی صفائی کے بعد آگرہ روڑ کی صورت نکھر گئی

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں کو اگر آتی کرمن کا شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا. ناجائز تجاوزات کی وجہ سے شہر کی اصل صورت جیسے کہیں کھوگئی ہے. مالیگاؤں کی بعض گلیاں تو اس قدر تنگ ہے کہ شوشل میڈیا پر اس تعلق سے ایک جوق بہت مشہور ہوا تھا کہ شہر کی بعض گلیاں اس قدر تنگ ہے کہ اگر بیک وقت ایک مرد و عورت گزر جائے تو بیچ میں بس نکاح کی گنجائش رہ جاتی ہے. وہ تو سب ٹھیک ہے. شہر کی ناک آگرہ روڑ بھی اس آتی کرمن سے محفوظ نہیں ہے. لکھ لکھ کر اخبارات سیاہ ہوگئے تب جاکر کارپوریشن خواب خرگوش بیدار ہوئی اور نجانے کیوں آج صبح صبح کارپوریشن کے آتی کرمن ڈپارٹمنٹ نے آگرہ روڑ پر بلدوزر چلا دیا. ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق آج صبح 11 بجے آگرہ روڑ پر ناجائز تجاوزات کو ہٹانے کی مہم کا آغاز ہوا. میونسپل کارپوریشن کا اتی کرمن مخالف دستہ جب فیمس بیکری کے پاس آیا تو کچھ لوگوں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی مگر عائشہ نگر پولس اسٹیشن کے پی آئی گری صاحب اور محکمہ پولس کے اہلکاروں نے اپنی حکمت عملی کا استعمال کرکے ان افراد پر قابو پالیا. میونسپل کارپوریشن کے سٹی انجینئر کیلاش بچھاؤ کی ہدایت اور اتی کرمن چیف راجو کھیرنار کی سرپرستی میں اس علاقہ سے ناجائز تجاوزات کو ہٹایا گیا۔ بہت سارے افراد جو تجاوزات کرکے راستے تنگ کئے ہوئے تھے وہ افراد بھی اپنے ہاتھوں سے ان ناجائز تجاوزات کو صاف کرتے نظر آئے. ان تجاوزات کی صفائی کے دوران وقت اس نظارے کو دیکھنے کے لئے عوامی بھیڑ امڈ پڑی. ان ناجائز تجاوزات کی صفائی کے بعد آگرہ روڑ ایک دم وسیع و عریض ہوگئی. جس کی وجہ سے آگرہ روڑ کی صورت اس طرح نکھر گئی جیسے کوئی عام سی لڑکی بیوٹی پارلر میں جاکر نکھر جاتی ہے. صاف اور کشادہ سڑک کو دیکھ کر عوام بے حیرت اور خوشی کا اظہار کیا. اس موقع پر موجود سٹی انجینئر کیلاش بچھاؤ کو صدر عوامی ایکشن کمیٹی عبدالخالق صدیقی نے کہا کہ اس روڑ کی چوڑائی کی مناسبت سے گٹروں کی تعمیر کی جائے تاکہ آئندہ اس مصروف ترین سڑک پر دوبارہ اتی کرمن نہ کیا جاسکے. واضح رہے فلائے اوور بریج کی لمبائی کو لیکر کئی مہینوں سسے بحث جاری ہے صدر سائزنگ ایسوسی اپشن اور مشہور صنعت کار الحاج یوسف الیاس فلائے اوور کی لمبائی کو لیکر بار بار کارپوریشن میں عرضداشت دے رہے ہیں. MLA مفتی محمد اسمعیل قاسمی بھی فلائے اوور بریج کی لمبائی کو بڑھانے کے لئے کارپو ریشن اورمنترالیہ میں مسلسل نمائندگی کررہے ہیں. باوجود اس کے یہ فلائے اوور بریج ابھی تک التواء میں ہے. ستمبر میں یہ زیر تعمیر فلائے اوور بریج 3 سال کی مدت پوری کارہا ہے مگر اس کے مکمل ہونے کے آثار ہنوز دلی دور است. ہے. بریج کی لمبائی کو بڑھانے اور اس کے پاس کے تجاوزات کو ہٹانے اور ان کی صفائی کیلئے بھی مفتی صاجب اور یوسف الیاس مسلسل جدو جہد کرتے آرہے ہیں. اب اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک رکن اسمبلی کو شہر کی حالت سدھارنے کے لئے جہد مسلسل کرنا پڑرہاہے. جس سے ایک ایم آ اے کے پاور کا اندازہ لگایا جاسکتاہے. اب یہی دیکھئے کہ ہر بات کے لئے میمورنڈم, دھرنا آندولن کرنا پڑتا ہے اور حب یہ ساری تصاویر شوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے تب جاکر انتظامیہ کے کانوں پر جو رینگتی ہے. اب شہر رکن اسمبلی کی اس جدوجہد آج عمل آوری ہوئی اور آگرہ روڑ سے تجاوزات ہٹائے گئے. اس صفائی سے چند لوگوں کا معمولی نقصان ضرور ہوا مگر عوام نے میونسپل کارپوریشن کی اس کاروائی پر اطمینان کا اظہار کیا. رہی نقصان کی بات تو جو جگہ اتی کرمن کرنے والوں کی نہیں تھی تو اس کے جانے کا بھی افسوس نہیں ہونا چاہئے. اس کے علاوہ شہر کا تقریباً ہر فرد جانتا ہے کہ یہ 4 دن کی چاندنی پھر اندھیری رات. آج جس تجاوزات کی صفائی کے بعد وسیع و عریض سڑک کو دیکھ عوام خوشی کا اظہار کررہی ہیں. بس چند دنوں کے بعد یہ خوبصورتی اور کشادہ سڑک پھر تجاوزات کی نظر ہوکر غائب ہوجائے گی کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ مالیگاؤں ہے پیارے یہ کشادہ سڑک ہضم نہیں ہوگی. پھر لوٹ کر آئے گا یہ اتی کرمن دیکھ ذرا. جاگ میرے شہر. کب تک خواب غفلت میں رہے گا. دنیا تو ترقی کرکے چاند پر پہنچ گئی اور تو ابھی بھی وہاٹس اپ.. ..وہاٹس اپ کھیل رہا ہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

Published

on

Asaduddin-Owaisi

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔

اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com