سیاست
مہاراشٹر میں جمعہ کی رات ساڑھے 9 بجے سے سنیچر کی صبح 8 بجے تک کیا کچھ ہوا، کس طرح بنی ریاست میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت.

(وفا ناہید)
اسمبلی الیکشن کے بعد سے مہاراشٹر میں حکومت بنانے کے تعلق سے سیاسی جنگ چل رہی تھی . چونکہ کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی. لہذا سیاسی جوڑ توڑ چل رہا تھا. شیوشینا بی جے پی میں تال میل نہیں ہورہا تھا اس لئے شیوشینا نے این سی پی اور کانگریس سے اتحاد کا فیصلہ کیا. اس سلسلے میں این سی پی کے شرد پوار, شیوشینا کے ادھو ٹھاکرے اور کانگریس کی سونیا گاندھی کے مابین باہمی اختلافات کو پرے رکھ کر حکومت سازی کے لئے تیاری کی جارہی تھی. بتایا جاتا ہے جمعہ 22 نومبر کی رات میں ہوئی مشترکہ میٹنگ میں اجیت پوار شریک تھے. مہاراشٹر میں اس رات سبھی اس بات کو لے کر مطمئن تھے کہ اب شیوسینا , این سی پی اور کانگریس کی حکومت بہت جلد بن جائے گی، لیکن سنیچر کی صبح کچھ لوگ نیند سے بیدار بھی نہیں ہوئے ہوں گے جب بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لے لیا۔ رات کی تاریکی میں جو کچھ بھی ہوا وہ کسی ڈرامے سے کم نہیں ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جمعہ کی شب ساڑھے 9 بجے سے ہی بی جے پی نے اپنا ’کام‘ شروع کر دیا تھا . یہاں تک کہ اس کی بھنک بھی کسی کو لگنے نہیں دی تھی , اور تو اور این سی پی سربراہ شرد پوار کو اس کی خبر سنیچر کی صبح تقریباً 6 بجے لگی۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں کہ جمعہ کی رات سے صبح دیویندر فڈنویس کے وزیر اعلیٰ اور این سی پی لیڈر اجیت پوار کے نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے تک جو کچھ ہوا۔ اس کی تفصیل ملاحظہ کیجئیے. جمعہ کی شب تقریباً ساڑھے 9 بجے دیویندر فڈنویس مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے پاس حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے پہنچے۔ فڈنویس نے اپنے پاس 173 اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس دعویٰ میں دیویندر فڈنویس نے 54 این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے 14 آزاد اراکین اسمبلی و دیگر کی حمایت ملنے کی بات کہی ۔ رات ساڑھے 12 بجے ہی گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے ریاست میں جمہوری حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف کرنے کے لیے صدر راج ہٹانے کا فیصلہ لیا اور مرکز کو ریاست میں اتحادی حکومت بننے کے حالات سازگار بننے کی جانکاری دیتے ہوئے صدر راج ہٹانے کی سفارش بھیج دی۔ صبح تقریباً ساڑھے 5 بجے کے آس پاس ریاست میں لگا صدر راج ہٹانے کی جانکاری گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو دی گئی۔ صبح تقریباً 6 بجے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے فیصلہ لیا کہ اب فڈنویس حکومت کی حلف برداری کرائی جانی چاہیے ۔ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس کے ساتھ ساتھ اجیت پوار کی حلف برداری کے لیے بھی عرضی بھیجی۔ عرضی میں صبح سویرے ہی حلف برداری تقریب منعقد کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 8 بجے گورنر کو بی جے پی کی طرف سے حلف برداری کی عرضی ملنے کے بعد ہی گورنر نے صبح 8 بج کر 7 منٹ پر بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کا حلف دلایا۔ ساتھ میں انھوں نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر اجیت پوار کی بھی حلف برداری کرائی۔
تادم تحریر شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے میڈیا سے کہا ہے کہ اجیت پوار دھوکہ سے این سی پی اراکین اسمبلی کو حلف برداری تقریب میں لے گئے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو 8 این سی پی اراکین اسمبلی حلف برداری تقریب میں گئے تھے ان میں سے 5 واپس شرد پوار کے پاس آ گئے ہیں اور اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت کر کے دکھائے۔ مہاراشٹر کے سیاسی ڈرامے کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کا ایک بیان سامنے آیا ہے انھوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں راتوں رات جو کچھ ہوا وہ سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے ، بینڈ باجہ اور بارات کے بغیر ہی وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے حلف لے لیا۔ کہیں نہ کہیں کچھ غلط ضرور ہوا ہے۔ سب کچھ چھپا کر کیا گیا۔ بے شرمی کی انتہا کو پار کیا گیا۔ صبح ہوئے ’حادثہ‘ کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہے.
شرد پوار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی کانگریس، این سی پی اور شیوسینا ایک ساتھ کھڑے ہیں اور اجیت پوار کے ذریعہ کیے گئے دھوکے سے اس اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ شرد پوار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت اجیت پوار کے ساتھ 11-10 اراکین اسمبلی ہیں اور کچھ اراکین اسمبلی جو ان کے ساتھ تھے، وہ اب ہمارے پاس آ چکے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ اس وقت این سی پی سربراہ شرد پوار اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے ذریعہ مشترکہ پریس کانفرنس ممبئی کے وائی بی چوہان آڈیٹوریم میں جاری ہے۔ اس پریس کانفرنس میں اجیت پوار کے ساتھ دیویندر فڈنویس کی حلف برداری تقریب میں شامل ہوئے این سی پی لیڈران بھی موجود ہیں اور انھوں نے کہا کہ وہ شرد پوار کے ساتھ ہیں۔ اجیت پوار کا ساتھ چھوڑنے والے این سی پی اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انھیں دھوکے سے گورنر ہاؤس لے جایا گیا تھا اور وہ بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔ شرد پوار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جب اکثریت ثابت کرنے کی باری آئے گی تو فڑنویس کی حکومت ناکام ہو جائے گی کیونکہ این سی پی اراکین اسمبلی بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے۔ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بھی پریس کانفرنس سے کہا کہ بی جے پی نے دھوکہ کرتے ہوئے حکومت بنائی ہے اور یہ ناکام ثابت ہوں گے۔
سیاست
شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔
انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔
سیاست
وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔
اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔
ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔
-
سیاست6 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا