Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

پھول ساونگی کی جامع مسجد کے پیش امام مالیگاؤں میں حمالی کرنے پر مجبور

Published

on

(خیال اثر)
علمائے دین یا علوم دینیہ پر دسترس رکھنے والوں کو سماج و معاشرہ میں قدر کی نظروں سے دیکھتے ہوئے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا رہا ہے لیکن بدلتے زمانوں نے ماضی کی تمام متحرم و متعبر روایتوں کو روایات پارینہ جان کر سو کیشوں میں سجا کر رکھ دیا ہے. علوم دینیہ پر دسترس رکھنے والے چاہے وہ حافظ قران ہوں, مولوی مولانا ہوں, اساتذہ و مفتی ہوں سبھی کو غم روزگار نے دربدر کردیا ہے. علوم قرانیہ سے منسلک افراد اپنے گھریلو اخراجات کے لئے محنت و مشقت یا کسی بھی روزگار سے منسلک ہونے میں عار نہیں سمجھتے ہیں. ایسے سانحات سماج و معاشرہ میں ہر سو بکھرے پڑے ہیں ایسا ہی ایک دلدوز منظر گزشتہ دنوں شوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آیا ہے جو مالیگاؤں شہر کے صاحب خیر افراد کے منہ پر کسی زناٹے دار طمانچہ کی صورت گونج رہا ہے.
مذکورہ شخص مولوی زاہد عبدالمجید پھول ساونگی نامی دیہات میں ایک دینی مدرسہ کے ذریعے گاؤں کے بچوں علوم دینیہ و قرانیہ کے فیض یاب کرتے ہوئے وہاں کی جامع مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیا کرتے تھے لیکن پھر یہ ہوا کہ مالیگاؤں کے 2006 میں ہونے والے بم بلاسٹ کے الزام میں گرفتار شدہ نو مسلم نوجوانوں کے ہمراہ فرقہ پرست آفیسران نے انھیں بھی ملزم بنا کر عدالت کے کٹھہرے میں کھڑا کردیا تھا. اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال پابند سلاسیل رہنے اور بے پناہ اذیتیں جھیلنے کے بعد جب انھیں ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی.عدالت میں فرقہ پرست عناصر اور پولیس آفیسران ان کے خلاف ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائے کہ یہ بم دھماکوں میں ملوث تھے.قید و بند کے دوران جہاں ان کے مجبور و بےبس والدین برسوں حیران و پریشان رہے وہیں کورٹ کی ہر تاریخ پر آنے جانے کے اخراجات اور بے پناہ تکالیف برداشت کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ زیر بار بھی ہوئے, قرض کے دلدل میں بھی دھنستے گئے.ماں باپ اور دیگر اہل خانہ شب و روز خون کے آنسو روتے ہوئے خدائے برتر کے حضور دست دعا بھی دراز کرتے رہے اس دوران انصاری زاہد عبدالمجید کا خانوادہ معاشی طور پر بکھر کر رہ گیا تھا. انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے ان مولوی زاہد کے دامن میں وعدوں کی خیرات کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا. نہ ہی انھیں 11برسوں تک پابند سلاسیل رہنے اور بے گناہ سازش میں الجھائے رکھنے کے لئے حکومت نے کوئی ہرجانہ ادا کیا تھا نہ ہی شہر کے مخیر حضرات نے انھیں کسی طرح کا مالی تعاون دیا تھا. اس طرح آج نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ پھول ساونگی گاؤں کا پیش امام مالیگاؤں کا حمال بن کر رہ گیا. ایک تلخ حقیقت ہے کہ شہر میں جب مساجد اور مدارس کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن انھیں کہیں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے مقرر نہیں کیا جارہا ہے. آج یہ دیندار شخص دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے لئے در بدر بھٹکتے ہوئے چار پہیہ ٹھیلہ گاڑی پر حمالی جیسا کام کرنے پر مجبور ہے. ایسا کام کرنے میں انھیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی لیکن سماج و معاشرہ کے لئے یہ بات باعث شرم ضرور ہے. قوم و ملت کا درد رکھنے والے اور اپنے سینے پر مخیران قوم کا بورڈ لگائے گھومنے والے افراد کو چاہیے کہ علمائے دین کے لئے وہ کسی بھی باعزت روزی کا انتظام کریں تاکہ کل میدان حشر میں انھیں کسی طرح کی ندامت نہ ہو اور وہ خدائی دسترس سے محفوظ رہیں کیونکہ علمائے دین نائب رسول ہوتے ہیں.

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

Published

on

ARREST-5

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

Published

on

asim

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان