سیاست
خصوصی آئینی پوزیشن کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی: محبوبہ مفتی
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آج تک لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اب قائدین کی قربانی کا وقت آ چکا ہے انہوں نے کہا کہ وہ خود جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی یہ ‘تاناشاہی’ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز (دفعہ 370، دفعہ 35 اے) سال گذشتہ کے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے ڈاکہ زنی کر کے چھینی گئی وہ انہیں ضرور واپس مل جائے گی۔
موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طویل نظر بندی کے بعد منعقدہ پہلی پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘جنہیں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اب بات نہیں ہوگی وہ غلط فہمی میں ہیں، اس مسئلے کے لئے ہزاروں نوجوانوں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا، آج تک لوگوں کا خون بہا ہے اور اب لیڈروں کے خون دینے کی باری آئی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ جب لیڈران کے خون کی ضرورت پڑے گی محبوبہ مفتی خون دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہوں گی۔
تاہم محبوبہ مفتی کا ساتھ ہی کہنا کہ ہم تشدد نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہم پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے۔ یہ بہت لمبی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی ہم سب کو ایک جٹ ہو کر لڑنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز الائنس کے لیڈران اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے تمام پرامن ذرائع کا استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘ان کو ہمارے وسائل چاہیے تھے۔ پانی پہلے ہی لے چکے تھے۔ ریت بچی تھی وہ بھی لے گئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے جیلوں میں ہیں۔ مولویوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہم اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے’۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن یہ تاناشاہی زیادہ دیر تک نہیں چلے گی’۔
موصوفہ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو جو چیز ہم سے ڈاکہ زنی سے چھینی گئی وہ ہمیں واپس ملے گے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 کو ڈاکہ زنی ہوئی وہ کسی قانون یا بات چیت کے بعد نہیں کی گئی، یہ ڈاکہ زنی کر کے اس آئین کی دھجیاں ڑائی گئیں جس کی یہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ جو چیز ڈاکہ زنی سے چھینی جاتی ہے وہ اصلی مالک کے پاس واپس آجاتی ہے’۔
سبز رنگ کے ‘پھیرن’ میں ملبوس بظاہر ہشاش بشاش محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘میری انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ آئین جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھیں جب تک وہ آئین واپس نہیں ملتا ہے محبوبہ مفتی کا تب تک انتخابات سے کوئی سرورکار نہیں ہے’۔
ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی میں نے کہا کہ اب ہم اپنے سبھی فیصلے پیپلز الائنس کے بینر تلے ہی لیں گے۔
تاہم ساتھ ہی کہنا تھا: ‘میں ذاتی طور پر جموں و کشمیر کے اپنے جھنڈے اور آئین کے بغیر کوئی حلف لینے کے لئے تیار نہیں ہوں’۔
پی ڈی پی صدر نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ کیا واضح اور بھاری اکثریت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سروں پر تلوار چلائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘بدقمستی سے ان کو واضح اکثریت ملی اور انہوں نے آئین کا غلط استعمال کیا۔ یہاں سے وہ چیز لوٹ کر لے گئے جس پر ان کا کوئی حق نہیں تھا’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے بھارتی آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی والوں نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا۔ پارلیمان کے پاس یہ سب کرنا کا کوئی حق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے انتخابی منشور کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بھارتی آئین کی دھجیاں اڑائیں’۔
جموں کی بعض جماعتوں کی جانب سے گپکار علامیے کے طرز پر جموں علامیہ جاری کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ‘بی جے پی کی پالیسی لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ کشمیری اور ڈوگری عوام میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ شیعہ اور سنی کے نام پر تقسیم پیدا کرنا ہے، لیکن ہم اس تقسیمی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔
جب ایک نامہ نگار نے محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کو حکومت میں لانے کے لئے تو پی ڈی پی ہی ذمہ دار ہے تو ان کا جواب تھا: ‘مفتی سعید نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ایک جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی تھی’۔
انہوں نے کہا: ‘انہیں معلوم تھا کہ ملک کے اندر بہت بڑا طوفان آ رہا ہے۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں رہے ہم نے ان کو ہماری خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگانے نہیں دیا’۔
جب پی ڈی پی صدر سے پو چھا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگایا گیا تو یہاں کوئی بھارتی ترنگے کو کندھا نہیں دے گا تو انہوں نے اس کا جواب میز پر رکھے گئے کشمیر کے جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے اپنا جھنڈا سامنے رکھا ہے۔ جس وقت ہمارا یہ جھنڈا واپس آئے گا ہم اس جھنڈے کو بھی اٹھا لیں گے۔ یہ جھنڈا ہمارے آئین کا حصہ ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ان لوگوں نے تو خود ہی آئین اور جھنڈے کی بے حرمتی کی ہے۔ جب جموں میں عصمت دری ہوئی تو جھنڈا اٹھا کر عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ریلی نکالی۔ اس جھنڈے نے ہی ہمارا بھارتی جھنڈے کے ساتھ رشتہ بنایا ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ سال گذشتہ پانچ اگست سے قبل جب ہم نے حالات کے پیش نظر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی تو انہیں چندی گڑھ تفتیش کے لئے طلب کیا گیا۔
انہوں نے کہا تاہم بعد میں ہم نے مل کر گپکار اعلامیہ تیار کیا جس پر ہم برابر کھڑے ہیں اور جو چیز ہم سے چھینی گئی ہے ہم اس کو واپس حاصل کرنے کے وعدہ بند ہیں۔
موصوفہ نے کہا کہ مین اسٹریم پارٹیوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ‘جعلی ٹی آر پی میڈیا’ کی وساطت سے ہمیں بدنام کیا جا رہے لیکن ہم اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے دوران بھی ہم اپنے ارادوں پر قائم رہے اور ہم ان پر برابر قائم و دائم ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارلیمنٹ ممبروں کے پاس ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ ممبر کے پاس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ وہ پانچ کے بجائے ایک ہزار بھی کیوں نہ ہوں، یہ پوزیشن آئین نے ہماری آئین ساز اسمبلی کو دیا ہے’۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا لیکن آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں یہاں آج مسلمان، دلت وغیرہ محفوظ نہیں ہیں’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں ایسے قوانین لاگو کر رہی ہیں جن سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ بھی اکٹھا ہوجائیں تاکہ ہم اپنی چھینی ہوئی چیزوں کو واپس حاصل کرسکیں۔
موصوفہ نے کہا کہ میری پارٹی کا مقصد ہے کہ لوگوں کو دلدل سے باہر نکالا جائے اور اس پر ہم برابر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘جب میں نظر بند تھیں تو مجھے لگتا تھا کہ پی ڈی پی کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن باہر آکر جب میں پارٹی کارکنوں سے ملی تو محسوس ہوا کہ ہمارے کارکن مرحوم مفتی صاحب کے ایجنڈے کے ساتھ برابر کھڑے ہیں’۔
محبوبہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سکتے میں ہیں اور جب سال گذشتہ ہماری شناخت چھینی گئی تھی تو ہم بھی سکتے میں تھے۔
جب محبوبہ مفتی سے پوچھا گیا کہ ‘کیا نظر بندی کے دوران ان سے بعض شرائط پر رہائی کی پیشکش کی گئی’ تو ان کا جواب تھا: ‘پہلے ماہ کے بعد ہی ایک کاغذ لے کر آئے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہم باہر آکر دفعہ 370 پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات کریں گے تو آپ کو پچاس ہزار روپے دینے پڑیں گے’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر جتنا بین الاقوامی سطح پر بحث میں آیا اتنا کبھی نہیں آیا تھا۔
انہوں نے کشمیر کے حق میں بولنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ‘میں سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں’۔
مہاراشٹر
منشیات کے اسمگلر سلیم ڈولا کو استنبول سے حوالگی کے بعد آج ممبئی لایا جائے گا، این سی بی کی جانچ تیز

ممبئی: ہندوستانی انٹیلی جنس اور انسداد منشیات ایجنسیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت میں، انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی، بین الاقوامی منشیات کے اسمگلر سلیم ڈولا کو ترکی سے ہندوستان ڈی پورٹ ہونے کے بعد آج شام 5 بجے ممبئی لایا جائے گا۔ ڈولا کو منگل کی صبح ایک انتہائی خفیہ اور مربوط بین الاقوامی آپریشن کے تحت ہندوستان لایا گیا تھا۔ گلوبل ہنٹ۔’ وہ استنبول میں حراست میں لیے جانے کے بعد ایک خصوصی طیارے پر نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچا جس کی بنیاد پر ہندوستانی ایجنسیوں نے غیر ملکی حکام کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا اشتراک کیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد، حکام نے تصدیق کی کہ ڈولا کو آج بعد میں ممبئی لے جایا جائے گا، جہاں اسے مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے این سی بی کے دفتر لے جایا جائے گا۔ ڈولا ایک بین الاقوامی منشیات کی سمگلنگ سنڈیکیٹ کی ایک اہم شخصیت تھی جس کی کارروائیاں ہندوستان، دبئی اور کئی دیگر ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں۔ مبینہ طور پر اس کا نام بڑے پیمانے پر مصنوعی منشیات کے ریکیٹ کے سلسلے میں سامنے آیا ہے، جس نے نیٹ ورک کی وسعت کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ اس سنڈیکیٹ کے بدنام زمانہ ڈی-کمپنی کے ساتھ روابط ہیں، جو عالمی منشیات کے کارٹلز اور منظم جرائم کے گروہوں کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ڈولا مبینہ طور پر اپنا اڈہ دبئی منتقل کرنے سے پہلے ممبئی کے ڈونگری علاقے میں سرگرم تھا، جہاں سے اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھارت کو نشانہ بنانے والی منشیات کی سپلائی کا ایک بڑا سلسلہ چلا رہا ہے۔ حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بین الاقوامی سفر کی سہولت کے لیے سعودی عرب کا پاسپورٹ استعمال کیا تھا۔ گرفتاری اس کے نیٹ ورک کے خلاف مسلسل کارروائی کے بعد کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں، ممبئی کرائم برانچ نے ان کے قریبی ساتھی محمد سلیم سہیل شیخ کو دبئی سے حوالے کیا۔ ایک ماہ بعد ان کے خاندان کے چار افراد بشمول ان کے بیٹے طاہر ڈولا کو بھی بیرون ملک گرفتار کرنے کے بعد بھارت لایا گیا۔ این سی بی نے اس سے قبل اس کی گرفتاری کی اطلاع دینے پر 1 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا، جبکہ انٹرپول کے ریڈ کارنر نوٹس نے عالمی سطح پر اس کا سراغ لگانے کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ ممبئی میں ڈولا کی حراست میں پوچھ گچھ سے بین الاقوامی منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں پر اہم لیڈز ملنے کی امید ہے اور اس سے منشیات کی عالمی سنڈیکیٹس اور آئی ووڈ کے نیٹ ورک کے درمیان گہرے روابط کا پردہ فاش ہو سکتا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
مہاراشٹر
ممبئی-پونے ایکسپریس وے ‘مسنگ لنک’ 1 مئی کو صرف ہلکی گاڑیوں کے لیے کھلے گا۔ ابتدائی طور پر ٹرکوں پر پابندی رہے گی۔

نوی ممبئی: یشونت راؤ چوہان ممبئی – پونے ایکسپریس وے پر بہت انتظار شدہ ’مسنگ لنک‘ اسٹریچ کو 1 مئی سے عوامی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، جس میں ابتدائی مرحلے میں صرف ہلکی موٹر گاڑیاں (ایل ایم وی) اور مسافر بسوں کو ہی اجازت دی جائے گی، مہاراشٹر ٹریفک پولیس کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، مرحلہ وار منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ کام کے اندر حفاظتی اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ ٹنل سیکشن، جس میں سامان کی گاڑیوں کو ابتدائی مدت کے دوران راستہ استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ فیز I میں، یکم مئی سے 31 اکتوبر تک، ایل ایم وی اور مسافر گاڑیوں کے داخلے پر پابندی رہے گی، جبکہ سامان لے جانے والی گاڑیاں ممنوع رہیں گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یکم نومبر سے پہلے چھ ماہ کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مال گاڑیوں کو اجازت دینے کی فزیبلٹی کا جائزہ لیا جا سکے اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سمیت خطرناک یا آتش گیر مواد لے جانے والی گاڑیوں کو مسنگ لائن کے ساتھ مسنگ لائن لنک ٹو سیفٹی میں استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا جائے گا۔ ایسی گاڑیاں موجودہ ایکسپریس وے کا استعمال جاری رکھیں گی۔ مسنگ لنک اسٹریچ پر کاروں کے لیے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور مسافر بسوں کے لیے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ قابل اجازت مارجن کے اندر تیز رفتاری کی معمولی خلاف ورزیاں موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعہ 183 کے تحت کارروائی کو راغب نہیں کریں گی۔ یہ نوٹیفکیشن ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ٹریفک) پروین سالونکے نے جاری کیا تھا، جو مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ایس آر ڈی سی) کی جانب سے سڑکوں کو عوام کے استعمال کے لیے مزید کھولنے کا حکم دینے تک نافذ رہے گا۔
جرم
مہاراشٹر: دو الگ الگ حادثات میں ایک پولیس کانسٹیبل سمیت چار افراد کی موت ہو گئی۔

ممبئی/جلگاؤں، مہاراشٹرا میں بدھ کو دو الگ الگ حادثات میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہے۔ ان واقعات میں چھ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پہلا واقعہ مہاراشٹر کے جلگاؤں میں پیش آیا جہاں ایک کار میں سفر کرنے والے تین افراد کی موت ہو گئی جن میں ایک نوبیاہتا دلہن بھی شامل تھی۔ اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ جلگاؤں کے دھرنگاؤں تعلقہ کے ورد خورد گاؤں کے قریب پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ گجرات سے شادی کی بارات لے کر آکولہ جانے والی کروزر کا ٹائر پھٹ گیا جس کے باعث کروزر ہائی وے پر کھڑے گیس ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دلہن شادی سے واپس آرہی تھی۔ اس واقعہ سے بڑے پیمانے پر کہرام مچ گیا۔ مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو گاڑی سے نکالا گیا۔ چھ افراد شدید زخمی ہو گئے جن میں ایک کمسن بچے کی حالت تشویشناک ہے۔ حادثے کے فوراً بعد تمام زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم دلہن سمیت تین افراد پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ مرنے والوں کی شناخت دلہن، پوجا روی واگھلکر، دتو بھاگوت اور جگدیش واگھلکر کے طور پر ہوئی ہے۔ دوسرا واقعہ ممبئی میں پیش آیا۔ حکام نے بتایا کہ مانکھرد علاقے میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم آر ڈی اے) کے فلائی اوور کی تعمیر کے دوران کرین کا ایک حصہ پولیس کانسٹیبل سنتوش چوان پر گرا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ سنتوش چوان نہرو نگر پولیس اسٹیشن میں تعینات تھے۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ گھر جا رہے تھے۔ ممبئی پولیس کے مطابق ڈرلنگ مشین ناہموار زمین پر تھی، اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کرین اس پر گری۔ ٹھیکیدار کے خلاف ممبئی کے مانکھرد پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
