سیاست
خصوصی آئینی پوزیشن کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی: محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آج تک لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اب قائدین کی قربانی کا وقت آ چکا ہے انہوں نے کہا کہ وہ خود جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی یہ ‘تاناشاہی’ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز (دفعہ 370، دفعہ 35 اے) سال گذشتہ کے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے ڈاکہ زنی کر کے چھینی گئی وہ انہیں ضرور واپس مل جائے گی۔
موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طویل نظر بندی کے بعد منعقدہ پہلی پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘جنہیں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اب بات نہیں ہوگی وہ غلط فہمی میں ہیں، اس مسئلے کے لئے ہزاروں نوجوانوں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا، آج تک لوگوں کا خون بہا ہے اور اب لیڈروں کے خون دینے کی باری آئی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ جب لیڈران کے خون کی ضرورت پڑے گی محبوبہ مفتی خون دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہوں گی۔
تاہم محبوبہ مفتی کا ساتھ ہی کہنا کہ ہم تشدد نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہم پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے۔ یہ بہت لمبی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی ہم سب کو ایک جٹ ہو کر لڑنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز الائنس کے لیڈران اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے تمام پرامن ذرائع کا استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘ان کو ہمارے وسائل چاہیے تھے۔ پانی پہلے ہی لے چکے تھے۔ ریت بچی تھی وہ بھی لے گئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے جیلوں میں ہیں۔ مولویوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہم اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے’۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن یہ تاناشاہی زیادہ دیر تک نہیں چلے گی’۔
موصوفہ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو جو چیز ہم سے ڈاکہ زنی سے چھینی گئی وہ ہمیں واپس ملے گے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 کو ڈاکہ زنی ہوئی وہ کسی قانون یا بات چیت کے بعد نہیں کی گئی، یہ ڈاکہ زنی کر کے اس آئین کی دھجیاں ڑائی گئیں جس کی یہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ جو چیز ڈاکہ زنی سے چھینی جاتی ہے وہ اصلی مالک کے پاس واپس آجاتی ہے’۔
سبز رنگ کے ‘پھیرن’ میں ملبوس بظاہر ہشاش بشاش محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘میری انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ آئین جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھیں جب تک وہ آئین واپس نہیں ملتا ہے محبوبہ مفتی کا تب تک انتخابات سے کوئی سرورکار نہیں ہے’۔
ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی میں نے کہا کہ اب ہم اپنے سبھی فیصلے پیپلز الائنس کے بینر تلے ہی لیں گے۔
تاہم ساتھ ہی کہنا تھا: ‘میں ذاتی طور پر جموں و کشمیر کے اپنے جھنڈے اور آئین کے بغیر کوئی حلف لینے کے لئے تیار نہیں ہوں’۔
پی ڈی پی صدر نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ کیا واضح اور بھاری اکثریت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سروں پر تلوار چلائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘بدقمستی سے ان کو واضح اکثریت ملی اور انہوں نے آئین کا غلط استعمال کیا۔ یہاں سے وہ چیز لوٹ کر لے گئے جس پر ان کا کوئی حق نہیں تھا’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے بھارتی آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی والوں نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا۔ پارلیمان کے پاس یہ سب کرنا کا کوئی حق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے انتخابی منشور کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بھارتی آئین کی دھجیاں اڑائیں’۔
جموں کی بعض جماعتوں کی جانب سے گپکار علامیے کے طرز پر جموں علامیہ جاری کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ‘بی جے پی کی پالیسی لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ کشمیری اور ڈوگری عوام میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ شیعہ اور سنی کے نام پر تقسیم پیدا کرنا ہے، لیکن ہم اس تقسیمی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔
جب ایک نامہ نگار نے محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کو حکومت میں لانے کے لئے تو پی ڈی پی ہی ذمہ دار ہے تو ان کا جواب تھا: ‘مفتی سعید نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ایک جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی تھی’۔
انہوں نے کہا: ‘انہیں معلوم تھا کہ ملک کے اندر بہت بڑا طوفان آ رہا ہے۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں رہے ہم نے ان کو ہماری خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگانے نہیں دیا’۔
جب پی ڈی پی صدر سے پو چھا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگایا گیا تو یہاں کوئی بھارتی ترنگے کو کندھا نہیں دے گا تو انہوں نے اس کا جواب میز پر رکھے گئے کشمیر کے جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے اپنا جھنڈا سامنے رکھا ہے۔ جس وقت ہمارا یہ جھنڈا واپس آئے گا ہم اس جھنڈے کو بھی اٹھا لیں گے۔ یہ جھنڈا ہمارے آئین کا حصہ ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ان لوگوں نے تو خود ہی آئین اور جھنڈے کی بے حرمتی کی ہے۔ جب جموں میں عصمت دری ہوئی تو جھنڈا اٹھا کر عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ریلی نکالی۔ اس جھنڈے نے ہی ہمارا بھارتی جھنڈے کے ساتھ رشتہ بنایا ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ سال گذشتہ پانچ اگست سے قبل جب ہم نے حالات کے پیش نظر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی تو انہیں چندی گڑھ تفتیش کے لئے طلب کیا گیا۔
انہوں نے کہا تاہم بعد میں ہم نے مل کر گپکار اعلامیہ تیار کیا جس پر ہم برابر کھڑے ہیں اور جو چیز ہم سے چھینی گئی ہے ہم اس کو واپس حاصل کرنے کے وعدہ بند ہیں۔
موصوفہ نے کہا کہ مین اسٹریم پارٹیوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ‘جعلی ٹی آر پی میڈیا’ کی وساطت سے ہمیں بدنام کیا جا رہے لیکن ہم اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے دوران بھی ہم اپنے ارادوں پر قائم رہے اور ہم ان پر برابر قائم و دائم ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارلیمنٹ ممبروں کے پاس ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ ممبر کے پاس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ وہ پانچ کے بجائے ایک ہزار بھی کیوں نہ ہوں، یہ پوزیشن آئین نے ہماری آئین ساز اسمبلی کو دیا ہے’۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا لیکن آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں یہاں آج مسلمان، دلت وغیرہ محفوظ نہیں ہیں’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں ایسے قوانین لاگو کر رہی ہیں جن سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ بھی اکٹھا ہوجائیں تاکہ ہم اپنی چھینی ہوئی چیزوں کو واپس حاصل کرسکیں۔
موصوفہ نے کہا کہ میری پارٹی کا مقصد ہے کہ لوگوں کو دلدل سے باہر نکالا جائے اور اس پر ہم برابر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘جب میں نظر بند تھیں تو مجھے لگتا تھا کہ پی ڈی پی کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن باہر آکر جب میں پارٹی کارکنوں سے ملی تو محسوس ہوا کہ ہمارے کارکن مرحوم مفتی صاحب کے ایجنڈے کے ساتھ برابر کھڑے ہیں’۔
محبوبہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سکتے میں ہیں اور جب سال گذشتہ ہماری شناخت چھینی گئی تھی تو ہم بھی سکتے میں تھے۔
جب محبوبہ مفتی سے پوچھا گیا کہ ‘کیا نظر بندی کے دوران ان سے بعض شرائط پر رہائی کی پیشکش کی گئی’ تو ان کا جواب تھا: ‘پہلے ماہ کے بعد ہی ایک کاغذ لے کر آئے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہم باہر آکر دفعہ 370 پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات کریں گے تو آپ کو پچاس ہزار روپے دینے پڑیں گے’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر جتنا بین الاقوامی سطح پر بحث میں آیا اتنا کبھی نہیں آیا تھا۔
انہوں نے کشمیر کے حق میں بولنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ‘میں سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں’۔
سیاست
شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔
انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔
سیاست
وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔
اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔
ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔
-
سیاست6 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا