Connect with us
Wednesday,04-November-2026

سیاست

خصوصی آئینی پوزیشن کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی: محبوبہ مفتی

Published

on

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آج تک لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اب قائدین کی قربانی کا وقت آ چکا ہے انہوں نے کہا کہ وہ خود جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی یہ ‘تاناشاہی’ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز (دفعہ 370، دفعہ 35 اے) سال گذشتہ کے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے ڈاکہ زنی کر کے چھینی گئی وہ انہیں ضرور واپس مل جائے گی۔
موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طویل نظر بندی کے بعد منعقدہ پہلی پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘جنہیں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اب بات نہیں ہوگی وہ غلط فہمی میں ہیں، اس مسئلے کے لئے ہزاروں نوجوانوں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا، آج تک لوگوں کا خون بہا ہے اور اب لیڈروں کے خون دینے کی باری آئی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ جب لیڈران کے خون کی ضرورت پڑے گی محبوبہ مفتی خون دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہوں گی۔
تاہم محبوبہ مفتی کا ساتھ ہی کہنا کہ ہم تشدد نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہم پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے۔ یہ بہت لمبی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی ہم سب کو ایک جٹ ہو کر لڑنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز الائنس کے لیڈران اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے تمام پرامن ذرائع کا استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘ان کو ہمارے وسائل چاہیے تھے۔ پانی پہلے ہی لے چکے تھے۔ ریت بچی تھی وہ بھی لے گئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے جیلوں میں ہیں۔ مولویوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہم اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے’۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن یہ تاناشاہی زیادہ دیر تک نہیں چلے گی’۔
موصوفہ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو جو چیز ہم سے ڈاکہ زنی سے چھینی گئی وہ ہمیں واپس ملے گے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 کو ڈاکہ زنی ہوئی وہ کسی قانون یا بات چیت کے بعد نہیں کی گئی، یہ ڈاکہ زنی کر کے اس آئین کی دھجیاں ڑائی گئیں جس کی یہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ جو چیز ڈاکہ زنی سے چھینی جاتی ہے وہ اصلی مالک کے پاس واپس آجاتی ہے’۔
سبز رنگ کے ‘پھیرن’ میں ملبوس بظاہر ہشاش بشاش محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘میری انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ آئین جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھیں جب تک وہ آئین واپس نہیں ملتا ہے محبوبہ مفتی کا تب تک انتخابات سے کوئی سرورکار نہیں ہے’۔
ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی میں نے کہا کہ اب ہم اپنے سبھی فیصلے پیپلز الائنس کے بینر تلے ہی لیں گے۔
تاہم ساتھ ہی کہنا تھا: ‘میں ذاتی طور پر جموں و کشمیر کے اپنے جھنڈے اور آئین کے بغیر کوئی حلف لینے کے لئے تیار نہیں ہوں’۔
پی ڈی پی صدر نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ کیا واضح اور بھاری اکثریت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سروں پر تلوار چلائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘بدقمستی سے ان کو واضح اکثریت ملی اور انہوں نے آئین کا غلط استعمال کیا۔ یہاں سے وہ چیز لوٹ کر لے گئے جس پر ان کا کوئی حق نہیں تھا’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے بھارتی آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی والوں نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا۔ پارلیمان کے پاس یہ سب کرنا کا کوئی حق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے انتخابی منشور کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بھارتی آئین کی دھجیاں اڑائیں’۔
جموں کی بعض جماعتوں کی جانب سے گپکار علامیے کے طرز پر جموں علامیہ جاری کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ‘بی جے پی کی پالیسی لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ کشمیری اور ڈوگری عوام میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ شیعہ اور سنی کے نام پر تقسیم پیدا کرنا ہے، لیکن ہم اس تقسیمی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔
جب ایک نامہ نگار نے محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کو حکومت میں لانے کے لئے تو پی ڈی پی ہی ذمہ دار ہے تو ان کا جواب تھا: ‘مفتی سعید نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ایک جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی تھی’۔
انہوں نے کہا: ‘انہیں معلوم تھا کہ ملک کے اندر بہت بڑا طوفان آ رہا ہے۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں رہے ہم نے ان کو ہماری خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگانے نہیں دیا’۔
جب پی ڈی پی صدر سے پو چھا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگایا گیا تو یہاں کوئی بھارتی ترنگے کو کندھا نہیں دے گا تو انہوں نے اس کا جواب میز پر رکھے گئے کشمیر کے جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے اپنا جھنڈا سامنے رکھا ہے۔ جس وقت ہمارا یہ جھنڈا واپس آئے گا ہم اس جھنڈے کو بھی اٹھا لیں گے۔ یہ جھنڈا ہمارے آئین کا حصہ ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ان لوگوں نے تو خود ہی آئین اور جھنڈے کی بے حرمتی کی ہے۔ جب جموں میں عصمت دری ہوئی تو جھنڈا اٹھا کر عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ریلی نکالی۔ اس جھنڈے نے ہی ہمارا بھارتی جھنڈے کے ساتھ رشتہ بنایا ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ سال گذشتہ پانچ اگست سے قبل جب ہم نے حالات کے پیش نظر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی تو انہیں چندی گڑھ تفتیش کے لئے طلب کیا گیا۔
انہوں نے کہا تاہم بعد میں ہم نے مل کر گپکار اعلامیہ تیار کیا جس پر ہم برابر کھڑے ہیں اور جو چیز ہم سے چھینی گئی ہے ہم اس کو واپس حاصل کرنے کے وعدہ بند ہیں۔
موصوفہ نے کہا کہ مین اسٹریم پارٹیوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ‘جعلی ٹی آر پی میڈیا’ کی وساطت سے ہمیں بدنام کیا جا رہے لیکن ہم اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے دوران بھی ہم اپنے ارادوں پر قائم رہے اور ہم ان پر برابر قائم و دائم ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارلیمنٹ ممبروں کے پاس ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ ممبر کے پاس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ وہ پانچ کے بجائے ایک ہزار بھی کیوں نہ ہوں، یہ پوزیشن آئین نے ہماری آئین ساز اسمبلی کو دیا ہے’۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا لیکن آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں یہاں آج مسلمان، دلت وغیرہ محفوظ نہیں ہیں’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں ایسے قوانین لاگو کر رہی ہیں جن سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ بھی اکٹھا ہوجائیں تاکہ ہم اپنی چھینی ہوئی چیزوں کو واپس حاصل کرسکیں۔
موصوفہ نے کہا کہ میری پارٹی کا مقصد ہے کہ لوگوں کو دلدل سے باہر نکالا جائے اور اس پر ہم برابر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘جب میں نظر بند تھیں تو مجھے لگتا تھا کہ پی ڈی پی کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن باہر آکر جب میں پارٹی کارکنوں سے ملی تو محسوس ہوا کہ ہمارے کارکن مرحوم مفتی صاحب کے ایجنڈے کے ساتھ برابر کھڑے ہیں’۔
محبوبہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سکتے میں ہیں اور جب سال گذشتہ ہماری شناخت چھینی گئی تھی تو ہم بھی سکتے میں تھے۔
جب محبوبہ مفتی سے پوچھا گیا کہ ‘کیا نظر بندی کے دوران ان سے بعض شرائط پر رہائی کی پیشکش کی گئی’ تو ان کا جواب تھا: ‘پہلے ماہ کے بعد ہی ایک کاغذ لے کر آئے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہم باہر آکر دفعہ 370 پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات کریں گے تو آپ کو پچاس ہزار روپے دینے پڑیں گے’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر جتنا بین الاقوامی سطح پر بحث میں آیا اتنا کبھی نہیں آیا تھا۔
انہوں نے کشمیر کے حق میں بولنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ‘میں سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں’۔

سیاست

امریکہ میں عبدال السید کی کامیابی پر اسد الدین اویسی کا بیان! کہا، ’’اب اتر پردیش میں بھی ایک عبدال لیڈر بنے گا‘‘

Published

on

حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کے روز امریکہ میں ڈیموکریٹک امیدوار عبد السید کی جیت کی دعوت دیتے ہوئے، اتر پردیش میں مسلم سیاسی شناخت بنانے پر زور دیا، اور کہا کہ ایک عبد اب ریاست میں لیڈر بن جائے گا۔ “ایک ‘عبد’ مشی گن میں جیت گیا ہے؛ اب، اتر پردیش کے ‘عبد’ کو اپنی سیاسی شناخت کو مضبوط کرنا چاہیے،” اویسی نے ایکس پر پوسٹ کیا۔ وہ ریاستہائے متحدہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل دے رہے تھے جہاں عبد السید نے مشی گن سینیٹ کی دوڑ جیت کر پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’سنگھیوں‘ نے ’عبد‘ نام کا مذاق اڑانے کی کئی کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ‘عبد اللہ’ کے سوا کسی کی بندگی میں نہیں جھکتا، اب ہم دوسروں کے لیے قالین بچھانے والے نہیں رہیں گے۔ اویسی نے یہاں اپنی پارٹی کے ہیڈکوارٹر دارالسلام میں میڈیا سے بات چیت کے دوران بھی اس مسئلہ پر بات کی۔ “بی جے پی کہتی تھی ‘عبد پنکچر بناتا ہے’۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ عبدل اب لیڈر بنے گا۔ نہ قالین بچھائے گا، نہ آر ایس ایس سے ڈرے گا اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکے گا۔ عبدل اپنا کام کرے گا اور لیڈر بنے گا۔” اویسی نے دہلی ہائی کورٹ کو یہ بتانے پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ نئی دہلی کے کرشی بھون کمپاؤنڈ کے اندر واقع صدیوں پرانی قدیمی مسجد کو سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت کامن سینٹرل سیکریٹریٹ (سی سی ایس) کی دوبارہ تعمیر کے لیے ہٹایا جانا چاہیے۔ حاصل کیا

“یہ مسجد ملک کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کا ایک حصہ ہے۔ یہ کرشی بھون سے پہلے بھی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ رجسٹرڈ وقف ہے، حکومت اس کی مالک نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مرکزی اقلیتی بہبود کے وزیر کرن رجیجو کو ان لوگوں کو بتانا چاہئے کہ حکومت مالک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے قومی راجدھانی بننے اور ہندوستان کا آئین بننے سے پہلے بھی مسجد موجود تھی۔ ’’اگر آپ یہ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سرکاری جائیداد ہے تو وقف ٹربیونل میں جائیں اور وہاں بحث کریں۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وقف رجسٹرڈ ہے، وہاں گزٹ ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کرشی بھون کی ملکیت ہے۔ یہ کرشی بھون کی جائیداد نہیں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ انہوں نے مرکز کی اس دلیل پر تنقید کی کہ مسجد “جائز اور سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے مطابقت نہیں رکھتی”۔

’’کیا یہ آپ کا سیکولرازم ہے کہ آپ ایک رجسٹرڈ وقف املاک کو منہدم کرنا چاہتے ہیں جسے قانونی تحفظ حاصل ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ اویسی نے یاد دلایا کہ مودی حکومت نے بھومی پوجا کے ساتھ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’بظاہر، سیکولرازم کسی عوامی منصوبے کے لیے ایک عقیدے کی رسومات کے استعمال سے ناراض نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی مسجد سے الرجک ہے جو 1912 سے پہلے، کرشی بھون کی تعمیر سے بہت پہلے تک وہاں کھڑی تھی۔‘‘ حیدرآباد کے ضلع الیکشن آفیسر آر وی کے بارے میں جب اویسی سے ردعمل طلب کیا گیا تو اویسی نے پوچھا، ’’امیت شاہ اب کیا کہیں گے؟‘‘ کرنان کا بیان کہ حیدرآباد کی انتخابی فہرستوں میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن نہیں پایا گیا۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کے بیانات کو یاد کیا کہ حیدرآباد پر سرجیکل اسٹرائیک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق کی وجہ سے غریبوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران تمام اہل ووٹروں کی مدد کی، ان کے مذہب سے قطع نظر۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہے: ابو عاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابوعاصم اعظمی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ ‘یونیفارم سول کوڈ’ (یو سی سی ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “یو سی سی بل دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہےپریس کانفرنس کے دوران، ابو عاصم اعظمی نے یو سی سی بل کے حوالے سے اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے جو مہلت یعنی 15 نومبر تک دی گئی ہے وہ ناکافی ہے؛ لہٰذا، اس آخری تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔اس عمل پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے، اعظمی نے کہا کہ “تجاویز جمع کراتے وقت شہریوں سے ان کی ذات اور مذہب کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس عمل میں شامل سوالات بھی نامناسب انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور ناقص طریقوں کی وجہ سے کمیٹی کے رکن آشیش چوہان نے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہےشہری حقوق کے معاملے پر حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب شہری حقوق کی بات آتی ہے، تو حکومت صرف مذہب سے متعلق معاملات پر ہی کارروائی کر رہی ہے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شئیر ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی ۳ گرفتار

Published

on

ممبئی سائبر ساؤتھ نے ممبئی میں شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ دھوکہ دہی کے معاملہ میں بڑی کارروائی انجام دیتے ہوتےسائبر جرائم میں، 3 ملزمان کو ناگپور سے گرفتار کر کے ممبئی کے 06 اور کل 73 جرائم میں حصہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ ۱۰ جون ۲۰۲۶ سے تاریخ ۸ ستمبر کے دوران، خاتون میرا آئیر اور ان کے ساتھی دار نے شکایت کنندہ کو شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ کے ذریعے زیادہ نفع کا لالچ دے کر شکایت کنندہ کو مختلف بینک کھاتوں میں کل 58,72,410/- اتنی رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقلی کر شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کی اس معاملہ میں سائبر پولیس تھانہ، ممبئی میں 79/2026، دفعہ 318(4)، 319(2)، 338، 340، 61(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا دفعہ 66(ک)، 66(ڈ) معلوماتی تکنیک قانون کے تحت جرم درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم کی تفتیش میں شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کل رقم میں سے روپے 24,75,000/ رقم سنٹرل بینک آف انڈیا، شاخ، ناگپور اس بینک میں گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی اس کمپنی کے نام سے موجود جاری کھاتہ میں منتقل کی گئی ایسا پایا گیا تکنیکی تجزیہ اور نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر موجود معلومات کی بنیاد پر، مذکورہ بینک کھاتہ دار ملزم کا سراغ ناگپور میں ملا ، ۲ اکتوبر کو مذکورہ جرم کے سرغنہ سمیت 03 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے سازش رچ کر، ملزم انیرودھ اوکے اور مرکزی سرغنہ ملزم امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم نام رتیک شیلیش دھارگاوے کے نام سے گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی کمپنی قائم کی مذکورہ کمپنی قائم کرنے کے لیے جھوٹا معاہدہ کیامرکزی سرغنہ ملزم نام امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم ساتھی دار نام رتیک دھارگاوے کے نام سے موجود موبائل اپنے میں لاگ ان کرکے استعمال کرکے دھوکہ دہی کا کاروبار انجام دینے کے لیے مذکورہ موبائل نمبر دیگر ساتھی داروں کو دے کر دھوکہ دہی کی رقم آن لائن منتقل کی گئی تفتیش میں اس کا خلاصہ ہوا ۔

گرفتار ملزمین کے پاس سے
1) 11 مختلف بینک کھاتوں کے ضبط کیے گئے چیک بکس اور پاس بکس
2) 25 مختلف کمپنیوں کے سم کارڈز
3) 11 بناوٹ کمپنیوں کے ربڑ اسٹیمپس اور 03 اسٹیمپ پیڈز
4) ڈیبٹ/اے-ٹی-ایم کارڈز، کیو-آر کوڈ
5) بناوٹ کمپنیوں کے کاغذات و پین کارڈز برآمد ہوئے ہیں ان کی شناخت 1) امیت دلیپ راؤ کالے، عمر- 34 سال، پلاٹ نمبر 18، واٹوڈا روڈ، چیتنیشور نگر، واٹوڈا، ناگپور، رتیک شیلیش دھارگاوے، عمر – 25 سال، نیو اندرا ریپبلکن نگر، لائن نمبر 2، جریپٹکا، ناگپور ، 3) انیرودھ ستیش اوکے، عمر – 30 سال، پلاٹ نمبر 3564 اے/1، بدھ گیا بدھ وہار کے قریب، سرسوتی نگر، جریپٹکا، ناگپور کے طور پر ہوئی ۔ مذکورہ جرم میں مرکزی سرغنہ ملزم اور اس کے دیگر 02 ساتھی داروں کو گرفتار کرنے میں ساؤتھ سائبر پولیس تھانہ،ممبئی کو کامیابی ملی ہے۔ مذکورہ قابل ستائش کارکردگی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ، ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان