Connect with us
Tuesday,04-August-2026

سیاست

خصوصی آئینی پوزیشن کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی: محبوبہ مفتی

Published

on

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آج تک لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اب قائدین کی قربانی کا وقت آ چکا ہے انہوں نے کہا کہ وہ خود جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی یہ ‘تاناشاہی’ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز (دفعہ 370، دفعہ 35 اے) سال گذشتہ کے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے ڈاکہ زنی کر کے چھینی گئی وہ انہیں ضرور واپس مل جائے گی۔
موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طویل نظر بندی کے بعد منعقدہ پہلی پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘جنہیں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اب بات نہیں ہوگی وہ غلط فہمی میں ہیں، اس مسئلے کے لئے ہزاروں نوجوانوں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا، آج تک لوگوں کا خون بہا ہے اور اب لیڈروں کے خون دینے کی باری آئی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ جب لیڈران کے خون کی ضرورت پڑے گی محبوبہ مفتی خون دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہوں گی۔
تاہم محبوبہ مفتی کا ساتھ ہی کہنا کہ ہم تشدد نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہم پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے۔ یہ بہت لمبی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی ہم سب کو ایک جٹ ہو کر لڑنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز الائنس کے لیڈران اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے تمام پرامن ذرائع کا استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘ان کو ہمارے وسائل چاہیے تھے۔ پانی پہلے ہی لے چکے تھے۔ ریت بچی تھی وہ بھی لے گئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے جیلوں میں ہیں۔ مولویوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہم اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے’۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن یہ تاناشاہی زیادہ دیر تک نہیں چلے گی’۔
موصوفہ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو جو چیز ہم سے ڈاکہ زنی سے چھینی گئی وہ ہمیں واپس ملے گے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 کو ڈاکہ زنی ہوئی وہ کسی قانون یا بات چیت کے بعد نہیں کی گئی، یہ ڈاکہ زنی کر کے اس آئین کی دھجیاں ڑائی گئیں جس کی یہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ جو چیز ڈاکہ زنی سے چھینی جاتی ہے وہ اصلی مالک کے پاس واپس آجاتی ہے’۔
سبز رنگ کے ‘پھیرن’ میں ملبوس بظاہر ہشاش بشاش محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘میری انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ آئین جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھیں جب تک وہ آئین واپس نہیں ملتا ہے محبوبہ مفتی کا تب تک انتخابات سے کوئی سرورکار نہیں ہے’۔
ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی میں نے کہا کہ اب ہم اپنے سبھی فیصلے پیپلز الائنس کے بینر تلے ہی لیں گے۔
تاہم ساتھ ہی کہنا تھا: ‘میں ذاتی طور پر جموں و کشمیر کے اپنے جھنڈے اور آئین کے بغیر کوئی حلف لینے کے لئے تیار نہیں ہوں’۔
پی ڈی پی صدر نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ کیا واضح اور بھاری اکثریت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سروں پر تلوار چلائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘بدقمستی سے ان کو واضح اکثریت ملی اور انہوں نے آئین کا غلط استعمال کیا۔ یہاں سے وہ چیز لوٹ کر لے گئے جس پر ان کا کوئی حق نہیں تھا’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے بھارتی آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی والوں نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا۔ پارلیمان کے پاس یہ سب کرنا کا کوئی حق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے انتخابی منشور کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بھارتی آئین کی دھجیاں اڑائیں’۔
جموں کی بعض جماعتوں کی جانب سے گپکار علامیے کے طرز پر جموں علامیہ جاری کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ‘بی جے پی کی پالیسی لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ کشمیری اور ڈوگری عوام میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ شیعہ اور سنی کے نام پر تقسیم پیدا کرنا ہے، لیکن ہم اس تقسیمی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔
جب ایک نامہ نگار نے محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کو حکومت میں لانے کے لئے تو پی ڈی پی ہی ذمہ دار ہے تو ان کا جواب تھا: ‘مفتی سعید نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ایک جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی تھی’۔
انہوں نے کہا: ‘انہیں معلوم تھا کہ ملک کے اندر بہت بڑا طوفان آ رہا ہے۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں رہے ہم نے ان کو ہماری خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگانے نہیں دیا’۔
جب پی ڈی پی صدر سے پو چھا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگایا گیا تو یہاں کوئی بھارتی ترنگے کو کندھا نہیں دے گا تو انہوں نے اس کا جواب میز پر رکھے گئے کشمیر کے جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے اپنا جھنڈا سامنے رکھا ہے۔ جس وقت ہمارا یہ جھنڈا واپس آئے گا ہم اس جھنڈے کو بھی اٹھا لیں گے۔ یہ جھنڈا ہمارے آئین کا حصہ ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ان لوگوں نے تو خود ہی آئین اور جھنڈے کی بے حرمتی کی ہے۔ جب جموں میں عصمت دری ہوئی تو جھنڈا اٹھا کر عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ریلی نکالی۔ اس جھنڈے نے ہی ہمارا بھارتی جھنڈے کے ساتھ رشتہ بنایا ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ سال گذشتہ پانچ اگست سے قبل جب ہم نے حالات کے پیش نظر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی تو انہیں چندی گڑھ تفتیش کے لئے طلب کیا گیا۔
انہوں نے کہا تاہم بعد میں ہم نے مل کر گپکار اعلامیہ تیار کیا جس پر ہم برابر کھڑے ہیں اور جو چیز ہم سے چھینی گئی ہے ہم اس کو واپس حاصل کرنے کے وعدہ بند ہیں۔
موصوفہ نے کہا کہ مین اسٹریم پارٹیوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ‘جعلی ٹی آر پی میڈیا’ کی وساطت سے ہمیں بدنام کیا جا رہے لیکن ہم اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے دوران بھی ہم اپنے ارادوں پر قائم رہے اور ہم ان پر برابر قائم و دائم ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارلیمنٹ ممبروں کے پاس ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ ممبر کے پاس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ وہ پانچ کے بجائے ایک ہزار بھی کیوں نہ ہوں، یہ پوزیشن آئین نے ہماری آئین ساز اسمبلی کو دیا ہے’۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا لیکن آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں یہاں آج مسلمان، دلت وغیرہ محفوظ نہیں ہیں’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں ایسے قوانین لاگو کر رہی ہیں جن سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ بھی اکٹھا ہوجائیں تاکہ ہم اپنی چھینی ہوئی چیزوں کو واپس حاصل کرسکیں۔
موصوفہ نے کہا کہ میری پارٹی کا مقصد ہے کہ لوگوں کو دلدل سے باہر نکالا جائے اور اس پر ہم برابر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘جب میں نظر بند تھیں تو مجھے لگتا تھا کہ پی ڈی پی کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن باہر آکر جب میں پارٹی کارکنوں سے ملی تو محسوس ہوا کہ ہمارے کارکن مرحوم مفتی صاحب کے ایجنڈے کے ساتھ برابر کھڑے ہیں’۔
محبوبہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سکتے میں ہیں اور جب سال گذشتہ ہماری شناخت چھینی گئی تھی تو ہم بھی سکتے میں تھے۔
جب محبوبہ مفتی سے پوچھا گیا کہ ‘کیا نظر بندی کے دوران ان سے بعض شرائط پر رہائی کی پیشکش کی گئی’ تو ان کا جواب تھا: ‘پہلے ماہ کے بعد ہی ایک کاغذ لے کر آئے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہم باہر آکر دفعہ 370 پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات کریں گے تو آپ کو پچاس ہزار روپے دینے پڑیں گے’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر جتنا بین الاقوامی سطح پر بحث میں آیا اتنا کبھی نہیں آیا تھا۔
انہوں نے کشمیر کے حق میں بولنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ‘میں سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں’۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں غیر مجاز ہاکروں کو ہٹانے کے لیے ریتو تاوڑے کی انتھک کوششیں، تمام کارپوریٹروں کو اس اقدام میں حصہ لینے کے لیے باضابطہ درخواست بھیجیں

Published

on

mayor-ritu

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے خصوصی ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کا خیرمقدم کیا ہے، جو ممبئی کے فٹ پاتھوں کو غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے، اس طرح عام لوگوں کو محفوظ طریقے سے چلنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ میئر محترمہ تاوڑے نے نوٹ کیا کہ یہ مہم غیر مجاز ہاکروں کو ہٹانے کی جاری کوششوں میں اہم مدد فراہم کرے گی۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، میئر ریتو تاوڑے نے غیر مجاز ہاکروں کے مسئلے کا ٹھوس حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بطور میئر، اس نے سماجی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ہاکر کے مسئلے کو مہارت کے ساتھ حل کرنے، رجسٹرڈ ہاکروں کو کیو آر-کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ کی تقسیم، اور ہاکر کمیٹیوں میں غیر سرکاری اراکین کی تقرری جیسے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی ہے۔ رجسٹرڈ ہاکروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت نے غیر مجاز ہاکروں کے خلاف مہم کو زبردست رفتار دی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میونسپل کمشنر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اشونی بھیڈے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اب ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم شروع کی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شہری شہر کے فٹ پاتھوں پر چلنے کے محفوظ اور بلا روک ٹوک تجربے سے لطف اندوز ہو سکیں۔ پہلے مرحلے میں 322 کلومیٹر فٹ پاتھ کو غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔ یہ ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم ہاکروں سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے میئر کے اقدام کو انتظامی حمایت فراہم کرتی ہے، اس طرح ممبئی میں پیدل چلنے والوں کے لیے روزانہ کا سفر زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔

ممبئی میں کل 2,392 کلومیٹر فٹ پاتھوں میں سے 322 کلومیٹر کو ترجیحی اسٹریچ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ زون کے لحاظ سے خرابی درج ذیل ترجیحی کوریج کو ظاہر کرتی ہے : زون 1 (336 کلومیٹر میں سے 47 کلومیٹر، یا 14%)، زون 2 (313 کلومیٹر میں سے 45 کلومیٹر، یا 14%)، زون 3 (299 کلومیٹر میں سے 28 کلومیٹر، یا 9%)، زون 4 (69 کلومیٹر میں سے)، Zone 513 کلومیٹر میں سے 69 کلومیٹر یا 513 کلومیٹر میں سے 513 کلومیٹر 267 کلومیٹر، یا 14%)، زون 6 (209 کلومیٹر میں سے 69 کلومیٹر، یا 33%)، اور زون 7 (385 کلومیٹر میں سے 27 کلومیٹر، یا 7%)۔ نتیجتاً اس ابتدائی مرحلے میں شہر بھر کے 322 کلومیٹر فٹ پاتھ کو تجاوزات اور غیر مجاز ہاکروں سے پاک کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس مہم کو مرحلہ وار تمام علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔

مہم کا خیرمقدم کرتے ہوئے میئرریتو تاوڑے نے اپنے پختہ یقین کا اظہار کیا کہ غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے مسئلے کو مکمل طور پر حل کرنے کے لیے عوامی نمائندوں کی شرکت بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے، میئر نے انتظامیہ سے سختی سے زور دیا ہے کہ وہ ممبئی کے تمام کارپوریٹروں کو ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم میں براہ راست شامل کریں۔ اس کے مطابق انتظامیہ جلد ہی تمام کارپوریٹروں کو باضابطہ درخواستیں بھیجے گی۔ میئر کی ان کوششوں کی بدولت منتخب نمائندے اور میونسپل انتظامیہ ہر وارڈ میں اپنے اقدامات کو مربوط کریں گے۔ نتیجتاً مقامی سطح پر غیر مجاز ہاکروں کو ہٹانے کی مہم مزید موثر ہو جائے گی۔

میئر کی ہدایات کے مطابق، اور اس اقدام کے تحت، اسکولوں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں، میٹرو اسٹیشنوں اور بازاروں کے آس پاس کے غیر مجاز ہاکرز، لاوارث گاڑیوں اور دیگر جسمانی رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ غیر مجاز ہاکروں کے خلاف میئر کی مہم کے لیے انتظامیہ کی ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کی بھرپور حمایت سے ممبئی میں طلباء، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور عام پیدل چلنے والوں کو خاصی راحت ملے گی۔ امید کی جاتی ہے کہ میئر کی جانب سے غیر مجاز ہاکروں سے پاک ممبئی کے لیے سرشار کوششوں کے ساتھ، انتظامیہ کی پشت پناہی کے ساتھ، جلد ہی شہر کے فٹ پاتھ مکمل طور پر محفوظ اور رکاوٹوں سے پاک ہو جائیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : رات میں ایم ٹی این ایل کیبل چوری کرنے والا گینگ بے نقاب، دو ایف آئی آر درج، ۷ ملزمین گرفتار اور مفرور ملزمین کی تلاش جاری

Published

on

arrested-

ممبئی : ممبئی ۲ اگست کو خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے، پولیس کی ایک ٹیم نے برکلے پیلس ریلوے کالونی کے سامنے فٹ پاتھ پر دو افراد کو پکیکس اور بیلچے سے زمین کھودتے ہوئے پایا۔ حراست میں لینے کے بعد ان کے دو ساتھی ٹیمپو میں فرار ہو گئے۔ حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے گہری پوچھ گچھ میں انکشاف ہوا کہ وہ اور ان کے ساتھی زیر زمین ایم ٹی این ایل کاپر کیبلز چوری کر رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے باقاعدہ شکایت درج کرائی گئی، مقدمہ درج کیا گیا، اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ٹیم فی الحال فرار ساتھیوں اور ٹیمپو میں لے گئے کیبل کی تلاش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، اور جرم میں استعمال ہونے والے اوزار ضبط کر لیے گئے ہیں۔

۴ اگست کو صبح 04:35 اور 04:42 اے ایم کے درمیان اطلاع ملی کہ لوگ سر جے جے پر برکلے پیلس کی دیوار سے متصل فٹ پاتھ پر جے سی بی اور ایک ٹیمپو کی مدد سے زمین کی کھدائی کر کے ایم ٹی این ایل کیبلز چوری کر رہے ہیں۔ سڑک (جنوب کی طرف جانے والی لین)۔ پولیس کی ایک ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی، اور چار افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ یہ چار افراد جے سی بی کے ذریعے زمین کی کھدائی کر رہے تھے، تانبے کی تاریں نکال رہے تھے اور انہیں ایک ٹیمپو میں لوڈ کر رہے تھے۔ مجموعی طور پر 55 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد جس میں ایک جے سی بی، ایک آئشر ٹیمپو، ایک کار، چوری شدہ 70 میٹر کیبل، اور کیبل کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے اوزار شامل ہیںضبط کر لیے گئے ہیں۔ چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سر جے جے مارگ پولس اسٹیشن نے ایم ٹی این ایل کیبل چوری کے دو معاملات حل کیے ہیں۔ ان مقدمات میں کل سات ملزمان کو گرفتار کر کے اور چوری شدہ املاک کے ساتھ جرم میں استعمال ہونے والے آلات اور گاڑیاں بھی ضبط کر کے، انہوں نے ایک بین ریاستی کیبل چوری سنڈیکیٹ کو ختم کر دیا ہے۔ جرائم کی مکمل تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

روسی ڈرون نے یوکرین میں سبزی فروش کو نشانہ بنایا، زیلنسکی نے الزام لگایا کہ ایسی کارروائیاں روزانہ جاری رہتی ہیں۔

Published

on

Ukrain

نئی دہلی : روسی ڈرون نے منگل کو یوکرین کے شہر کھیرسن میں سبزی فروش پر حملہ کیا۔ یوکرائنی وزارت خارجہ اور صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے جارحانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روس جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی اور یوکرین کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ ویڈیو میں ایک سبزی فروش اپنی گاڑی کے قریب کھڑا ہے جب ایک ڈرون نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ سبزی فروش اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں گاڑی کے ارد گرد بھاگ رہا ہے، ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے، لیکن ڈرون اس پر طاقتور حملہ کرتا ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ای ایکس’ پر پوسٹ کیا کہ “روس کس کو نشانہ بنا رہا ہے؟” فوجی اڈہ نہیں بلکہ سویلین کام کر رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے یوکرین کے شہر کھیرسن میں جان بوجھ کر ایک عام دکاندار کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 52 سالہ شخص زخمی ہوا اور اس کے سر پر چوٹ آئی۔ وزارت نے پوسٹ میں کہا، “یہ معصوم شہریوں کے خلاف خوف اور دہشت پھیلانے کی ایک جان بوجھ کر مہم ہے۔ دنیا کو اسے معمول کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ مزید، روس پر مزید مضبوط دباؤ کی ضرورت ہے۔ ان جرائم کا جواب نہیں دیا جانا چاہیے۔”

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا۔ زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “EX” پر پوسٹ کیا، “ایک اور نام نہاد ‘سفاری’ ویڈیو دیکھ کر بہت سے لوگ چونک گئے، جس میں روسی ڈرون کھیرسن میں لوگوں کا شکار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے جان بوجھ کر کھیرسن میں سبزی بیچنے والے ایک شخص کا پیچھا کیا اور اس کے قریب دھماکہ کیا۔ روسیوں نے خود اس جرم کا اعتراف کر لیا۔” وہ اپنے اعمال پر کوئی پچھتاوا نہیں دکھاتے، بلکہ اس کے بجائے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو کس طرح ہراساں اور خوفزدہ کرتے ہیں۔ دھماکے میں وہ شخص زخمی ہوگیا۔ “خیرسن میں شہریوں کے خلاف روسیوں کی طرف سے اس قسم کی ‘سفاری’ تقریباً روزانہ کی جاتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ دیکھنا چاہیے۔ اسے ہر وہ شواہد دیکھنا چاہیے جس سے ظاہر ہو کہ روس کس حد تک تشدد اور جارحیت میں اترا ہے اور یہ کہ روسی فوجی لوگوں کو مارنے اور ہراساں کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ روس پر دباؤ ڈالے بغیر، اس کی جارحانہ صلاحیتوں کو کمزور کیے بغیر، اور روس کے خلاف ٹھوس حفاظتی ضمانتوں کے بغیر، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ دنیا اس برائی کے ساتھ امن سے رہ سکتی ہے۔ ہمیں جان بچانے کے لیے پرعزم رہنا چاہیے۔ ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں اور زندگی کی حمایت کرنی چاہیے کہ روس کو حقیقی معنوں میں امن کے بارے میں سوچنا چاہیے، نہ کہ اپنے ڈرون کی ہلاکت خیزی کو بڑھانے کے بارے میں۔

زیلنسکی نے کہا کہ یہ صرف یوکرائن کا مسئلہ نہیں ہے۔ روس کی طرف سے شہریوں کے خلاف یہ ‘سفاری’ یوکرین میں بند ہونی چاہیے اور دوسرے ممالک میں نہیں پھیلنی چاہیے۔ فن لینڈ اور قازقستان، بالٹک ممالک اور پولینڈ، جنوبی قفقاز کا علاقہ، اور جنوبی قفقاز کا علاقہ۔ ملک کے ساتھ ساتھ رومانیہ اور مالڈووا کو حقیقی سلامتی کی ضمانتوں کو یقینی بنانے اور روس کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ امن کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے دنیا بھر کے ان تمام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں امن کی قدر کرتے ہیں۔ یوکرین کی مدد کرنے والے ہر ایک کا شکریہ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان