سیاست
خصوصی آئینی پوزیشن کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی: محبوبہ مفتی
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آج تک لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اب قائدین کی قربانی کا وقت آ چکا ہے انہوں نے کہا کہ وہ خود جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن ان کی یہ ‘تاناشاہی’ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز (دفعہ 370، دفعہ 35 اے) سال گذشتہ کے پانچ اگست کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے ڈاکہ زنی کر کے چھینی گئی وہ انہیں ضرور واپس مل جائے گی۔
موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں گپکار میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طویل نظر بندی کے بعد منعقدہ پہلی پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘جنہیں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی اب بات نہیں ہوگی وہ غلط فہمی میں ہیں، اس مسئلے کے لئے ہزاروں نوجوانوں نے قربانیاں دی ہیں، ان کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں ہونے دیا جائے گا، آج تک لوگوں کا خون بہا ہے اور اب لیڈروں کے خون دینے کی باری آئی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ جب لیڈران کے خون کی ضرورت پڑے گی محبوبہ مفتی خون دینے والوں کی صف میں سب سے آگے کھڑا ہوں گی۔
تاہم محبوبہ مفتی کا ساتھ ہی کہنا کہ ہم تشدد نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہم پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے۔ یہ بہت لمبی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی ہم سب کو ایک جٹ ہو کر لڑنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز الائنس کے لیڈران اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لئے تمام پرامن ذرائع کا استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘ان کو ہمارے وسائل چاہیے تھے۔ پانی پہلے ہی لے چکے تھے۔ ریت بچی تھی وہ بھی لے گئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے جیلوں میں ہیں۔ مولویوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہم اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے’۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی اپنے پارٹی منشور کو ملک کے آئین کے بدلے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن یہ تاناشاہی زیادہ دیر تک نہیں چلے گی’۔
موصوفہ نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کو جو چیز ہم سے ڈاکہ زنی سے چھینی گئی وہ ہمیں واپس ملے گے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 کو ڈاکہ زنی ہوئی وہ کسی قانون یا بات چیت کے بعد نہیں کی گئی، یہ ڈاکہ زنی کر کے اس آئین کی دھجیاں ڑائی گئیں جس کی یہ لوگ قسمیں کھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ جو چیز ڈاکہ زنی سے چھینی جاتی ہے وہ اصلی مالک کے پاس واپس آجاتی ہے’۔
سبز رنگ کے ‘پھیرن’ میں ملبوس بظاہر ہشاش بشاش محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے اپنے آئین اور جھنڈے کی بحالی تک انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘میری انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ آئین جس کے تحت میں الیکشن لڑتی تھیں جب تک وہ آئین واپس نہیں ملتا ہے محبوبہ مفتی کا تب تک انتخابات سے کوئی سرورکار نہیں ہے’۔
ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی میں نے کہا کہ اب ہم اپنے سبھی فیصلے پیپلز الائنس کے بینر تلے ہی لیں گے۔
تاہم ساتھ ہی کہنا تھا: ‘میں ذاتی طور پر جموں و کشمیر کے اپنے جھنڈے اور آئین کے بغیر کوئی حلف لینے کے لئے تیار نہیں ہوں’۔
پی ڈی پی صدر نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ کیا واضح اور بھاری اکثریت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سروں پر تلوار چلائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘بدقمستی سے ان کو واضح اکثریت ملی اور انہوں نے آئین کا غلط استعمال کیا۔ یہاں سے وہ چیز لوٹ کر لے گئے جس پر ان کا کوئی حق نہیں تھا’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے بھارتی آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی والوں نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا۔ پارلیمان کے پاس یہ سب کرنا کا کوئی حق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے انتخابی منشور کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے بھارتی آئین کی دھجیاں اڑائیں’۔
جموں کی بعض جماعتوں کی جانب سے گپکار علامیے کے طرز پر جموں علامیہ جاری کرنے کے متعلق پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ‘بی جے پی کی پالیسی لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ کشمیری اور ڈوگری عوام میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔ شیعہ اور سنی کے نام پر تقسیم پیدا کرنا ہے، لیکن ہم اس تقسیمی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے’۔
جب ایک نامہ نگار نے محبوبہ مفتی سے پوچھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کو حکومت میں لانے کے لئے تو پی ڈی پی ہی ذمہ دار ہے تو ان کا جواب تھا: ‘مفتی سعید نے بی جے پی سے اتحاد کر کے ایک جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کی تھی’۔
انہوں نے کہا: ‘انہیں معلوم تھا کہ ملک کے اندر بہت بڑا طوفان آ رہا ہے۔ جب تک ہم بی جے پی کے ساتھ سرکار میں رہے ہم نے ان کو ہماری خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگانے نہیں دیا’۔
جب پی ڈی پی صدر سے پو چھا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہاتھ لگایا گیا تو یہاں کوئی بھارتی ترنگے کو کندھا نہیں دے گا تو انہوں نے اس کا جواب میز پر رکھے گئے کشمیر کے جھنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں نے اپنا جھنڈا سامنے رکھا ہے۔ جس وقت ہمارا یہ جھنڈا واپس آئے گا ہم اس جھنڈے کو بھی اٹھا لیں گے۔ یہ جھنڈا ہمارے آئین کا حصہ ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ان لوگوں نے تو خود ہی آئین اور جھنڈے کی بے حرمتی کی ہے۔ جب جموں میں عصمت دری ہوئی تو جھنڈا اٹھا کر عصمت دری کرنے والوں کے حق میں ریلی نکالی۔ اس جھنڈے نے ہی ہمارا بھارتی جھنڈے کے ساتھ رشتہ بنایا ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ سال گذشتہ پانچ اگست سے قبل جب ہم نے حالات کے پیش نظر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی تو انہیں چندی گڑھ تفتیش کے لئے طلب کیا گیا۔
انہوں نے کہا تاہم بعد میں ہم نے مل کر گپکار اعلامیہ تیار کیا جس پر ہم برابر کھڑے ہیں اور جو چیز ہم سے چھینی گئی ہے ہم اس کو واپس حاصل کرنے کے وعدہ بند ہیں۔
موصوفہ نے کہا کہ مین اسٹریم پارٹیوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ‘جعلی ٹی آر پی میڈیا’ کی وساطت سے ہمیں بدنام کیا جا رہے لیکن ہم اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے دوران بھی ہم اپنے ارادوں پر قائم رہے اور ہم ان پر برابر قائم و دائم ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پارلیمنٹ ممبروں کے پاس ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ ممبر کے پاس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے خواہ وہ پانچ کے بجائے ایک ہزار بھی کیوں نہ ہوں، یہ پوزیشن آئین نے ہماری آئین ساز اسمبلی کو دیا ہے’۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے ایک سیکولر بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا لیکن آج کے بھارت کے ساتھ رہنے میں ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں یہاں آج مسلمان، دلت وغیرہ محفوظ نہیں ہیں’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر میں ایسے قوانین لاگو کر رہی ہیں جن سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ بھی اکٹھا ہوجائیں تاکہ ہم اپنی چھینی ہوئی چیزوں کو واپس حاصل کرسکیں۔
موصوفہ نے کہا کہ میری پارٹی کا مقصد ہے کہ لوگوں کو دلدل سے باہر نکالا جائے اور اس پر ہم برابر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘جب میں نظر بند تھیں تو مجھے لگتا تھا کہ پی ڈی پی کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن باہر آکر جب میں پارٹی کارکنوں سے ملی تو محسوس ہوا کہ ہمارے کارکن مرحوم مفتی صاحب کے ایجنڈے کے ساتھ برابر کھڑے ہیں’۔
محبوبہ نے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سکتے میں ہیں اور جب سال گذشتہ ہماری شناخت چھینی گئی تھی تو ہم بھی سکتے میں تھے۔
جب محبوبہ مفتی سے پوچھا گیا کہ ‘کیا نظر بندی کے دوران ان سے بعض شرائط پر رہائی کی پیشکش کی گئی’ تو ان کا جواب تھا: ‘پہلے ماہ کے بعد ہی ایک کاغذ لے کر آئے تھے جس پر لکھا تھا کہ ہم باہر آکر دفعہ 370 پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات کریں گے تو آپ کو پچاس ہزار روپے دینے پڑیں گے’۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر جتنا بین الاقوامی سطح پر بحث میں آیا اتنا کبھی نہیں آیا تھا۔
انہوں نے کشمیر کے حق میں بولنے والے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ‘میں سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا۔ میں ان کو سلام پیش کرتی ہوں’۔
بین الاقوامی خبریں
بھارت نے سیلاب سے متاثرہ نیپال کو اضافی امدادی سامان سونپا

کھٹمنڈو، 26 اگست کے تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال کی بحالی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھتے ہوئے، ہندوستان نے ہفتے کے روز 11 ٹن مواد نیپالی حکام کے حوالے کیا جب امدادی سامان کے ساتھ نویں پرواز نئی دہلی سے ہمالیائی ملک پہنچی۔ “نیپال کی بحالی کی کوششوں کے لیے ہندوستان کی حمایت جاری ہے: 9 انڈین ایئرنس کے ساتھ (9ویں انڈین ایئرنس) کے لیے مواد۔ خیمے، ادویات، سلیپنگ بیگ اور فرانزک سپلائیز، کھٹمنڈو پہنچے اور نیپال کی حکومت کے حوالے کر دیے گئے،” نیپال میں ہندوستان کے سفیر نوین سریواستو نے ایکس کو کہا۔
“ہندوستان کی امدادی امداد نیپال پہنچ گئی ہے۔ اضافی 11 ٹن ضروری سامان، بشمول ادویات، فرانزک سپلائیز، خیمے، حفظان صحت کی کٹس اور سلیپنگ بیگ، نیپالی فریق کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ ہندوستان نیپال کی بحالی میں تعاون کے لیے پرعزم ہے،” ایم ای اے نے ایکس آن جمعہ کو کہا، نیپال کے وزیر خزانہ، ہندوستان کی امداد اور امدادی کوششوں کے لیے نیپال کے وزیر خزانہ، سویلین حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ راسووا میں حالیہ سیلاب کے بعد، ہندوستان میں نیپال کے سفارت خانے نے کہا۔ “نیپال کے وزیر خزانہ ڈاکٹر سوارنیم واگلے نے نئی دہلی میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ وزیر واگلے نے روسووا میں حالیہ سیلاب کے بعد بچاؤ اور راحت کی کوششوں میں مدد کے لئے حکومت ہند کا شکریہ ادا کیا،” سفارتخانے نے طویل گفتگو کرتے ہوئے لکھا۔ نیپال-ہندوستان دوستی اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرنا، خاص طور پر سرمایہ کاری، توانائی اور کنیکٹیویٹی میں۔
پچھلے ہفتے، راحت اور بچاؤ کی اشیاء بشمول ٹنل ریسکیو اور فارنزک سپلائی کے لیے مواد، ہندوستان کی طرف سے بھیجے گئے نیپال کے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے وزیر مہابیر پن کے حوالے کیے گئے۔” راحت اور بچاؤ کے سامان کے ساتھ آٹھویں ہندوستانی پرواز، بشمول ٹنل ریسکیو اور فارنزک سپلائی کے لیے سامان، کھٹمنڈو پہنچی اور اسے نیپال کے وزیر برائے سائنس، امباسد، مہابیر پن، نیپال کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر، مہابیر پن کے حوالے کیا گیا۔ نوین سریواستو نے کہا کہ ایکس.انڈیا نے تباہ کن سیلاب کے تناظر میں 26 اگست سے نو خصوصی پروازوں کے ذریعے نیپال کو امدادی سامان، سازوسامان اور ماہر عملہ کی ترسیل میں تیزی لائی ہے۔
سیاست
آدتیہ ٹھاکرے نے دیشا سالیان کیس (ایل ڈی) میں ماتوشری کے باہر 500 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس دیا

ممبئی، شیوسینا-یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی باندرہ رہائش گاہ ‘ماتوشری’ کے باہر ہفتہ کو ہائی وولٹیج ڈرامہ سامنے آیا جب آنجہانی مشہور شخصیت مینیجر دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان ذاتی طور پر ایم ایل اے آدتیہ ٹھاکرے کو 500 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیجنے پہنچے۔ سالیان نے دیشا سالیان کی موت سے متعلق آدتیہ ٹھاکرے اور مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے سوشل میڈیا کے حالیہ بیانات کے حوالے سے قانونی نوٹس دینے کی کوشش کی۔ شیو سینا-یو بی ٹی کے سینکڑوں کارکنان گیٹ کے باہر جمع ہوئے، احتجاج کرتے ہوئے ستیش سالیان اور ان کی ٹیم کو جائیداد کے قریب جانے سے روکنے کی کوشش کی۔
ممبئی پولیس نے فوری طور پر بھاری حفاظتی دستے تعینات کیے اور امن و امان کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مرکزی داخلی دروازے بند کر دیے۔ اس واقعے کے دوران شیو سینا-یو بی ٹی کے سینئر رہنما اور ایم پی انیل دیسائی بھی ماتوشری پہنچے۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر انیل پراب نے ایک قانونی ٹیم کا اہتمام کیا- جس میں ایڈوکیٹ راہول دیوتے اور انہو گیٹ کو نوٹس لینے کے لیے ایڈووکیٹ پر مشتمل تھا۔ آدتیہ ٹھاکرے کی جانب سے۔ ایک مختصر تعطل کے بعد، آدتیہ ٹھاکرے کے قانونی نمائندے نے گیٹ پر رسید کی رسید پر دستخط کر دیے۔ موقع پر موجود میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے کے وکیل نے واضح کیا کہ انہوں نے نوٹس کو معیاری پروٹوکول کے طور پر قبول کیا ہے، حالانکہ انہوں نے ابھی تک اس کا مواد نہیں پڑھا۔ قانونی نوٹس میں مبینہ طور پر آدتیہ ٹھاکرے سے سوشل میڈیا پر ان کے حالیہ ریمارکس کے بارے میں سات دنوں کے اندر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر وہ معافی مانگنے میں ناکام رہتے ہیں تو، نوٹس میں ہتک عزت کے لیے 500 کروڑ روپے کا معاوضہ لازمی ہے۔ 500 کروڑ روپے کے معاوضے کے مقدمے کی پیروی کی جائے گی، آئین کے تحت سب برابر ہیں، اور ہم یہ ظاہر کرنے کے لیے اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایک عام شہری کسی سے کم نہیں ہے۔” جب صحافیوں سے سوال کیا گیا کہ یہ نوٹس میل کے ذریعے بھیجنے کے بجائے ذاتی طور پر کیوں پہنچایا گیا، ستیش سالیان نے شیو سینا سے منسلک نمائندوں کی طرف سے دھمکی دی۔
انہوں نے کہا، “میں انہیں دکھانا چاہتا تھا کہ وہ (شیو سینا-یو بی ٹی) ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔ آدتیہ ٹھاکرے کے ساتھیوں نے میرے وکلاء کو دھمکی دی کہ وہ کمرہ عدالت میں داخل نہیں ہو پائیں گے۔” انہوں نے کہا۔ ماتوشری پہنچنے سے قبل پریس سے بات کرتے ہوئے، ایک جارح ستیش سالیان نے مزید کہا، “مجھے چھ سال لگ گئے، لیکن خدا کے سوا مجھے چھ سال لگ گئے، وکیلوں نے مجھے کنٹرول کیا۔ میں مطمئن ہوں کہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔” یہ پیشرفت آدتیہ ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے حالیہ عوامی بیانات کے بعد ہوئی ہے جس میں آدتیہ ٹھاکرے کو دیشا سالیان کی موت سے جوڑنے والے تمام الزامات کی تردید کی گئی ہے، جو 2020 میں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے انتقال سے کچھ دیر پہلے پیش آئے تھے۔ مسلسل الزامات – جو پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں بشمول نتیش رانے نے لگائے تھے – کردار کے قتل کی سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی کوششوں کے طور پر۔
سیاست
راہول گاندھی کے اندور پہنچنے پر سی ایم یادو نے تعلیمی ریکارڈ پر کانگریس کو نشانہ بنایا

اندور، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے ہفتہ کے روز کانگریس پر تعلیم اور ترقی کے ریکارڈ کو لے کر نشانہ لگایا، جس کے فوراً بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی پارٹی کے ‘چھتروں کی گنج’ پروگرام میں شرکت کے لیے اندور پہنچے۔ یادو نے کہا کہ کانگریس نے مدھیہ پردیش پر طویل عرصے تک حکومت کی، لیکن اس کا تعلیمی اور ترقیاتی بجٹ پیش کیے جانے کے دوران اس کا ریکارڈ دس سال تک ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ “آج راہل گاندھی ہمارے تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے تعلیم کو ترجیح دی ہے اور 4.38 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے،” یادو نے کہا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے بجٹ میں سالوں کے دوران نمایاں طور پر توسیع ہوئی ہے، موجودہ بجٹ کے مقابلے میں جو انہوں نے کانگریس کے 55 برسوں کے اقتدار کے دوران تقریباً 22,000 کروڑ روپے کے کل بجٹ کے طور پر بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ان مسائل پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور کانگریس سے اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس اقتدار میں ہے لیکن ریاستی کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں ہے۔ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور جب وقت آئے گا تو وہ جواب بھی مانگیں گے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ تبصرہ راہول گاندھی کے اندور پہنچنے کے فوراً بعد آیا جب وہ طلبہ کے ساتھ طے شدہ بات چیت کے لیے پہنچے۔ کانگریس لیڈر ‘چھتروں کی گنج’ پروگرام کے تحت طلباء سے خطاب کرنے والے ہیں۔ کانگریس کی طرف سے یہ پروگرام طلباء اور نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کے طور پر منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں تعلیم، بھرتی اور روزگار کے اہم مسائل پر بات چیت کی توقع ہے۔ گاندھی کے دورے کے ساتھ پروگرام کو نشانہ بنانے والے پوسٹروں پر سیاسی تنازعہ اور پولیس کی طرف سے جاری کردہ سیکورٹی حالات سے متعلق تنازعہ بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت نے ریاست میں کانگریس لیڈر کے طلبہ تک رسائی میں ایک سیاسی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ڈگ وجئے سنگھ نے اندور پہنچنے کے بعد راہول گاندھی کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ کانگریس نے ‘چھتروں کی گونج’ پروگرام کو طلباء اور نوجوانوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جب کہ بی جے پی کی زیرقیادت ریاستی حکومت نے مدھیہ پردیش میں اپنے سابقہ دور حکومت کے دوران بجٹ مختص کرنے اور کانگریس کے ریکارڈ پر سوال اٹھاتے ہوئے جواب دیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
