Connect with us
Thursday,13-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

یاس طوفان امفان سے کہیں زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے : ممتا بنرجی

Published

on

MAMTA

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ خلیج بنگال میں برپا ’’یاس طوفان‘‘ جو اگلے دو دنوں میں ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔ وہ گزشتہ سال آئے امفان طوفان سے زیاد نقصان دہ اور مہلک ثابت ہوسکتا ہے، اور یہ 72 گھنٹے تک آفت مچا سکتا ہے، مغربی بنگال حکومت اور این ڈی آر ایف کی ٹیم پہلے سے ہی تیاری شروع کر دیا گیا ہے۔ لاکھوں افراد کو ساحلی علاقوں سے نکال کر محفوظ مقام تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ساحلی علاقے کو مکمل طور پر خالی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم وزیر اعلی ممتا بنرجی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ طوفان امفان سے زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ احتیاط برتیں، اور تباہی کی صورت میں صبرو تحمل سے کام لیں۔ حکومت ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ امفان سے بڑا ہونے جا رہا ہے۔ اگر اس کی شدت میں کمی آئی تو ہمارے لئے خوشی کا باعث ہوگا۔ بڑی تباہی کا خدشہ ہے۔ ہمیں صبرو تجمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ طوفان کے وقت اپنی جان کو خطر میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماہی گیر سمندر میں نہ جائیں۔ 24 گھنٹے کنٹرول کھلے رہیں گے۔ 72 گھنٹے بہت ہی صبر آزما ہے۔

ممتا بنرجی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ریاست کے 20 اضلاع اس تباہی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20 اضلاع میں طوفان جاری رہیں گے۔ جھاڑ گرام، ہوڑہ، ہگلی اور بردوان میں بھی تباہی ہو سکتی ہے۔ شمالی بنگال میں بھی موسلا دھار بارش ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریاست میں 4 ہزار طوفان مراکز تیار ہیں۔ اس تباہی سے نمٹنے کے لئے ریاست بھر میں 51 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں۔ مختلف بلاکس میں امدادی مراکز کھول دیئے گئے ہیں۔ یہاں 4 ہزارچکرو مراکز اور فوڈ شیلٹرس تیار ہیں۔ ساحلی علاقے کے باشندوں کو منتقل کرنے کے لئے کام جاری ہے۔ جنوبی بنگال کے اضلاع میں مزید نقصان ہوگا۔ بلاک میں خاطر خواہ ریلیف اسٹاک کیا گیا ہے۔

اس سے قبل مرکزی حکومت نے اس طوفان سے نمٹنے کے لئے آندھرا پردیش اور اڈیشہ سمیت بنگال کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، آندھرا اور اڈیشہ کو 600 کروڑ روپئے کی امداد کے اعلان کے باوجود، مرکز بنگال کو 400 کروڑ روپئے دے رہا ہے۔ اس تناظر میں، ممتا بنرجی نے مرکزکی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چوں کہ بنگال ایک بڑی ریاست ہے اس لئے کو کم حصہ مل رہا ہے۔

اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے یاس طوفان سے نمٹنے کےلئے تین ریاستوں کے وزرااعلیٰ کی میٹنگ بلائی تھی مگر اس میٹنگ میں وزیر اعلیٰ شریک نہیں ہوئیں۔ ان کی جگہ چیف سیکریٹری امیت شاہ کی میٹنگ میں حصہ لیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

پاکستانی آئی ایس آئی ایجنٹ رانا رؤف عرف وہاب عالم گرفتار، نیپال کے راستے بھارت آیا تھا اور 14 سال سے مغربی بنگال میں مقیم تھا۔

Published

on

ISI-Agent-Aftab

نئی دہلی : مغربی بنگال پولیس کی خصوصی ٹاسک فورس نے حال ہی میں ایک مشتبہ پاکستانی آئی ایس آئی ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے۔ این ایس جی کے سابق کمانڈو لکی بشت کے مطابق اس کی شناخت رانا رؤف عرف وہاب عالم کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ پاکستان کے فیصل آباد کا رہائشی ہے اور بھارت سے بنگلہ دیش فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ را کے سابق ایجنٹ لکی بشت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو پوسٹ کی اور اس گرفتاری کو بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم تقریباً 14 سال سے بھارت میں مقیم تھا۔ بشت کے مطابق وہ 2012 میں نیپال کے راستے ہندوستان آیا تھا اور مغربی بنگال میں رہ رہا تھا۔

ہندوستان-نیپال سرحد کی نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے لکی بشت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھلی سرحد نقل و حرکت کو آسان بناتی ہے جس کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے عناصر بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہیں۔ تاہم سابق کمانڈو نے اس معاملے میں عوام کی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ بشت نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں اور انٹیلی جنس یونٹ ہر فرد کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ لہذا، اگر کسی شخص کی سرگرمیاں مشکوک معلوم ہوتی ہیں یا اس کے رویے سے ملک دشمن سرگرمیوں کا پتہ چلتا ہے، تو لوگوں کو اس کی اطلاع مقامی پولیس یا متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کو کرنی چاہیے۔ لکی بشت نے کہا کہ کسی مشکوک فرد کے بارے میں بروقت معلومات سیکورٹی ایجنسیوں کو ممکنہ خطرات سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع خود افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی اداروں کو دیں۔

را کے مبینہ سابق ایجنٹ نے ہلدوانی، اتراکھنڈ میں حالیہ گرفتاریوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں مسلسل مشکوک نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی صرف پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام شہری بھی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دے کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ سرگرمی کے بارے میں معلومات کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کسی بڑے خطرے کو ٹالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی ایجنسیوں کی چوکسی اور موثر کارروائی کی مثال کے طور پر بنگال اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کی کارروائی کا بھی حوالہ دیا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

مغربی افریقی ملک لائبیریا کے وزیر خارجہ دہلی کے دورے پر، یہ دورہ اقوام متحدہ کی سفارت کاری اور اہم معدنیات سمیت کئی امور کے لیے اہم ہے۔

Published

on

India-Liberia

نئی دہلی : ایران امریکہ کشیدگی کا اثر دنیا کے کئی ممالک میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان اپنی اسٹریٹجک تیاریوں کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ دہلی کا منصوبہ ہر ممکن طریقے سے امریکہ اور چین پر اپنا انحصار کم کرنا ہے۔ نتیجتاً بھارت سفارتی طور پر اہم سمجھے جانے والے ممالک پر اپنی توجہ بڑھا رہا ہے۔ مزید برآں، یہ ممالک نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس فہرست میں مغربی افریقی ملک لائبیریا کا نام نمایاں ہے۔ اس کے وزیر خارجہ ہندوستان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ سارہ بیسولو نیانتی کا یہ دورہ سفارتی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ لائبیریا کی پوزیشن اہم معدنیات سے لے کر یو این ایس سی کی سفارت کاری تک بہت سے شعبوں میں اہم ہے۔ ہمسایہ ملک چین بھی لائبیریا میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ اس لیے ہندوستان کے لیے اس مغربی افریقی ملک میں اپنی موجودگی کو بڑھانا بہت ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی وزارت خارجہ نے لائبیریا کی وزیر خارجہ کا دورہ ہندوستان پر خصوصی استقبال کیا ہے۔ ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا، “لائبیریا کی وزیر خارجہ سارہ بیسولو نینتی کا نئی دہلی پہنچنے پر پرتپاک خیرمقدم۔ یہ دورہ ہندوستان اور لائبیریا کے درمیان گرمجوشی اور قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ لائبیریا کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے لئے بہت سفارتی اہمیت کا حامل ہے۔ لائبیریا کے وزیر خارجہ سارہ بیسولو نینتی کی نئی دہلی آمد پر نئی دہلی پہنچ گئی ہے۔ دو روزہ دورے پر وہ حیدرآباد ہاؤس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کریں گی۔

لائبیریا مغربی افریقہ کا ایک بڑا ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت منروویا ہے۔ 26 جولائی 1847 کو آزادی حاصل کرتے ہوئے، یہ افریقہ کی پہلی جمہوری جمہوریہ بن گئی۔ یہ افریقہ کی قدیم ترین جمہوریہ بھی ہے۔ انگریزی اس کی سرکاری زبان ہے۔ اقتصادی طور پر ملک اہم معدنیات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے پاس قدرتی وسائل جیسے لوہا، ہیرے، سونا اور ربڑ موجود ہے۔ اس کے باوجود لائبیریا ایک ترقی پذیر ملک سمجھا جاتا ہے۔

لائبیریا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کبھی اقوام متحدہ کے امن مشن (یو این ایم آئی ایل) کی حمایت پر منحصر تھا، یہ ملک اب اس اہم ادارے کا حصہ بن گیا ہے جو بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ 2026-2027 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت سے ملک کا تاریخی مقام ہے۔ جون 2025 کے انتخابات کے دوران ملک کو زبردست حمایت حاصل ہوئی اور اس نے 1 جنوری 2026 کو اپنی باقاعدہ مدت کا آغاز کیا۔ لائبیریا دسمبر 2026 میں سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت بھی سنبھالے گا۔ یو این ایس سی سفارت کاری پر ہندوستان کی توجہ لائبیریا کے ساتھ اس کے تعلقات پر اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔

لائبیریا اپنے قدرتی وسائل بالخصوص لوہے اور دیگر معدنیات کی وجہ سے معاشی طور پر اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے اس ملک پر اپنی توجہ بڑھا دی ہے۔ یہ اس افریقی ملک میں مسلسل سرگرم ہے۔ ایسے میں ہندوستان لائبیریا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ دہلی پہلے ہی افریقہ پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ اس میں لائبیریا بھی شامل ہے، جہاں ہندوستان کی موجودگی میں اضافہ ضروری ہے۔ تاہم، نقطہ نظر تھوڑا مختلف ہے. دہلی کا زور صلاحیت سازی، دواسازی، تعلیم، تربیت، ترقیاتی تعاون، اور عوام سے عوام کے تعلقات پر ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گزشتہ 15 برسوں میں پہاڑی کھسکنے کے مسئلے کا کوئی حل نہیں، شہر و مضافات 22,483 خاندان خطرناک علاقوں میں مقیم

Published

on

landslide

ممبئی پہاڑی گرنے سے جان و مال کا نقصان، نیز معاشی نقصان ممبئی میں کوئی نئی بات نہیں، اس کے باوجود ریاستی حکومت گزشتہ 15 سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ 34 سالوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

ممبئی کے 36 اسمبلی حلقوں میں سے 25 میں، پہاڑی علاقوں میں 257 مقامات کو خطرناک کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے بتایا کہ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے ترجیحی بنیادوں پر 22,483 شناخت شدہ جھونپڑیوں میں سے 9,657 کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ باقی ماندہ جھونپڑیوں کو محفوظ بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی تاکہ پہاڑیوں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔ گلگلی نے پہلے مہاراشٹر حکومت کو مانسون کے موسم میں 327 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

1992 سے 2026 کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے نقل مکانی کی سفارش کی تھی۔ 2010 میں ایک جامع سروے کیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کارروائی کی جاتی تو ان پہاڑی علاقوں کے مکینوں کی ہلاکتوں کو روکا جا سکتا تھا۔ بورڈ کی رپورٹ اور انل گلگلی کی خط و کتابت کے بعد، اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے یکم ستمبر 2011 کو شہری ترقیات کے محکمے کو ایک ایکشن پلان بنانے کا حکم دیا۔ تاہم، اس کے بعد 15 سال گزر چکے ہیں، اور محکمہ شہری ترقی نے ابھی تک اس پر کام شروع نہیں کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی نے بھی چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق ‘ایکشن ٹیکن پلان’ (اے ٹی پی) تیار نہیں کیا،

Continue Reading
Advertisement

رجحان