Connect with us
Tuesday,22-September-2026

مہاراشٹر

آج مالیگاؤں میں کسانوں کا تاریخی استقبال اور احتجاجی اجلاس ڈیولپمنٹ فرنٹ,مسلم راشٹریہ مورچہ, سنی جمعیت الاسلام سمیت سینکڑوں سماجی و ملی تنظمیں کسانوں کے ساتھ

Published

on

malrgaonmoha

مالیگاؤں( خیال اثر)

کسان آندولن میں شریک ہونے کے لئے ضلع ناسک کے پانچ ہزار سے زائد کسانوں پر مشتمل ایک مورچہ دہلی تک جا کر وہاں آندولن کررہے کسانوں کو تقویت پہنچائے گا. ضلع ناسک سے نکلنے والا یہ مورچہ آج مالیگاؤں کی تمام شاہراؤں سے گزرتا ہوا دہلی کی جانب کوچ کر جائے گا. اس مورچے کی مالیگاؤں آمد پر شہر میں ایک احتجاجی اجلاس کا انعقاد بھی کیا گیا ہے. اسی طرح ان احتجاجی کسانوں کے استقبال کرنے کے لئے شہر کی سبھی سماجی, ملی اور سیاسی جماعتوں نے جنگی پیمانے پر تیاری کر رکھی ہے. اس تعلق سے راشٹریہ مسلم مورچہ کے شہری صدر سیٹھ اکبر اشرفی نے کہا کہ آج کا یہ کسانوں پر مشتمل احتجاجی مورچہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے دہلی تک جائے گا.

اس سنگین رخ اختیار کردہ حالات میں ہم کسانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کی یکسوئی کے لئے ارباب حکومت کو متوجہ کرتے ہیں کیونکہ ہندوستانی فوجی اگر سرحدوں پر لڑتے ہوئے دیش کی حفاظت کرتے ہیں تو یہ کسان ہر شہری کے لئے وافر مقدار میں اجناس کی پیداوار کرکے ہمیں بھوک سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں. سنی جمیعت الاسلام کے صدر اور سجادہ نشین صوفی نور العین صابری نے کہا کہ کسان حق بجانب ہیں کہ ان کے حقوق کو زبردستی پامال نہ کیا جائے.

ان کے خلاف بنائے گئے زرعی قوانین کو فورأ سے پیشتر منسوخ کیا جائے ورنہ آنے والے دنوں میں کسان اپنے کھیتوں میں بھوک کی کاشت کاری کرتے ہوئے افلاس کی فصل کاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے جس سے کورونا سے خطرناک وباء قحط سالی کا عذاب ہندوستان پر نازل ہو جائے گا. مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے عمران راشد نے کہا کہ مودی حکومت نے پورے بھارت کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اقلیت خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے۔ حال ہی میں کسانوں کے تعلق سے بنائے گئے تین نئے قانون سے کسان کافی ناراض ہیں۔ اس ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کسان سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے اطراف میں سخت سردی کے ایام ہیں لیکن کسانوں کا جوش و خروش ہے کہ بھوکے پیاسے کسان سردی میں بھی گرمی کا ماحول بنائے ہوئے ہیں. انھیں کوئی بھی موسم اپنے قدم پیچھے ہٹانے کے لئے مجبوری کا باعث نہیں بن رہا ہے. کافی جوش و خروش کے ساتھ آندولن جاری ہے۔ کسانوں کی مانگ ہے کہ یہ قانون انہیں منظور نہیں اسے رد کیا جائے۔ لیکن مودی حکومت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

وہیں دوسری جانب مہاراشٹر کے کسان بھی اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ 22 دسمبر کو ناسک میں مہاراشٹر کے کسان جمع ہوں گے اور وہاں سے ایک بڑی ریلی دہلی کسان آندولن میں شریک ہوگی۔ کسانوں کی یہ ریلی مالیگاؤں سے ہوکر گذرے گی۔ اس موقع پر مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے نوجوانوں کی جانب سے کسان ریلی کا استقبال کیا جائے گا۔ ساتھ ہی کسانوں کے حوصلوں کو بڑھانے کے لئے ایم ڈی ایف کے نوجوان کسان ریلی میں شریک بھی ہوں گے۔ عیاں رہے کہ مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے نیا فاران ہاسپٹل کے سامنے کسانوں کا استقبال کیا جائے گا.بتایا جاتا ہے کہ کسانوں کے اس عظیم احتجاج کے پیش نظر شہر کے ہر مکتب فکر کے افراد نے نہ صرف ان کی تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے بلکہ یکجٹ ہو کر ان کے تاریخی استقبال کے لئے نہ صرف اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں بلکہ ان کے ساتھ کچھ دور تک ساتھ چلنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے. شہر کا جوش و خروش دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج شہر کا کوچہ کوچہ پولیس چھاونی میں تبدیل ہو جائے گا اور ان کسانوں پر پھول نچھاور کرنے کے پھول دکانوں پر پھول کمیاب ہو جائیں گے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

Published

on

I.-Airport

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان