Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

مہاراشٹر

آج مالیگاؤں میں کسانوں کا تاریخی استقبال اور احتجاجی اجلاس ڈیولپمنٹ فرنٹ,مسلم راشٹریہ مورچہ, سنی جمعیت الاسلام سمیت سینکڑوں سماجی و ملی تنظمیں کسانوں کے ساتھ

Published

on

malrgaonmoha

مالیگاؤں( خیال اثر)

کسان آندولن میں شریک ہونے کے لئے ضلع ناسک کے پانچ ہزار سے زائد کسانوں پر مشتمل ایک مورچہ دہلی تک جا کر وہاں آندولن کررہے کسانوں کو تقویت پہنچائے گا. ضلع ناسک سے نکلنے والا یہ مورچہ آج مالیگاؤں کی تمام شاہراؤں سے گزرتا ہوا دہلی کی جانب کوچ کر جائے گا. اس مورچے کی مالیگاؤں آمد پر شہر میں ایک احتجاجی اجلاس کا انعقاد بھی کیا گیا ہے. اسی طرح ان احتجاجی کسانوں کے استقبال کرنے کے لئے شہر کی سبھی سماجی, ملی اور سیاسی جماعتوں نے جنگی پیمانے پر تیاری کر رکھی ہے. اس تعلق سے راشٹریہ مسلم مورچہ کے شہری صدر سیٹھ اکبر اشرفی نے کہا کہ آج کا یہ کسانوں پر مشتمل احتجاجی مورچہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے دہلی تک جائے گا.

اس سنگین رخ اختیار کردہ حالات میں ہم کسانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کی یکسوئی کے لئے ارباب حکومت کو متوجہ کرتے ہیں کیونکہ ہندوستانی فوجی اگر سرحدوں پر لڑتے ہوئے دیش کی حفاظت کرتے ہیں تو یہ کسان ہر شہری کے لئے وافر مقدار میں اجناس کی پیداوار کرکے ہمیں بھوک سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں. سنی جمیعت الاسلام کے صدر اور سجادہ نشین صوفی نور العین صابری نے کہا کہ کسان حق بجانب ہیں کہ ان کے حقوق کو زبردستی پامال نہ کیا جائے.

ان کے خلاف بنائے گئے زرعی قوانین کو فورأ سے پیشتر منسوخ کیا جائے ورنہ آنے والے دنوں میں کسان اپنے کھیتوں میں بھوک کی کاشت کاری کرتے ہوئے افلاس کی فصل کاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے جس سے کورونا سے خطرناک وباء قحط سالی کا عذاب ہندوستان پر نازل ہو جائے گا. مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے عمران راشد نے کہا کہ مودی حکومت نے پورے بھارت کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اقلیت خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے۔ حال ہی میں کسانوں کے تعلق سے بنائے گئے تین نئے قانون سے کسان کافی ناراض ہیں۔ اس ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کسان سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے اطراف میں سخت سردی کے ایام ہیں لیکن کسانوں کا جوش و خروش ہے کہ بھوکے پیاسے کسان سردی میں بھی گرمی کا ماحول بنائے ہوئے ہیں. انھیں کوئی بھی موسم اپنے قدم پیچھے ہٹانے کے لئے مجبوری کا باعث نہیں بن رہا ہے. کافی جوش و خروش کے ساتھ آندولن جاری ہے۔ کسانوں کی مانگ ہے کہ یہ قانون انہیں منظور نہیں اسے رد کیا جائے۔ لیکن مودی حکومت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

وہیں دوسری جانب مہاراشٹر کے کسان بھی اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ 22 دسمبر کو ناسک میں مہاراشٹر کے کسان جمع ہوں گے اور وہاں سے ایک بڑی ریلی دہلی کسان آندولن میں شریک ہوگی۔ کسانوں کی یہ ریلی مالیگاؤں سے ہوکر گذرے گی۔ اس موقع پر مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے نوجوانوں کی جانب سے کسان ریلی کا استقبال کیا جائے گا۔ ساتھ ہی کسانوں کے حوصلوں کو بڑھانے کے لئے ایم ڈی ایف کے نوجوان کسان ریلی میں شریک بھی ہوں گے۔ عیاں رہے کہ مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے نیا فاران ہاسپٹل کے سامنے کسانوں کا استقبال کیا جائے گا.بتایا جاتا ہے کہ کسانوں کے اس عظیم احتجاج کے پیش نظر شہر کے ہر مکتب فکر کے افراد نے نہ صرف ان کی تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے بلکہ یکجٹ ہو کر ان کے تاریخی استقبال کے لئے نہ صرف اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں بلکہ ان کے ساتھ کچھ دور تک ساتھ چلنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے. شہر کا جوش و خروش دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج شہر کا کوچہ کوچہ پولیس چھاونی میں تبدیل ہو جائے گا اور ان کسانوں پر پھول نچھاور کرنے کے پھول دکانوں پر پھول کمیاب ہو جائیں گے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com