Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

جامعہ ہمدر صرف تعلیمی شعبہ میں ہی نہیں سماجی شعبے میں بھی خدمات انجام دے رہی ہے : پروفیسر افشار عالم

Published

on

Job-Fair

جامعہ ہمدرد کے سماجی خدمات اور معاشرتی سروکار سے آگاہ کرتے ہوئے جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم نے کہا ہے کہ جامعہ ہمدرد صرف تعلیمی خدمات ہی انجام نہیں دے رہی ہے، بلکہ تمام شعبے میں بھی سماجی خدمات انجام دے رہی ہے۔یہ بات انہوں نے 22 دسمبر کو جامعہ ہمدرد میں منعقد ہونے والے روزگار میلہ کے بارے میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں صرف تعلیمی خدمات انجام دیکر بری الذمہ نہیں ہو سکتے، بلکہ ہمیں سماجی خدمات کے بارے میں بھی یونیورسٹی کو آگے لانا ہوگا۔ اسی سماجی خدمات کے میدان میں پہل کرتے ہوئے جامعہ ہمدرد نے روزگار میلہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس روزگار میلے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ان تمام نوجوانوں کو بھی موقع ملے گا، جو خود سے روزگار تلاش نہیں کر سکتے، یا ان کے والدین اس کے اہل نہیں ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے رضاکار کی ٹیم موجود رہے گی، اور ایسے نوجوانوں کی اسکریننگ کر کے انٹرویو کے لئے بھیجے گی۔

انہوں نے کہا کہ فریشر کے لئے بہت ہی سنہری موقع ہے، اور فریشر کو یہیں تقرری نامہ دیا جائے گا۔ اور کمپنیاں اپنے حساب سے انہیں ٹرینڈ کر کے روزگار فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس روزگار میلے میں دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو نوکری ملنے کا امکان ہے۔ اس روزگار میلہ میں 30 سے 40 کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ جن میں بینکنگ، کثیر الاقوامی کمپنیاں، ہاسپٹل، منیجمنٹ اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔

پروفیسر افشار عالم نے کہا کہ کودڈ کی وجہ سے نوجوان برے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو روزگار دیکر مدد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ہمدرد نے ’بھارت ابھیان‘ کے تحت کئی گاؤں اور سلم علاقوں کو گود لیا ہے۔ جہاں ہم نے کووڈ کٹ، راشن کٹ، دوائیاں، کمبل اور دوسری ضروریات کا سامان تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ تعلیم کو ہر یونیورسٹی دیتی ہے اور ہمدرد یونیورسٹی بھی دیتی ہے، لیکن یہ سوال یہ ہے کہ ہم سماج کو کیا واپس کر رہے ہیں۔ سماجی خدمات اور روزگار میلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ہمدرد کے طلبہ کے لئے روزگار کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہیں کیمپس میں ہی جاب مل جاتا ہے۔ یہ سب ہم باہر کے طلبہ کے لئے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس اینڈ ایمپلائنٹ بیورو (بی ای بی) اور ایسوسی ایشن آف مسلم پرفیشنلز (اے ایم پی) کے تعاون یہ روزگار میلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایشن آف مسلم پرفیشنلز کے فاروق صدیقی نے روزگار میلے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ روزگار فراہم کرنے کے میدان میں 14 سال سے کام کر رہے ہیں، اور اب تک ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اس روزگار میلے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد ان نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے، جو روزگار سے محروم ہیں یا ان کا روزگار کے ذریعہ تک پہنچ نہیں ہے۔ اسکریننگ اور ڈاکومنٹ چیک کرنے کے بعد نوجوانوں کو انٹرویو کے لئے بھیجا جائے گا۔

بزنس اینڈ ایمپلائنٹ بیورو کے ایگزیکیوٹیو سکریٹری شوکت مفتی نے کہا کہ جامعہ ہمدرد کا تعارف اور خدمات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جب خاندان میں ایک فرد کو روزگار ملتا ہے، تو پورے خاندان کی پرورش ہوتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وائس چانسلر افشار عالم کی ہمہ جہت شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مسٹر افشار پہلے انٹرنل وائس چانسلر ہیں، اور ان کی قیادت یونیورسٹی روزگار پر مبنی پروگرام لانچ کر رہی ہے۔ اس موقع پر اسکول آف نرسنگ کی ڈین پروفیسر منجو جوگانی نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان