Connect with us
Saturday,05-September-2026

(جنرل (عام

ڈاکٹر ہرش وردھن دہلی کے اسپتالوں میں ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں گے

Published

on

Dr. Harsh Vardhan

مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن آج دہلی کے مختلف اسپتالوں میں جا کر کورونا ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں۔

ڈاکٹر ہرشوردھن سب سے پہلے آج صبح ایمس نئی دہلی پہنچے۔ وہ ایمس کے ڈاکٹروں اور ٹیکہ لگوانے والے مستفیدین کے ساتھ کورونا ویکسینیشن مہم کے آغاز موجود رہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس مہم کا آغاز کیا۔

مرکزی وزیر ایمس کے بعد ہندو راؤ اسپتال اور سر گنگا رام اسپتال کا دورہ کریں گے۔

(جنرل (عام

تحفظ ختمِ نبوت کے موضوع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء و رضا اکیڈمی کی اہم نشست

Published

on

ممبئی، 5 ستمبر 2026: عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقائد سے روشناس کرانے کے مقصد سے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام چشتی ہندوستانی مسجد، بھائیکلہ، ممبئی میں ایک اہم علمی و دینی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کے متعدد علمائے کرام، ائمۂ مساجد، دانشوران اور عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔نشست کی صدارت حضرت علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری، خطیب و امام چشتی ہندوستانی مسجد نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز مقررہ وقت سہ پہر 3 بجے ہوا۔ نشست میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، اس کے تحفظ کی دینی ذمہ داری اور موجودہ دور میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ 7 ستمبر 2026 کو کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں بعد نمازِ عشاء منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسیرِ مفتیِ اعظم، بانی و سربراہ رضا اکیڈمی، الحاج محمد سعید نوری نے تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی شرعی و اسلامی حیثیت واضح کی۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس عقیدۂ قطعیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کے بعد کسی بھی شخص کا دعوائے نبوت اسلامی عقائد کے سراسر منافی ہے۔

الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوتامتِ مسلمہ کے بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے، جس کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر بالخصوص نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ فتنۂ قادیانیت کے مقابلے میں علمی، فکری اور پُرامن انداز میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے علمائے کرام اور اہلِ علم سے اپیل کی کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام نسلِ نو تک مؤثر انداز میں پہنچائیں، تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے مکمل طور پر واقف اور وابستہ رہے۔صدارتی خطاب میں علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحفظِ ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایمان کی بنیادوں سے وابستہ ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات، تحریروں اور دینی مجالس کے ذریعے عوام تک عقیدۂ ختمِ نبوت کی صحیح تعلیم پہنچاتے رہیں۔ علامہ عبدالجبار ماہر القادری نے علمائے کرام، ائمۂ مساجد اور عاشقانِ رسول سے اپیل کی کہ 7 ستمبر 2026 بروز پیر بعد نمازِ عشاء کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں اور اس اہم دینی و اعتقادی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مولانا عرفان علیمی نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو اسلامی عقائد سے روشناس کرانا اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے محفوظ رکھنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔نشست میں شریک علمائے کرام اور دانشوران نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، فکری اور دعوتی سطح پر مسلسل جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی، اشاعت اور نسلِ نو کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے علمی و اصلاحی نشستوں اور اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔نشست میں علمائے کرام، دانشوران اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ آخر میں ملک و ملت، امتِ مسلمہ اور خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی ماہم میں دہی ہانڈی پر ہندو مسلم ایکتا کی مثال

Published

on

ممبئی میں ہندو مسلم ایکتا کی مثال پیش کرتے ہوئے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ کے داخلی دروازے پر گووندہ پاٹھکوں نے پہلی سلامی پیش کی ہے ۔ درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نےبتایا کہ یہی ہندوستان کا خاصہ ہے کہ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتا ہے اور ماہم درگاہ ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا گہوارہ ہے یہاں بلا تفریق و مذہب و ملت ہر کوئی حاضری دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتی انداز میں گووندہ پاٹھک یہاں ہر سال سلامی دیتے ہیں یہ روایت صدیوں سے قائم ہے کیونکہ ہندوستان صوفی سنتوں کا ملک ہے ۔ ممبئی تھانہ میں گوکل اشٹمی دہی ہانڈی کے پس منظر میں پولس نے الرٹ جاری کیا ہے گووندہ پاٹھکوں پر پولس نے نگرانی کے لئے ڈرون کا استعمال کیا دہی ہانڈی کی اونچائی بھی طے کی گئی اس کے علاوہ اونچی دہی ہانڈی میں بچوں کی شمولیت پر پابندی عائد تھی ۔ ممبئی شہر و مضافات میں جوش و خروش کے ساتھ دہی ہانڈی کا تہوار منایا گیا ٹریفک پولس نے بھی اس کے پیش نظر شاہراہوں پر ناکہ بندی کی تھی تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاسکے اس کے تحت ٹریفک پولس نے بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہے ۔

ممبئی شہر میں دہی ہانڈی پر سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے کیا تھا اس مطابق ڈی سی پی راج تلک روشن نے کہا کہ دہی ہانڈی پر پولس پوری طرح سے مستعد ہےاور حالات پر بھی نظر رکھی جارہی ہے اس کے علاوہ ڈرون سے بھی نگرانی جاری ہے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دہی ہانڈی پر قانون کی پاسداری کی بھی اپیل کی ہے ۔ مختلف سرکاری اور بی ایم سی ہسپتالوں سے زخمی گووندوں کے بارے میں دوپہر تک موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق ۲۵ سے زائد گووندہ پاٹھک زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہی ہانڈی کا تہوار اب بھی جاری ہے ایسی صورتحال میں مسلسل بی ایم سی کے اسپتال الرٹ موڈ پر ہے اس کے ساتھ ہی پولس بھی الرٹ ہے ممبئی میں دہی ہانڈی کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ گووندہ پاٹھکوں کے زخمی ہونے کے واقعات رونما ہوئے ہیں کئی کو علاج کے بعد رخصتی دیدی گئی ہے ۔ گووندہ پاٹھکوں نے یہاں ممبئی کے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ سے پہلی سلامی دی اور ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا ثبوت پیش کیا یہ گووندہ منڈل ہر سال اسی طرز پر آستانہ مخدوم پر سلامی دے کر بابا مخدوم اور ماں صاحب کی جئے کا نعرہ بلند کرتا ہے یہ نفرت پرستوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہےاس سے یکجہتی اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے ۔ پولس نے دہی ہانڈ ی پر سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے جس کے سبب ممبئی میں کسی بھی قسم کا کوئی ناموافق واقعہ پیش نہیں آیا ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

تمل ناڈو میں ڈینگی اور سوائن فلو کے کیسز میں اضافہ؛ مون سون سے قبل ڈاکٹروں نے احتیاط برتنے کی اپیل کی

Published

on

dengue-vaccine

تمل ناڈو میں گزشتہ سال کے مقابلے ڈینگی اور سوائن فلو کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے ڈاکٹروں کو مانسون کا موسم قریب آتے ہی زیادہ چوکسی اور مضبوط حفاظتی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سال یکم جنوری سے 30 اگست کے درمیان ریاست بھر میں ڈینگی کے 13,573 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں نو اموات ہوئیں۔ جبکہ اموات کی شرح نسبتاً کم ہے، ماہرین صحت جولائی اور اگست کے دوران انفیکشنز میں نمایاں اضافے پر فکر مند ہیں۔ اپریل میں اور 1,062 مئی میں۔ کیسز جون میں دوبارہ چڑھنا شروع ہوئے، جب 1,384 انفیکشن ریکارڈ کیے گئے، اس کے بعد جولائی میں 2,339 اور اگست میں 3,315۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ اضافہ خاصا اہم ہے۔ ڈینگی کے کیسز گزشتہ سال جولائی میں 1,880 سے بڑھ کر اس جولائی میں 2,339 ہو گئے جبکہ اگست میں انفیکشن 1,832 سے بڑھ کر 3,315 ہو گئے۔

چنئی میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں جنوری اور اگست کے درمیان ریاست کے 13,573 انفیکشنز میں سے 2,584 ہیں۔ کوئمبٹور 1,999 کیسوں کے بعد ہے۔ تمل ناڈو میں اس سال 1,500 سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں اور انفیکشن کے معاملے میں ملک کی ریاستوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ صحت کے اعداد و شمار بھی حالیہ برسوں کے مقابلے میں کافی اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر جون، جولائی اور اگست کے دوران۔ اگست میں اضافہ خاص طور پر حیران کن رہا ہے، اس سال کے اسی مہینے کے دوران سوائن فلو کے کیسز کی تعداد صرف 46 سے بڑھ کر 64 تک پہنچ گئی۔

سرکاری ڈاکٹروں نے کہا کہ چنئی کی آبادی کی کثافت اور صحت عامہ کی احتیاطی تدابیر کی ناکافی پابندی انفیکشن کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سوائن فلو میں مبتلا افراد کو کم از کم پانچ دن کے لیے خود کو الگ تھلگ رکھنا چاہیے۔ ڈاکٹروں نے بخار یا سانس کی علامات والے لوگوں کو بھیڑ والی عوامی جگہوں سے گریز کرنے، جہاں مناسب ہو ماسک پہننے اور بروقت طبی امداد لینے کا مشورہ دیا۔ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے حکام نے گھروں اور کام کی جگہوں کے ارد گرد کھڑا پانی اور مچھروں کی افزائش کی جگہوں کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی صفائی، مچھروں پر قابو پانے اور علاج کے دوران جلد سے جلد عوام کو آگاہی فراہم کی جائے گی۔ بارش کے مہینے

Continue Reading
Advertisement

رجحان